بند کریں
ہفتہ فروری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سیکولر بھارت
جہاد اقلیتوں اور دلتوں کی زندگی عذاب بنا دی جاتی ہے۔۔۔ بھارت کے دولت اونچی ذات والے ہندووٴں کے ظلم و ستم اور غروروتکبر سے تنگ آکر بدھ ازم سمیت دیگر مذاہب اپنا رہے ہیں۔ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں دلت افراد کی بڑی تعداد اسلام قبول کر چکی ہے
بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔اس کی کل آبادی کا 80 فیصد حصہ ہندووٴں 14 فیصد مسلمان، 2.3 فیصد عیسائی، اور 1.9 فیصد حصہ سکھوں پر مشتمل ہے۔یہاں مسلمانوں کی تعداد دنیا میں کسی بھی غیر اسلامی ملک سے زیادہ ہے بھارت کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے سیکولر ازم کے اپنے آئین کا حصہ بنا لیا لیکن عملی طور پر بھارت ایک انتہا پسند ہندو ریاست ہے۔
جو نہ تو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر کے جنوبی ایشیا میں امن چاہتا ہے بلکہ اس میں بسنے والی اقلیتیں بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں ہیں۔ اگر ہم نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے ہندووٴں کی بات کریں تو انکی حالت زار دیکھ کر سیکولر ازم کی حقیقت عیاں ہو جاتی ہے۔
بھارتی معاشرہ آج بھی برہمن،کھشتری ،ویش اور شودر جیسے طبقات میں تقسیم ہے۔
ان طبقات میں شودر جن کو پاؤں بھی کہا جاتا ہے اور اونچی ذات والے ہندووٴں کے عتاب کا بدستور شکار ہیں۔ انہیں آج بھی اچھوت اور نجس سمجھا جاتا ہے ۔ شودر طبقہ کچرا اٹھانے اور صفائی کرنے کے ساتھ ساتھ حقیر پیشوں سے وابستہ ہیں۔ان کی سب سے بڑی اور عام شکایت یہ ہے کہ ان پر تعلیم اور ملازمتوں کے دوازے بند ہیں۔
بھارت کے دولت اونچی ذات والے ہندووٴں کے ظلم و ستم اور غروروتکبر سے تنگ آکر بدھ ازم سمیت دیگر مذاہب اپنا رہے ہیں۔
بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں دلت افراد کی بڑی تعداد اسلام قبول کر چکی ہے۔
ہندو قوم اپنے ہم مذہب لین نیچی جاتی والے ہندووٴں کو جینے کا حق دینے پر تیار نہیں تو وہ غیر ہندو اقلیتوں، مسلمان، عیسائی، سکھوں اور دیگر اقوام سے کیا سلوم کرتی ہوگی۔1984 میں اندرا گاندھی کے دور حکومت میں سکھوں کے مقدس مذہبی مرکز گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوج کے یلغار کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔
1992 میں مسلمانون کی صدیوں پرانی اور تاریخی مسجد بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ اسی طرھ 2002 میں بھارتی ریاست گجرات ہزاروں انتہا پسند ہندووٴں نے مسلمانوں کی آبادی پر حملہ کر کے ان کے گھروں کو ندز آتش کر دیا، خواتین کو بے آبرو کر کے سینکڑوں مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا۔ 1964سے بھارتی عیسائیوں کے خلاف مسلسل دہشت گردی کی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔
مسیحی عبادت گاہوں کو نذرآتش کرنا، مسیحیوں کو جبراََ ہندو دھرم میں داخل کرنا اور مسیحی خواتین کی آبرو ریزی کرنے کے ساتھ ساتھ عیسائی راہیوں کو قتل کرنا سیکولر بھارت میں معمول کی بات ہے۔پولیس بھی انتہاپسند ہندووٴں کا ساتھ دیتی ہے۔
بھارت کے معروف صحافی اور ادیب خشونت سنگھ نے اپنی کتاب ”دی اینڈ آف انڈیا“ میں ہندووٴں کی انتہا پسندی کا انتہائی دیانت داری سے اعتراف کرتے ہوئے تحریر کیا تھا کہ بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ پاکستان یا دنیا کا کوئی دوسرا ملک شاید اس ملک کو تباہ نہیں کرے گا بلکہ یہ خودکشی کا ارتکاب کرے گا۔ سیکولر بھارت کے منہ پر اس سے زور دار طمانچہ اور کوئی نہیں مار سکتا کیونکہ خشونت سنگھ بھارتی معاشرے کا ہی حصہ تھے۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-24

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان