بند کریں
جمعرات جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اسرائیل کی درندگی…تاریخی پس منظر
الارضِ مقدس فلسطین ایک بار پھر صہیونی یہودی ساحلی شہر غزہ جہاں رسول پاک ﷺ کے پردادا جناب ہاشم تجارت کے لئے تشریف لائے تھے،انتقال کے بعد وہیں دفن ہوئے جس کے باعث بحیرہ روم کا یہ ہاشم کہلانے لگا
محسن فارانی:
الارضِ مقدس فلسطین ایک بار پھر صہیونی یہودی ساحلی شہر غزہ جہاں رسول پاک ﷺ کے پردادا جناب ہاشم تجارت کے لئے تشریف لائے تھے،انتقال کے بعد وہیں دفن ہوئے جس کے باعث بحیرہ روم کا یہ ہاشم کہلانے لگا۔ آج فلسطین میں غزہ کی اس پٹی میں ملعونِ زمانہ اسرائیلی یہودیوں نے ایک بار پھر تباہی مچا رکھی ہے۔اور عالمی امن کی ٹھیکیدار "اقوامِ متحدہ" کو سانپ سونگھ گیا ہے۔

ابوالانبیا سیدنا ابراہیم علیہ السلام تقریباً چار ہزار سال پہلے عراق سے حران (ترکی) اور حلب (شام) سے ہوتے ہوئے فلسطین تشریف لائے تھے اور یہاں ایک پہاڑی پر قیام کیا۔ پھر وہیں ان کے پوتے سیدنا یعقوب علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے "بیت ہمقدش" تعمیر کیا تھا جو عربی میں بیت المقدس کہلایا اور اس مقدس گھر (مسجد) کے نام سے وہاں آباد ہونے والے شہر کو بھی بیت المقدس کہا جانے لگا۔
اسکا دوسرا نام یروشلم یعنی "شہرِ امن" ("شلم" یا "سلم" بمعنی سلامتی) تھا۔ سیدنا یعقوب (اسرائیل)علیہ السلام کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی جو سیدنا یوسف علیہ السلام کی معیت میں مصر جا کرآباد ہوئی۔ ایک مدت بعد مقامی قبطیوں (فرعونیوں) نے انہیں غلام بنا لیاجبکہ تیرھویں صدی ق م میں سیدنا موسیٰ و ہارون علیہ السلام انہیں فرعونیوں کی غلامی سے نکال کر فلسطین کی طرف لائے۔
اس وقت فلسطین میں فلستی قوم آباد تھی جسکے نام پر بعد میں یہ سرزمین فلسطین کہلائی۔ بنی اسرائیل نے فلستیوں کے ساتھ امن و امان سے رہنے کی بجائے جنگجوئی اور خونریزی کی روش اختیار کی۔ 1000 ق م کی لگ بھگ سیدنا داوٴد علیہ السلام کو یہاں بادشاہت ملی جسے انکے فرزند سیدنا سلیمان علیہ السلام نے وسعت دی۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس میں ازسرنو اللہ کا گھر تعمیر کیا جو یہود میں " ہیکل سلیمانی" کہلایا۔

بنی اسرائیل کو یہود ابن یعقوب علیہ السلام کے نام نسبت ہے ،یہ یہودی اپنے اعمال کی وجہ سے بابل کے بخت نصر کے ہاتھوں غلام بنائے گئے تو ایران (فارس) کے نیک دل بادشاہ کوروش کبیر (ذوالقرنین، یونانی نام سائرس) نے 586 ق م میں بابل فتح کر کے یہودیوں کو رہائی دلائی اور انہیں واپس فلسطین آکر دوبارہ ہیکل تعمیر کرنے کا موقع ملا۔ پھر 135ء میں رومی قیصر ہیڈرین نے یہودیوں کو فلسطین سے جلاوطن کر دیا توہیکل سلیمانی کی جگہ مشتری دیوتا (جوپیٹر) کا مندر بنا دیا گیا تھا۔
بعد میں عیسائیوں کا غلبہ ہواتو انہوں نے مشتری دیوتا کا مندر مسمار کر دیا۔ ظہور اسلام کے موقع پریہی وہ مقام تھا جسے صاف کر کے مسلمانوں نے مسجد اقصیٰ تعمیر کی اور جہاں سے رسول کریمﷺ معراج آسمانی کو تشریف لے گئے۔
بیت المقدس مسلمانوں کا چودہ پندرہ برس قبلہ اوّل رہا حتیٰ کہ 2 ھ میں خانہ کعبہ (مکہ مکرمہ) قبلہ قرار پایا۔ 637 ء/16ھ میں عہدِ فاروقی میں مسلمانوں نے پُر امن طور پر بیت المقدس فتح کر لیا۔
اس دوران پونے دوہزار سال یہود یونہی دربدر رہے۔ عثمانوی عہد خلافت میں تھیوڈور ہرزل کی قیادت میں سودی نظام کیلئے سرگرم یہودیوں کا ایک وفد خلیفہ عبدالحمید ثانی سے ملا اور سلطنت عثمانیہ کے قرضے ادا کرنے کے عوض فلسطین میں ایک یہودی ریاست ہوم لینڈ کی مانگ کی مگر خلیفہ نے صاف جواب دے دیا۔ اس پر انگریزوں نے سازش کے ذریعے شریفِ مکہ حسین بن علی ہاشمی کو اپنے ساتھ گانٹھ لیا۔
غرضیکہ دسمبر 1917ء میں برطانوی فوج بیت المقدس پر قابض ہو گئی اور سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کر دیے گئے۔ جمعیت ِاقوام قائم ہونے پر فلسطین کا مینڈیٹ غیر قانونی طور پر برطانیہ کو سونپ دیا گیا اور برطانوی وزیرِ خارجہ بالفور نے "اعلان بالفور" کے ذریعے (1917ء ) میں فلسطین میں یہودی وطن کے قیام کا خفیہ معاہدہ کر کے ہربرٹ سیموئل نامی یہودی کو فلسطین کا کمشنر بنا کر بھیج دیا۔
یہ پہلا موقع تھا جب اس یہودی کمشنر نے فلسطین کے دروازے دنیا بھر کے یہودیوں کے لئے کھول دیے، چناچہ روس، یوکرین، ہنگری، پولینڈ وغیرہ سے یہودی جہازوں میں بھر بھر کر فلسطین کے ساحل پر اْترنے لگے آخر کار یہود و نصاریٰ کی لونڈی اقوامِ متحدہ جو 1945ء میں قائم ہوئی تھی اس نے اکتوبر 1947ء میں تقسیم فلسطین کی قرارداد منظور کر لی۔نوبت یہاں تک جا پہنچی کہ 1921ء میں فلسطین میں جو یہودی 84ہزار تھے 1947ء میں اُن کی تعد چھ لاکھ سے بڑھ گئی اور انہیں فلسطین کا 55 فیصد رقبہ بخش دیا گیا۔
14مئی1948ء کو برطانیہ نے اچانک اپنا مینڈیٹ ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور اسی روز یہودیوں نے تل ابیب میں اسرائیل ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا جسے ناجائز ہونے کے باوجود روس اور امریکہ نے فوراً تسلیم کر لیا۔
اسرائیل کے قیام کے بعد سے فلسطینی عوام اپنے وطن کی بازیابی کیلئے مسلسل جد وجہد میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب اردن اور مصر کے صدر انورسادات بھی اسرائیل کا ناجائز وجود تسلیم کرنے پر مجبور کر دیئے گئے۔
1993ء میں تنظیم آزادیء فلسطین کے سربراہ یاسرعرفات کے ساتھ ہونے والے اوسلو معاہدے کے مطابق غرب اردن اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی ریاست قائم ہونی تھی جو تاحال قائم نہیں ہو سکی تاہم 1996ء میں یاسر عرفات کے زیرِقیادت غرب اردن اور غزہ کی پٹی میں فلسطین کیلئے بلدیاتی اداروں کے اختیارات تسلیم کر لئے گئے۔ اس کے بعد جب سے فلسطینی تنظیم حماس غزہ کی پٹی پر آباد ہے اسرئیلی زمینی و فضائی افواج کے ہاتھوں فلسطینی کیمیوں میں قتلِ عام روز کا معمول بن چکا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-19

(13) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان