بند کریں
جمعہ جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مشرق وسطیٰ میں نیا کھیل شروع
داعش کی بغداد کی جانب طوفانی پیش قدمی۔۔۔۔بڑی جنگ کی صورت میں تیل کی قیمتیں آسمان پرپہنچ جائیں گی
محمد انیس الرحمن:
عراق کی نئی صورتحال کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں نیا کھیل شروع ہوچکاہے۔ اسلامی امارت شام و عراق نامی سنی عسکری تحریک داعش کے شمالی عراق پر قبضہ مستحکم کرنے کے بعد بغداد کی جانب طوفانی یش قدمی نے عرب دارالحکومتوں میں بھی خطرات کی گھنٹی بجادی ہے۔ یہ اس کھیل کی ابتدا ہے جس کی جانب ہم ان صفحات پر بہت پہلے سے وقوع پزیر ہونے کے احتمال کی جانب اشارہ کرتے رہے ہیں۔
امریکہ نے جس وقت نائن الیون کے ڈرامے کے بعد افغانستان کا رخ کیا تھا تو عراق پر یلغار کا منصوبہ اس سے بھی پہلے بنایا گیا تھا۔ عراق میں مجاہدین کی سرگرمیوں کے خلاف امریکہ نے شام کو بھی متعدد بار سخت وارننگ دی کہ انتہا پسند شامی سرحد عبورکر کے عراق میں داخل ہوکر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں اس دور میں شامی صدر بشار الاسد نے امریکہ سے مطالبہ کیا تھا کہ عراق اور شام کی طویل سرحدوں کی نگرنی کے لئے اسے جدید مانیٹری نظام دیا جائے لیکن اس وقت شامی حکومت کی درخواست پر کان نہیں دھرے گئے تھے۔
یہ سلسلہ 2003ء سے 2011ء تک جاری رہا اس دوران شام کے حوالے سے مغربی میڈیا میں یہ بات تواتر کے ساتھ آتی رہی کہ عراق میں موجود امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس اس بات کے قوی ثبوت ہیں کہ شامی حکومت کی مرضی سے انتہا پسند سرحد عبور کر کے عراق میں داخل ہوتے ہیں۔ 2008ء میں عراق میں موجود امریکی کمانڈوز نے عراق سے متصل شامی علاقے بوکمال پر حملہ کیا تھا اس کے ساتھ امریکی طیاروں نے یہاں بمباری بھی کی تھی اس کے بارے میں امریکیوں کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ انتہا پسندوں کا عراق میں داخل ہونے کا راستہ ہے۔
اس کے بعد امریکہ کی چھتری تلے عراق میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں جو حکومت بغداد میں تشکیل پائی تھی اس نے شامی حکومت پر عراق میں انتہا پسند ارسال کرنے کا الزام عائد کیا۔
برطانوی جریدے ڈیلی ٹیلی گراف نے اپنی گزشتہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ مغربی ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ اسلامی جہادی تحرک داعش اور بشار الاسد کی حکومت کے درمیان خفیہ روابط ہیں اور حکومت کی جانب سے اس تنظیم کو مکمل حمایت اور مدد حاصل ہے کیونکہ شمالی شام کے جن علاقوں پر اس تنظیم کا قبضہ ہے وہاں پر شام لے تیل کے ذخائر پائے جاتے ہیں اور داعش کے قبضے کے باوجود وہاں تیل سے متعلق امور شامی حکومت کے مطابق ہی چلائے جارہے ہیں۔
اس تمام معاملے میں سب سے عجیب بات یہ ہے کہ دیگر گروپ جو شامی حکومت کے خلاف نبردآزما ہیں ان کے سرکردہ افراد کو اس تنظیم نے نہ صرف ہلاک کیا ہے بلکہ بہت سے مواقعوں پر جنگ کی کیفیت بھی پیدا کی ہے۔ اس سلسلے میں داعش کا میڈیا سیل یہ الزام عائد کرتاہے کہ شامل کی فری آرمی جو اسد حکومت کے خلاف جنگ کررہی ہے اسے امریکہ اور یورپ کی مکمل تائید حاصل ہے اور مستقبل میں اگر انہیں شام میں کامیابی حاصل ہوجاتی ہے تو یہاں پر مغرب نواز نظام ہی نافذکیا جائے گا جسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مدد سے چلایا جائیگا۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو داعش کی عراق میں طوفانی پیش قدمی کئی قسم کے سوالات کھڑے کرہی ہے۔ عرب صحافتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام معاملات صرف علاقائی تناظر میں نہیں دیکھے جاسکتے بلکہ اس کا دائرہ یوکرائن تک دراز ہے۔ اس صورتحال میں اگر دیکھا جائے تو عراق کی موجودہ صورتحال سے کئی معاملات سامنے آتے ہیں سب سے پہلے یہ کہ امریکہ نواز مالکی حکومت کو سنی اکثریتی علاقوں میں سیاسی طور پر سخت مزاحمت کا سامنا تھا خاص طور پر الانبارمیں سنی سیاسی قیادت بھرپور طریقے سے مالکی حکومت کے خلاف اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آچکی ہے۔
اس لئے اس قسم کی سیاسی صورتحال میں مالکی حکومت کیلئے بغداد میں اپنا اقتدار قائم رکھنا مشکل ہوچکا تھا اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو داعش کی پیش قدمی نوری المالکی کی حکومت کو سہارا دینے کاسبب بن جائے گی کیونکہ معاملہ اب سیاسی حل سے نکل کر عسکری ٹکراؤ کی سمت بڑھے گا اور مالکی کی سیاسی مشکلات عارضی طور پر محو ہو جائیں گی۔
دوسری جانب یہ صورتحال شامل میں بشار الاسدحکومت کیلئے ایک بہت بڑی مدد ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ داعش کی بغداد کی جانب پیش قدمی سے عالمی رائے عامہ کی توجہ یکسر شامل سے ہٹ کر عراق پر مبذول ہوجائیگی۔
اس لئے دیکھا جائے جب سے عراق میں اس قسم کی صورتحال پیدا ہوئی ہے مغربی میڈیا بغداد پر انتہا پسندوں کے قبضے کا راگ الاپ رہا ہے۔
اس منظر نامے میں دیکھا جائے تو روس بھی فائدے میں ہے کیونکہ اگر امریکہ اور برطانیہ عراق پر بھرپور عسکری کارروائی کرتے ہیں تو یوکرین اور کریمیا کے مسئلے سے ان کی توجہ فی الوقت ہٹ جائے گی۔ یورپی یونین جو مشرقی کورین کے معاملے میں امریکی موقف کے قریب تر ہوتی جارہی تھی۔
عراق کی صورتحال نے اسے بھی ایک مرتبہ پھر جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے یوں بین الالاقوامی سطح پر دو محاذوں کے کھل جانے سے روس، شام اور مالکی حکومت کے ساتھ ساتھ امریکہ اور نیٹو کو خلیج میں ایک مرتبہ پھر قدم جمانے کا موقع ہاتھ آجائے گا۔ اس سارے منظر نامے میں ایران نے جس قسم کا موقف اختیار کیا ہے وہ بھی کسی خطرے سے کم نہیں ۔ ایرانی صدر روحانی کا یہ بیان کہ وہ عراق میں انتہا پسندی کے خلاف امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے ایک نئے قضیے کو جنم دے سکتا ہے۔
ایران کے معاملے پر امریکی نئی پالیسی نے عرب ممالک کو خاصا مایوس کردیا تھا سعودی عرب نے اس سلسلے میں بھرپور انداز میں اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا۔ لیکن صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے جلد ہی عرب ملکوں کی جانب سے مثبت پیش رفت کی گئی، خلیجی ممالک نے ایران کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات کے عزم کا اظہار کیا گزشتہ دنوں امیر کویت نے تہران کا دوورہ کیا لیکن اب صورتحال یکسر پلٹتی محسوس ہورہی ہے اور بدقسمتی سے اس سارے منظر نامے میں نقصان صرف مسلمانوں کا ہوتا ہوا محسوس ہورہا ہے جنہیں مسلک کی بنیاد پر ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کیا گیا ہے۔

مغربی صحافتی ذرائع اس جانب اشارہ کررہے ہیں کہ ایران نے اپنے اعلیٰ تربیت یافتہ کمانڈوز عراق کی سرزمین پر اتاردئیے ہیں۔ یہ صورتحال عراق میں ایک بڑے ٹکراؤ کے معاملات کو جنم دے سکتی ہے۔ اس جنگ میں سب سے زیادہ فائدہ امریکہ کو ہوگا کیونکہ ایران کی مسلح مداخلت سے عالمی سطح پر یکدم پیٹرول کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جائیں گی اور چونکہ پیٹرول کی قیمت ڈالر سے منسلک ہے اس لئے عالمی سطح پر گرتا ہوا ڈالر ایک مرتبہ پھر طاقت پکڑلے گا جس سے عالمی سطح پر صہیونی بینک مستحکم ہوجائیں گے اور خون دونوں طرف مسلمانوں کا بہے گا۔

اس سلسلے میں پہلے بھی اس جانب اشارہ دیا جاچکا ہے کہ اسرائیل خلیج کے تیل پر اس وقت ہاتھ صاف کرے گا جب مسلمان آپس میں پوری طرح دست و گریبان ہوجائیں گے اس کے ساتھ ساتھ اسرئیل کو اپنے اس دجالی منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کے جوہری ہتھیار نظر آتے ہیں اس لئے کسی بھی طور وہ ان دونوں مقاصد کی بار آوری کے حالات کو تیزی کے ساتھ اپنے حق میں کرنے کرنے کی کوششوں میں ہے جبکہ امریکہ اور نیٹو پویر طرح اس کی پشت پر ہیں۔
اس ساری صورتحال میں یہ بات انتہائی عجیب ہے کہ ایک طرف عراق میں داعش نے شمالی عراق کو مالکی کی فوجوں سے خالی کراکر قبضہ کیا اور اب بغداد کی جانب گامزن ہے تو دوسری طرف کراچی ائرپورٹ پر طالبان اور ازبک تنظیم کے جان لیوا حملے کے بعد شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہوچکا ہے۔ پاکستان کے اندر طالبان سے مذاکرات مخالف قوتیں مسرور ہیں کہ پاک فوج کو کام پر لگا دیا گیا ہے۔
۔ دوسری جانب طالبان کے مذاکرات مخالف گروپس نے اس آگ پر تیل کا کام کیا تھا۔ اب عراق سے لیکر پاکستان کے قبائلی علاقوں تک یہ جنگ بھڑک چکی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دہلی میں نریندر مودی کی شکل میں صہیونیت نواز انتہا پسند ہندو اقتدار میں آچکا ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت کو چاہئے کہ وہ جلد از جلد نتائج حاصل کر کے جنگ کا دائرہ مزید بڑھنے سے روکے کیونکہ پاک فوج جتنا دیر اس جنگ میں الجھی رہے گی پاکستان کے دشمن اتنا ہی موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔
پاکستانی فوج کا مغربی سرحد پر جنگ میں مصروف رہنا اور بھارت کی جانب سرحد پر فوج کم رکھنا کسی طور بھی صحیح نہیں ہوگا۔ دہشت گردی کے خطرے کا نام لے کر بھارت اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتاہے۔ پاکستان کے پالیسی ساز اداروں کو اس وقت اپنے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نگاہ رکھنا ہوگی کیونکہ مستقبل قریب میں مشرق وسطیٰ ہی عالمی تبدیلیوں کا ایک بڑا محور بننے جارہا ہے اس میں جنوبی ایشیا خصوصاََ پاکستان بھی شامل ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-19

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان