بند کریں
ہفتہ فروری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پناہ گزین
دُنیا میں اِن کی تعداد بڑھ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ماضی سے اب تک فلسطین ، افغانستان ، عراق، شام، کشمیر، بوسنیا میں لاکھوں افراد جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہو کر نقل مکانی کر چکے ہیں جو کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
غلام زہرا:
جنگ وجدل ، قدرتی آفات، نسلی ومذہبی تصادم اور جب کسی ملک میں بحران اس قدر بڑھ جائے کہ وہاں انسانی زندگیاں غیر محفوظ ہو جائیں تو لوگ وہاں سے نقل مکانی پر مجبور ہو کر کسی دوسرے ملک یا علاقے کا رخ کر تے ہیں۔ 1951 ء میں پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن نے اسے بین الاقوامی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے اس بات کا یقین کر دیاتھا کہ ایسے افراد کو اُن ممالک میں واپس نہیں بھیجا جائے گا جہاں انکی آزادی اور زندگیوں کو خطرہ ہو۔
دنیا بھی میں پناہ گزینوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن اُن کے حقوق کا تحفظ اور ان کے لئے محفوظ مقامات کی تلاش اور بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی کر صورت میں امداد کی فراہمی سے متعلق مسائل وقت گزرنے کے ساتھ کم نہیں ہوئے ہیں۔
ماضی سے اب تک فلسطین ، افغانستان ، عراق، شام، کشمیر، بوسنیا میں لاکھوں افراد جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہو کر نقل مکانی کر چکے ہیں جو کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق دنیا میں اس وقت کروڑوں افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں اور ان پناہ گزینوں میں سے 80 فیصد کے میزبان پاکستان جیسے غیریب ممالک میں جن کی معیشت اُن کے بوج سے بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
پاکستان نے ہر موقع پر پناہ گزینوں کیلئے دروازے کھلے رکھے ہیں ۔ 80 کی دہائی میں لاکھوں افغان مہاجرین نے پہلے پشاور اور پھر کوئٹہ اور اس کے بعد ملک کے جنوبی حصوں سمیت سندھ کو اپنا مسکن بایا او اس کے بعد پنجاب میں بھی کثیر تعداد میں افغان مہاجرین دکھائی دینے لگے۔
آ ج صورت حال یہ ہے کہ صوبائی دارلحکومت سمیت چاروں صوبوں میں افغان پناہ گزینوں نے ڈیرہ جمایا ہوا ہے۔ پاکستان میں افغان مہاجرین کی تعدا د کم وبیش 45لاکھ ہے جبکہ دیگر ذرائع کے مطابق افغان اس سے کہیں زیادہ تعداد میں پاکستان آئے ہیں۔ جب بھی ان لوگوں کی اپنے وطن منتقلی کا چرچا ہوتا ہے یہ جانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ بعض ایسے بھی ہیں جو افغانستان جاکر واپس پاکستان آجاتے ہیں اور کئی تواعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان ہی اُن کی شناخت ہے اور وہ افغانستان سمیت کسی اور ملک میں رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔

افغانستان ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک سے بھی کچھ لوگو نقل مکانی کر کے پاکستان میں پناہ حاصل کر چکے ہیں۔ دنیا بھی میں پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے متعلق خدشات پائے جاتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں نسبتاََ پناہ گزینوں کی ممکنہ آمد کے حوالے سے زیادہ تشویش پائی جاتی ہے۔ صورتحال کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ مغربی ممالک کے یہ خدشات بے جاہیں کیونکہ دنیا بھر کے پناہ گزینوں کا بوجھ تو غریب ممالک اُٹھا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے مطابق اگر چہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی سے مسائل پیدا ہوتے ہیں لیکن مغربی ممالک حالات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں کہ وہ خود بھی اُن سے متاثر ہوتے ہیں۔
موجودہ دور میں خانہ جنگی نسلی فسادات ، تشدد اور سیاسی جھگڑوں کے باعث نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ تشویشناک اَمر ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں اس وقت لوگوں کی نظریں نقل مکانی کرنے والے 21 لاکھ افراد پر تھیں اس بارے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کا کہنا کہ اب حالات میں واضح تبدیلی آچکی ہے اور دوسری تباہی لے کر آئی ہے ۔
دوسری جنگ عظیم میں تو صرف 21 لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے لیکن حالیہ برسوں میں اپنا ملک چھوڑنے والے افراد کی تعداد کروڑوں میں ہے جبکہ گزشتہ چند برسوں میں ساڑھے آٹھ لاکھ افراد نے سیاسی پناہ طلب کی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے پناہ گزینوں میں ایک تہائی فلسطینوں کی ہے اور اُن کی تعداد کم و بیش 50 لاکھ ہے جبکہ اسرائیل کی بربریت سے بے گھر ہونے والے افراد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین” یو این ایچ سی آر“ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں 5 کروڑ افراد نقل مکانی کرنا پڑی جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بڑی تعداد ہے ۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق تین کروڑ تینتیس لاکھ افراد اپنے ہی وطن میں بے گھر ہوئے۔
یو این ایچ سی آر کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ جبری طور پر نقل مکانی افریقہ خصوصاََ وسطی افریقی جمہوریہ اور جنوبی سوڈان میں بھی دیکھنے میں آئی۔
اس ادارے کے مطابق افغانستان ، شام اور صومالیہ کے پناہ گزین سب سے زیادہ تعداد میں ہیں جو دنیا بھر کے مہاجرین کی کل تعداد کا نصف سے بھی زائد بنتی ہے ۔ عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس سب سے زیادہ نقل مکانی شام کی جنگ کی وجہ سے ہوئی جہاں کے تقریباََ 25 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے جبکہ 65 لاکھ افراد اندرون ملک ہی نقل مکانی کرنا پڑی۔

انسانی حقوق کے مطابق زیادہ ترپناہ گزینوں کا تعلق ایسے پسماندہ ممالک ہے جہاں حالات خراب ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ترقی یافتہ ممالک سے ان ممالک کی امداد کا مطالبہ کیا تھا۔
پاکستان میں بھی مہاجرین کی کثیر تعداد آباد ہے۔ تقسیم کے وقت لاکھوں لوگ نقل مکانی کر کے ملک کے مختلف حصوں میں آباد ہوئے اور پھر مستقل پاکستانی شہری بن گئے۔
اس کے بعد بھی مختلف مواقع پر پاکستانی اندرون ملک نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔ سیلاب ، زلزلہ او انتشار کی کیفیت میں اپنا علاقہ چھوڑ کر ملک کے دوسرے علاقوں میں نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
سوات اور جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے دوران لاکھوں افراد نے اردگرد کے علاقوں میں پناہ لی۔ پناہ گزین اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ملک نقل مکانی کر یں یا اپنا علاقہ چھوڑ کر اپنے ملک کے ہی کسی علاقے میں جا آباد ہوں۔
ہر وہ جگہ اُنہیں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دنیا بھر میں نسل درنسل پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ حالات و شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ افغانوں، بہاریوں، کردوں اور فلسطینوں کی مشکلات کئی دہائیوں سے حل نہیں ہوئیں۔ بہاری ہمیشہ سے کیمپوں تک محدود ہیں اور کوئی بھی ریاستی یا عالمی ادارہ اُن کی مشکلات کے خاتمے کیلئے سنجیدہ نہیں ہے ۔
اس طرح ”کرد“ کو بھی کئی ریاستوں کے جبر کا سامنا ہے۔ ترکی ، ایران اور عراق کی جانب سے کرد علاقوں پر دعویٰ کیا جاتا ہے مگر اُنہیں کردوں سے کوئی خاص ہمدردی اور نہ ہی کوئی اُن سے نسبت ہے ۔ کالونیل دور کے اختتام پر دنیا میں نئے ممالک وجود میں آئے تو کردوں کو ایک علیٰحدہ ریاست دئیے بغیر بے یارو مدوگار چھوڑ دیا گیا تھا۔ فلسطین بھی اسی طرح کی بے یارو مددگار ریاست ہے۔

واقعات و حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسائل سے نمٹنے اور حل کرنے کے بارے میں رٹی رٹائی باتیں اور دعوے کئے جاتے ہیں ۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ بھی بے اثر ہو چکا ہے کیونکہ بر س ہابرس سے پناہ گزینوں کی مشکلات ختم ہونے میں ہی نہیں آرہی۔ پناہ گزین خواہ کیمپوں میں مقیم ہوں یا گھروں میں اُن کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ جلداز جلد اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری پناہ گزینوں کیلئے مل بیٹھ کر لائحہ عمل ترتیب دے ۔ جن سے آنے والے نسلوں کو کیمپوں کی ذلت آمیز زندگی سے بچایا جا سکے۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان