بند کریں
جمعہ جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
”مسئلہ فلسطین“
اسکا حل اُمت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔۔۔۔سرزمین فلسطین پر یہودی آبادیاں تعمیر کر کے جس طرح فلسطین کے مقامی باشندوں،یہودی مہاجرین کےتوازن کوبگاڑا گیا اس نے عربوں میں پھوٹ ڈال کر نہ صرف انکے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا
سید عامر فیروز :
جو آگ نمرود نے جدِ انبیاء ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لئے بھڑکائی تھی آج وہی آگ ظالم و سفاک صیہونیوں نے اولاد ابراہیم کیلئے بھڑکا رکھی ہے۔ یہ سلسلہ ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گا۔ لیکن اقوام عالم نے فلسطینیوں پر گزرنے والی اس قیامت کے باوجود مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اقوام متحدہ فلسطین کے مظلوم اوربے بس مسلمانوں کے ساتھ اسرائیل کی غنڈہ گردی کو ختم کرنے اور ظالم پر گرفت کرنے کے بجائے محض تماشائی کاکردار ادا کر رہی ہے۔

سرزمین فلسطین پر ظالم اور سفاک یہودیوں کا قبضہ اس عالمی سازش کا ایک حصہ ہے جوروز ازل سے مسلمانوں کے خلاف جاری ہے۔ اسرائیل کے قیام میں مغربی استعمار اور اسلام دشمن قوتوں نے جو کردار ادا کیا ہے وہ ان کی روایتی مسلمان اور اسلام دشمنی کا عکاسی کرتا ہے۔
سرزمین فلسطین پر یہودی آبادیاں تعمیر کر کے جس طرح فلسطین کے مقامی باشندوں اور یہودی مہاجرین کے توازن کو بگاڑا گیا اس نے عربوں میں پھوٹ ڈال کر نہ صرف ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا بلکہ نئے معاشی واقتصادی حربوں کے ذریعے انہیں ایسا قلاش اور مفلوک الحال بنا دیاکہ اپنی اراضی یہودیوں کے ہاتھوں فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے۔
اور اس طرح ان کی معیشت کے ساتھ ساتھ معاشرت پر بھی کاری ضرب لگی اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ اگر مسلمان اسی وقت ایک ہو جاتے اوریہ تہیہ کر لیتے کہ ان مٹھی بھر یہودیوں کا سر کچلنا ہے تو آج یقینا حالات مختلف ہوتے ۔ لیکن افسوس کہ وہ ایسا نہ کر سکے اور متحد ہونے کے بجائے باہم دست و گریبان رہے۔
صہیونی مملکت کا نظریہ پہلی جنگ عظیم کے دوران ہی منظر عام پر آگیا تھا۔
کیونکہ برطانیہ کو جنگی اخراجات پورے کرنے کیلئے یہودی سرمائے کی ضرورت تھی۔ جبکہ یہودی اپنی علیحدہ مملکت تشکیل دینا چاہتے تھے لیکن اس وقت انگریز عربوں کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ”اعلان باسفور“ میں یہودیوں کیلئے وطن کی تشکیل کا یقین تو دلایا مگر اس کی ہیت و نوعیت کو واضح نہ کیا۔ اس یہودی سلطنت کیلئے فلسطین کی سر زمین منتخب کی گئی تھی۔
دوسری عالمگیر جنگ کے دوران اس مملکت کا نقشہ نمایاں ہوا اور دنیا بھر کے یہودی فلسطین کا رخ کرنے لگے۔ فلسطین میں ان کی اس قدر تیز رفتار آمد سے عرب پریشان ہو گے۔ اور انہوں نے بڑی شدت سے اس کی مخالفت کی ۔ لیکن یہودیوں کی آمد کا سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ کیونکہ ان کو برطانیہ اور امریکہ کی اعانت حاصل تھی۔ تاہم 1939 میں جب دوسری عالمگیر جنگ شروع ہوئی تو عربوں کو خوش کرنے کیلئے یہودیوں کی آباد کاری محدود کر دی گئی۔
اس وقت یہوددیوں اور عربوں کی فلسطین میں آبادی کا تناسب 3 سے 10 تک تھا۔
1945ء عربوں نے اس نئے فتنے کو ختم کرنے کے لئے عرب لیگ کے قیام کا پروگرام بنایا۔ اس زمانے میں فلسطین کے مستقبل کے بارے میں سفارشات پیش کرنے کیلئے ایک اینگلو امریکی کمیٹی معرض وجود میںآ ئی۔ یہ چونکہ فلسطین میں یہودی مملکت قائم کرنے کے منصوبے کی ایک شکل تھی اس لیے عربوں نے اس کا بائیکاٹ کر دیا۔
مگر جنگ کے بعد فلسطین میں یہودیوں کی خاصی تعداد آباد ہو چکی تھی۔ اور برطانیہ نے محسوس کر لیا تھا ک اب اگر وہ فسطین سے اپنی فوجیں ہٹا لے تو یہودی اپنی آزاد مملکت تشکیل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ اس نے مسئلہ کا حل تلاش کرنے میں ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے فلسطین کو اقوام متحدہ کو تولیت میں دے دیا۔انگریز ایک طرف تو فسطینی عربوں کو پریشان کرتے رہے تو دوسری طرف وہ یہودیوں کو آباد کرنے میں مصروف رہے۔
1929 ء سے1933 میں یہودیوں کے خلاف فسادات ہوئے لیکن انگریز فوجیوں نے ان فسادات کو سختی سے کچل دیا۔ ہٹلر کی یہود دشمنی کے باعث فلسطین میں یہودیوں کی آمد کی نیا سلسلہ شروع ہو ا اور صرف ایک سال 1935ء میں 60 ہزار یہودی یہاں آپہنچے۔
دوسری جنگ عظیم کے دوران صہیونیوں نے برطانوی حکومت سے تعاون کیا اور اتھادیوں کی بھرپور مالی امداد کی ۔ جنگ کے بعد انگریزوں نے 2اپریل 1947 کو فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ میں پیش کر دیا۔
15 مئی کو اقوام متحدہ کی ایک خاص کمیٹی قائم کی گئی جس نے متفقہ طور یہ رائے ظاہر کی کہ فلسطین پر برطانیہ کا قبضہ ختم ہونا چاہیے۔ اس کمیٹی کے ارکان مستقبل کی حکومت کے بارے میں اتفاق رائے نہیں کر سکے۔ اکثریت نے یہ تجویز پیش کی کہ وسطیٰ فلسطین سے نیچے کے علاقے میں عرب حکومت قائم کر دی جائے۔ یروشلم اور بیت اللحم کا علاقہ اقوام متحدہ کے ماتحت دے دیا جائے اور ان شہروں سے اوپر بحیرہ روم تک کے علاقہ میں یہودی مملکت قائم کر دی جائے ۔
29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کمیٹی کے ارکان کی اکثریت کی تجویز قبول کرلی۔ اسمبلی نے اس منصوبے پر عملدرآمد کیلئے 5ارکان پر مشتمل ایک کمیشن بھی قائم کر دیا۔ اس کمیشن کے ذمہ یہ کام تھا کہ وہ یہودیوں اور عربوں کے گروپوں سے صلاح مشورے سے بعد عارضی حکومت کی تشکیل میں مدد دے۔
عربوں نے اقوام متحدہ کے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عرب علاقے میں یہودی مملکت قائم کرنے کی کوشش ایک جارحانہ کارروائی ہے اور اسکی مزاحمت کی جائے گئی۔

برطانیہ نے بھی یہ اعلان کیا کہ یہ منصوبہ طاقت کے ذریعے بروئے کار نہیں لایا جائے گا۔ اوربرطانوی حکومت قبضے کے خاتمے 15 مئی 1948 نظم و نسق کی ذمہ داری پوری کرے گی۔
فلسطین میں تقریباََ 6ماہ کا یہ عرصہ طوائف الملوکی کا زمانہ تھا۔ عربوں اور یہودیوں کے مابین گوریلا جنگ شروع ہو چکی تھی۔ اقوام متحدہ کے کمیشن نے تقسیم کے منصوبے پر عملدر آمد کا آغاز بھی نہیں کیا تھا۔
انتشار وافر اتفری کے عالم میں فلسطین کا آخری ہائی کمشنر سرایلن گورڈن 14 مئی 1948 کو فلسطین چھوڑ گیا۔ اور اسی روز شام کے 4بجے بن گوریان نے تل ابیب میں یہودیوں کی نیشنل کونسل اور جنرل صیہونی کونسل کے اجلاس میں یہودی مملکت ” اسرائیل کے قیام کا یکطرفہ اعلان کر دیا۔ ڈیوڈ بن گوریان کو ہی اسرائیل کی عارضی حکومت کا پہلا وزیراعظم مقرر کیا گیا اور 16مئی 1948 کو امریکہ نے اور صرف ایک دن بعد روس نے بھی یہودیوں کی مملکت کو تسلیم کر لیا۔

ارضِ فلسطین پر یہودیوں کیاس غاصبانہ قبضے کو ختم کرنے کے لئے مصر، اردن ، عراق، شام اور لبنان نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ مغربی طاقتیں اسرائیل کی پشت پر تھیں اس لئے آٹھ ماہ کی شدید جنگ کے بعد عربوں کو جنگ بندی منظور کرنا پڑی۔ لیکن انہوں نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ آٹھ ماہ کی اس جنگ میں اقوام متحدہ کے ثالث برائے فلسطین کاونٹ برنارڈرت کو یروشلم میں یہودی دہشت پسندوں نے ہلاک کر دیا۔
ان کی جگہ رالف بیچ آئے جو بمشکل جنگ بند کراسکے۔تاہم یہودی اس علاقے سے کہیں زیادہ علاقے پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہو گئے۔
جہاں تک فلسطینی معاملے میں پاکستان کے کردار کا تعلق ہے تو ہمیں یہ بات جان لینی چاہیے کہ پاکستان دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہے ۔ اس لحاظ سے پاکستان کو امت مسلمہ کی قیادت کا شرف حاصل ہے اور ہمارے حکمرانوں کو بغیر کسی خوف و خطر اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین رکھتے ہوئے امت مسلمہ کا یکجا کرنا ہوگا۔ بلکہ اس کی قیادت کرنا ہو گی اوریقینا ہمیں عالمِ اسلام کی پاکستان سے وابستہ امیدوں کا بھرم رکھنا ہو گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-25

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان