بند کریں
پیر جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سچ تو یہ ہے…
یورپ مسلمانوں کی خدمات کا اعتراف نہیں کرتا
مسلمانوں نے یورپ کیلئے جو خدمات سرانجام دی ہیں ان کے بارے میں آج بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل واشنگٹن میں ایک فلم کا پریمئر ہوا تھا
مواحد حسین شاہ:
اصطلاح کبھی غیر جانبدار یا سیدھی سادی نہیں ہوتی۔ طبقات اور مفادات میں منقسم اس دنیا میں ہر لفظ کے پیچھے ایک مخصوص ایجنڈا چھپا ہوتا ہے۔ مغرب میں ”یہودی عیسائی ثقافتی ورثے“ کی اصطلاح اس قدر شدت کے ساتھ رائج ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یورپی اقدار کا ذکر ہی اس اصطلاح کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔
اس اصطلاح کو رواج دینے کا اصل مقصد اور ایجنڈا یہ تھا کہ اس کے ذریعے مسلمانوں کو دور دھکیلا جائے اور یہ تاثر دیا جائے کہ اسلام مغربی تہذیب و ثقارت اور اقدار کو محاصرے میں لے رہا ہے۔
اہل یورپ کی اس ذہنیت نے تارکین وطن کے خلاف نفرت اور بیزاری کو جنم دیا، یہودی عیسائی ثقافتی ورثے کی اصطلاح سے غلط طور پر یہ مطلب لیا جانے لگاکہ عیسائیت اور یہودیت کا نکتہ نظر اور مفادات ہمیشہ سے مشترک رہے ہیں۔ مسلمانوں نے اس حقیقت کا سامناکرنے کی بجائے اس کے سامنے پسپائی اختیار کرنے کو ترجیح دی۔
مسلمانوں نے یورپ کیلئے جو خدمات سرانجام دی ہیں ان کے بارے میں آج بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل واشنگٹن میں ایک فلم کا پریمئر ہوا تھا۔ ”نور حیات خان کی کہانی“ کے نام سے بننے والی یہ فلم ایک سچی کہانی پر مبنی ہے۔ ٹیپو سلطان کی اولاد میں سے نور حیات خان نامی ایک خاتون پہلی خاتون رضا کار تھی جسے دوسری جنگ عظیم کے دوران میں برطانیہ نے فرانس پر جرمنی کے قبضے کے بعد خفیہ معلومات کے حصول کیلئے روانہ کیا تھا۔ نورحیات خان کو اس کام کے خطرناک اور جان لیوا ہونے کا مکمل اندازہ تھا لیکن اس کے باوجود اس نے یہ بیڑا اٹھایا۔
نور کو دھوکہ دیا گیا جس کے باعث نازی فوج نے اسے گرفتار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس بہادر مسلمان خاتون کو بعد از مرگ برطانیہ کے سب سے بڑاعزاز شجاعت، جارج کراس، سے نوازا گیا۔ نور سے بھی پہلے کی بات کریں تو ہمارے سامنے چکوال میں جنم لینے والے صوبیدار خداداد خان کا نام آتا ہے جسے 1914ء میں وکٹوریا کراس سے نوازا گیا تھا۔ خداداد خان جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والا پہلا برطانوی فوجی تھا جسے یہ اعزاز دیا گیا۔

اس طرح مسلمانوں کی شجاعت اور بہادری کی بے شمار مثالیں موجود ہیں لیکن ان کا تذکرہ کہیں نہیں ملتا۔ 1040ء کے اوائل میں پیرس میں مقیم ایک ایرانی سفارتکار، عبدالحسین سرداری، نے 2ہزار سے زائد ایرانی نژاد فرانسیسی یہودیوں کی جان بچائی اور انہیں فرانس سے باہر نکالا حالانکہ اس وقت فرانس پر جرمنی قبضہ کرچکا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی نے البانیہ پر قبضہ کر کے یہودیوں کاقتل عام شروع کردیا۔
البانوی مسلمانوں نے انتہائی کٹھن حالات کے باوجود بے شنار یہودیوں کی جانیں بچائیں۔ حالانکہ عیسائی البانوی جرمن فوج کے ساتھ مل کر یہودیوں کو گرفتار کروادیتے تھے جنہیں بعد ازاں قتل کردیا جاتا تھا۔ یورپ میں بسنے والے مسلمان جب یہودیوں کو نازی فوج کے زہر سے بچانے میں مصروف تھے اس وقت یورپ اور امریکہ کے عیسائیوں کا کیا رد عمل تھا اس کیلئے صرف امریکہ ہی کی مثال ملاحظہ کیجئے۔
1939ء میں 937 جرمن یہودی ایک بحری جہاز پر سوار ہو کر کسی نہ کسی طرح نازی فوجوں سے بچ کر میامی، امریکہ کے ساحل تک پہنچنے می کامیاب ہوگئے لیکن اس وقت کے امریکی صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ نے اس جہاز کو امریکی ساحل پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ اس واقعہ کا تذکرہ رافیل میڈوف کی کتاب فرینکلن ڈی روز ویلٹ اور ہولوکاسٹ میں موجود ہے اور مصنف کے خیال میں یہودیوں پر جب بھی برا وقت آیا امریکی اشرافیہ نے ان کی جانب سے نظریں پھیر لیں۔

ہوتا دراصل یہ ے کہ ہم اگر ایک مرتبہ کسی چیز کے حوالے سے اپنا ذہن بنالیں تو پھر کوئی حقیقت کوئی سچائی اس ذہنیت کو مکمل طور پر ختم نہیں کرسکتی۔ یورپ میں مسلمانوں کے حوالے سے سے جوتاثر قائم کیاگیا وہ آج یورپی ذہنیت کا حصہ بن چکا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-20

(3) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان