بند کریں
جمعہ جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لہو لہو غزہ کی عید
فلسطینی بچے امن اور سلامتی کو ترس رہے ہیں۔۔۔۔۔تین یہودی بچوں کا خون اتنا قیمتی تھا کہ تین ہفتوں کے دوران بار بار وحشیانہ حملوں میں سینکڑوں فلسطینیوں کو شہید کیا جاچکا ہے جن میں ایک بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے
تہمینہ:
فلسطین کے عوام شاید ایک عرصے سے امن و سکون اور سلامتی کے ساتھ عید منانا بھول چکے ہیں کیونکہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ان کے قومی وجود پر لگنے والے زخم مندمل نہیں ہوتے کہ صیہونی قاتل اور وحشی درندے انہیں نئے چرکے لگانے پہنچ جاتے ہیں۔ اہل فلسطین کی یہ عید بھی لہو رنگ گزرے گی اور نماز عید کی ادائیگی کے بعد فلسطینی مبارکباد کی بجائے اسرائیلی بربریت کا نشانہ بننے والے اپنے پیاروں کا پرسا لینے پر مجبور ہیں۔
غزہ میں اس وقت آگ اور خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔فلسطینی نہتے عوام کو اسرائیل کی درندگی کی بھینٹ چڑھنے کے لیے تمام مسلم ممالک نے اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ افسوس کہ ایک ارب 60کروڑ مسلمانوں کے حکمران پاپنے اپنے مفادات کے تحت یا پھر امریکہ کے خوف سے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ برطانوی ممبر پارلیمنٹ جارج گیلوے نے مسلمان ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”کیا مسلمانوں اور خاص طور پر عرب مسلمانوں میں ایسا کوئی لیڈر ہے جو فلسطینی عوام کی مدد کیلئے آگے آئے؟ کیا مسلمان رہنماؤں میں شرم نام کی کوئی چیز موجود ہے؟ کیا اب بھی مسلم ممالک کو خاموش رہنا چاہیے؟“
اسرائیل نے گزشتہ کئی برس سے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے اور جب دل چاہے وہ فلسطینی مسلمانوں پر وحشیانہ حملے کرتا رہتا ہے۔
دراصل فلسطینیوں کا اصل گناہ مسلمان ہونا ہے۔ لیکن مسلم دنیا خصوصاََ عرب لیگ، مصر، اردن، شامل ایران اور پاکستان کا اپنے مسلمان بھائی بہنوں کی طرف سے بالکل منہ موڑلینا کیا معنی رکھا ہے؟ تین یہودی بچوں کا خون اتنا قیمتی تھا کہ تین ہفتوں کے دوران بار بار وحشیانہ حملوں میں سینکڑوں فلسطینیوں کو شہید کیا جاچکا ہے جن میں ہمیشہ کی طرح ایک بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے۔
فلسطینی مجلس قانون ساز کے سپیکر ڈاکٹر عزیز رویک سمیت ایک کئی اراکین پارلیمان کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔ نماز کیلئے مسجد کی طرف جاتے ہوئے سولہ سالہ محمد ابو خذیر کو صیہونی دہشت گردوں نے اغوا کے بعد نہایت بے دردی سے شہید کردیا۔ غزہ میں اسرائیل نے دہشت گردی کی انتہا کردی ہے اسرائیلی طیاروں کی وحشیانہ بمباری کے بعد نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی بحریہ کی جانب سے گولہ باری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 265کے لگ بھگ افراد شہید اور گیارہ سو سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
زخمیوں کی اتنی بڑی تعداد کے باعث ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ اسرائلی فوج نے اب زمینی آپریشن شروع کردیا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال کر یہودیوں کو آباد کرنا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے موجودہ کشیدہ حالت میں پڑوسی عرب ممالک کا کردار ناصرف تکلیف دہ بلکہ انتہائی مایوس کن ہے۔ مصر کی موجودہ فوجی حکومت نے درپردہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوجی کارروائی کی حمایت کی ہے۔
مصر کی جانب سے اسرائیل کو پیغام دیا گی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف کارروئی کرے۔ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس تذبذب کا شکار ہیں کہ وہ حماس کے تعاون سے قائم کردہ قومی حکومت کو کیسے بچائیں؟ مخلوط حکومت کی تشکیل کو 1ماہ کا عرصہ ہوا ہے لیکن دونوں بڑی جماعتوں الفتح اور حماس کے درمیان رنجشیں بڑھنا شروع ہوگئی ہیں۔ اس ساری صورتحال میں محمود عباس قومی مفاہمت کے تحت فلسطینیوں کے بحران سے نکالنے کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں۔
انہوں نے اسرائیل کو غزہ پر حملہ سے بار رکھنے کی کوشش میں یہودی آبادکاروں کے اغوا اور قتل کی مذمت کرنے سمیت اعلیٰ سطح کے وفدکا یہودی لڑکوں کے اہل خانہ سے ملاقات کیلئے بھجوانا اور قاتلوں کی گرفتاری میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا تھا۔ لیکن اسرائیل نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ غزہ پر حملہ کیلئے تین اسرائیلی لڑکوں کے اغواء کا ڈرامہ رچایا تھا اور وہ اس پر مکمل طور پر عمل پیرا بھی ہے۔

اس سارے تناظر میں مسلم ممالک کی بنائی ہوئی ”نمائندہ“ تنظیموں کی کوئی وقعت نہیں رہی۔عرب لیگ ہو یا او آئی سی، انہوں نے مسلمانوں سے زیادہ مغربی آقاؤں کے مفادات کا خیال رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالم عرب اور عالم اسلام میں اب ان تنظیموں پر کئی یقین کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اسرائیل دہشت گرد وزیراعظم جنرل بینی گانٹز نے عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیلی عسکری کارروائی جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

عرب ممالک کے عوام ہمیشہ سے فلسطینیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں لیکن 13جون کے واقع کے بعد نجانے ایک سکتہ کی کیفیت کیوں طاری ہے۔ سعودی عرب، اردن، اور مصر سے فلسطینیوں کو جو امیدیں تھیں وہ فرتہ رفتہ دم توڑتی جارہی ہیں کیونکہ کسی بھی عرب ملک نے اس ظلم و ناانصافی کے خلا فوالمی میڈیا یا عالمی سطح پر آوز بلند کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
یہودی کوئی آسمانی مخلوق تھے جن کے لیے عرب ممالک اور پوری دنیا نے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا لیکن نہتے فلسطینی بچوں کو شہادت پر کوئی آواز کیوں نہیں اٹھاتا۔
ہیومن رائٹس کے علمبردار ”الحیزان“ کی رپورٹ کے مطابق 2000ء کے بعد سے لے کر اب تک ان چودہ برسوں میں اسرائیل نے 1500کم سن فلسطینی بچے نہایت بے رحمی سے شہید کیے۔ عرب اور مسلمان ممالک کو یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ اگر تین یہودی لڑکے کے قاتلوں کے خلاف کارروائی اسرائیلی کا حق ہے تو پھر ہزاروں فلسطینی معصوم بچوں کی شہادت انسانیت کی تذلیل کے ذمرے میں نہیں آتی۔
ان بچوں کے قاتلوں کو بھی کٹہرے میں لایا جائے۔ انتقامی کارروائی کے دوران سات سو فلسطینیوں کو حراست میں لیکر جیلوں میں ڈال دیا ہے کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں؟ عرب تنظیمیں کہاں ہیں اس المیے پر انہوں نے آواز احتجاج بلند کیوں نہیں کی۔ عرب ممالک نے کیوں چپ سادھ رکھی ہے؟ اگر غیر مسلم ممالک اپنے وسیع تر مفاد کیلئے یکجا ہوسکتے ہیں تو پھر امت مسلمہ اپنا اتحاد بحال کرنے سمیت وقت کی نزاکت کو سمجھنے سے قاصر کیوں ہے؟ پوری دنیا میں مسلمانوں کا خون اتنا ارزاں کیوں ہوگیا ہے کہ جدھر نگاہ دوڑائیں امت مسلمہ رو بہ زوال نظر آتی ہے۔
سعودی عرب اردن مصر جیسے تینوں بڑے ممالک فلسطینیوں کو اخون المسلمون کی ہم خیال تصور کیوں کررہے ہیں؟ شام سے حماس کی جلاوطن قیادت کی قطر منتقلی، مصر کی جانب سے تنظیم پر پابندیوں ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور سب سے بڑھ کر ایران کی جانب سے حماس کی امداد بند ہونے کے بعد تنظیم کع علاقائی سطح پر مشکلات کا سامنا ہے۔ عرب ممالک کی فوری مداخلت ہی اسرائی کو فلسطینیوں کے خلاف کسی نئی جارحیت سے باز رکھ سکتی ہے۔ عربوں اور مسلمانوں کی بے اعتنائی سے مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ چھڑسکتی ہے جو ماضی کی نسبت انتہائی تباہ کن نتائج پر مبنی ہوگی جس کی لپٹیں فلسطین کو ہی جلا کرر راکھ نہیں کریں گی بلکہ اس کی تپش دیگر عرب ممالک میں بھی محسوس کی جائے گی۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-28

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان