بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستان اور افغانستان ۔۔۔ قومی سلامتی کے تقاضے
اپنی شکست تسلیم کرنے کا حوصلہ امریکہ میں نہیں ہے ۔۔۔۔۔جن لوگوں نے سوویت یونین کے خلاف جنگی ہوتی رہی۔ جن لوگوں نے سوویت یونین کے خلاف جنگ جیتی تھی ان کو اقتدار میں حصہ نہیں دیا گیا
ٍجنرل (ر) مرزا اسلم بیگ :
افغانستان ایشیا کی تاریخ کی تبدیلی کا مرکز رہا ہے ۔ آج بھی 13 سال کی جنگ کے بعد دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کو تاریخی ناکامی کا سامنا ہے ۔ دنیا کی سب سے زیادہ وسائل رکھنے والی دو سپر پاور کو اسی زمین پر شرمناک شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ امریکہ کو اپنی عسکری اور اقتصادی قوت کو زعم ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اسی طاقت کے ذریعے وہ عالمی برتری قائم رکھ سکتا ہے۔
اس غلط فہمی سے جو فکر پیدا ہوئی ہے وہ نہ صرف امریکہ بلکہ پاکستانی حکومتوں بھی حاوی رہی ہے اور امریکی تجزیوں کو درست سمجھ کر ہماری حکومتیں غلط فیصلے کرتی رہی ہیں۔1980 میں جنرل ضیاء الحق نے افغان جہاد میں امریکہ کا ساتھ دینے کا غلط فیصلہ کیا اور ہمیں بڑی مشکلات کا سامنا ہوا۔2001 میں جنرل پروز مشرف نے برادر اسلامی ملک افغانستان کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینے کا بدترین فیصلہ کیا جس کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔
اس لئے لازم ہے کہ ہم تاریخ کے اور اق پلٹ کر دیکھیں کہ زمینی حقائق کیا ہیں اور وہ ہماری قومی زندگی پرکیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ افغانستان سے ہمارا تعلق کیا ہے اور ہماری تاریخ اور مسائل کس حد تک مشترک ہیں۔
# اقبال نے افغان دشمنوں کو ابلیس کی زبانی پیغام دیا تھا کہ افغانیوں کا قابو کرنا ہے تو جان لو کہ :
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو
افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج
مُلا کو اس کے کوہ و دمن سے نکال دو
اسی مذموم کوشش میں لگے رہے ہیں۔
سوویت یونین، امریکہ اور اُسکے اتحادیوں نے بدترین ظلم و دہشتگردی کا مظاہرہ کیا اسکے باوجود افغانیوں کے عزم و استقلال میں نہ کوئی کمی آئی ہے نہ ہی انکی غیرت دین متزلزل ہوئی اور نہ ہی ان کو کود دمن کے مسکنوں سے نکال سکے ہیں۔آج مُلا عمر کا یہ اعلان ہے کہ ” غیر ملکیو! تم ہار گئے ہو‘ یہاں سے نکلو اور ہم آزاد ہوں گئے تو سب مل کر ایک اسلامی حکومت قائم کرینگے۔
“ آج حقیقت یہ ہے کہ کہ افغانستان کے 90 فیصد حصے پر طالبان کاتسلط ہے جہاں اسلامی قانون نافذ ہے۔ اس حقیقت کو ہم جھٹلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور خود فریبی میں مبتلا ہیں۔
#صدیوں سے افغانستان کی جانب سے بیشمار حملہ آوروں نے برصغیر کی اس سر زمین پر حملے کئے ہیں جہاںآ ج پاکستان اور بھارت قائم ہیں ۔ 42 حملے تو تاریخ میں موجود ہیں۔ اس سے پہلے کتنے حملہ آور آئے اس کاحساب نہیں ہے۔
” یہ تاریخ کا دھارا ہے ۔“ انہی افغانیوں اور وسط ایشیا کے نوجوانوں نے ان حملہ آوروں کے خلاف یا تو جنگ کی یا جنگ میں شامل ہو کر برصغیر کو فتح کیا اور وہاں اپنی حکومتیں بنائیں اور صدیوں حکمرانی کرتے رہے ۔ خود میرے آباو اجداد ازبکستان کی وادی فرغانہ سے ظہیرالدین بابر کے ساتھ افغانستان آئے۔افغانستان کا رُخ کای اسے فتح کیا اور مغل خاندان کی ڈھائی سوسالہ حکمرانی کی بنیادی رکھی۔
شہنشاہ جہانگیر کے دورمیں ہمارے بزرگ مرزا مسلم بیگ کو یک ہزاری کا رُتبہ دے کر یوپی کے شہر اعظم گڑھ کے نزدیک آبادکیا جہاں آج بھی ہمارے خادندان کے لوگ موجود ہیں۔ افغان اور وسط ایشیا مدارس کے طالبان نے برصغیر پر حملے کیلئے آنے والے حملہ آوروں کی مدد کی اور اپنے سپاہی مہیا کیے۔ وہ احمد شاہ ابدالی ہو، غزنوی ، غوری یا بابر ہوں ان کے اکثر سپاہی اس سرزمین سے آئے تھے۔
تاریخ کے اس دھارے کو نہ تو سلطنت برطانیہ روک سکی ، نہ ہی ڈیورنڈ لائن۔ یہی وجہ ہے کہ روسی اور امریکی جارحیت کے خلاف بھی انہی افغانیوں نے بند باندھا،جسکے نتیجے میں آج امریکہ افغانستان سے شکست کھا کر نکل رہا ہے لیکن اس میں سوویت یونین جیسا ظرف نہیں ہے کہ ہو اپنی شکست کر لے ۔1989 میں سوویت یونین نے شکست تسلیم کر لی اور پاکستان کو پیغام دیا کہ ”ہم ہار گئے ہیں اور واپس جانا چاہتے ہیں۔
“اس وقت کے مجاہدین نے انہیں راستہ دے دیا لیکن امریکہ میں اتنا حوصلہ نہیں کہ وہ اپنی شکست مان کر افغانستان سے نکل جائے تاکہ وہاں امن کی راہوں کا تعین ہو سکے ۔
# گزشتہ 35 برس سے افغانستان کی آزادی کی جنگ جاری ہے ۔ افغانی پہلے سوویت یونین کے خلاف لڑے پھر انہیں آپس میں لڑایا گیا اور اُنہیں کمزور سمجھ کر امریکہ آن دھمکا لیکن انہی جنگوں کے سبب ”عالم اسلام کی مدافعتی قوت “ نے جنم لیا ہے جس کا مرکز یہی پختوں قوم ہے جس کا 60% پاکستان میں اور 40% افغانستان میں ہے اور دونوں مل کر بیرونی جارحیت کامقابلہ کر رہے ہیں۔
اس ”پختوں قوت“ کا پھیلاو کراچی سے لے کر کرکوہ ہندوکش تک ہے جس کے مغربی دنیا خائف ہے۔ اس حقیقت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی قومی سلامتی کے تقاضے مشترک ہیں۔ اس حقیقت کو قائداعظم نے سمجھا تھا اور ان سرحدوں کی ذمہ داری انہی قبائلیوں کو سونپ دی تھی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغانستان کاکوئی بھی حکمران ساٹھ فیصد پاکستانی پختونوں کی مرضی کے بغیر حکومت نہیں کرسکا ہے۔
جب ان کی مرضی کے خلاف کابل میں کوئی حکومت بنی تو تصادم ہوا ہے ۔1970 میں افغانستان میں ایسے حکمران مسلط کیے گئے جو پختونوں کی مرضی کے خلاف تھے اور جنگ ہوئی جو اب تک جاری ہے ۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستانی پختون اس حقیقت کا نام ہے جسے” ناقابل تروید اکثریتی حقیقت “ کہتے ہیں ۔ جس کا تقاضا ہے کہ دونوں ملکوں کی سلامتی کے معاملات کو ایک ہی نظر سے دیکھا جائے تو امن قائم رہے گا۔

# افغانستان کے 90 فیصد علاقے پر طالبان کا تسلط ہے جہاں اُنہی کا قانون نافذ ہے ۔ اس سال کے آخر تک امریکہ افغانستان سے نکل جائے گا اور اس کی دس بارہ ہزار فوج صرف چند ائر بیسوں پر رہے گی جہاں سے وہ اپنی فضائیہ کی مدد سے اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتا ہے جو ممکن نہیں ہے کیونکہ طالبان سے خلاف امریکہ نے اربوں ڈالر خرچ کرکے تین لاکھ افغانوں پرمشتمل فوج تیار کی ہے لیکن اس فوج کی کارگردگی کے بارے میں افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑنے والے امریکی کمانڈر جرنیل کا کہنا ہے کہ ”افغان نیشنل آرمی میں طالبان سے لڑنے کا حوصلہ نہیں ہے اور جب دباوٴ پڑے گا تویہ فوج خزاں کے پتوں کی طرح بکھر جائے گی۔
“ اسی طرح جیسے عراق کی فوج پر دباوٴ پڑا تو وہ بھی خزاں کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔ یہی کچھ یہاں بھی ہونے والا ہے اورامریکہ اپنی ناکامی کی اصل تصویر دیکھنے سے خوفزدہ ہے اور اپنی مرضی کی حکومت افغانستان میں قائم کی ہے تاکہ یہ حکومت اسکے مفادات کا تحفظ کر سکے۔ صدر اشرف غنی پاکستان آئے، اُن کا مقصد تھا کہ ان کی حکومت کو افغانستان کے طالبان اور پاکستان کی حمایت حاصل ہو لیکن یہ امریکہ کی بڑی غلط فہمی ہے کیونکہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ اگلا سال افغانستان کی تاریخ کا اہم سال ہوگا اور کابل میں طالبان کی حکومت قائم ہوگی اور انتقال اقتدار طالبان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

#آپریشن ضرب عضب افغان صدر اشرف غنی کی آمد اور آرمی چیف کا امریکہ جانا بڑی اہمیت کے واقعات ہیں۔ اگر سوچ وعمل کی ہم آہنگی ہو تو اچھے نتائج نکل سکتے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والا آپریشن غیر ملکیوں اور اپنے ملک میں دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف ہے ۔ یقینا بہت جلد ہماری فوج ان علاقوں کا کنٹرول حاصل کر لے گی اور وہاں امن وامان قائم ہوگا لیکن اس حقیقت کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا ک پاک افغان سرحد پر ہماری ڈیڑھ لاکھ فوج لگی ہوئی ہے اور شمالی ویزستان کے آپریشن میں مزید چالیس ہزار فوج کی نفری ناکافی ہے جو ایک خطرناک صورتحال ہے جس سے بھارت سے حوصلے بڑھیں گئے۔
اس پس منظر میں جنرل راحیل کا امریکیوں کو بتایا ضروری ہے کہ افغانستان میں 1990 جیسی سازشیں اب کام نہیں آئیں گی۔ جب امریکہ نے سازش کے تحت افغانیوں کو لڑانا تھا اور آٹھ سال تک خانہ جنگی ہوتی رہی۔ جن لوگوں نے سوویت یونین کے خلاف جنگی ہوتی رہی۔ جن لوگوں نے سوویت یونین کے خلاف جنگ جیتی تھی ان کو اقتدار میں حصہ نہیں دیا گیا ۔اسلئے وقت کا تقاضا ہے کہ وہاں ایسی حکومت بنے جس پر فریقین کا اعتماد ہو۔
اسلئے سازشوں سے اجتناب کیا جائے اور ”قانون فطرت “کے تقاضے پورے کیے جائیں یعنی ”دو متحارب قوتوں میں سے فتح یاب قوت ہی امن کی راہوں ل کا تعین کرے گی۔“ آج کی کامیاب قوت طالبان ہیں اور انہی کو حق پہنتا ہے کہ حکومت بنانے میں انہیں شامل کیا جائے۔ تاریخ کے دھارے کا رُخ موڑنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ لیکن تدیر اور فراست سے افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت ضرور بن سکتی ہے جو تمام مسائل کا حل ہے۔

قانونِ فطرت کے خلاف عمل کرنے کے نتیجے میںآ ج مشرق وسطیٰ میں داعش جیسی قوت کا سامنا ہے کیونکہ عراق میں جنگ جیتنے والوں کو اقتدار میں کوئی حصہ نہیں ملا ۔ آج وہی سنی اقلیت جو جنگ جیتے تھے ، داعش کا ہرادل دستہ ہیں اور پوری دنیا کے جہادی اں کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں جس کے خلاف دنیاکی تمام قوتیں بے بس نظر آتی ہیں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے اب افغانستان میں کسی غلطی کی گنجائش نہیں ہے ورنہ یہاں بھی داعش جیسے عناصر سر اٹھائیں گے اور آگے بڑھیں گئے ان کی روایت ہے کہ جب وہ دریائے سندھ عبور کرلیتے ہیں تو پانی پت پہنچ کے رُکتے ہیں جہاں فیصلہ کن جنگ ہوتی ہے۔
ان حقائق کے تناظر میں افغانستان اور پاکستان کی سلامتی کے تقاضے نہ صرف مشترک نظر آتے ہیں بلکہ بھارت کی سلامتی کی ضمانت بھی ہیں۔ اس حقیقت کو بھارت اگر سمجھ لے تو وہ تمام سازشیں جو افغانستان کی سر زمین سے پچھلے دس سالوں سے پاکستان کے خلاف جاری ہیں بند ہو جائیں گئی اور افغانستان میں خلوص نیت کے ساتھ امن کی تلاش آسان ہوگی۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان