بند کریں
بدھ جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
عراق
دولت اسلامیہ عراق وشام تنظیم کا مغربی وسطی عراق پر قبضہ ۔۔۔ عراق سے لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور۔۔۔۔ آرمی فورسز نے کئی علاقوں میں ہتھیار پھینک کروہ علاقے چھوڑ دئیے
رمضان اصغر :
عراق ایشیاء کا ایک اہم عرب اور مسلمان ملک ہے ۔ یہ قدیم میسو پوٹیمیا (مابین النھرین) ، قدیم شام کے کچھ صحرائی علاقوں اور مزید کچھ علاقوں پر مشتمل ہے ۔ تیل کے ذخائر میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کے جنوب میں کویت اور سعودی عرب، مغرب میں اردن، شمال مغرب میں شام، شمال میں ترکی اور مشرق میں ایران ہے ۔ اسے ایک محدوو سمندری رسائی بھی حاصل ہے جو خلیج فارس کے ساحل ام قصر پر ہے ۔
جو بصرہ سے قریب ہے۔ عراق دنیا کے قدیم ترین ممالک میں شامل ہے جس میں کئی تہذیبوں کو جنم دیا ہے۔ فلسطین کی طرح اسے انبیاء کی سر زمین کہا جاتا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا تعلق اسی علاقے سے تھا اور خضرت آدم علیہ السلام نے بھی اس کے شہر قرنہ کو اپنا وطن بنایا تھا۔ 2003عیسوی میں اس پر امریکہ نے قبضہ کرلیا تھا جو تاحال جاری ہے البتہ ایک برائے نام حکومت قائم ہے۔
اس کی غالب اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے البتہ کافی تعداد میں عیسائی بھی ہیں۔ اس کا دارالحکومت بغداد ہے جو اس کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کے علاوہ نجف ،کوفہ ،بصرہ ، کربلا، سامرا، موصل اور کرکوک اس کے مشہور شہر ہیں۔ دریائے دجلہ اور فرات اس کے مشہور دریا ہیں۔ ان کے درمیان کی وادی انتہائی زرخیز ہے اور اس میں سات سے نو ہزار سال سے بھی پرانے آثار ملتے ہیں۔
سمیری، اکادی، اسیریا اور بابل کی تہذیبیں اس علاقے میں پروان چڑھیں اور فنا ہوئیں۔ عراق قدیم ترین انسانوں کی رہائش گا ہ تھی۔ طوفانِ نوح یہیں پر آیا تھا۔ عراق سے ملنے والے آثارِ قدیمہ ثابت کرتے ہیں کہ زمانہ قبل از تاریخ میں بھی یہاں کے لوگ باقدہ زبانِ، ثقافت اور مذہب رکھتے تھے ۔ عراق کے شمال مشرق میں شانیدر کے غاروں سے ملنے والے نیاندر تھال انسان کے ڈھانچوں سے ، جو پچاس سے ساٹھ ہزار سال پرانے ہیں، یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ بولنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور رسومات ادا کیا کرتے تھے مثلاََ اپنے مردے پھولوں کے ساتھ دفناتے تھے۔
عراق کو پہلی انسانی تہذیب کی آماجگاہ سمجھا جاتا ہے۔ عراق کا قدیم نام میسوپوٹیمیا ہے ۔ مگر یہ وہ نام ہے جو یونانیوں نے انہیں دیا تھا جس کا مطلب یونانی زبان میں ، دریاووں کے درمیان ، کے ہیں چونکہ یہ تہذیب دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے درمیان پروان چڑھی۔ اسے ہم تہذیب مابین النھراین کہتے ہیں۔ یہ علاقہ سمیریا، اکادی، ایسریائی، کلدانی، ساسانی اور بابل کی تہذیبوں کو مرکز تھا جو پانچ ہزار سال قبل از مسیح باقی دنیا میں بھی نفوذ کرگیا ۔
انھوں نے دنیا کو لکھنا سکھایا اور ابتدائی ریاضیات ، فلسفہ اور سائنسی علوم کے اصول دیے۔ اکادی سلطنت لبنان کے ساحلوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ لبنان وہ علاقہ ہے جس نے ابتدائی حروف بنائے اور سمندری جہاز رانی کی ابتدا کی۔ اکادیوں کے بعد سمیریوں او ر اس کے بعد بابل کی تہذیب نے فروغ پایا ۔ بابل کی تہذیب میں حمورابی کی بادشاہت میں انھوں نے دنیا کو شہریت کے ابتدائی قوانین دیے۔
چھٹی صدی قبل مسیح میں یہ علاقہ اگلے چار سو سال کے لیے سائرس اعظم کی سلطنتِ فارس کا حصہ بن گیا۔ جس کے بعد سکندراعظم نے یہ علاقہ فتح کیا جو دو سو سال کے لئے یونانی سلطنت کے زیرِ نگیں رہا ۔ سکندر کے بعد ایرانیوں نے ساتویں صدی عیسوی تک راج کیا۔ مسلمانوں نے ساتویں صدی عیسوی میں یہ علاقہ فتح کیا۔ مسلمانوں کے خلیفہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کے شہر کوفہ کو اپنا دارالخلافہ بنایا۔
اس کے بعد عربوں نے اموی اور عباسی سلطنت کی صورت میں عراق پر حکومت کی ۔ عباسیوں نے بغداد کو پہلی دفعہ دار الحکومت بنایا۔ 1258 عیسوی میں منگولوں نے ہلاکو خان کی قیادت میں بغداد کو تاراج کیا (دیکھیے :سقوط بغداد) ۔ اس کے بعد یہ 16ویں صدی میں عثمانی سلطنت کا حصہ بناجس کی یہ حیثیت جنگ عظیم وال تک بر قرار رہی۔ جنگ عظیم اول کے دوران برطانیہ نے اس پر قبضہ کر لیا۔
بعد میں فرانس اور برطانیہ نے بندر بانٹ کر کے مشرق وسطی کے حصے بخرے کیے۔ 1932 میں انگریزوں نے اسے آزادی دی اور حکومت شریف مکہ کے بھائی امیر فیصل کو ترکوں کے خلاف جنگ لڑنے کے معاوضے کے طور پر دی۔ مگر عراق میں برطانیہ کے فوجی اڈے بر قرار رہے اور اصل طاقت اسی کے پاس تھی۔ جنگ عظیم دوم کے بعد امریکہ کا اثر ا س خطے میں بڑھناشروع ہو گیا۔ 1956 میں عراق، پاکستان، ترکی،ایران امریکہ اور برطانیہ کے درمیان معاہدہ ہوا جو مصر کے جمال عبدالناصر اور شام کے خلاف ایک محاذ بن گیا۔
اس پر جمال بعدالناصر نے عراقی بادشاہت کے خلاف آواز اٹھائی جس کا اثر عراق پر بھی ہوا۔ 14جولائی 1958 کو بریگیڈ ئیر جنرل عبدالکریم قاسم اور کرنل عبدالسلام عارف کی قیادت میں عراق فوج نے انقلاب برپا کیا اور عراقی بادشاہت کا خاتمہ کر دیا۔ انھوں نے عراق کو جمہوریہ قراردیا اور معاہدہ بغداد کو قبول کر نے سے انکار کر دیا۔ بریگیڈئیر جنرل عبدالکریم قاسم اور کرنل عبدالسلام عارف میں بعد میں اختلافات پیدا ہو گئے کیونکہ کرنل عبدالسلام عارف مصر کیساتھ گہرے تعلقات کے حامی تھے مگر بریگیڈئیر جنرل عبدالکریم قاسم ایسا نہیں چاہتے تھے۔
اس وقت کرنل عبدالسلام عارف کو فارغ کر دیا گیا۔ 1963 میں ایک اور فوجی بغاوت میں بعث پارٹی نے اقتدار پر قبضہ کرلیا اورکرنل عبدالسلام عارف کو صدر بنا دیا گیا۔ یہ وہی پارٹی ہے جس کے کارکن صدام حسین بعد میں صدر بن گئے۔ درمیان میں کچھ وقت کیلئے اقتدار بعث پارٹی کے ہاتھ سے نکل گیا مگر انھوں نے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ 1968 میں تیل کی برطانوی کمپنی کو فارغ کر کے ایک فرانسیسی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرلیا گیا۔
مگر بعد میں تیل کو صنعت کو قومیا لیا گیا۔ یہی وہ دور ہے جس میں عراق نے کچھ اقتصادی ترقی کی ۔جو پہلے برطانوی لوٹ کھسوٹ کے ساتھ ممکن نہیں تھی۔ بعث پارٹی کے صدام حسین کی حکومت 2003 تک قائم رہی جس کے بعد امریکہ نے عراق پر قبضہ کرلیا ۔ صدام حسین کے زمانے میں ایران کے ساتھ ایک طویل وقت (ایران عراق جنگ) لڑی گئی جس میں عراق کو سعودی عرب اور امریکہ کی آشیر باد حاصل تھی۔
مگر جب صدام حسین نے کویت پر رقبضہ کرنے کی کوشش کی تو سعودی عرب اور امریکہ نے اس کے خلاف جنگ لڑی۔ اس جنگ میں امریکہ نے ترکی اور سعودی عرب کا علاقہ عراق کے خلاف استعمال کیا۔ کویت پر عراق کا قبضہ چھڑا لیا گیا مگر اس کے بعد بھی امریکہ کے عزائم جاری رہے حتیٰ کہ امریکہ نے مارچ 2003 میں ایک اور جنگ ( جنگ عراق 2003) میں عراق پر قبضہ کر لیا۔ آج کل عراق میں ایک برائے نام حکومت قائم ہے جو تیس جنوری 2005 کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی مگر امریکی قبضہ جاری ہے اور اصل طاقت اسی کے پاس ہے۔
تیل کی دولت کو برطانیہ اور امریکہ دونوں ھاتوں سے لوٹ رہے ہیں۔ یہ دور ایک خون آلود دور کے طور پر یاد کیا جائے گا کیونکہ ان چند سالوں میں اتنی عراقی عوام قتل ہوئی ہے جو پچھلے پچاس سال میں نہیں ہوئی۔عراق کے سابق صدر صدام حسین کو امریکی کی زیرِ نگیں حکومت پھانسی دے دی تھی جس سے فرقہ وارانہ فساد میں اضافہ ہوا ہے۔ استعماری طاقتیں سنی، شیعہ، ار کرد مسلمانوں میں اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں جس کامنطقی نتیجہ عراق کی تقسیم کی صورت میں نکل سکتاہے اس سے مشرق وسطیٰ کا نقشہ ایک بار پھر بدلنے کا امکان ہے۔
عراق کی آبادی ڈھائی کروڑ سے زیادہ ہے ۔ (جولائی 2005 میں 26,074,906 )۔ ان میں سے 80 فی صد عرب ہیں اور باقی کرد(ترک، اسیریائی وغیرہ) سے تعلق رکھتے ہیں۔ مسلمان 97 فی صد ہیں جن میں سے ساٹھ فی صد کے قریب شیعہ مسلمان ہیں۔ اھلسنت کی اکثریت شافعی مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔ تین فی صد افراد دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتی ہیں جن میں زیادہ عیسائی ہیں ۔ اور کچھ یہودی، بہائی وغیرہ ہیں ۔
عراق کا کل رقبہ 168,743 مربع میل (473,072 مربع کلو میٹر) ہے۔ اس کا زیادہ تر علاقہ صحرائی ہے مگر دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے درمیان کا علاقہ انتہائی زرخیز ہے۔ اس علاقے کو میسوپوٹیمیا یا مابین النھرین کہتے ہیں۔ زیادہ تر شہر انہی دو دریاوں کے کناروں پر آباد ہیں۔ عراق کا ساحلِ سمندر خلیجِ فارس کے ساتھ بہت تھوڑا ہے جو ام قصر کہلاتا ہے اور بصرہ کے پاس ہے۔
عراق عرب کی آخری سر زمین کہلائی جاسکتی ہے کیونکہ اس کے بعد ایران اور پاکستان ہیں۔ عراق کے ایک طرف کویت ہے جو کسی زمانے میں عراق ہی کا حصہ تھا۔ ایک طرف شام ہے اور ایک طرف سعودی عرب۔ عراق کو اپنے تیل کے ذخائر کی وجہ سے بہت اہمیت حاصل ہے جو دنیا میں دوسرے نمبر پرہیں۔ عراق کی معیشت بین الاقوامی لوٹ کھسوٹ کی ایک اعلیٰ داستان ہے ۔ معیشت تیل کے اردگرد گھومتی ہے۔
تیل کی دولت کو پہلے تو برطانوی کمپنیوں نے خوب لوٹا۔ بعث پارٹی کی ابتدائی حکومت میں عراق برطانوی کمپنیوں سے جان چھڑا کر فرانسیسی چنگل میں پھنس گئے۔مگر بعد میں بعث پاٹی کی دوسری حکومت نے تیل کی صنعت کو قومیالیا اور عراق نے کچھ عرصہ ترقی کی۔ عالمی طاقتوں نے عراق کو ایران سے ایک لمبی جنگ میں پھنسا کر خوب برباد کیا۔ اس کی ساری دولت اس جنگ کی نذر ہو گئی۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے عراق کو بے تحاشا اسلحہ بیچا۔حتیٰ کہ عراق کے بیرونی قرضے ایک سوبیس ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ایران سے جنگ بندی کے بعد تیل کی صنعت میں کچھ بہتری آئی مگر زیادہ وسائل تیل کی صنعت کی بحالی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوتی رہی جس کی وجہ سے عراق خاطر خواہ ترقی نہ کر سکا۔اس موقع پر عراق نے عالمی طاقتوں کے جال میں آکر کویت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ اسے ایک اور جنگ اور بین الاقوامی پابندیوں کی صورت میں بھگتنا پڑا۔
اس سے عراق کی معیشت تباہ ہو گئی۔ ایک دہائی کی مسلسل پابندیوں سے عراق کمزور ہو گیا تو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا بہانہ کر کے امریکہ نے 2003 میں عراق قبضہ کرلیا۔ اگرچہ پیرس کلب کے ممالک نے 33ارب ڈالر کے قرضے معاف کرنے کاعندیہ دیا ہے مگر اس سے عراق کے ایک سو بیس ارب ڈالر کے قرضوں میں کوئی خاص کمی نہیں آتی جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جنگ اور خانہ جنگی کے ممکنہ خاتمے کے بعد بھی عراق کو اپنی نئے سرے اور تعمیر اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لئے عالمی طاقتوں اور اداروں پر انحصار کرنا پڑے گا اور مستقبل قریب میں عراق میں معاشی ترقی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
عراق کی تعمیرِ نو کے نوے فی صد ٹھیکے امریکی کمپنیوں اور باقی برطانوی اور کچھ فرانسیسی اور اطالوی کمپنیوں کو مل رہے ہیں جو مہنگا کام کرنے میں مشہور ہیں اور یوں لوٹ کھسوٹ کا یک اور درکھل گیا۔عراق سلطنتِ عثمانیہ میں شامل تھا مگر انگریزوں نے پہلی جنگ عظیم میں اس پر قبضہ کر لیا۔ ترکوں کے خلاف جنگ کے انعام جہاں انگریزوں نے دیگر عرب ممالک ان لوگوں کے حوالے کیے جو شروع انگریزوں کے ریزنگیں رہیں وہاں عراق کی حکومت انھوں نے 1932 میں شریف مکہ کہ بھائی شاہ فیصل کے حوالے کر دی۔
مگر اپنے فوجی اڈے اور تیل پر اپنی مکمل حاکمیت بر قرار رکھی۔ اور یوں عراق بیشتر عرب ممالک کی طرح مصنوعی طور پر آزاد ہو گیا۔ 1958 میں انقلاب آیا جس کے بعد تیل کی صنعت کو قومیالیا گیا اوربادشاہت ختم کر دی گئی مگر آمریت بر قرار رہی ۔ اس میں کچھ ہات مصر کے جمال عبدالناصر کا سمجھا جاتا ہے ۔ جو تمام عرب ممالک کو متحد کرنا چاہتے تھے۔ 1968 سے 2003 تک بعث پارٹی کی حکومت رہی جس میں صدام حسین بھی شامل تھے۔
یہ ایک قسم کی مصنوعی جمہوریت تھی۔2003 میں امریکہ نے اتحادی فوج کا لبادہ اوڑھ کر عراق پر قبضہ کرلیا جو آج تک جاری ہے البتہ 15 اکتوبر 2005 کو انتخابات کروا کر عراق کا نیا آئین 78 فی صد اکثریت سے منظور کیا گیا جس کے تحت دسمبر میں نئی عراقی حکومت کی تشکیل کی گئی۔عراق میں شیعہ اور سنی دونوں موجود ہیں اور اس کے علاوہ عراق عرب ، کرداور کچھ ترک نسلوں میں منقسم ہے جس کا فائدہ اتحادی افواج اٹھا رہی ہیں۔
اتحادی افواج نے مختلف طریقوں سے شیعہ اور سنی تفرقہ پھیلا کر اپنی موجودگی کا ایک جواز پیدا کیا ہوا ہے ۔ اتحادی افواج بد ستورعراق میں ہیں۔ عراقی تیل ان کی مرضی سے بیچا جا رہا ہے۔ایک پرانی غیر استعمال شدہ تیل کی پائپ لائن بھی بحال کی گئی ہے جو اسرائیل تک جاتی ہے۔ دولتِ اسلامیہ فی عراق و الشام (آئی ایس آئی ایس) ایک جہادی گروہ کا نام ہے جو عراق او ر شام میں سر گرم عمل ہے۔
القاعدہ سے علیحدہ ہونے کے بعد یہ ایک بڑا جہادی گروپ بن کر سامنے آیا ہے جو شام میں سرکاری فوجوں کے خلاف برسر پیکار ہے اور عراق میں بھی سرکاری فوجوں کے مقابلے میں پیش قدمی کرتا جا رہا ہے۔ اس کی اصل افرادی قوت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ہزاروں جنگجووٴں پر مشتمل ہے جن میں بہت سے غیر ملکی جہادی بھی شامل ہیں۔
نامہ نگاروں کے مطابق یہ القاعدہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے بڑا گروپ بنتا جا رہا ہے ۔ اس تنظیم کی سربراہی ابوبکر بغدادی کر رہے ہیں۔ ان کے بارے میں ابھی کم معلومات عام ہوئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ بغداد کے شمالی علاقے سامرا میں 1971 میں پیدا ہوئے اور سنہ2003 میں امریکی حملے کے خلاف شروع ہونے والی مزاحمت میں شامل ہوئے۔ سنہ 2010 میں وہ عراقی القاعدہ کے سرکردہ رہنما کے طورپر سامنے آئے اور بعد میں اس گروپ نے آئی ایس آئی ایس کا نام اختیار کرلیا۔
بغدادی میدان جنگ کے سالار اور منصوبہ ساز سمجھے جاتے ہیں اور مبصرین کے خیال میں یہ بات انھیں اور آئی ایس آئی ایس کو ایمن الظواہری اور القاعدہ کے مقابلے میں نواجوانوں کے لئے زیادہ پر کشش بناتی ہے۔واضح رہے کہ ایمن الظواہری ایک عالم ہیں۔ لندن کے کنگز کالج کے پروفیسر نیومین کا کہنا ہے کہ مغربی ملکوں سے شام کی جنگ میں شریک ہونے والے 80 فیصد جنگجو اس گروپ میں شامل ہیں۔

آئی ایس آئی ایس کا دعویٰ ہے کہ ان کی صفوں میں برطانیہ، فرانس، جرمنی اوردیگر مغربی ملکوں کے علاوہ امریکہ، عرب دنیا اور کوہ قاف سے تعلق رکھنے والے جنگجو بھی ہیں۔ شام میں دیگر باغی گروپوں کے برعکس آئی ایس آئی ایس عراق اور شام کے حصوں پر مشتمل ایک علیحدہ آزاد ریاست قائم کرنا چاہتا ہے ۔ اس گروپ نے قابل ذکر فوجی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
اس نے مارچ سنہ 2013 میں شام کے شہر رقہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ جنوری سنہ 2014 میں اس نے عراق میں شیعہ حکومت اور سنی آبادی کے درمیان کشیدگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انبار کے صوبے میں واقع فلوجہ شہر کا کنٹرول حاصل کرلیا۔ اس نے صوبائی دارالحکومت رمادی کے بڑے حصہ پر بھی قبضہ کرف لیا اور شام اور ترکی کی سرح کے قریب واقع کئی علاقوں میں اپنا اثر بڑھا لیا۔
اپنے زیر اثر علاقوں میں اس کی ساکھ ایک انتہائی جابر قوت کے طور پر بن چکی ہے۔ اس ماہ موصل کے شہر پر اس کے قبضوں کی خبروں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ عراق کے دوسرے بڑے شہر پر اس کے قبضے سے پورے خطے کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ یہ گروہ شام میں دیگر جہادی گروپوں مثلاََ النصار فرنٹ ( جوالقاعدہ سے منسلک گروہ ہے) سے علیحدہ ہ وکر سر گرم ہے اور اس کے ان گروپوں سے تعلقات بھی کشیدہ ہیں۔
بغدادی نے النصار کے ساتھ اپنی تنظیم کا ادغام کرنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ کام نہ ہو سکا جس کے بعدسے دونوں گروپ علیحدہ علیحدہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ایمن الظواہری نے آئی ایس آئی ایس سے کہا تھا کہ وہ شام کو چھوڑ کر اپنی کارروائیاں عراق تک محدود رکھیں لیکن بغدادی اور اس کے جنگجووٴں نے القاعدہ کے سر براہ کی نافرمانی کرتے ہوئے شام میں بھی کارروائیاں جاری رکھیں۔
شام میں رفتہ رفتہ دونوں گروپوں کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور باغی گروہوں کے درمیان باہمی لڑائیاں بھی ہوتی رہیں۔ ا س برس جولائی میں مغرب کے حمایت یافتہ اور اسلامی گروپوں نے مل کر آئی ایس آئی ایس کے خلاف یلغار کی تھی تاکہ انھیں شام سے نکالاجا سکے۔ اس لڑائی میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔عراق کے شمالی شہر موصل پر شدت پسندوں کے قبضے کے بعد وزیر اعظم نے پارلیمنٹ سے درخواست کی ہے کہ وہاں ایمرجنسی کانفاذ کیا جائے۔
پانچ روزکی لڑائی کے بعد دولتِ اسلامیہ نے نینوا کے دارالحکومت موصل کا کنٹرول حاصل کرلیا۔ موصل کی آبادی 18لاکھ ہے۔ موصل میں وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے اس ابت کا اعتراف کیا کہ پولیس کے اہلکار اور فوجی یونیفارم اتار کر فرار ہو گئے ہیں :’موصل شہر ریاست کے کنٹرول کے باہر ہے ‘ نینوا کی اسمبلی کے سپیکر اور گورنر کے بھائی اسامہ النجفی کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکی سفارت کار سے مدد مانگی تھی۔
اسامہ نے عراقی حکومت اور کردستان ریجنل حکومت سے درخواست کی کہ وہ ’ ہشت گردوں‘ سے لڑنے کے لیے کمک بھیجیں جنھوں نے فوجی سازوسامان بشمول ہیلی کاپٹروں کے پر قبضہ کر لیا ہے۔دوسری جانب بعقوبہ میں دو بم دھماکوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ا ن دھماکوں میں صوبہ دیالہ کے دارالحکومت میں ایک جنازے کو نشانہ بنایا گیا۔ عراق میں حکومت نے القاعدہ اور ’ دولتِ اسلامیہ فی عراق ولشام‘ ( آئی ایس آئی ایس) سے تعلق رکھنے والے ہر غیر ملکی کو ہلاک کرنے کے لئے 17,200 ڈالر انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔
حکومت نے القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ کے کسی بھی فرد کو زندہ پکڑنے کے لئے 25,800 ڈالر کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس بات کا اعلان عراق کی وزارت دفاع کی ویب سائٹ پر کیا گیا۔ عراقی حکام ملک میں ایک سال کے دوران ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد میں اضافے کا الزام القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ پر عائد کرتے ہیں۔ عراقی حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق رواں برس جنوری میں ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے ۔
عراق میں گزشتہ برس دسمبر میں دولتِ اسلامیہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق صوبہ انبار کے شہر فلوجہ کے کچھ حصوں میں قبضہ کر لیا تھا۔ فلوجہ میں ہونے والی جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب رمادی میں عراق فوج نے سنی عربوں کے ایک مظاہرے کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اقوام متحدہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ عراق کے صوبہ انبار میں سنہ 2006 سے 2008 کے دوران لڑائی کے باعث تین لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے۔
امریکہ نے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر عراق میں پیش قدمی روکنے کے لئے ٹارگٹڈ آپریشن اور مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے تیار ہے۔لیکن انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی زمینی فوج عراق میں لڑائی میں شرکت کے لیے نہیں جائے گئی۔ صدر براک اوباما نے کہا کہ عراق حکومت کی مددکے لیے 300 عسکری مشیر بھیجے جائیں گئے تاہم انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عراق کے مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں ہے اوراس کے لئے سیاسی حل کی ضرورت ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ عراق میں ایک مسلک کے حق میں اور دوسرے کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔ واضح رہے کہ عراقی حکومت نے باقاعدہ طورپر امریکہ سے درخواست کی ہے کہ وہ گذشتہ ہفتے کے دوران عراق کے کئی اہم شہروں اور قصبوں پر قبضہ کرنے والے دولت اسلامی عراق و شام (داعش) سے تعلق رکھنے والوں کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کرے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباماکی اس بات کو عراق کے شیعہ وزیراعظم نوری المالکی پردبے الفاظ میں تنقید کے طور دیکھا جا سکتا ہے جن پر سنی مخالف پالیسیان ترتیب دینے کا الزام ہے جن کی وجہ سے عدم استحکام بڑھا ہے۔
اس سے قبل واشگٹن میں امریکی سینٹیروں کے سامنے بیان دیتے ہوئے امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا تھا کہ انھیں عراقی حکومت کی طرف سے فضائی مدد فراہم کرنے کے لیے کہا گیا ہے ۔ جنرل ڈیمپسی نے کہا تھا کہ داعش کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنا امریکہ کے اپنے مفاد میں ہے۔لیکن انھوں نے خبر دار کیا کہ امریکی فوج کے پاس کارروائی کرنے کے لیے اب بھی ضرورت کے مطابق انٹیلی جنس معلومات نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فضائی بمباری کے دوران پائلٹوں کے لئے یہ معلوم کرنا مشکل ہو ا گا کہ وہ کس پر حملہ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل عراقی وزراعظم نوری المالکی نے شدت پسندوں کے خلاف عراق شہریوں سے متحدہ ہونے کی اپیل کی تھی۔ حکومتی فورسز داعش کے شدت پسندوں اور اس کے اتحادیوں کو دیالی اور صلاح الدین صوبوں سے نکالنے کے لئے پرسر پیکار ہیں۔ ان شدت پسندوں نے گذشتہ ہفتے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ کر لیا تھا۔
عراق کے دارالحکومت بغداد کے شہری غلہ پانی کی ذخیرہ اندوزی میں مصروف ہیں کیونکہ اسلام پسند جنگجو شہر کے مزید قریب آگئے ہیں۔ دولتِ اسلامیہ عراق وشام اور سکیورٹی فورسز کے درمیان دارالحکومت سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر بعقوبہ کے مقام پ جنگ جاری ہے جہاں شیعہ جنگجووٴں نے سکیورٹی فورسززکے ہمراہ مل کر انھیں پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ نامہ نگار وں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بغداد کے شہری فکرمندہیں کیونکہ حملہ آور شمال اور مغرب کی جانب سے اس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ جنگجووٴں نے گذشتہ کئی ہفتوں کے دوران عراق کے بعد اہم شہروں پر قبضہ کرلیا ہے ۔ امریکی حکام نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ امریکہ عراق میں سکیورٹی فورسز کی تربیت کے لئے مختصرپیمانے پر سپیشل فورسز کی چھوٹی چھوٹی کارروائیوں کے بارے میں غور کر رہا ہے۔ اس سے قبل عراقی صدر نوری المالکی نے اسلام پسند سنی باغیوں کو روکنے میں ناکامی پر کئی سینئیر اہلکاروں کو برطرف کر دیاہے۔
برطرف کیے جانے والے فوجی افسروں میں نینوا صوبے کے کمانڈر بھی شامل ہیں۔ دولت مند افراد نے ضروری اشیاء خوردنی کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔ تاہم حکومت کاکہنا ہے کہ بغداد میں اشیائے خوردنی کی کمی نہیں اور یہ کہ بغداد پر قبضہ نہیں ہو سکے گا۔ گذشتہ ہفتے داعش کے جنگجووٴں نے موصل اور تکریت سمیت کئی دوسرے قصبوں پر قبضہ کر لیا تھا، مگر عراقی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے کئی قصبے جنگجووٴں کے قبضے سے آزاد کروالیے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-02

(2) ووٹ وصول ہوئے