بند کریں
جمعہ جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ایران امریکہ ایٹمی معاہدہ
دُنیاکے لیے روشنی کی ایک کرن۔۔۔۔ امریکیوں کو دراصل یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مستقبل میں ایران بطور حلیف ان کے لیے اسرائیل سے کہیں بڑھ کر فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل ہمیشہ امریکہ کے لیے ایک دردسر اور بوجھ بن جاتا ہے
ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی ایٹمی معاہدے کو ری پبلکن پارٹی کانگرس کے ذریعے مستر د کرتا چاہتی تھی لیکن صدر اوباما ڈیموکریٹس اراکین کانگرس کی اکثریت کو اپنا ہمنوابنا چکے ہیں جس کے بعدایران کے ایٹمی پروگرام پر پابندی کے معاہدے پرلٹکتی ہوئی تلوار ہٹ چکی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے جو اراکین امریکہ ایران معاہدے کو مسترد کرنے کے حق میں تھے،کی ملاقاتیں معاہدے کے دیگر فرایقین یعنی برطانیہ، چین ،فرانس ، جرمنی اور روس کے سفارتکاروں سے کروائی گئیں۔
ان ممالک کے سفارتکاروں نے غیر مہم اور واضح انداز میں ڈیموکریٹس اراکین کانگرس کو بتا دیا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر پابندی کے حوالے سے طے پانے والا معاہدہ موجودہ صورتحال میں بہترین پیش رفت ہے اور یہ ممالک کسی طور اس معاہدے کو ختم نہیں ہونے دیں گے۔
امریکیوں کو دراصل یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مستقبل میں ایران بطور حلیف ان کے لیے اسرائیل سے کہیں بڑھ کر فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل ہمیشہ امریکہ کے لیے ایک دردسر اور بوجھ بن جاتا ہے جبکہ ایران کیساتھ اگر امریکہ کے تعلقات دوستانہ ہو جاتے ہیں تو یہی ایران امریکہ کے لیے مشرق وسطیٰ کی مخصوص صورتحال کے تناظر میں ایک قابل قدر اثاثہ ثاب ہو سکتا ہے۔

ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے طے پانے والا معاہدہ امریکہ اور ایران کے درمیان پائی جانے والی مغائرت کو دوستی میں بدلنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اور ماضی میں یہ ہو بھی چکا ہے۔
ایٹمی معاہدے کے بعد ایران پرعائد معاشی، اقتصادی وتجارتی پابندیوں کے خاتمے سے ایران کو معاشی، استحکام نصیب ہو گا اور اسے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ نئے سرے سے تجارتی تعلقات قائم کرنے کا موقع ملے گا اور اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ شدت پسندی اور بد امنی کی ایک بہت بڑی وجہ معاشی بدھالی ہوتی ہیں۔
ایرانی تیل عالمی منڈیوں میں پہنچنے سے اس کی قیمتوں میں استحکام آئے گا جس کے اثرات لامحالہ پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گئے۔
دنیا کو پُرامن بنانے کے لیے مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں جاری بدامنی اور عسکریت پسندی کا خاتمہ ضروری ہے اور یہ کام معاشی استحکام کے ساتھ بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے ۔ شام ، عراق اور لبنان پرایران کا اثرورسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔
اگر اس اثرورسوخ کو فرقہ واریت کے زہر سے پاک کر دیا جائے تو اس کی مدد سے ان ممالک میں خانہ جنگی اور بے امنی کا خاتمہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔شام میں خانہ جنگی ہر گزرتے دن کے ساتھ شدید سے شدید تر ہو رہی ہے اور اس بحران کے پُرامن حل کے امکانات تیزی سے معدوم ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایران کا کردار بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے اسی طرح یمن میں حوثی باغیوں کو ایران کی مکمل تائید وحمایت بلکہ عملی مدد حاصل ہے۔ اگر امریکہ اور دیگر ممالک ایران کو اس حوالے سے معتدل اور غیر جانبداررویہ اپنانے پر قائل کر لیتے ہیں تو عالمی امن کے لیے یہ ایک گرانقدر تحفہ ہو گا۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-01

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان