بند کریں
جمعہ جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہندوفرقہ پرستوں کی بڑھتی ہوئی فتنہ انگیزیاں
تاج محل کو قدیم مندر”تیجو مہالیہ “ قرار دینے کی سازش مغل بادشاہ شاہ جہاں نے تاج محل کی اراضی ہندوراجہ جے سنگھ سے لی، بی سے پی لیڈر کی ہرزہ سرائی
رابعہ عظمت :
مسلمانوں کی عظیم تاریخی یادرگار بابری مسجد کو شہید کرنے کے بعد ہندوفرقہ پرستوں کی نظر میں اب تاج محل کھٹکنے لگا ہے۔ انہوں نے مسلم تاریخی شاہکار تاج محل کو قدیم مند ثابت کرنے کی مذموم تحریک شروع کر دی ہے۔ اتر پردیش بی جے پی کے صدر لکشمی کانت واجپائی نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ تاج محل کی اراضی کو مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے ہندو راجہ جے سنگھ سے خریدی تھی اور یہ تاج محل نہیں قدیم مندر ” تیجومہالیہ “ ہے۔
قبل ازیں ہندو انتہا پسند موٴرخ پروفیسر بلراج مدھوک اور کے نریندر بھی اس بے مثال عمار ت کو مندر قرار دے چکے ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ عمارت راج پوت راجہ پر ماردیو کا محل یا شیو منددتھا جس پر مغل بادشاہ نے قبضہ کر کے اپنی ملکہ کے مقبرہ میں تبدیل کر دیا۔ 2000 میں کسی حواس باختہ فرقہ پرست نے ’ مفادعامہ“ کی ایک پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کر کے عدالت عالیہ سے کہا تھا کہ تاج محل کس نے تعمیر کرایا۔
مغل شہنشاہ شاہ جہاں یا راجہ پرمار نے ؟ اس بارے میں عدالت فیصلہ کرے۔ لیکن عدالت نے اسے قابل اعتناہی نہیں سمجھا۔ مذکورہ پٹیشن کی خبر پر برطانیہ کے معروف اخبار ”دی ٹائمز‘ نے اپنے تبصرے میں طنزاََ کہا تھا کہ ”تاج محل “ ہی کیا دنیا کے بیشتر عجوبہ روزگارعمارتیں ہندوستان کے بادشاہوں کے ذوق تعمیر کا نتیجہ ہے اور تو اور امریکہ کے بھی بے چارے کولمبس نے نہیں ہندوستانیوں ن دریافت کیاہے“۔

افسو س ایک اور شوشہ سماج وادی پارٹی کے مسلم وزیر اوقاف نے چھوڑا کہ تاج محل کی حیثیت قبرستان سے زیادہ نہیں اور اسے اتر پردیش سنی وقف بورڈ کے حوالے کر دیا جائے۔ ا س کی تائیداتر پردیش سنی وقت بورڈ نے بھی اپنے ایک فیصلہ میں یہ کہہ کر کردی کی تاج محل مسلم وقف املاک ہے۔
جبکہ ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے تاج محل کو شیو مندر ہی قرار نہیں دیا گیا۔
سنگھ پریوار کی فہرست میں لال قلعہ ، جامع مسجد دہلی، مسجد قوت الاسلام، قطب مینار، خواجہ معین الدین اجمیری کی درگاہ سمیت ہزاروں مساجد اور مقابر موجودہیں۔ جنہیں وہ ہندو تواکے رنگ میں ڈھالنا چاہتا ہے جس طرح سنگ پر یوار کا علم جغرافیہ انوکھا ہے۔ اسی طرح اس کا علم تاریخ بھی نرالا ہے اور ان دنوں یہ ہندوستان کی تاریخ تو اسی انداز میں لکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں یہ سنگھی تاریخ دان ۔

تاریخ دان بی جے پی اترپردیش سربراہ نے مزید کہا کہ اس عمارت کو وقف بورڈ کے حوالے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اب محکمہ آثار قدیمہ کی ملکیت ہے جسے برطانوی حکومت نے 1920 میں سونپا تھا۔ ہندو فرقہ پرست لیڈر نے تاج محل کے بارے میں زہراگلتے ہوئے کہا کہ راجہ جے سنگھ سے اراضی خریدنے کے بیان کو سچ ثابت کرنے کے لئے ان کے پاس اس دور کی دستاویزات بھی موجود ہیں۔

ملت بیداری مہم کمیٹی کے سیکرٹری نے بے جے پی لیڈر کے بیانکو فرقہ پرستی ار شر انگیی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاج محل پر ہر کسی کے کسی بھی قسم کے دعوے کو کسی قیمت پر بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تاج مل صرف اور صرف مسلم عہد رفتہ کی علامت ہے اور عظیم الشان وراثت ہے۔ جس سے بھارت سرکار کو ایک بڑٰ آمدی حاصل ہوتی ہے۔
سیکرٹری نے مزید کہا کہ ایک طرف وزیراعظم نریندر مودی ہندوستان کو امن و آشتی کا گہوارہ بنا کر سب کا ساتھ سب کا وکاس کی بات کرتے ہیں اور دوسری جانب ان کی پارٹی کے ذذمہ داران شرپسندی پر مبنی سیاست کو فروغ دے کر فرقہ واریت کی فجاء پیدا کرنے کی گھناؤنی سازش تیار کررہے ہیں۔جن پر قدغن لگانا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے لکشمی کانت سے کہا کہ مرکز میں ان کی پارٹی کے برسراقتدار ہونے کا مطلب یہی نہیں کہ یہاں قانون وآئین نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔
حبیسم محمد نے کہا کہ اگر وزیر اعظم مودی اپنے بیانات اور اعلانات کے مطابق ہی کام کرنا چاہتے ہیں تو انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ان فرقہ پرست لیڈروں کو لگام کسنا ہو گی جو شرانگیزی کو فروغ دے کر خوف و دہشت کا ماحول قائم کر رہے ہیں۔
درحقیقت ہندو دہشتگرد جماعت آرایس ایس کی گود میں پروان چڑھنے والی انتہا پسند جماعت بی جے پی نے اپنا اصل رنگ دکھانا شروع کر دیا ہے۔
ایک کے بعد ایک متنازع اقدامات اور مطالبات نے بھگوا پارٹی کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے آرایس ایس ، ویشووہندو پریشد اور بجرنگ دل جیسی دہشت گرد تنظیمیں پوری شدت کے ساتھ حرکت میں آگئی ہیں ۔ مسلم دشمنی میں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے نکل جانا چاہتاہے۔ کچھ دنوں پہلے بی جے پی کے ایک وزیر نے حکومتی جماعت کے علاوہ دوسری جماعتوں کا ساتھ دینے والوں کو ناجائز اولاد قرار دیا۔
ایک رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ جوہری دھماکہ بھارت میں ہندوھووٴں نے کئی کروڑ سال پہلے کر دیا تھا۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ہندووٴں کی مقدس کتاب بھگوت گیتا کو قومی کتاب قرار دینے کامطالبہ کر دیا۔ اس سے پہلے بھارتی سپریم کورٹ کے ایک جج نے کہا تھا کہ اگر ان کے اختیار میں ہوتا و وہ گیتا کو تعلیمی نصاب میں لازمی کر دیتے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیرتعلیم نے سنسکرت کو سکولوں میں لازمی قرار دیا ہے۔
اسی دوران مغربی بنگال میں200 غریب مسلمانوں کا زبردستی مذہب تبدیل کرواتے ہوئے انہیں ہندو بنا دیا۔ بلکہ پانچ ہزار عیسائیوں کو بھی ہندو بنانے کے پروگرام کا اعلان کیا۔ ہندو تنظیموں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی شناخت پر ضرب لگاتے ہوئے کہا کہ یہ ہندووٴں کی زمین پر قائم ہوئی ہے اور اس پر دوبارہ قبضہ کر لیا جائے گا۔ اب یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے سنگھ پریوارنے ہندو راشٹر بنانے کی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔
ہندوراشٹر بنانے کے منصوبے پربڑی چالاکی اور عیاری سے کام ہو رہا ہے اور مختلف اقدامات آہستہ آہستہ کیے جا رہے ہیں۔ سب ہی جانتے ہیں کہ بی جے پی اپنا کوئی مطمع نظر نہیں ہے۔ نہ ہی اس کے اپنے پروگرام اور منشور ہیں۔بی جے پی کے تمام قائدین خاص طور پر پالیسی سازوں کا آر ایس ایس سے گہرا تعلق ہے۔ اقتدار میں آنے سے قبل ہی سنگھ پریوار نے اپنا کام شروع کر دیا تھا۔
فرقہ پرست لیڈر گری راج سنگھ نے انتخابی مہم میں کہا تھا کہ مودی کو ووٹ نہ دینے والے پاکستان چلے جائیں یہ ابتداء تھی۔ انتخابات کے بعد کامیابی کا جشن ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ مودی کابینہ کے ورزاء نے زہر اگلنا شروع کردیا۔کسی نے کہا کہ دستورکی دفعہ370 ختم ہو جانا چاہیے۔ کسی وزیر کو مسلم پرسنل لاء کے بارے میں اپنے زہریلے خیالات کے اظہار کا کم ہوا۔
تاریخ میں تبدیلی کی جارہی ہے۔نصاب کو بھگوارنگ میں رنگا جا رہا ہے۔ مسلم عہد کا ذکر ہی نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ آر ایس ایس کے ایجنڈے میں یہ شامل ہے کہ مسلمانون کے خلاف نفرت کا بازار گرم رہے ۔ اس لیے یو پی کے ضمنی الیکشن کے دوران اویتا ناتھ نے ”لوجہاد “ اور دینی مدارس میں دہشت گرد ی کے الزامات لگاکر مسلمانوں کو بدنام کیاگیا۔سب کے وکاس کانعرہ لگانے والے وزیراعظم مودی سادھوی ترنجن کی بے ہودگی سے لیکرواجپائی کی تاج محل کے بارے میں واویلا مچانے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جیسا کہ 24 کروڑ مسلمانوں سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔

سنگھ پریوار کے نظریہ ساز گوالکرنے تو عرصہ قبل اپنی کتاب Brunch Of Thoughts میں لکھ چکے ہیں کہ غیر ہندووٴں کو درجہ دوم کو شہری بنانا چاہیے۔ شاید اسی لئے مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد آر ایس ایس کے صدر موہن بھاگوت نے ہرفرد کو ہندو قرار دینے کی کوشش کی۔ مطلب یہ ہے کہ ہندوراشٹر میں رہنے والا ہر فرد ہندو ہو گا۔ اس کا مذہب بھی یہی ہوگا مسلمانوں کو مساجد ، مقابر بھی ہندووٴں کی ملکیت ہیں۔
مسلمانوں کا ان پر کوئی تصرف نہیں۔ اہم ترین حساس عہدوں پر ہندوتووادیوں کو چن چن کر تعینات کیا جا رہا ہے مظلوم وبے قصور مسلمانوں کو دہشت گرد بتا کر ان کی غیر قانونی گرفتاریوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
فی الوقت ہندوستان میں مسلم دور حکومت کو متنازعہ بنا دیا گیا ہے مختلف نظریات کے حامی مورخین اس کو اپنے انداز میں دیکھتے ہیں اور اس کی تشریخ کر رہے ہیں جو مورخ قومی نقطہ نظر سے اس دور کو دیکھتے ہیں وہ اسے ہندوستان کی تاریخ کا ایک قصہ ضرور قرار دیتے ہیں۔
مگر فرقہ وارانہ ذہینت کے مورخوں کے لئے یہ دور ایک غیر ملکی حکومت تھی جس نے اقتدار میں آنے کے بعد ہندوستانی ثقافت کو بدل ڈالا بلکہ ہندووں کی تاریخ کا تسلسل بھی توڑا۔ تاریخ کے اس متعصب نقطہ نظر کا اطلاق مسلم عہد کی تاریخی مساجد ومقابر پر بھی ہو رہا ہے کہ جو اس عہد میں تعمیر ہوئی تھی۔ ان میں تاج محل بھی شامل ہے ۔ تاہم فرقہ وارانہ ذہنیت کے حام اس سلسلہ میں دورجحانات رکھتے ہیں ایک تو یہ ہے کہ ایسی عمارتوں کا بالکل مہندم کر کے بالکل مٹا دیا جائے۔
دوسرا طریقہ کار یہ ہے کہ ان عمارتوں کو ہندو بنا دیا جائے چاہے اس سلسلہ میں تاریخ کو مسخ ہی کیو ں نہ کرنا پڑے ۔ تاج محل بھی ان عمارتوں میں آتا ہے جسے مسمارنہ کرنا تو بھارت حکومت کی مجبوری ہے مگر اسے فرقہ پرستی اور تنگ نظری کا نشانہ بنا کر اس کے کردرکو بدلنے کی مذموم کوشش ضرور کی جا رہی ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ اگرہ میں دریا جمنا کے کنارے نفیس سنگ مرمر سے تعمیر یہ محبت کی عظیم علامت تو پانچویں مغل حکمران شاہ جہاں نے تعمیر کروایا تھا۔
فارسی زبان میں ایسی تاریخوں کی کمی نہیں جس میں اس عمارت کی تفصیلی کیفیات اور بنانے والوں کے نام تک درج ہی اور سب سے بڑھ کر عمارت کی ساخت اعلان کر رہی ہے کہ میں”مغل آرٹ وصنعت کا ایک نادر نمونہ ہوں۔“ اس عمارت کانقشہ کم وبیش وہی ہے جو ہمایوں اور خانا خاناں کے مقبروں کا ہے۔مینار ہمایوں کے مقبرہ میں موجود نہیں لیکن شہنشاہ اکبر کے مقبرے میں جو اسکندریہ میں ہے اس سے مشابہت رکھتے ہیں۔
تبدیلی صرف اتنی ہے کہ میناروں کو دروازے سے ہٹا کر چبوترے پر نصب کیا گیا ہے۔ ہمایوں کے مقبرہ میں گنبد کی ہئیت ذرا بھاری ہے۔تاج محل میں اسی کو شلغی صورت دیکر مزید حسن عطا کیا گیا ہے اس طرح پچکاری کی صنعت جس نے شہنشاہ اکبر کے دور میں فروغ پایا۔ جہانگیر کے عہد میں اس کی ترقی ہوئی اورشاہ جہاں کے زمانہ تک درجہ کمال پر پہنچ گئی ۔ تاج محل میں اس کا نہایت مہارت کے ساتھ استعمال ہوا اور یہی ایک ثبوت تاج محل کو مغلیہ عمارت قرار دینے کیلئے کافی ہے۔

بدقسمتی تویہ ہے کہ عالمی شہرت کی حامل خوبصورت عمارت تاج محل کو ایک طرف ہندو انتہا پسند وں سے خطرہ ہے تو دوسری جانب اسے ماحولیاتی آلودگی نے گھیر لیا ہے اور اس کے بچنے کے آثار بھی معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ تاز ترین اطلاعات کے مطابق اس کا سفید سنگ مرمر بھورے رنگ میں بدلتا جا رہاہے اور اس کا حسن ماند پرتا جا رہاہے ۔ امریکی پروفیسر مائیک برجن نے جب مزدوروں کو تاج محل کے گنبدوں پر چکنی مٹی کی تہہ لگاتے دیکھاتو بہت حیران ہوئے ۔
اور معلوم کیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ انہیں بتایاگیا کہ سفید سنگ مرمر کا رنگ خراب ہو رہا ہے جسے بچانے کے لئے کام ہو رہا ہے۔ پروفیسر برجن نے اس مسئلے کے متعلق جاننے کے لیے ایک تحقیقی کی جس میں انکشاف ہواکہ تاج محل کے اردگرد کے علاقے میں آلودگی سے پیدا ہونے والی گیسوں کے ذرات سفیدسنگ مرمر کے اپور چیک رہے ہیں اس کی سطح پرکاربن اور مٹی کے ذرات جمع ہو رہے ہیں۔
جس کی وجہ سے عمارت کا رنگ تیز ی سے بدلتا جا رہا ہے۔ خصوصاََ براوٴن کاربن الٹراوائلٹ روشنی کو جذب کر رہا ہے ۔ جس کی وجہ سے عمارت کا رنگ سفید کی بجائے بھورا اور مٹیالا نظر آرہا ہے۔ اور یہ تین انچ یا 20 ملی میٹر زمین میں دھنس گئی ہے ۔ 1998 میں وردراجن کمیٹی اس خطرہ کا جائزہ لینے کے لئے بنائی گئی تھی۔ جس کے مشورہ پر آگرہ کی 200 فیکٹریوں کو یہاں سے مستقل کر دیا گیا تھا۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق یونیسکو، تاج محل کی عالمی سطح کی یادگار عمارتوں کی فہرست سے خارج کرنے پر غور کر رہا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ عالمی شہرت یافتہ اس یادگار کی صحیح طور پر دیکھ بھال نہیں کی جا رہی اور وہ اس سلسلے میں بھارتی حکومت کے اقدامات سے مطمئن نہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-13

(0) ووٹ وصول ہوئے