بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قیام امن کیلئے سفارتی کوششیں بھی رنگ نہ لاسکیں
خانہ جنگی کا شکار شامی باشندے تباہی کے دہانے پر! پر تشدد کارروائیوں پر کنٹرول نہ کیا گیا تو اندرون و بیرون ملک 55لاکھ بچوں کا مستقبل تباہ ہوجائے گا
محبوب احمد:
3برس قبل شام میں شروع ہونے والی بغاووت کی اصل وجہ کیا ہے؟ ۔ حقائق کیا ہیں؟ بعض عناصر شام کی موجودہ صورتحال کو انتہائی بگڑتی ہوئی صورتحال بتا رہے ہیں اور تاثر دیا جارہا ہے کہ شام میں بغاوت نہیں بلکہ انقلاب کی لہر آئی ہے اور اس انقلاب کو بعض عناصر تیونس مصر اور دیگر ممالک کے انقلابوں اور اسلامی بیداری کی لہر سے ملانا چاہتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی انقلاب میں عوام ہی عوام کو قتل کردیتے ہیں؟۔
شام کا شمار مشرق وسطیٰ کے خاصے پر امن ممالک میں ہوتاتھا، کچھ عرصہ پہلے عرب بہار کے عنوان سے مشرق وسطیٰ میں جس تبدیلی کا آغاز ہوا جس کے اثرات شام میں بھی پہنچے اور یہاں بھی مظاہرے شروع ہوئے جو بڑھتے بڑھتے خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئے۔ یہ وہی طریقہ کار تھا جو لیبیا میں اپنایا گیا۔ شام کے بحران کا سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو پہنچ رہاہے کیونکہ اسرائیل اور شام کے درمیان تنازعات موجود ہیں۔
شامل کی خانہ جنگی بند کرانے کیلئے متعدد عالمی طاقتوں کے اجلاس ہوئے لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ شام میں جاری پر تشدد کارروائیاں نہ رک سکیں۔ شام میں جاری تنازع کی وجہ سے زندگی کے تمام پہلو متاثر ہوئے ہیں۔ 2ہزار کے قریب سکول تباہ یا عارضی کیمپ میں تبدیل ہونے سے بچوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔ لڑائی میں بچے بھولے ہوئے متاثرین ہیں جنہیں موت اور صدمے کا سامنا ہے اور وہ بنیادی امداد سے محروم ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق شام سے بھاگ کر اس کے پڑوسی ممالک کی عداد لاکھوں میں ہے۔ کشیدگی کے باعث یومیہ تقریباََ 6ہزار افراد نقل مکانی کررہے ہیں جو گزشتہ 20برس میں مہاجرین کا بدترین بحران ہے۔ شامل کے بحران کے حل کرنے کیلئے سب سے زیادہ متحرک کردار عرب لیگ اور عالم اسلام کو کرنا چاہئے تھا۔ بدقسمتی سے عالم اسلام اس بحران کا حل نہیں نکال سکا۔
امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک اس خطے میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہے ہیں اور اس رسہ کشی میں نقصان نہتے عوام کا ہورہا ہے۔ شام میں جاری خانہ جنگی کے باعث پورے خطے کا انفراسکٹرکچر تباہ ہوکررہ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود و بحالی اطفال ”یونیسیف“ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ شام میں خانہ جنگی ختم نہ ہوئی تو اندرون اور بیرون ملک 55لاکھ شامی بچوں کا مستقبل تباہ ہوجائے گا۔
3سال سے جاری شورش کے دوران کم سے کم ایک ملین بچوں کو ہولناک اذیتوں سے گزرنا پڑا ہے جو پچھلی ایک صدی کا بدترین انسالی المیہ ہے۔ اندرون اور بیرون ملک بے گھر شامیوں کے بچے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ تعلیم اور صحت کی سہولیات سے محرومی اپنی جگہ لاکھوں بچوں کی زندگیاں بھی اب خطرے میں ہیں۔ انہیں سر چھپانے کو چھت اور تن ڈھانپنے کو کپڑا میسر نہیں۔
طرفہ تماشا یہ ہے کہ متحارب فریقین بچوں کو جنگ میں ڈھال کے طور پر استعمال کرہے ہیں۔ تباہی اور بربادی کے بعد اب شامی خاندانوں کیلئے اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہوچکا ہے، جونہی شام کے بحران کے حل کیلئے کوئی کوشش کی جاتی ہے اور بہتری کے امکانات دکھائی دیتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی اچانک اندھیرا چھا جاتاہے اور بچوں کے مسائل اچانک ہی دوچند ہو جاتے ہیں، ہر آں ے والا سال شامی بچوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافے کا انبار لارہا ہے۔
اندرون ملک جگہ جگہ جنگ میں پھنسے ہزاروں بچے زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں، انہیں کھانے کو خوراک میسر نہیں اور نہ ی بیماریوں کا علاج اور دوا اور مرہم پٹی کو کوئی بدوبست موجود ہے۔ تشدد کے ذریعے بچوں کو نفسیاتی مریض بنایا جا رہا ہے۔ پچھلے ایک سال کے دوران اندروں شام 10لاکھ بچوں کوں اذیتیں پہنچائی گئی ہیں، ان کی اکثریت اپاہج، معذور اور نفسیاتی مریض بن چکی ہے۔
شام میں خانہ جنگی کے دوران بلا امتیاز عام شہریوں حتیٰ کہ خواتین اور بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتاہے۔ متحارب گوپوں کے نشانچی دانستہ طور پر بچوں اور حامہ عورتوں پر گولیاں چلاتے ہیں۔ محاصرے میں گھرے شامی شہروں میں انسانی حقوق اور امدادی ادروں کے کارکنوں کی رسائی بھی ناممکن بنادی گئی ہے۔ امدادی اداروں کے کارکن اپنی جانوں پر کھیل کر بچوں کو امداد مہیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر پھر بھی ناکام ہیں۔
اندروں ملک مسائل کا شکار شامی بچوں کے علاوہ بڑی تعداد بیرون ملک ہجرت کرچکی ہے۔ اس وقت پڑوسی عرب ممالک 12لاکھ بچوں کی میزبانی کررہے ہیں۔ بیرون ملک بھی بچے سنگین معاشی، تعلیمی اور غذائی بحرانو کا سامنا کررہے یہیں۔ مختلف ممالک میں مہاجرین کی تعداد بڑھ جانے سے خیمہ بستیوں میں صحت و صفائی کے انتظامت انتہائی ناقص ہیں۔ پینے کا صاف پانی، خوراک اور ادویہ میسر نہ ہونے کے باعث خیمہ بستیوں میں متعدی امراض پھیل رہے ہیں۔
اندروں اور بیرون ملک ہجرت کرنے والے 20لاکھ بچوں کے فوری نفسیاتی علاج معالجے کی ضرورت ہے۔
شامل میں جاری خانہ جنگی کے باعث جہاں پورے ملک کا انفراسٹرکچر تباہ ہوکررہ گیا ہے وہیں صحت عامہ کی ناگفتہ بہ صورتحال کی وجہ سے بہت سے لوگ جن میں بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے اسہال، سانس کی تکالیف، بخار اور جلدی امراض میں مبتلاء ہورہے ہیں۔
مغرب نواز اور صہیونی لابی شام میں سرگرم دہشت گردوں کو پیسہ او اسلحہ فراہم کر کے شام کے بحران کو سیاسیطریقے سے حل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بی ہوئی ہے۔ شام میں خانہ جنگی کے پچھلے تین سال ان کی زندگی کا طویل ترین عرصہ ہے۔ کیا شامی بچوں کو مصائب و آلام کا ایک اور سال بھی برداشت کرنا ہوگا؟۔ ہر دس میں سے ایک بچہ کہیں نہ کہیں محنت مزدوری پر مجبو رہے۔
اردن میں آنے والے لاکھوں شامی پناہ گزینوں میں سے جن لوگوں نے خیمہ بستیوں میں شادیاں کی ہیں، ان میں ہر پانچ میں سے ایک بچی کی عمر اٹھارہ برس سے بھی کم ہے، یونیسیف نے عالمی ادارون اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں بچوں کے تباہی سے دوچار مستقبل کو بچانے میں مدد کریں۔ شامی بچوں کا مستقبل صرف اسی صورت میں بچایا جاسکتا ہے جب ان کے خلاف وحشیانہ طاقت کا استعمال بند کیاجائے اور انہیں جہاں ہیں کی بنیاد پر ہرر قسم کی ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے لاکوھ شامی بچوں کی بدحالی سے متعلق یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں شام کے بحران کے حل کیلئے جنیوا اجلاس بدترین ناکامی سے دوچار ہوا ہے اور مستقبل قریب میں کوئی فوری تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی۔15مارچ 2011ء کے بعد سے شام میں جاری خان جنگی کے نتیجے میں اب تک ایک لاکھ چالیس ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
25لاکھ بیرون ملک ہجرت کر گئے ہیں اور 65لاکھ اندرون ملک محفوظ مقامات کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ شامی پناہ گزینوں کا سب سے بڑا میزبان ملک لبنان ہے جہاں09لاکھ پانچ ہزار شامی پناہ گزین ہیں۔ پانچ لاکھ 75ہزار پناہ گزینوں کے ساتھ اردن دوسرے، 05لاکھ 62ہزار کے ساتھ ترکی تیسرے نمبر پر ہے، ان کی علاوہ 2لاکھ 16ہزار پناہ گزین عوام اور ایک لاکھ 45ہزار مصر جاچکے ہیں۔
شام کی آبادی تقریباََ چھ کروڑ ہے۔ شام لینڈ لاکھ ملک ہے یعنی اسکے چوروں اطراف میں سمندر نہیں ہے۔
شام کی سرحدیں ایک طرف ایروان و عراق سے ملتی ہیں تودوسری طرف لبنان اور اردن سے ۔ شامی سرحد کا ایک کنارہ ترکی سے ملتا ہے تو دوسرا اسرائیل سے۔ اسرائیل اور شام کے مابین گولان کی پہاڑیوں والا قضیہ طویل عرصہ سے مخاصمت کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔
اسرائیل نے عرب اسرائیل جنگ میں گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ دراز کرلیا تھا۔ شام کے ارد گرد جتنے ہمسایہ ملک ہیں جن میں ترکی اردن عراق لبنان مصر الجزائیر ارمینیا شامل ہیں میں شامی مہاجرین پناہ گزین ہوچکے ہیں۔ شامی مہاجریں کی سب سے زیاد ہ تعداد ترکی کو گوشہ عافیت سمجھے ہوئے ہے۔ خوراک اور ادویات کو مہاجرین تک پہنچانا جان جو کھوں میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
شامی مہاجرین مختلف ریاستوں میں منقسم ہیں۔ عراق خود شورش زدہ ملک ہے وہاں تقریباََ ایک لاکھ شامی مہاجرین مقیم ہیں۔
شام میں جاری خانہ جنگی نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔ متحارب فورسز کی لڑائی میں عالم اسلام کی مقدس و محترم ہستیوں کے مزارات مقدسہ کو نشانہ بیاجارہا ہے ۔ پہلے دمشق میں حضرت سیدہ بی بی زینب کے مزار کو نشانہ بنایا گیا اور پھر اگلے ہی روز حضرت خالد بن ولید کے مزار اور اس سے ملحقہ مسجد کو شدید نقصان پہنچا ۔
شام میں جو لڑائی ہورہی ہے اس کے مقاصد اوراہداف سیاسی ہیں اب اس لڑائی میں مقدس اور محترم ہستیوں کے مزارات کو نشانہ بنا کر اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش ہورہی ہے، اس قسم کے مظاہرے عراق میں بھی ہر رہے ہیں جو ایک خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں اس شر انگیزی کے خلاف بھی مظاہرے ہورہے ہیں۔ شام کے بحران کا یہ نیا رخ امت مسلمہ کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی گہری سازش ہے۔
عالمی طاقتیں اس مسئلے میں دخیل ہیں لیکن ان کے اپنے مفادات ہیں اور وہ انہیں سامنے رکھ کر اپنی ترجیحات طے کرتی ہیں۔ مسلمانو کے مقدس مقامت اور انہیں کوئی تشویش بھی نہیں ہے لہٰذا یہ مسئلہ خالصتاََ عالم اسلام سے متعلق ہے اور مسلم ممالک خصوصا۔ایران، عرب لیگ اور شمالی افریقہ کے مسلم ممالک کو اس مسئلے کے حل کیلئے آگے بڑھنا چاہئے۔ شامل میں جو فورسز لڑرہی ہے ان کو کمان کرنے والوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی لڑائی مذہب اور مسلک کی آڑ میں نہ لڑیں بلکہ سیاسی جنگ کو سیاسی طریقے سے لڑیں، مقدس مقامات پر حملے ، انہیں بم سے اڑانا یا عبادت گاہوں میں خودکش حملے کرنا بے رحمی تو ہے ہی لیکن یہ پرلے درجے کی مکاری بھی ہے۔
شام کا بحران جس قدر گہرا ہوتا جائے گا، اس کے مضر اثرات پورے عالم اسلام پر مرتب ہوں گے۔ اس بحران میں شامل کے عوام کا بری طرح نقصان ہورہا ہے۔ مسلم امہ کا فرض ہے کہ وہ شام میں امن کے قیام کیلئے فوری متحرک کردار ادا کرے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-16

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان