بند کریں
بدھ فروری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اسرائیل
ریاستی آپشن سے دستبرداری میں ہی اس کی بقا ہے؟۔۔۔۔ مشرق وسطی میں دو کے بجائے ایک ریاست یقینا عرب ریاست ہی ہوگی۔ اسرائیل نے طویل سے فلسطین کو تخت مشق بنا رکھا ہے
فلسطینی عوام اور فلسطینی اتھارٹی دو ریاستی منصوبے کی حمایت کو وقت کی آواز قرار دیتے ہیں جبکہ اسرائیل اپنی بقاء کیلئے ایک ریاستی منصوبے سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نہیں ہے۔ مشرق وسطی میں دو کے بجائے ایک ریاست یقینا عرب ریاست ہی ہوگی۔ اسرائیل نے طویل سے فلسطین کو تخت مشق بنا رکھا ہے۔ اس سے یہ توقع رکھنا عبث ہو گا کہ فوری اس کے حل میں دلچسپی لے گا؟ ایک ہی ریاست میں برابری کے حقوق ایک تخیلاتی سوچ ہے۔
یک ریاست کی نفی صیہونی ریاست کے خواب کو دھند دیتی ہے۔
دو ریاستی حل کے بارے میں کئی تجزیہ کاریہ دلائل دیتے ہیں کہ ایسا فلسطین کے حوالے سے ممکن نہیں ہے۔ ان کے نزدیک یاسر عرفات انتہائی مضبوط فلسطینی رہنا تھے اور اسکے حل میں اہم کردار ادا کر سکتے مگر ان کے جانشین فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس انتہائی کمزور رہنما ہیں۔ وہ مسلط کردہ فلسطینی اتھارٹی کے ذریعے براہ راست دہ نکاتی ریاست کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں۔
اسرائیل فلسطین اور غزہ کی پٹی پر اپنی بالادستی برقرار رکھنے کیلئے کئی مرتبہ خون کی ہولی کھیل چکا ہے۔ پچھلے سال غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں 2ہزار سے زائد افراد شہید اور لاکھوں بے گھر ہو گئے تھے۔ اسرائیل کیلئے فلسطینیوں کو انتفادہ کی تحریک سے روکنا ممکن نہیں ہے۔ دو انتفادہ کی تحریکوں میں ہزاروں فلسطینیوں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔
اب اس کی پیروی میں تیسری ، چوتھی اور پانچویں انتفادہ کی تحریکیں یروشلم اور مغربی کنارا میں پھوٹنے کیلئے تیار ہیں۔ اس کا نتیجہ یقینا فلسطین اتھارٹی کے منہدم ہونے کی صورت میں نکلے گا جس کا مطلب حماس کا دوبارہ اُبھرتا ہوگا جو اس سے بھی زیادہ شدت پسند جانشین ہوگا اور دونوں جانب ان گنت ہلاکیتں ہوں گئی۔
پچھلے ایک سو سال کے دوران فلسطین تنازعے کو حل کرنے کیلئے اس سے پہلے کبھی ایسا موقع نہیں آیا۔
مشرق وسطیٰ کے بڑے علاقائی پلیئر مصر، اردن، سعودی عرب اور دیگر عالمی برادری کے ذریعے اسرائیل پرا س مسئلے کو حل کرنے کیلئے دباوٴ ڈال رہے ہیں مگر ایران فلسطینی گروپوں کی پشت پناہی کر کے اس مسئلے کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے ۔ بارہ سال قبل سعودی عرب نے مشرق وسطیٰ میں امن عمل کیلئے اقدامات کا آغاز کیا تھا جس کی بعد ازان عرب لیگ نے بھی تائیدکی۔
سعودیہ اور دیگر ممالک کا ان اقدامات کا مقصد عرب پوزیشن کو دوبارہ پرانی پوزیشن پر لانا تھا۔ اس کا مقصد دو ریاستوں کے قیام کا دروازہ کھولنا بھی تھا۔
یہ متنازعہ مگر ناقابل تردید سچائی ہے کہ اسرائیل نے 1967 کی چھ روزہ جنگ میں فیصلہ کن فتح حاصل کی اور فلسطین کے بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ اسرائیل نے 100سال قبل فلسطینی علاقوں پر قبضے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
اسرائیلی اندرون اور بیرون ملک یہ اکثر کہتے پائے گئے ہیں کہ عرب سرزمین پر انہی کا حق ہے۔ فلسطینیوں علاقوں میں اسرائیلی رہائشی منصوبوں کو عالمی برادری پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔ اسرائیلی غزہ کی پٹی میں محصور فسطینیوں کو انٹرنیشنل امداد اور بحری راستوں پر پابندی عائد کر کے ترقی کے عمل سے محروم کی چکی ہے مگر فلسطینی عوام اسرائیلی عزائم کی راہ میں سخت مزاحمت کر رہی ہے اوریک ریاست کے بجائے دو الگ ریاستوں کے قیام کی خواہاں ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-26

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان