بند کریں
جمعہ جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
انتخابی عمل مکمل ہونے سے قبل بی جے پی کی مسلم دشمنی عیاں
بی جے پی لیڈروں کی زہر افشانی‘ مسلمانوں کو دھمکیاں مودی کو ووٹ نہیں دیا تو پاکستان جانا پڑے گا:گری راج
رابعہ عظمت:
بھارت میں عام انتخابات کیلئے ووٹ ڈالا جارہا ہے اور انتخابی مرحلے مکمل ہونے میں چند دن باقی رہ گئے ہیں اور الیکشن نتائج 16مئی کو سنائے جائیں گے یعنی ابھی بی جے پی، کانگریس اور عام آدمی پارٹی سمیت علاقائی جماعتوں کے مابین حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے کہ مسند اقتدار کون سنبھالے گا مگر شاید ہندو فرقہ پرستوں اور فسطائی گروپوں نے نریندر مودی کو وزارت عظمیٰ کی گدی پر بٹھا دیا ہے اسی لئے تو مسلمانوں کے خلاف کھلی دشمنانہ کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے جس کی پہلی مثال بی جے پی لیڈر گری راج کی زہر افشانی ہے جس میں اس نے مسلمانوں کو دھمکاتے ہوئے کہا کہ ”جس نے مودی کو ووٹ نہ دیا تو اسے پاکستان میں پناہ لینا پڑے گی“ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ جب وہ زہریلی تقریر کررہا تھا تو سٹیج پر اس کے ساتھ بی جے پی کے سابق صدر نتن گڈکری بھی موجود تھے۔
ابھی الیکشن ختم نہیں ہوا کہ مودی کے ایجنٹوں نے مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا شروع کردیا ہے یعنی کہ انتخابی عمل مکمل ہونے سے قبل ہی بی جے پی کی مسلم دشمنی بے نقاب ہوگئی ہے اور یہ ہے وہ گجرات ماڈل کا خاکہ جس کی ایک ہلکی سی جھلک مودی کے چیلے گری رواج نے بھارتی مسلمانوں کو دکھا دی ہے اور الیکشن جیتنے کے بعد پورے ہندوستان میں مسلمانون کا وہی حال ہوگا جو گجرات میں ہوا۔
اسرے ملک میں مسلم نسل کشی عروج پر ہوگی صرف نوجوانوں کا ہی نہیں مسلم عورتوں کو بھی جعلی پولیس مقابلوں میں ان کو مروادیا جائے گا۔ مسلمان عالی عشرت جہاں کا انکاؤنٹر اس کی بدترین مثال ہے۔ بالفا دیگر مودی راج میں مسلمانوں کو چوں کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی اور اگر اس نے ذرا سا سراٹھانے کی کوشش کی تو اسے پاکستان بھیج دیا جائے گا۔
دوری جانب ویشو و ہندو پریشد کے لیڈر پروین تو گڑیا کا بھی مسلم دشمنی پر مبنی بیان نے بھی بی جے پی کی پول کھول دی ہے اس کے نفرت انگیز چہرے سے پردہ اٹھا دیا ہے۔
پروین توگڑیا نے ہندو محلوں سے مسلمانوں کو نکل جانے کا الٹی میٹم دے ڈالا ہے۔ ان کے مطابق مسلمان ہندوستانی شہری نہیں ہیں جبکہ راج گری اور پروین توگڑیا کے بیانوں کے بعد بھارتی متعصب میڈیا کو نیا موضوع ہاتھ آگیا ہے اور اس نے بیانوں کی مذمت کرنے کے بجائے ان پر بحث کے نئے سلسلے کا آغاز کردیا ہے جس کے بعد مسلم دشمن لیڈروں کو مسلمانوں کے خلاف بیان بازی کرنے کا موقع ہاتھ آگیا۔
دراصل اس قسم کے حربوں کو استعمال کر کے الیکشن کو فرقہ وارانہ رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ ہندو ووٹ متحد ہوجائے اور وہ نریندر مودی اور اس کے چیلوں کو ووٹ دے کر پارلیمنٹ میں پہنچادیں۔
دراصل سنگھ پریوار پر ابھی سے اقتدار کا نشہ چھانے لگا ہے ۔ اس کی ابتداء امیت شاہ کی طرف سے ہوئی جس میں اس نے مظفر نگر فسادات کے متاثرہ مسلمانوں کے خلاف ہرزرہ سرائی کرتے ہوئے انہیں ہی مجرم ٹھہرادیا تھا۔
پھر بی جے پی کے سابق صدر نتن گڈکری کا ایک متنازع بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے ذات پرستی کی سیاست کیلئے صرف بہار کو مورد الزام ٹھہرایا۔ ویو و ہندو پریشد کے لیڈر پروین توگڑیا تو مسلم دشمنی کے حوالے سے بہت مشہور ہے وہ ایسے زہریلے بیانات کے ذریعے بجرنگ دل اور ویشو و ہندوپریشد کے غنڈوں کے اکسارہے ہیں کہ وہ ہندو ولاقوں میں رہنے والے مسلمانوں سے ان کے گھر زبردستی خالی کروالیں اور ان کے مکانوں پر بجرنگ دل ہاؤس کے بورڈ آویزاں کردیں۔

ہندو فرقہ پرست لیڈر پروین توگڑیا نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ پہلے بھی مسلمانوں کے خلاف ایسے مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔ حقیقت تو یہی ہے کہ پارلیمان الیکشن میں زیادہ سے زیادہ تشستیں جیتنے کیلئے بی جے پی نے اپنے پورے وسائل جھونک دئیے ہیں۔ وہ ہر صورت میں مودی کو دہلی کے تخت پر بٹھانا چاہتی ہے اور اس کیلئے مسلمانوں کے خلاف ماحول خراب کرنا ہی سب سے آسان نسخہ ہے۔
طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ ایک طرف تو یہ پارٹی ”ترقی“ کی بات کررہی ہے اور دوسری طرف اس نے اپنے ہندتوا ایجنڈے کو ہرگز نہیں چھوڑا ہے چنانچہ انتخابی منشور پر ہندوتوا کے سائے دراز کرنے کے ساتھ ساتھ ان دہشت گردوں اور غنڈوں کی بھی خدمات حاصل کرلی ہیں جو مسلمانوں کے خلاف دشمنی میں سب سے آگے ہیں تاکہ فضا کو مکدر کیاجائے اور ہندوتوا کو بھی مسلط کریدیا جائے یہی بی جے پی کی دوغلی پالیسی ہے۔
نریندر مودی نے وہی کچھ کیا جو اپنے دور میں فاشٹ حکمران مسولینی اور ہٹل کیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں گدی راج اور پروین توگڑیا کے شر انگیز اور منافرت سے بھرے ہوئے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا وہ اس طرح بیانات کی حمایت نہیں کرتے اس لئے ان بیانات سے کسی کو بھی خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے مگر مودی نے یہ ہی گدی راج سنگھ اور پروین توگڑیا کی مذمت کی اور نہ انہوں نے دونوں شرپسندوں کے کلاف کسی کارروائی کا مطالبہ کیا ۔
اگر مودی کو مسلمانوں کی اتنی فکر ہوتی تو وہ آگے بڑھ کر خود گدی راج سنگھ اور توگڑیا کو پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیتے مگر مودی نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ مودی نے صورف زبانی جمع خرچ کے ذریعے مسلم اقلیت کے خوف کو دور کرنے کی نام نہاد کوشش کی اور وہ بھی صرف اس لئے کہ انہیں ابھی مسلمانوں کے ووٹوں کی ضرورت ہے۔
مذکورہ حالات و واقعات سے تصویر پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ اگر مودی برسراقتدار آگای تو ہندو فرقہ پرست مسلم دشمن اشوک سنگھل، پروین توگڑیا، امیت شاہ اور اوما بھارتی نہ جانے مسلمانوں کے ساتھ کیسا سلوک کریں گے؟ اس کا تو بس اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے۔
چند باتیں تو بالکل واضح ہیں جن کے نفاذ کا وعدہ بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں بھی کیا ہے اور وہ ہے یکساں سول کوڈ کا نفاذ، یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا مطلب ہے سب کیلئے ایک طرح کے قوانین، شادی، طلاق، وراثت وغیرہ کے معاملات بھی اسی کے تحت آجائیں گے اور ہر مذہب کے ماننے والوں کے اس پر عمل کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ بی جے پی کا انتخابی منشور خالصتاََ فرقہ وارانہ بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔
بی جے پی کے کامیابی اور ہندوستان پر مودی راج کا مطلب مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا جائے گا یعنی کہ ہندو انتہا پسند تنظیمیں متعصب پسندی کی اپنی پرانی روایات پر عمل پیرا ہورہی ہیں اور اس کے لیڈروں نے منافرت کا زہر اگلنا شروع کردیا ہے۔
دہلی کے تخت پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھے والی آر ایس ایس و بی جے پی اپنے اس مقصد کی تکمیل کیلئے اب جھوٹ کا بھی سہارا لینے سے گریز نہیں کررہی ہیں۔
اس ضمن میں کشمیری حریت لیڈر اس بیان کہ ”نریندر مودی نے مجھ سے بات کرنے کیلئے دو چیلوں کو میرے پاس بھیجا تھا لیکن میں نے ان کی تجویز کو ٹھکرا دیا کیونکہ مودی سے کوئی فائدہ ہونے کا کوئی امکان نہیں“۔ کشمیری لیڈر کے مزکورہ بیان نے سنگھ پریوار کے ہوش اڑادئیے اور بی جے پی کے ترجمان روی شنکر پرساد فوری طور پر ٹی وی پر آگئے اور انہوں نے سید علی گیلانی کے بیان کو جھوٹ اور ایک سیاسی چال قرار دے دیا لیکن روی شنکر کی بدقسمتی رہی کہ اس کے تقریباََ 6 گھنٹوں بعد ہی ہندوستان کے ایک اخبار ”دی ہندو“ نے اس بات کا انکشاف کردیا کہ علی شاہ گیلانی کا بیان 100فیصد حقیقت پر مبنی ہے۔
بعد ازاں ”دی ہندو“ کے انکشاف کے بعد سنگھ پریوار کو سانپ سونگھ کیا کیونکہ اس انکشاف سے ان کے جھوٹ کا پردہ فاش ہوگیا جس نے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ فرقہ پرست پارٹی اقتدار کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاستوں میں انتخابات کے دوران فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنے اور ووٹروں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔
آر ایس ایس اور ویشووہندو پریشد کے کارکن گھر گھر جا کر شر انگیز پمفلٹ تقسیم کررہے ہیں۔ ان پمفلٹ میں کسی پارٹی کا نام نہیں ہے مگر مودی اور راج ناتھ کی تصویریں ہیں اور اس میں ”ہندوستان کو بنگلہ دیشی مسلم در اندازوں سے پاک کرنے اور کشمیر کو غداروں سے آزاد کرنے کی اشتعال انگیزی کی گئی ہے۔ عوام سے ووٹ دینے کی اپیل کے ساتھ ساتھ انہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ ”ملک کو اکثریتی حکومت کی ضرورت ہے“ ایسی حکومت جو مضبوط اور مستحکم ہو جبکہ الیکشن کمیشن نے ابھی تک ان پمفلٹوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

سنگھ پریوار کا سب سے بڑا نیٹ ورک اتر پردیش میں ہے اور اس وقت دہلی کے تخت پر قضہ کرنے کیلئے اس نے اتر پردیش کو زینہ بنالیا ہے۔ ماضی میں جب اٹل بہار واجپائی وزیر اعظم بنے تھے تو یوپی نے ہی انہیں یہاں تک پہنچایا تھا۔ سنگھ نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی جو مہم شروع کررکھی ہے اس کے تحت 55کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ یہاں کل 80 حلقے ہیں جو نتائج کا رخ موڑ سکتے ہیں۔
اور یہاں سنگھ پریوار کے سیوک گھر گھر جاکر ہندووں کے بی جے پی کو ووٹ دینے پر آمادہ کرنے میں متحرک نظر آتے ہیں اور تو اور ہندوتوا کے جذبات ابھارنے کیلئے یہ لوگ سر یمد بھگوت گیتا بھی تقسیم کررہے ہیں۔
دراصل بی جے پی ایک طے شدہ حکمت عملی اور منصوبے کے تحت اپنی انتخابی مہم چلا رہی ہے کہ ادھر مودی ترقی کی باتیں کریں گے اور گاندھی خاندان کو برا بھلا کہیں گے اور ان کے چیلے ہندو ووٹ بینک کو محفوظ کرنے اور فضا کو مکدر کرنے کیلئے وقفے وقفے سے ہندوتوا ایجنڈا اٹھائیں گے۔
اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کریں گے، چنانچہ یہی ہو رہا ہے جس سے پارٹی کی پالیسی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ پارٹی کی سینئر لیڈر اوما بھارتی انتقامی سیاست کے تحت سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ وڈیرا کو جیل بھیجنے کی بات کرتی ہیں۔بہار کے ایم ایل اے اور فرقہ پرست لیڈر راج گری مودی مخالفین کو پاکستان بھیجنے کی دھمکی دے رہے ہیں، مختار عباس نقوی جو پارٹی سے وفاداری میں ہندوتاوادیوں سے زیادہ افادار ہیں۔
رام مندر نرمان کا ذکر چھیڑتے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم وجے ابھیان نفرت انگیز پمفلٹ اور پوسٹرز کے ذریعے ہندوؤں کو خبردار کررہی ہے کہ اگر انہوں نے صد فیصد ووٹ نہ دئیے تو ان کے وجود کو خطرہ لاحق ہو جائے گا ۔ وہ تاریخ کا حصہ بن جائے گا توگڑیا اکثریتی ہندو علاقوں سے مسلمانوں کو بھگانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ دوسری طرف راج ناتھ سنگھ ٹوپی پہنے اور مسلم علماء سے ملاقات میں پس و پیش کرتے ہیں نہ ہی اسے مسلمانوں کی خوشنودی سے تعبیر کرتے ہیں۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ بی جے پی کی کون سی کل سیدھی ہے۔
ہر فسطائی پارٹی کی طرح بی جے پی کے بھی دکھانے کے دانت کچھ اور کھانے کے کچھ اور ہیں۔ 2004ء کے الیکشن پر تبصرہ کرتے ہوئے آر ایس ایس نے جو کچھ کہا تھا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ بی جے پی نے کھانے والے دانت جو کہ اصلی ہیں انہیں چھپائے رکھا تھا، اس لیے الیکشن ہارگئی چنانچہ حالیہ انتخابات میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت رام مندر، یکساں سول کوڈ اور ہندوتوا کے نفاذ کی بات کی جارہی ہے اور تو اور مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کی دھمکیاں دینا بھی اسی مذموم سلسلے کی ایک کڑی ہے جبکہ غیر ملکی ہندوؤں کی بھارت میں داخلے کی راہ بھی ہموار کی جارہی ہے۔
نریندر مودی کو وزیراعظم بنانے کیلئے آر ایس ایس کے لیڈ رہندوستان بھر میں سرگرم ہوچکے ہیں۔ اور ہندوتوا پارلیمانی انتخابات کا ایک ایجنڈا بن گیا ہے۔ مسلمانوں کی دکانیں جلانا اور ان پر تھوکنے سے متعلق بیانات دینا، مودی مخالفین کو پاکستان بھیجنے کی دھمکی یہ غلطیاں نہیں ہیں بلکہ یہ اسی کھانے والے دانتوں کی ہلکی پھلکی منصوبہ بند نمائش ہے تاکہ فرقہ پرستی کا سانپ ہی جھولتا رہے اور سیکولرازم کی لاٹھی بھی ٹوٹنے نہ پائے۔

علاوہ ازیں یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ فرقہ پرست لیڈروں نے مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی نہ کی ہو بلکہ انتہا پسند پارٹیوں خصوصاََ بھارتیہ جنتا پارٹی، شیوسینا، بجرنگ دل، مہاراشٹر نونرمان سینا پارٹی سمیت دیگر بھگوا جماعتیں دن رات مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتی رہتی ہیں۔ مسلمانون کے نہ صرف مذہبی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرتی ہیں بلکہ مسلمانوں سے تمام حقوق چھیننے کی بات بھی کرتی رہتی ہیں۔
نفرت انگیز تقریر کرنے میں بی جے پی کے صف اول کے لیڈر ایل کے ایڈوانی بھی سرفہرست ہیں۔ انہوں نے مختلف یاتراؤں میں مسلمانوں کے خلاف جم کر زہریلا پروپیگنڈہ کیا اور رام جنم بھومی تحریک چلائی جس کے نتیجے میں بابری مسجد شہید ہوئی۔ اس موقع پر ایل کے ایڈوانی ہندو دہشت گردوں کو مسجد کی شہادت پر اکساتے رہے۔ 2009ء میں بی جے پی لیڈر روٴورون گاندھی نے بھی زیر آلود تقریر کی تھی جو انتخابات کے دوران ایک جلسہ عام میں کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ بی جے پی اور سنگھ پریوار سے وابستہ کئی درجن رہنما لیڈر مسلمانوں کے خلاف شر انگیزیاں پھیلاتے رہتے ہیں لیکن بھارتی قانون ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکا ہے یہاں تک کہ پولیس ورون گاندھی کی نفرت بھری ہوئی تقریر کا نمومہ بھی حاصل نہ کرکسی اور عدالت نے اسے مقدمے سے بری کردیا جبکہ عدالت نے بھی ورون گاندھی کو آواز کے نمونے کو پیش کرنے کا حکم نہیں دیا اور یہ یوپی حکومت کا کمال تھا کہ اس نے ورون کے خلاف عدالت عالیہ میں اپیل تک نہ کی۔
ستمبر 2002ء میں فرقہ پرست سبرامنیم سوامی نے ایک مضمون لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اسلامی دہشت گردی ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ سوامی نے مسلمانوں کو ووٹنگ کا حق نہ دینے کا مطالبہ بھی کیا ۔ سوامی نے اپنے مضمون میں مزید زہر پھونکتے ہوئے کہا کہ سخت گیر مسلمان ہندو اکثریت والے ہندوستان پر فتح کر اپنا ایجنڈا سمجھتے ہیں جسے پورا کیا جانا ابھی باقی ہے۔
حیرت تو یہ ہے کہ ایسے مضمون کو اخبار میں شائع کیا جاتا ہے اور ہندوستان کی کسی عدالت کسی ادارے نے سبرامنیم کے خلاف کارروائی کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ اگر کوئی مسلمان کسی ہندولیڈر کے خلاف کوئی اشتعال انگیز تقریر کرتا ہے تو اسے فوراََ مختلف دفعات کے تحت گرفتار کرلیا جاتا ہے جبکہ فرقہ پرست اور فسطائی پارٹی سے وابستہ کوئی لیڈر مسلمانوں کو یہاں سے باہر نکالنے کی دھمکی دے ان کے گھروں کو جلانے کی بات کرے اور مسلمانوں کو غدار کہے اسے سزا دینے میں بھارت نظام عدل تعصب برتتا ہے۔
کانگریس لیڈر عمران مسعود کی گرفتاری ا سکی واضح مثال ہے۔ عمران مسعود کو نریندر مودی کیخلاف صرف ایک لفظ کہنے پر جیل بھیج دیا گی اب وہ ضمانت پر ہیں۔ بی جے پی ممبر ہیرا لال نے جلسے میں سونیا گاندھی کے خلاف تقریر کی تو اس کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔ قبل ازیں مسلمان لیڈر اکبر الدین اویسی کو رواں سال 8جنوری کو نفرت انگیز تقریر کرنے کے جھوٹے الزام میں گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ حیرت تو یہ ہے کہ پولیس نے ان کو حراست میں لینے میں نہایت سرعت کا مظاہری کیا جو پولیس کی مسلم منافرت اور دشمنی کا کھلا ثبوت ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-07

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان