بند کریں
منگل جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
متعصب صیہونی
گورے یہودی کالے یہودیوں کو برداشت نہیں کرتے۔۔۔۔ اسرائیل میں دراصل نہ کوئی مذہبی اقلیت محفوظ ہے اور نہ ہی لسانی یا نسلی اقلیتوں کے حقوق کاتحفظ کیا جاتا ہے
اسرائیل کی فوج اور پولیس کے فلسطینیوں پر ظلم وستم تو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں لیکن چند ہفتے قبل تل ابیب میں ایک ایسا منظردکھائی دیا جس پر بہت سے فلسطینیوں کو یقین نہیں آیا ہوگا۔اس واقعہ میں اسرائیلی پولیس نے ایتھوپیائی نژاد یہودیوں کوتشدد کانشانہ بنایا تھا۔ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے یہ اسرائیلی باشندے اس واقعہ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس میں دواسرائیلی پولیس اہلکاروں نے ایتھو پیائی نژاداسرائیلی فوجی کو بلا جواز شدید تشدد کانشانہ بنانے کے بعد گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی اس واقعہ کی کسی نے ویڈیوبنا کر سوشل میڈیا پراپ لوڈکردی تھی۔

قارئین کی دلچسپی کیلئے یہ بتانا ضروری ہے کہ یہودی مذہب سے وابستہ افرادکا تعلق کسی بھی ملک سے ہو وہ اپنے یہودی النسل ہونے کی وجہ سے اسرائیل کے پیدائشی شہری سمجھے جاتے ہیں۔گریٹر اسرائیل کی صورت خالصتا صہیونی ریاست کے قیام کیلئے کوشاں صہیونیوں کے اندر دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کیلئے نسلی تعصب روز بروز مضبوط ہورہا ہے۔
اسرائیل میں دراصل نہ کوئی مذہبی اقلیت محفوظ ہے اور نہ ہی لسانی یا نسلی اقلیتوں کے حقوق کاتحفظ کیا جاتا ہے۔اسرائیل تیزی سے گوری چمڑی والے یہودیوں کیلئے مخصوص ملک بن رہا ہے۔اسرائیل کے حالیہ انتخابات اور ان کے بہیمانہ استعمال کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں۔اسرائیل کی آبادی میں عرب مسلمانوں کی مجموعی تعداد 20 فیصد کے لگ بھگ ہے ۔جس روز اسرائیل میں عام انتخابات کے حوالے سے ووٹنگ ہورہی تھی اس روز بنجمن نیتن یا ہونے کہا تھا کہ عرب ووٹرز،ریوڑوں کی شکل میں ووٹ ڈالنے آرہے ہیں۔
ان کے اس توہین آمیزبیان کو اسرائیل کے عرب شہریوں نے مستر دکردیا تھا اور بنجمن نیتن یا ہو پرنسل پرستی کا الزام عائدکیا تھا۔
اسرائیلی حکومت گزشتہ کچھ عرصہ سے افریقی نژاد تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے حالانکہ اسرائیلی شدید تحفظات کا اظہار بھی کر چکی ہے۔اسرائیلی حکومت واضح کر چکی ہے کہ اگر افریقی نژادتارکین وطن رضا کارانہ طور پر ڈی پورٹ ہونے پر رضا مند ہوئے تو انہیں جیل جانا ہوگا۔

1990ء میں اسرائیلی حکام نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ افریقی نژاداسرائیلی فوجیوں کی جانب سے عطیہ کیا جانے والا خون ایڈز پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر ضائع کر دیا گیاتھا۔
اسرائیلی دانشور اور سیکولر حلقے بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ اسرائیل میں نسلی اور لسانی تعصب کی جڑیں بہت گہری ہیں اور انتخابات کے دنوں میں صہیونی سیاستدانوں کے متعصبانہ بیانات اس صورتحال کو مزید کرابی سے دور چار کر دیتے ہیں۔

یہ مسئلہ دراصل صرف اسرائیلی حکومت یا سیاستدانوں کا ہی پیدا کردہ نہیں ہے بلکہ عام اسرائیلی بھی نسلی اور لسانی اقلیتوں کے ساتھ انتہائی نارواسلوک اختیار کرتے ہیں۔ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے یہودی بذات خود اسرائیل نہیں آئے تھے بلکہ 1980ء اور90 کی دھائیوں میں خفیہ پروازوں کے ذریعے انہیں اسرائیل لا کر آباد کیا گیا تھا تاکہ عرب مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-29

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان