بند کریں
اتوار فروری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پیرس میں دہشت گردی
داعش پرفرانسیسی حملوں کاردعمل
عراق اور شام میں خودساختہ شدت پسند تنظیم داعش نے امریکی اتحادیوں کی جانب سے شدید ترین فضائی حملوں کے بعد اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانے کافیصلہ کیاتھا۔ ستمبر میں ہونیوالے داعش کی قیادت کے اجلاس میں فرانس اور دیگر ممالک پر حملوں کامنصوبہ بنایاگیا۔ داعش نے اپنے قیام کے موقع پر مغربی ممالک کے اندر حملوں کی دھمکی دی تھی جبکہ پچھلے سال جنوبی عراق پر قبضے کے بعد اس نے دنیا بھر میں اپنی خلافت کااعلان کردیا تھا۔

امریکی اور اسکے اتحادی کی جانب سے داعش پر کاری ضرب لگانے کیلئے عراق اور شام میں زبردست کارروائیں جاری ہیں۔ ان حملوں نے داعش کی قیادت کوبوکھلا دیا۔ کئی علاقے اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں جس پر اس نے جوابی کارروائی کافیصلہ کیا۔ ایک تحریری حکم نامے کے ذریعے داعش نے لبنان اور ترکی میں اپنے حامیوں کوحرکت میں آنے کاحکم دیا تھا۔ جنوبی شام کے ایک جنگجو کاکہنا ہے کہ لبنان اورد یگر مقامات پر حملے اسی آپریشن کاحصہ ہیں جن کادوماہ پہلے حکم دیا گیاتھا۔
فرانس میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھی اسی کاہاتھ ہے۔
فرانس میں حالیہ دہشت گردی کے واقعہ نے داعش کوتھوڑاریلیف دیاہے۔ اس واقعہ میں132 افراد ہلاک ہوگئے۔ لبنان میں حزب اللہ کے مضبوط گڑھ بیروت میں دوہرے خودکش بم حملہ میں 43 افراد ہلاک ہوگئے۔ اس کے پیچھے بھی داعش کے ہاتھ کو قرار دیادجارہاہے۔
مصر کے صحرائی صنعامیں روسی ائر ائرلائن کے مسافر برادر جہاز کو31اکتوبر کوگرانے کے پیچھے بھی داعش کاہاتھ قرار دیا جارہا ہے جس میں224 روسی ہلاک ہوگئے۔
ترک حکام نے گزشتہ دنوں ایک مشتبہ اعلی برطانوی شدت پسند کوگرفتار کیاہے جو استنبول میں پیرس طرز کے حملے کی منصوبہ کررہاتھا۔
اس نے سعودی عرب،روس اور امریکہ پر بھی حملے کی دھمکی دے رکھی تھی مگر اس رپورٹ کی فوری تصدیق نہیں ہوسکی۔ داعش کے جنگجو کاکہنا ہے کہ انہیں یہ ہدایات مختلف مقامات پر قائم سیلز کے ذریعے دی جاتی ہیں۔ جنوبی شام سے تعلق رکھنے والے ایک جنگجو کاکہنا ہے ہمیں اسی سیلز سے کارروائی کے پیغامات موصول ہوتے۔
ہم انہی کے انداز میں جوابی پیغام بھیجتے ہیں۔
اس سیل کوانتہائی خفیہ انداز میں چلایا جاتا ہے۔ اس کے سربراہ ابوبکر البغدادی کوداعش میں فیصلہ کن اہمیت حاصل ہے لیکن ان کے نائب بھی انتہائی بااثر ہیں۔ دونوں ایک شوریٰ کونسل سے مشاورت لیتے ہیں جو کہ فوجی مذہبی اور دیگر رہنماؤں پرمشتمل ہے۔ وہ البغدادی کو سٹرٹیجک اور فوجی نوعیت کے منصوبوں میں مشاورت دیتے ہیں۔

داعش نے یورپ سمیت دنیا بھرمیں ہزاروں شت پسند پھیلارکھے ہیں۔ کئی یورپی ملکوں میں سخت سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے شدت پسندوں کو سفری مشکلات کاسامنا ہے اور انہیں عراق اور شام میں داعش کوجوائن کرنے سے روکا جارہا ہے۔
داعش نے اپنے مشرقی وسطی کے مراکز سے یورپ میں اپنے حامی شدت پسندوں سے رابطے کر کے ان سے حملے کرانے کا منصوبہ بنایا۔
ایک شدت پسندکاکہناہے کہ ان کاآپس میں کوئی باقاعدہ رابطہ نہیں ہوتا لیکن غیر ملکی آپریشنز ایک سپیشل آپریٹس کے ذریعے کئے جاتے ہیں مگر اسکی وضاحت نہیں کی گئی۔
اس پر آیٹس کے سربراہ کے بارے میں بہت کم معلومات سامنے آئی ہے۔ اسکے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ اردن کاباشندہ ہے۔ وہ شام اور عراق کی قیادت کے ساتھ کام کرچکاہے۔ وہ نک نیم سے مشہور ہے۔ وہ ان تمام منصوبوں کاماسٹر مائینڈبھی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-28

(0) ووٹ وصول ہوئے