بند کریں
پیر فروری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خطے کا نام نہاد تھانیدار
بھارت اپنے شکنجے میں پھنس چکا ہے
عرصہ دراز سے بھارت دنیا کی بڑی طاقتوں میں شامل ہو کر خطے کی سپر پاور بننے کے خوا ب دیکھ رہا ہے۔ اس مقصد کیلئے اس نے اپنے ہمسایہ ممالک سے بھی جھگڑے مول لیے
مصنف : سید بدر سعید
عرصہ دراز سے بھارت دنیا کی بڑی طاقتوں میں شامل ہو کر خطے کی سپر پاور بننے کے خوا ب دیکھ رہا ہے۔ اس مقصد کیلئے اس نے اپنے ہمسایہ ممالک سے بھی جھگڑے مول لیے اور کئی ریاستوں پر جبری قبضہ بھی کیا ۔ امریکہ اور اسرائیل سمیت کئی استعماری قوتیں اس کی پشت پناہ کررہی ہیں۔ زمینی حقائق کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتاہے کہ بھارت ابھی اس دوڑ میں بہت پیچھے ہے۔
عالمی برادری اسے منی پاور کے طور پر بھی اس وقت تک تسلیم نہیں کرسکتی ہے جب تک وہ اپنے تمام ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات استوار نہ کرے۔ دوسری طرف عالمی اداروں کے مطابق بھارت کو اگلے دس سے پندرہ برس میں انہی ہمسایہ ممالک کی مدد درکار ہوگی جن سے وہ تعلقات بگاڑ بیٹھا ہے۔ پاکستان بھی ان میں سے ایک ملک ہے ہمارے پالسی سازوں کی صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے وقتی دباؤ کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔
بھارت کا یہ خواب نیا نہیں ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے جب انگیرز برصغیر سے جانے کی نوید سنارہے تھے، تب بھی اس ذہنیت کے حامل کانگریسی اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگا کر فسادات برپا کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد اگر بھارت کے اپنے ہمسایہ ممالک سے تعلقات کا جائزلی لیں تو بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ آج بھی اپنے اسی نظریہ پر قائم ہے۔ بھارت نے کشمیر میں اپنی فوج بھیجی اور آج تک رائے شماری نہیں ہونے دی۔
اسی طرح جوناگڑھ سمیت کئی ریاستوں پر حملے کر کے ان پر قبضہ کیا ، چین کے ساتھ بھی بھارت کے تعلقات اچھے نہیں ہیں ۔ مشرقی پاکستان میں بھی بھارتی فوجیں داخل ہوئیں اور بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔ پاکستان کے ساتھ بھارتی تنازعات تو دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اب پانی کے تنازعات بھی عروج پر ہیں۔ بھات ڈیم بنا کر پاکستان کو بنجر اور صحرا بنانے کے مشن پر گامزن ہے۔
سیاچن سے سیالکوٹ بارڈر تک جھڑپیں معمول کی بات سمجھی جاتی ہیں۔ افغانستان میں بھارت کونسل خانے”را“ کے ایجنٹوں کے مستقل اڈے بن چکے ہیں۔ بھارتی آرمی چیف پاکستان میں خفیہ فورس بھیجنے اور پرتشدد کارروائیوں کرنے کا اعتراف کر چکا ہے۔
دوسری جانب بھارت کے تعلقات استعماری قوتوں سے خاصے بہتر نظر آتے ہیں۔ چڑھتے سورج کو سلام کرنے کی مثال اس پر صادق آتی ہے۔
امریکہ کے ساتھ بھارت کا گٹھ جوڑ کسی سے ڈھکا چھپانہیں ہے۔ اسی طرح اسرائیل کی فوجی معاونت اور رہنمائی بھی بھارت کو مستقل بنیادوں پر حاصل ہے۔ خصوصاََ نائن الیون کے بعد بھارت ان طاقتوں کی آنکھ کا تارہ بن گیا۔ اس نے امریکہ کو طالبان کے خلاف کارروائیوں کیلئے مدد فراہم کرنے کا کہا۔ افغانستان کی موجودہ امریکہ نواز حکومت کے ساتھ بھی اس نے بہتر تعلقات بنائے ۔
بھارت کی خواہش ہے کہ وہ ایک بڑی طاقت کے طور پر اپنے آپ کو منوائے اس لئے وہ سپر پاورز کی گود میں بیٹھ کر اس خطے میں بلا شرکت غیرے حکومت کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ صورتحال کا کائزہ لیں تو کچھ بڑی طاقتوں خصوصاََ امریکہ، جرمنی، فرانس ، روس ، چین اور جاپان کے انڈکس پوائنٹ بھارت سے بہت آگے ہیں، اس لئے یہ بہت مشکل ہے کہ بھارت کو اس صورت میں ایک بڑی طاقت تسلیم کیا جاسکے جبکہ وہ اقتصادی ترقی کے گراف میں 2013ء کے دوران مزید 4.7پوائنٹ نیچے چلا گیا ہے۔
یہ عالمی رینکنگ میں 142ویں نمبر پر کھڑا ہے جبکہ بھارت کا ایک بڑا حصہ غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ بھارت عام کی معاشی حالت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ دلی کے نئے وزیر اعلیٰ کچری وال کو پانی مفت کرنے کے نعرے پر ووٹ ملے اور انہوں نے اپنی حکومت بنائی۔ اس کے علاوہ 1947ء کے بعد سے ہی بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں بغاوت اور علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔
اس وقت بھی بھارت کے بڑے علاقوں میں نکسل گوریلا تحریک عروج پر ہے۔ اس کے علاوہ علیحدگی کی 36سے زائد تحریکیں چل رہی ہیں۔ یہ صورتحال ظارہ کرتی ہے کہ ابھی بھارت کا خواب محض خواب ہی ہے اور وہ عالمی طاقتوں کی تمام تر خواہشات کے باوجود بڑی طاقتوں کی صف میں کھڑا ہونے کا اہل نہیں ہے۔ اسی طرح بھارت کی متنازعہ علاقائی حیثیت کی وجہ سے لگ بھگ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اس کے تنازعات چل رہے ہیں۔
اسی طرح بھارت کا جنگی جنون اور ہتھیاروں کی دوڑ میں شمولیت بھی اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ اس طرح بھارت نے اپنے آپ کو ایٹمی قوت کے طورپرمتعارف کروا کر خطے کے کئی ممالک میں عدم تحفظ کے احسااس کو مزید بڑھا دیا ۔ اسی کے نتیجے میں پاکستان کو بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کرنی پڑی۔
اس سارے پس منظر میں بھارت کا مستقبل مزید بھیانک نظر آرہا ہے۔
بھارت کو ایک ارب سے زیادہ کی آبادی کو سہولیات پہنچانے کیلئے کسی زمینی واسطے کی ضرورت ہوگی لیکن اگر حالات یہی رہے تو بھارت کے ہمسایہ ممالک اسے یہ زمینی راستہ فراہم کرنے پر مشکل سے ہی آمادہ ہوں گے۔ بھارت میں جس تیزی سے وسائل کا خاتمہ اور آبادی میں اضافہ ہورہا ہے وہ بھی بھارت حکومت کیلئے قابل تشویش ہوچکا ہے۔ بھارت میں آبادی کے ساتھ ساتھ غربت بھی تیزی سے بڑ رہی ہے۔
امریکہ کے ڈیپارٹمنٹ آف انرجی کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ بھارت کو 2030ء تک توانائی کے بہت بڑے بحران کا سامنا ہوگا اور بھارت کا غیر ملکی تیل پر انحصار 90فیصد تک ہوجائے گا۔ بھارت کو ایران اور ترکمانستان سے تیل اور گیس درآمد کرنا ہوگی اگر وہ ان کے علاوہ دور کے ممالک سے یہ سہولت حاصل کر نے کی کوشش کرے گا تو پھر بھارت تک پہنچنے والے تیل اور گیس کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا جو بھارت کی اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ مزید مہنگائی کو فروغ دے گا۔

یہ ساری صورتحا ل واضح کرتی ہے کہ بھارت کو اگلے 10سے 15سال میں اہم فیصلے کرنے ہیں۔ خطے کا تھانیدار بننا تو دور کی بات ہے، اسے اپنے اندرونی حالات سنبھالنے کیلئے بھی شدید مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ابھی تک بھارت کے اپنے ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر نہیں ہیں لیکن اپنی ضروریات پوری کرنے اور ملک کا نظام چلانے کیلئے اسے اپنے انہی ہمسایوں سے بہتر تعلقات استوار کرنے ہوں گے۔
وہ پاک ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے کو امریکی ایما پر رد کر چکا ہے لیکن اسے دوبارہ اس منصوبے کا حصہ بننا پڑے گا۔ اسی طرح اسے اپنی اقتصادی ضراریات کو پورا کرنے کیلئے مکمل طور پر زمینی راستوں کو بحال کرنا ہوگا۔ اس مقصد کیلئے پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تما تنازعات پر بیٹھ کر بات چیت کرنی پڑے گی۔ اس وقت افغانستان اور پاکستان خطے کے ایسے ممالک ہیں جو تجارتی راستوں کے حوالے سے بہترین تصور کئے جاتے ہیں۔
ان ممالک کی یہ اہمیت وقت کے ساتھ ساتھ مزید سامنے آتی جارہی ہے۔ بھارت پالیسی ساز اس سارے منظر کو بخوبی سمجھتے ہیں لیکن درمیان میں موجود 10سے 15سال کے وقفے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ بھارت کی خواہش ہے کہ غیر محسوس انداز میں یہ آواز پاکستان سے اٹھے اور پاکستان دوستی ‘ تجارت اور امن کی آشا کے نعرے لگاتا ہوا بھارت کی جانب آئے۔ اس سے ایک طرف تو بھارت کو چودھراہٹ کا بھرم رہ جائے گا دوسرا اس کی روایتی انا برقرار رہے گی۔
بھارت کی جانب سے یہ ماحول تیار کرنے کیلئے نہ صرف منصوبہ بندی کی جاچکی ہے بلکہ اس پر رقم بھی خرچ کی جارہی ہے۔ پاکستان پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے کہ وہ بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دے جبکہ اس حوالے سے بھارت پہل کر کے اپناشملہ نیچا نہیں کرنا چاہتا۔ امن کی آشا کے تحت بھی عام میں یہ تحریک پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اب ہمیں دوستی اور تجارت کو فروغ دینا چاہیے۔
محمود شام ایک سینئر صحافی ہیں ، وہ امن کی آشا مہم کے ابتدائی لوگوں میں شامل تھے۔ اب یہ اس سے الگ ہوچکے ہیں۔ وہ بھی ایک موقع پر یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ جب معاہدہ ہوا تو اس کے مطابق بھارت میں ٹائمز آف انڈیا نے اپنا کردار ادا کرنا تھا لیکن بھارت میں ٹائمز آ انڈیا نے اتنا جوش و خروش نہیں دکھایا اور نہ کوئی باقاعدہ مہم چلائی جتنا پاکستان کا ایک میڈیا گروپ کررہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز موجودہ صورتحال کا ادراک کریں اور اس کی روشنی میں پالیسی طے کریں۔ ہمارے لئے اہم نہیں کہ بھارت کیا چاہتا ہے اور امریکہ کی کیا مرضی ہے بلکہ اہم یہ ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ ہمیں جھکنے یا دباؤ کا شکار ہونے کی بجائے اپنے مقاصد اور مفاد کو مد نظر رکھنا ہوگا۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہم بھارت کو پسندیدہ ریاست قرار دینے کی بجائے ترکی، چین یا ایسے ہی کسی ملک کو پسندیدہ ریاست قرار کیوں نہ دیں جو مشکل حالات میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ہیں اور پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرر ہے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-01-25

(27) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان