بند کریں
جمعرات جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سرحدی محافظوں میں معاہدہ
بھارتی ہٹ دھرمی سوالیہ نشان بھارت ہر بار کور ایشو حل کرنے کیلئے ملاقاتیں جاری رکھنے کی بات کرتا ہے

خرم اعزاز:
یہ کوئی انہونی نہیں ہوئی پاکستان اور بھارت کے مابین معاملات کو درست کرنے کیلئے گزشتہ 65سال میں نہ جانے کتنے مزاکرات، مختلف سطح کی ملاقاتیں، ٹریک ٹو ڈپلومیسی اور اعتماد سازی کے اقدامات کئے گئے مگر ان میں کوئی ایک بھی موثر نہیں ہوسکا کیونکہ ہر بار بھارتی حکمرانوں کی ہٹ دھرمی اور پاکستان دشمن سوچ آڑے آتی رہی ہے اور یہ جو ہفتہ کے روز پاکستان رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل اور بھارتی بارڈر فورسک ے ڈی جی کے مابین بات چیت کے بعد جو فیصلے کئے گے ہیں ان میں عمل درآمد سوالیہ نشان ہے اور اس کی وجہ وہی بھارتی حکمرانوں کی ہٹ دھرمی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان رینجرز اور بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرلز نے سرحدی پر سمگلنگ کی روک تھام کیلئے خفیہ معلومات کا فوری تبادلہ کرنے پر آمادگی اور سمگلروں کیخلاف ملکی قوانین کے مطابق سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملاقات میں مثبت انداز میں باہمی مشاورت کے ساتھ سرحدی تنازعات کے حل کیلئے تفصیلی بات چیت کی گئی جس میں حقیقی امن کی کوششوں اور موثر رابطوں پر اتفاق کے علاوہ ورکنگ باؤنڈری پر فائر بندی کے معاہدے پر سختی سے اور موثر انداز میں عملدرآمد کرانے مستقبل میں ایسے واقعات کی مستقل روک تھام کیلئے طریقوں پر بھی غور کیا گیا ۔
یہ میٹنگ 24سے 28دسمبر تک پاکستان رینجرز (پنجاب ) ہیڈ کوارٹرز لاہور میں ہوئی۔ بات چیت کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان رینجرز کے وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز (پنجاب) میجر جنرل خان طاہر جاوید خان اور بھارتی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل بارڈر سکیورٹی فورس شری سبھاش جوشی نے کی۔ پاکستان رینجرز اور بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرلز نے بالمشافہ ملاقات میں مثبت انداز میں باہمی مشاورت کے ساتھ سرحدی تنازعات کے حل کیلئے تفصیلی بات چیت کی جس میں حقیقی امن کی کوششوں اور موثر رابطوں پر اتفاق کے علاوہ ورکنگ باؤنڈری پر فائر بندی کے معاہدے پر سختی اور موثر انداز میں عملدرآمد اور ان واقعات کی مستقل روک تھام کیلئے طریقوں پر غور خوض کیا گیا تاکہ خطہ میں حقیقی امن کی بہالی، ترقی اور خوشحالی آئے۔
دونوں سربراہوں کے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا کہ غلطی سے سرحد پار کرنے والے معصوم افراد کیلئے فوری طور پر رابطہ کیا جائے، انکی جلد واپسی کو یقینی بنایا جائیگا۔ اجلاس میں سرحد غیر قانونی تعمیرات، باؤنڈری پلرز کی تعمیر و مرمت اور جنگلی سرکنڈا کے خاتمے جیسے مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس کے علاوہ موجودہ اعتماد سازی کے میکنزم کو برقرار رکھا جائیگا، اسے مزید تقویت دی جائیگی۔
اجلاس میں اس بات پر بی اتفاق کیا گیا کہ بی ایس ایف اور پاکستان رینجرز کے درمیان مختلف سطح کی فلیگ میٹنگوں میں ورکنگ بائنڈری اور انٹر نیشنل بارڈر کے قوانین کے مطابق امن و امان کی بہتر صورتحال کیلئے مزید کوششیں کی جائیں گی۔ دونوں اطراف کی بارڈر فوسز ورکنگ باؤنڈر اور انٹرنیشنل بارڈر کے تنازعات کے فوری حل کیلئے پر امن کوششوں کے اقدامات جاری رکھیں گے۔
بھارت کی بارڈر سکیوریٹی فورس کا وفد واہگہ پریڈ دیکھنے کے بعد وطن واپس چلا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق اجلاس کے بعد ڈی جی رینجرز پنجاب طاہر جاوید خان نے بتایا کہ اجلاس میں مثبت اندز مین بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ تنازعات حل کرنے اور سرحد پر غیر قانونی تعمیرات نہ کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ پاکستان بھارت کو را ایشوز حل کرنے کیلئے امن کوششوں اور باہمی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جائیگا۔
نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان اور بھارت کے فوجی سرحد پر ایک دوسرے کو آنکھیں نہیں دکھائیں گے، گولیاں نہیں چلائیں گے، مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے فوجی ساتھ ساتھ گشت کریں گے اور سمگلروں کے پکڑیں گے، غیر قانونی آمدورفت روکیں گے، منشیات کی سمگلنگ کو روکا جائیگا، سمگلر سرحد کے دونوں جانب زہر سپلائی کرتے ہیں، غلطی سے سرحد پار کرنے والوں کو 24گھنٹوں میں واپس کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

پاکستان میں حکمرانوں کی جانب سے بھارت کیلئے خیر سگالی کے جتنے اقدامات کئے گئے بھارت کی جانب سے ان پر کبھی بھی مثبت جواب نہیں دیا گیا۔بلکہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں تو اعتماد سازی کے نام بھارت کو کھل کھیلنے کے مواقع دئیے اس لئے پاکستان کیلئے مشکلات میں اضافہ ہی کیا ہے۔ یہ وہی دور نامسعود تھا جب بھارت نے مقبوضہ کشمیرکی کنٹرول لائن پر آہنی باڑیں لگا کر اسے عملاََ مستقل سرحدیں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔
اس کے باوجود بھارت کی جانب سے یہ پروپیگنڈہ مسلسل جاری ہے کہ پاکستا سے دہشت گرد مقبوضہ کشمیر میں داخل ہورہے ہیں۔ پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنے کیلئے بھارت جس رفتار سے ان ڈیمز بنارہا ہے وہ پاکستان دشمنی کاہی نتیجہ ہے۔ پاکستان رینجرز کے ساتھ جو معاہدے کئے گئے ہیں دیکھا ہے بھارت ان پر کتنا عمل درآمد کرتا ہے۔ حکومتی سطح پر اس سے مثبت توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں عوامی سطح پر تو ” خوشی سے مرنہ جاتے اگر اعتبار ہوتا“ والا معاملہ ہے۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان