بند کریں
پیر فروری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بھارتی عام انتخابات 2014ء۔۔۔
بی جے پی کی مسلم دوستی بے نقاب
مسلم اکثریتی ریاست اتر پردیش میں کسی مسلمان کو انتخابی ٹکٹ نہیں دیا گیا مسلمان لیڈروں کی سادگی ہے کہ ان میں بھگواٹولے کی چالوں کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں پائی جاتی
رابعہ عظمت:
مسلمانوں کے سب سے بڑے قاتل نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی اپنی سیکولر شبیہ بنانے اور دنیا کی آ نکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے مسلم دوستی کا نعرہ لگا رہی ہے تا کہ اسے مسلمانو ں کے اکثریتی ووٹ حاصل ہو جائیں ۔ بی جے پی کے سربراہ راج ناتھ سنگھ کی معافی کو بھی اسی مذ موم سلسلے کی ایک کڑی کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔ جبکہ دوسری جانب بھگوا پارٹی کی مسلمانوں کے حوالی سے پالیسی میں زبان جمع خرچ کے علاوہ عملاََ کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔
اس کا واضح ثبوت پارٹی کی جانب سے امید واروں کو جاری کی جانے والی انتخابی ٹکٹوں سے ہو جاتا ہے۔ بی جے پی اب تک اپنے امید واروں کی پانچ فہرستیں جاری کر چکی ہے، ان میں بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کی 80 میں سے تقریباََ 70 نشستیں بھی شامل ہیں۔ لیکن فرقہ پرست جما عت کے مسلمانوں سے تعلقات مستحکم کرنے کے اعلان کے باوجود 70 امید واروں میں صرف تین مسلمان شامل ہیں۔
یعنی کہ اتر پردیش جہاں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی ہے نیز مسلم اکثریتی درجنوں پارلیمانی حلقے میں جہاں کوئی بھی مسلم امید وار باآسانی جیت سکتا ہے مگر اب تک کسی بھی مسلمان کو وہاں سے پارٹی امیدوار کھڑا نہیں کیا گیا ہے ، حتیٰ کہ پارٹی کے نائب صدر مختار عباس نقوی کو بھی ٹکٹ نہیں ملا۔ ہندو فرقہ پرست جماعت کا یہ عمل ان مسلمانوں کے لیے کسی تازیانہ عبرت سے کم نہیں ہے جو پارٹی کی جانب سے الیکشن لڑنے کا خوواب دیکھتے ہوئے اس میں شامل ہوئے تھے۔
اور جن دو مسلم امیدواروں کو ٹکٹ ملا ہے وہ بھی ایسی جگہ سے جہاں سے ان کی ہار یقینی ہے اور وہ ہے ریاست مغربی بنگال۔
یوبی کی کسی بھی مسلم اکثریتی نشست کیلئے کسی بھی مسلمان کو امید وار نہیں چنا گیا ۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق بی جے پی نے ریاست میں فرقہ وارانہ صف بندی کی اپنی حکمت عملی کے تحت کسی بھی مسلمان کو ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ، کیوں کہ وہ گزشتہ ایک ڈیڑ ھ سال سے اس حکمت عملی پر کام کر رہی تھی۔
ادھر مسلمانوں سے دوستی نبھاتے ہوئے مظفر نگر اور شاملی میں مسلمانوں کو خون بہانے والے ان کو بے گھر کرنے والے ارکان اسمبلی کو بھی پارلیمانی ٹکٹ جاری کرنا اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے ۔ بی جے پی کے مطابق مسلم اکثریتی حلقوں میں سے ایک سے زائد مسلم امیدواروں کے درمیان مقابلے کے نتیجہ میں مسلمانوں کے ووٹ تقسیم ہو جانے کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو ہی ہو گا۔
تاہم پارٹی کی انتخابی حکمت عملی میں اتر پردیش کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ کیونکہ مذکورہ ریاست ماضی میں اس کے اقتدار کا سر چشمہ رہی ہے اور وہ یہاں کم از کم 40 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ فرقہ وارانہ صف بندی کو اس کا حربہ بنایا گیا ہے۔
مختار عباس نقوی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ پارٹی کے لئے ان کے وفاداری بھی کام نہیں آئی ۔
وہ رامپور سے انتخاب لڑنے کے خواہشمند تھے جہاں سے وہ ایک مرتبہ پہلے بھی کامیابی حاصل کر چکے تھے۔ لیکن اب یہاں سے ایک سکھ امیدوار ڈاکٹر نائپال سنگھ کا بطور امیدوار انتخاب کیا گیا ہے۔ اس مسلم اکثریتی نشست پر ایک اور مسلمان لیڈر ایم جے خان بھی دعویدار تھے۔ لیکن انہیں بھی نظر انداز کر دیا گیا ۔ ایک بھارتی نظریہ نگار کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر پارٹی کی خدمت پوری فرض شناسی سے انجام دینے کے باوجود نقوی کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو بی جے پی میں نئے شامل ہونے والوں کی کیا حیثیت ہے ، اس کا اندازہ لگانے کی ضرورت نہیں۔
کیونکہ اس زعفرانی نظریعے کی جماعت کے منصوبوں میں مسلم اقلیت کے لئے کوئی جگہ موجود نہیں ، سوائے اس کے کہ دنیا کو دکھانے کے لئے چند مسلمان چہروں کو پیش کر کے سیکولر ہونے کا دعوی کیا جائے۔ اس طرح ایک اور بی جے پی کہ پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے والے نوجوان مولانا بھی ہیں جنہوں نے اپنی جماعت کو تین سال قبل ٹکٹ کے لالچ میں بی جے پی ضم کر دیا تھا۔
وہ اپنی ٹکٹ کو پکا کرنے کے لئے بی جے پی قائدین کو مہنگے مہنگے تحائف بھی دیتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اس نام نہاد مسلمان لیڈر نے نریندر مودی کے ساتھ اپنی تصویر کے بڑے بڑے پوسٹرز اور ہورڈنگ بورڈ بھی اپنے پسندیدہ حلقہ بجنور میں آویزاں کر کے یہاں کے مسلمانوں کے غم و غصہ کو دعوت دی تھی۔ وہ ایک عرصے سے اس حلقے میں اپنی دھاک بٹھانے کے لئے اس امید پر کام کر رہے تھے کہ انہیں ہی حلقے سے امیدوار چنا جائے گا لیکن پارٹی قیادت نے ان کی آرزووں پر پانی ہی پھر دیا۔
یہاں سے راجندر سنگھ نامی ایک وکیل کو نامزد کیا گیا ہے۔ غالباََ اب مسلمان لیڈر کو بخوبی پتہ چل گیا ہو گا کہ بی جے پی میں مسلمان کی کیا حیثیت ہے۔
ایک اور نام نہاد مسلمان سیاسی لیڈر ایم جے خان کے ساتھ بھی ہندو انتہا پسند جماعت میں یہی سلوک روا رکھا گیا ۔ وہ فڈریشن آف انڈین فار مرز آرگنائزیشن کے نیشنل کنوینر ہیں۔ انہوں نے بڑے طمطراق کے ساتھ گزشتہ سال بی جے پی صدر راج ناتھ سنگھ کی موجودگی میں پارٹی رکنیت حاصل کی تھی ۔
بی جے پی میں شمولیت کے ساتھ ہی انہوں نے مودی کی شان میں قصدیدے پڑھنے شروع کر دیے تھے۔ انہون نے ایک مضمون میں لکھا کہ راج ناتھ سنگھ کی مسلمانوں سے معافی نے سیکولر جماعتوں میں کھلبلی پیدا کردی ہے۔ وہ مودی کے دفاع میں اس حد تک چلے گئے کہ مسلمان آج یہ بات سمجھ گئے ہیں کہ دیگر لیڈر صرف زبانی دعوے کرتے ہیں اور مودی کام کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گجرات ہندوستان کی واحد ریاست ہے جہاں پر پولیس کے محکمے میں مسلمانوں کا تناسب ان کی آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ ہے۔
کیا کانگریس کے زیر حکومت کوئی ریاست اس نوعیت کی مسلمانوں کو نمائندگی دینے کا دعویٰ کرسکتی ہے۔ بہر حال اب بی جے پی کی جانب سے انہیں وقعت نہ ملنے کے باعث یہ احساس ہوگا کہ اس دہشت گرد مسلم دشمن پارٹی میں مسلمانوں کی کیا اوقات ہے۔ ایک او ر مسلمان شاہ نواز حسین کو بڑی مشکل سے پارٹی کی جانب سے ٹکٹ جاری کیا گیا۔ تاہم بی جی پے نے مسلم دوستی کا کھیل کھیلاتھا۔
اب اس کا اہتمام ہو گیا ہے اور مسلم پریم بے نکاب ہوگیا ہے۔اس کے باوجود بگھوا لیڈر مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب آر ایس ایس کی حکمت عملی کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ مسلمانوں میں کنفیوژن کس طرح پیدا کی جائے کہ وہ آخری وقت تک ووٹ ڈالنے کا فیصلہ نہ کرسکے اور مسلمان اپنی اکثریتی نشستوں سے ہار جائیں جبکہ اپنے مضموم منصوبے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اہم مسلم قیادتوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے اور اس کیلئے چاہے مسلمانوں کی ٹوپی پہننے سے ہی انکار کردیا جائے۔
ان ملاقاتوں کو بھارتی متعصب میڈیا نے خوب بڑھ چڑھ کر پیش کیا۔ اس پر کسی نے کہا کہ اگر مودی مسلمانوں نے معافی مانگ لے تو غور کیا جاسکتاہے کہ کسی نے یہ کہا کہ مسلمانوں کو مودی سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اور یہ پرپیگنڈہ بھی کیا جارہا ہے کہ گجرات کے مسلمان زیادہ سکون سے رہ رہے ہیں۔ اور یہ کہ مودی کی گڈ گورنینس زیادہ بہتر ہے۔ یہ مسلم لیڈروں کی مجبوری بھی ہوسکتی ہے اور لاعلمی بھی کہ ان میں سنگھ پریوار کی جانوں کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں پائی جاتی۔

آج جتنے دانشور ، صنعت کار یا کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اگر وہ نریندر مودی کو وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں تو ان کے دل کے کسی نہ کسی کونے میں مسلم دشمنی چھپی ہوتی ہے مگر ان میں اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ اس کا برملہ اظہار کرسکیں ۔ اس لیے تو وہ بھی گجرات کی ترقی کی بات کرتے ہیں اور کبھی مودی کو ایک معتبر لیڈر بتاتے ہیں۔ مودی نے کارپوریٹ طبقے کو غریب کسانوں کی زمینیں کوڑیوں کے مول بیچ کر ان کی حمایت حاصل کر لی ہے اس لیے وہ سب مودی کے وفادار بنے ہوئے ہیں۔

بھاری انگریزی جریدے ”ٹائمز“ نے جورپورٹ شائع کی ہے اسے پڑھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مودی کا زہر ہندوستانی سماج میں کس حد تک سرایت کرچکا ہے اور اس کا انجام کیا ہو گا۔ اخبار کے مطابق آلہ آباد برہمن سماج کے صدر پنڈت گرجا شنکر کا کہنا ہے کہ بے شک برہمنوں کی جو قدردانی واجپائی کے دور میں تھی اب نہیں رہ گئی ہے۔اور نریندر مودی نے پسماندہ طبقہ کا کارڈ کھیلنا شروع کردیا ہے۔
پھر بھی ہماری پہلی پسند مودی ہی ہیں۔ کیونکہ وہی ہندوستان کے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا سکتا ہے۔ اور فی الوقت ہمارا بنیادی مقصد ہے ۔ ایک اور خبر مظفر نگر کے جاٹ اکثریتی گاؤں کی ہے وہاں 700 مسلمان اور تقریباََ اتنے ہی دلت آباد ہیں۔ یہاں ایک ہندو وکیل کا کہنا کہ " ہم لوگوں یعنی جاٹوں نے مودی کی ہمایت کا فیصلہ کیا ہے کہ وہی مسلمانوں کو قابو میں رکھ سکتا ہی"۔

یہ درست ہے کہ الیکشن کے نزدیک آتے ہی مودی نے مسلم دوستی کا نعرہ لگانا شروع کر دیا اور انتہا پسند ہندو کا امیج بدلنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔ مگر یہ سب ایک سیاسی شعبدہ بازی تھی جس کا مقصد مسلمانوں کو خوش کرنا نہیں بلکہ اعتدال پسند ہندو اکثریت کو خوش کرنا تھا۔ کیونکہ مودی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ اعتدال پسند ہندو ہی ہیں۔ بی جے پی صدر راج ناتھ سنگھ کا مسلمانوں سے معافی مانگنا اور بی جے پی کے دیگر لیڈروں کے منہ سے مسلم دوستی کی پھوواریں پھوٹنا بھی سنگھ پریوار کی انتخابی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔
اگر ایک جانب بی جے پی اعتدال پسندی کی باتیں کرتی ہے تو دوسری طرف ویشو ہندو پریشد، بجرنگ دل جیسی دہشت گرد تنظیمیں بھی رام مند کے نام پر ہندو نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کی پر زور مہم چلا رہی ہیں۔ درگاہ واہنی نامی خواتین کی دہشت گر تنظیم عورتوں کے درمیان کام کر کے ان کے مذہبی جذبات اور مسلمانوں سے نفرت کی آگ بھڑکانے میں سرگرم دکھائی دیتی ہے۔
جس کا خوفناک انجام مظفر نگر مسلم کش فسادات میں دیکھنے کو ملتا ہے۔
پورا ہندوستان اس وقت فرقہ پرستی کے نرغے میں ہے۔ اور فرقہ پرست ہر جگہ اپنی مطلب برادری کے لیے لوگ سبھا کی ہر نشست پر سیکولر بالخصوص مسلم ووٹوں کی حیثیت ختم کرانے کیلئے تمام ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ ان ہتھکنڈوں میں خالص مسلم ووٹوں سے جیتی جانے والی نشستوں پر ابن الوقتوں کو امیدوار بنا کر مسلمانوں کے ووٹوں کی قدروقیمت کو کم کرنے کے کھیل کاآغاز ہو چکا ہے۔
مسلم ووٹوں کی قدروقیمت باقی نہ رہے اس کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ اور خاص طور پر بھارتی ریاست بہار میں بھگوا تنظیم کا مسلم کارڈ کا کھیل عروج پر ہے۔ اور وہاں پر مضبوط مسلمان امیدوار کو ہرانے کے لئے اپنے عزیز و اقارب کی نامزدگی شروع کر دی ہے۔ اور ان حلقوں میں وہ امیدوار کھڑے کئے ہیں جنہوں نے کبھی مسلم مسائل پر توجہ نہیں دی۔ جو گودھرا ٹرین کے وقت وزیر ریلوے تھے اور گجرات فسادات میں بی جے پی کی کابینہ میں شامل رہے اور ایک لفظ بھی گجرات کے مسلمانوں کے حق میں بولنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔
انہیں مسلمان عورتوں کی چیخ و پکار سنائی نہیں دی تھی جن کی عصمت و آبرو لوٹ لی گئی تھی۔ ان کے پیٹ چاک کر کے ان کے بچوں کو نکال کر نیزوں پر اٹھایا ۔ بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کو زندہ جلایا۔
16ویں لوک سبھا الیکشن 7 اپریل سے 19 مئی تک 9 مرحلوں میں مکمل ہو جائیں گے مگر ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی حالت بہت بری ہے۔ حالانکہ کسی تجزیہ کرنے والے کو بھی یہ اعتراض نہیں ہو گا کہ انتخاب کے عمل میں مسلمان جس جماعت کی طرف رخ کرتے ہیں وہ جماعت اپنے سر پر حکمرانی کا تاج رکھنے کے قابل ہو جاتی ہے۔
لیکن لوک سبھا انتخابات کے اعدادوشمار کو دیکھیں تو 543 پارلیمانی نشستوں میں 16 ریاستوں میں 150 حلقے ایسے ہیں جہاں مسلمان کوشش کریں تو ان کی سیاسی حالت میں سدھار آسکتا ہے، یا دوسری جماعتوں سے اتحاد کر کے مسلمان حکومت میں اپنی حصہ داری بڑھا سکتے ہیں۔ اتر پردیش کی 80 نشستوں میں سے 45 نشستیں ایسی ہیں جہاں مسلمان ووٹ نتائج کو تبدیل کر سکتا ہے۔
اسی طرح صوبہ بہار میں 17 ، بنگال اور مہارشٹر میں 14, 14 کیرالہ اور کرناٹک میں دس، دس، آندھراپردیش میں جو اب دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے وہاں 7، آسام میں بھی 7، جھاڑ کھنڈ 6 ، جموں اور گجرات میں 5,5 اتراکھنڈ، دہلی اور راجھستان ، مدھیہ پردیش ، ہریانہ میں 2,2 حلقوں میں مسلمان تقسیم ہو کر بٹ کر ووٹ ڈالتے ہیں۔ اتنی طاقت رکھنے کے باوجود خود آپس میں لڑتے ہیں اور تقسیم ہو کر بے وقعت ہو کر رہ جاتے ہیں۔
بھارتی پارلیمنٹ جہاں مسلمانوں کی تعداد 70 سے زیادہ ہونی چاہئے تھی، 2004 میں صرف34جبکہ 2009کے الیکشن میں گھٹ کر صرف 30 رہ گئی۔ 543 نشستوں میں سے 84 لوک سبھا کی سیٹیں شیڈول کاسٹ کے لئے مخصوص ہیں اور مسلمانوں کو الیکشن میں بہتر انتخابی حکمت عملی دکھانے کی ضرورت ہے وگرنہ وہ یونہی روتے چلاتے رہ جائیں گے۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈر گجریوال نے وعدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کو ان کی آبادی سے زیادہ ٹکٹیں دی جائیں گی مگر اب تک جن امیدواروں کے نام سامنے آئے ہیں ان میں مسلم امیدوار بہت کم ہیں۔ دہلی کی سات نشستوں میں سے کسی بھی نشست پر اسے کوئی مسلمان امیدوار نہیں ملا۔ پورے بھارت میں اس سینکڑوں امیدوار تارے ہیں مگر کوئی بھی ڈھنگ کا مسلمان امیدوار اسے نہیں ملا۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-10

(0) ووٹ وصول ہوئے