بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کویت کی پرامن فضا آلودہ
کویت ایک پْرامن ملک ہے جہاں سب مذاہب کو اپنی اپنی عبادات اور رسومات ادا کرنے کی مکمل آزادی ہے کویت کا ماٹو رہاہے کہ کسی مذہب کو چھیڑو نا اوراپنے مذہب کو چھوڑو نا ،یہی وجہ ہے کویت میں مذہبی آزادی ہے
عبدالشکورابی حسن:
کویت ایک پْرامن ملک ہے جہاں سب مذاہب کو اپنی اپنی عبادات اور رسومات ادا کرنے کی مکمل آزادی ہے کویت کا ماٹو رہاہے کہ کسی مذہب کو چھیڑو نا اوراپنے مذہب کو چھوڑو نا ،یہی وجہ ہے کویت میں مذہبی آزادی ہے۔لیکن امن کے دشمنوں کو یہ بات گوارا نہیں گزری کہ اسلامی ملک کویت کیونکر پْرامن رہے یہاں بھی فتنہ اور انتشار پھیلا یاجائے۔
دہشت گردوں نے کویت جیسے پْرامن ملک کی درودیوارکو ہلا کررکھ دیا اور مسجد کو لہولہان کردیا۔کویت کے دارلخلافہ (کویت سٹی) کے سب سے بڑے تجارتی مرکز میں واقع جامع مسجد ”امام صادق“پر خودکش حملہ کیا جس میں دو پاکستانیوں سمیت 27افراد جان بحق اور 250 زخمی ہوگئے جس میں بزرگ،جوان ،نوجوان اوربچے بھی شامل ہیں دھماکہ میں پانچ کلو وزنی بارود استعمال کیاگیا اور خودکش نے نماز کی دوسری رکعت میں سجدہ کی حالت نمازی کے قریب اپنے آپ کو دھماکہ اڑا لیا جس سے مسجد کا اندرونی حصہ شہید ہوگیا اور نمازیوں میں افراتفری پھیل گئی اور مسجد لہولہان ہوگئی ہر کوئی ایک دوسرے کی مدد کو پہنچ رہاتھااس وقت دوہزارکے قریب افراد نماز اداکررہے تھے اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور خودکش کے ساتھیوں کی تلاش کے ساتھ زخمیوں کو ہسپتالوں میں پہنچانا شروع کردیااورکویت کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی لگادی یہ کویت میں پہلا خودکش دھماکہ ہے جو مسجد میں کیاگیا ہے اس سے قبل یکم جنوری 1972ء کو برطانوی پٹرولیم کمپنی میں ہوا،2 جون 1976ء میں کویت میں شام ائر لائنز کے دفتر میں،17جون 1976ء میں کویت کے اخبار الانبا ء کے دفتر میں ،25 دسمبر1977ء میں کویت میں مصر ائیر لائنز کے دفتر میں ،4جنون 1980ء میں کویت میں ایرانی سفارت خانہ میں ،23اگست 1982ء ،12دسمبر1983ء ایک دن میں تین مقامات پر تخریب کاری ہوئی کویت ایئر پورٹ ،امریکی سفارت خانہ اور پاور اسٹیشن شامل ہیں ،29 مئی 1985ء میں سابق امیر مرحوم شیخ جابرالاحمدالجابر الصباح کی گاڑی کو اڑانے کی کوشش کی گئی 11 جولائی 1985ء ٹی ہاؤس میں تخریب کاری کی گئی ،18جولائی 1986ء احمدی کے علاقہ میں ،24جنوری 1987ء میں پولیس اسٹیشن کویت سٹی میں ،22جون 1987ء میں اسلامی کانفرنس کے دوران میرڈیان ہوٹل کے قریب صحافیوں پر حملہ ہوا،25 نومبر 1987ء امریکی کمپنی کے آفس ،7مئی 1988ء کوگاڑیوں کے شوروم کو اڑا دیاگیا ،16جولائی 1991ء ٹی وی اداکار عبدالمحسن عبدالرضا کو تخریب کرکے ہلاک کردیا گیا ،30نومبر1991ء میں میڈیکل ٹریننگ سنٹر ،7مئی 1992ء میں دسمہ کے علاقہ میں اسٹیج ڈرامہ ہال میں ایک فنکار کو قتل کردیا گیا ،24 مئی 1992ء میں اٹلین مرکز،11جولائی 1992ء میں چار بھارتی اور تین فلپائنی کو قتل کردیا گیا ،12جولائی 1992ء کو بوری برادری کے امام بارگاہ پر حملہ کیاگیا،11اپریل 2000ء میں منصوریہ کے علاقہ امام بارگاہ آگ لگا دی گئی ،8اکتوبر 2001ء میں امریکی فوج پر حملہ کیا گیا ،2005ء ام الھیمان میں دہشت گردوں اورپولیس کے درمیان مقابلہ ہواتھا ماہ رمضان کے جمعہ المبارک میں مساجد میں رونقیں بڑھ جاتی ہیں اور لوگ اپنی عبادات میں مشغول ہوتے ہیں کویت ایک پْرامن ملک ہے بغیر کسی خوف وخطر لوگ دن رات مارکیٹوں میں گھومتے پھرتے ہیں لیکن دہشت گردوں نے کویت کی پْرامن فضا کو آلودہ کردیاہے۔
امیر کویت اس وقت جمعہ کی نماز اداکرنے کے بعد جائے واردات کے قریب سے گذررہے تھے جب انہیں اطلاع ملی تو وہ فوراًمسجد میں پہنچ گئے اور تمام زخمیوں کو اپنی نگرانی میں ہسپتال پہنچایا وہ پہلی اعلی شخصیت تھی وہ موقعہ واردات پر پہنچ گئے امیرکویت شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح نے متاثرہ جامع مسجد امام صادق کااندرونی حصہ کا بھی دورہ کیا اورخودکش دھماکہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ انسانیت سوزی کی انتہاہوگئی اس حادثہ میں جان بحق کویتی میرے بچے تھے مجھے انتہائی دکھ ہوا ہے جنہوں نے یہ کاروائی ہے کہ ان کے پیچھے افراد کے ساتھ آہنی ہاتھوں نمٹاجائے گاکسی کو کویت کا امن تباہ نہیں کرنے دیاجائے گا۔
کویت ایک پرامن ملک ہے جہاں ہر مذہب عقیدے کو اپنی مذہبی رسومات مکمل آزادی ہے ہم نے ہمیشہ فرقہ واریت کی مذمت کی ہے کویت میں کوئی فرقہ پرستی نہیں ہمیں اس طرف دھکیلا جارہاہے انشاء اللہ تعالی ہماری سیکیورٹی ایجنسیاں اس پر قابو پا لیں گئی۔کویت کے ولی عہد شیخ نواف الاحمد الجابر الصباح ،وزیراعظم شیخ جابرالمبارک الصباح ،وزیرداخلہ شیخ محمد خالد الصباح نے اس سانحہ میں زخمیوں کی الامیری ہسپتال میں عیادت کی اور ان کی صحت یابی کے لئے دعا کی۔
اس واقعہ میں 27 افراد جان بحق اور 200سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔کویت کی تاریخ میں پہلی پاکستان کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے اوپیک ممبر حافظ محمد شبیر ،پاکستان بزنس کونسل کے صدر محمد بٹ ،کویت پاکستان فرینڈ شپ کے صدر رانا اعجاز حسین ،ماجد چوہدری نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فوراًہسپتال کا دورہ کیا اور کویتی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ وہ اس مشکل اور دکھ کی گھڑی میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں وفد نے زخمیوں کی عیادت کی اور وفد کی وزیر داخلہ شیخ محمد خالد الصباح سے اس موقع پر ملاقات کی اوپیک ممبر حافظ محمد شبیر نے وزیرداخلہ سے ان افسوس ناک واقعہ پر ان سے دلی افسوس کا اظہار کیا اورپاکستانی قوم کے جذبات سے آگاہ کیا اورکہاکہ وہ اس اندوہناک واقعہ کی پْرالفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور دکھ کی گھڑی میں برابرکے شریک ہیں جتنا ہمیں پاکستان سے پیارہے اتنا ہی کویت ہمیں عزیز ہے ہم اس کی سلامتی اوربقاء کے لئے ہمیشہ دعاگو ہیں۔
وزیر داخلہ شیخ محمد خالد الصباح نے ہم پاکستانی قوم کے جذبات کی قدرکرتے ہیں وہ ہر دکھ کی گھڑی میں کویت کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔وفد نے فرداًفرداًزخمیوں کی عیادت کی اور دوسرے روز نماز جنازہ میں شرکت کرکے پاکستانی کمیونٹی کی نمائندگی کی۔کویت کی جامع مسجد ”امام صادق “ میں خودکش دھماکہ کرنے والے شخص کی شناخت ہوگئی ہے۔
خود کش سعودی شہری ہے اوراس کا نام فہد سلیمان عبدالمحسن القباع ہے وہ دھماکہ سے قبل گھنٹے قبل کویت کے بین الاقوامی ائر پورٹ پر اترا اور صوابر میں واقع اہل تشیع کی مسجد امام صادق پہنچا اور نماز کی دوسری رکعت میں اس نے اپنے آپ کو دھماکہ سے اڑا دیا۔جس سے 27افرادجان بحق اور 250کے قریب زخمی ہوگئے تھے کویت پولیس نے جس ڈرائیور عبدالرحمان صباح عیدان سعود نے خودکش کو مسجد تک پہنچا اس کو حراست میں لے لیاہے وہ غیر قانونی کویتی (بدون) ہے اوروہ کویتی علاقہ الریجا میں چھپاتھا پولیس نے بمبار کو پناہ دینے والے مالک مکان کویتی کو بھی گرفتار کرلیاہے۔
پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اس تخریب کاری ملوث تمام افراد کو گرفتا ر کرکے سامنے لایا جائے گا۔ہفتے کے روز مقتولین کی تدفین کے لئے ہزراوں لوگ سخت گرمی میں نماز جنازہ میں شریک ہوئے ان میں آٹھ مقتولین کی تدفین عراق کے شہر نجف میں میتیں روانہ کردی گئی۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-01

(1) ووٹ وصول ہوئے