بند کریں
بدھ جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہر چوتھا مسلمان جیل میں بند
بھارت میں مسلمان آبادی کے تناسب سے زیادہ غیر قانونی طور پر قید ہیں ایک مسلمان 20سال جیل میں رہتا ہے اس کے بعد عدالت اسے بے گناہ قرار دے دیتے ہے
رابعہ عظمت:
بھارت میں مسلمان کل آبادی کا 14.2فیصد ہیں۔ 2011ء کی مردم شماری کے مطابق تقریباََ 24کروڑ مسلمان ہندوستان میں آباد ہیں۔ افسوس سب سے بڑی اقلیت ہونے کے باوجود تعلیمی سماجی سیاسی و معاشی لحاظ سے دلتوں سے بھی بدتر ہیں۔ مسلمانوں کی پسماندگی کی بڑی وجہ بھارتی حکومتوں سمیت دیگر سرکاری اداروں کا وہ متعصبانہ رویہ ہے جو گزشتہ 67سالوں سے مسلم طبقے سے روا رکھا گیا ہے۔
اسی مسلم دشمنی اور تعصب کی بنیاد پر آج بھارتی جیلوں میں بند قیدیوں میں مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ 14فیصد آبادی کے تناسب سے 22فیصد مسلمان غیر قانونی طور پر سلاخوں کے پیچھے ہیں جہاں انہیں انصاف ملنے میں برس ہا برس لگ جاتے ہیں۔ ایک اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں بڑی تعداد میں مسلم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کے تحت زیر حراست ہیں۔
ملاحظہ کیجئے کہ ایک مسلمان 20سال جیل میں رہتا ہے اس کے بعد عدالت اسے بے گناہ قرار دے دیتی ہے۔ کسی کا کیریئر ڈوب جاتا ہے کسی کا خاندان بکھر جاتا ہے ان کے خواب چکنا چور ہوجاتے ہیں اور جب وہ گھر واپس لوٹتے ہیں تو سوائے مایوسی ، اندھیروں کے سوا انہیں کچھ نہیں ملتا۔
پرانی دہلی کے محمد عامر کی کہانی بھی اسی طرح ہے۔ وہ پائلٹ بننا چاہتے تھے۔
مگر ان کے خوابوں کی پرواز اس وقت زمین پر آگئی جب انہیں چودہ سال کی عمر میں گرفتار کرلیا گیا تھا اور انہیں 14سال تک ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنا پڑی۔ عام وہ شام آج بھی نہیں بھولے ہیں جب وہ اپنی والدہ کیلئے دوائی لینے گھر سے نکلے تھے ان کا کہنا ہے کہ اسی دوران پولیس نے انہیں راستے سے ہی حراست میں لے لیا۔ بعد میں ان پر بم دھماکے کرنے ، دہشت گردی کی سازش رچانے اور غداری جیسے سنگین الزامات عائد کردئیے گئے۔
18سال کی عمر میں عامر پر مقدمات قائم کئے گئے۔ ان کی قانونی جنگ 1998ء سے 2012ء تک چلی اور آخر کار فروری 2012ء میں عدالت نے انہیں بے گناہ قرار دیکر رہا کردیا۔ جیل میں عامر کے 14 سال ہی نہیں گزرے زندگی کا ایک قیمتی حصہ جیل کی کال کوٹھڑی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ جب وہ جیل سے باہر آئے تو ان کے والد کا انتقال ہوچکا تھا۔ صدمہ میں ڈوبی ان کی والدہ کچھ بول نہیں سکتیں ۔
عامر کا بھارتی حکمرانوں سے سوال ہے کہ بے قصور ہونے کے باوجود جیل میں کاٹے گئے سالوں کی تلافی کون کرے گا۔ وہ اپنی زندگی کو نئے سرے سے شروع کرنا چاہتے ہیں مگر اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ عامر کے مطابق وہ تمام مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ لیڈروں سے بھی مل چکے ہیں لیکن کسی سے بھی انہیں یقین دہانیوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے تحت بھارت کے کل قیدیوں میں 28.5فیصد اقلیتی قیدی جیلوں میں بند ہیں 22فیصد مسلمان جیلوں میں بند ہیں۔
سکھ اقلیتی طبقے کا تناسب 4فیصد اور عیسائی 4فیصد ہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ 6فیصد مسلمان، 1فیصد سکھ اور 1.2فیصد عیسائی قیدیوں پر یہ الزام طے ہو پایا ہے ۔ باقی 14فیصد مسلمان 2فیصد سکھ اور 3فیصد عیسائی انڈر ٹرئل ہیں۔ بے بناہوں کی رہائی کیلئے بنائی تنظیم رہائی منچ کے بانی اور لکھنو کے ایڈووکیٹ شعیب اس وقت یوپی عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کررہے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ ان کے 6مقدمات میں سے 4نوجوانوں کو رہائی مل گئی لیکن ان کی زندگی کے اہم 7سال جیل میں ہی گزر گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خالد مجاہد اور حکیم طارق کے بھی وہی وکیل ہیں۔ اس معاملے میں اترپردیش حکومت نے مینشن کمیشن بھی تشکیل دیا تھا کمیشن نے دونوں نوجوانوں کو بے بناہ قرار دیدیا تھا۔ واضح رہے کہ خالد مجاہد ی دوران حراست پولیس تشدد سے موت واقع ہوچکی ہے۔
حکیم طارق ایک دوسرے کیس میں قید ہے۔
انسانی حقوق کی کارکن اور کتاب ”کافکا لینڈ“ کی مصنفہ منیشا سیٹھی کہتی ہیں کہ بھارت کا انصاف کا نظام غریبوں و اقلیتوں کے نہیں ان کے خلاف ہے۔ پولیس تفتیشی ایجنسیاں بھی غیر جانبدار نہیں ہیں۔ آپ دیکھیں کہ ایک مسلمان بیس سال جیل میں رہتا ہے اس کے بعد عدالت اسے بے گناہ قرار دے دیتی ہے۔
ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس کے اخلاق احمد کا کہنا ہے کہ جیل ہی ایسی جگہ ے جہان اقلیتی آبادی سب سے زیادہ ہے۔
انتظامہ کرپٹ ہونے کے ساتھ ساتھ فرقہ پرست بھی ہے۔ اخلاق احمد 2012ء کے سپریم کورٹ کے اس خاص کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں جہاں جسٹس ایچ ایل واتو اور جسٹس سی کے پرساد کے دو رکنی بنچ نے گجرات کے شہر احمد آباد میں 1994ء کی دہشت گردانہ کارروائی کے ایک کیس میں گیرہ ملزموں کو یہ کہتے ہوئے بری کردیا کہ قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی شخص کو اس کے مذہب کی بنیاد پر ستایا جائے۔
جیلوں میں آبادی کے تناسب سے زیادہ مسلمانوں کی موجودگی اور پھر دس برس کے بعد عدم ثبوت کی بنیاد پر عدالت سے برات یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ یہ سب کچھ ایک خاص مشن کے تحت کیا جارہا ہے۔ اعلیٰ حکومتی اداروں، پولیس فورسز اور تفتیشی ایجنسیوں میں ایسے مخصوص ذہنیت رکھنے والے افسران موجود ہیں۔ جن کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کا استحصال ہے۔
ثبوتوں ک ے بغیر مسلمنوجوانوں کو ٹارگٹ بنانا تفتیشی ایجنسیوں کا محبوب مشغلہ ہے اور حد تو یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کے جھوٹے مقدمات سے بری ہونے پربھی ان کی زندگی کے کھلواڑ کرنے والوں کی کوئی سرزنش نہیں کی جاتی۔ مسلمانوں کیلئے انصاف کی آخری امید عدالت کو اس جانب توجہ دی جانی چاہئے کیونکہ بھارت سیکولر آئین کے مطابق کسی شخص کو اسی وقت سزا دی جاسکتی ہے کہ لگایا گیا الزام بھی ثابت ہوجائے چنانچہ مقدمہ چلائے اور صفائی پیش کئے بغیر کسی کو سزا نہیں دی جاسکتی لیکن حالیہ برسوں میں جس طرح تمام دستوری تقاضوں کو پامال کر کے اور ان کی دھجیاں اڑا کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں ہندوتوا ذہنیت، آئینی اور تفتیشی اداروں میں جس طرح سرایت کرگئی ہے اس نے اقلیتوں بالخصوص مسلم اقلیتی طبقے پر عرصہ حیات تنگ کردی اہے۔
قتیل کے قتل سے لے کر خالد مجاہد کی پراسرار موت کے واقع میں یہی بھگواذہنیت کار فرما ہے۔ فرقہ پرست عناصر اور متعصب افسران اس میں پیش پیش ہیں انہیں عناصر کے ہاتھوں مسلمانوں کو نشانہ بنا کر جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک یہاں تک کہ انہیں موت کے گھاٹ تک اتار دینا ایک عام روایت سی بن گئی ہے۔ بھارتی ریاست مغربی بنگال میں 45فیصد، مہاراشٹر میں 36فیصد، گھرات میں مسلم آبادی صرف 6فیصد ہے لیکن جیلوں میں ان کا تناسب22.4فیصد ہے۔
دہلی میں مسلمان 12 فیصد جبکہ جیلوں میں 23فیصد ہیں اسی طرح مقبوضہ جموں و کشمیر مدحیہ پردیش، پانڈ و چری اور سکم سمیت ہندوستان کی دو دیگر ریاستوں میں مسلمان قیدیوں کی جیلوں میں شرح زیادہ ہے۔
دوسری جانب جیلوں میں قید مسلمان ہی متعصب اور مسلم دشمن پولیس افسروں کے تشدد کا شکار بنتے ہیں۔ تفتیشی ایجنسیوں کے فرقہ پرست افسران زیر حراست مسلمانوں کے ساتھ کسی بھی غیر انسانی سلوک روا رکھنے سے نہیں چوکتے۔
جیلوں میں مسلم نوجوانوں کے ساتھ ہونے والے وحشیانہ سلوک کے حوالہ سے یوپی کے سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس کا یہ سنسنی خیز انکشاف بہت اہمیت رکھتا ہے کہ تفتیشی ایجنسیوں کے ذریعہ بے قصور مسلم نوجوانوں کو خفیہ مقام پر رکھ کر ان کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔ سابق آئی جی نے مزید کہ اکہ 32برسوں کی ملازمت میں انہوں نے مسلمان قیدیوں پرتشدد کے بے شمار واقعات دیکھے ہیں ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ تفتیشی ایجنسیاں مسلم نوجوانوں کو اغوا کر کے خفیہ مقام پر رکھتی ہیں تاکہ آنے والے وقت میں کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کی صورت میں انہیں ”ملزم“ کے طور پر پیش کیا جاسکے۔

اسی لئے تو بھارت کے کسی بھی حصے میں کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے تو مسلمان نوجوانون کو فوری میڈیا کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ سابق آئی جی نے مزید کہ اکہ خالد مجاہد اور طارق قاسمی کو جب گرفتار کی اگیا تو ان کے پاس سے کوئی دہشت گردی کا مواد برآمد نہیں ہوا تھا۔
متعلقہ پولیس افسر نے ان سے پانچ لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا کہ روپے ادا کریں گے تو انہیں چھوڑ دیا جائے گا اور ان کی جگہ کسی دوسرے کو اٹھالیا جائے گا۔

اندازہ کیجئے ان افسروں کی فرقہ پرستانہ ذہنیت اور انتہا پسندی کا کہ سابق آئی جی کا یہ انکشاف منظر عام پر آچکا ہے کہ قید کے دوران مسلم نوجوانوں کو خنزیر کا گوشت کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور ان پر ظلم و ستم کی انتہا کردی جاتی ہے۔
سینٹر فار ہیومن رائٹس اینڈ لاء سے تعلق رکھنے والے وجے ہلمٹ ممبئی کی مختلف جیلوں میں گزشتہ کئی برسوں سے کام کرہے ہیں۔
وجے ہلمٹ کا کہنا ہے کہ ممبئی کی جیلوں میں تقریبا چالیس فیصد مسلمان قید ہیں۔
بھارتی معروف صحافی پروفل بدوائی کے مطابق بھارت کی ذیلی عدالتوں اور محکمہ پولیس میں مسلمانوں کے ساتھ تعصب برتا جاتا ہے جس بنا پر مسلم برادری سے انصاف نہیں ہوپاتا ہے۔ پچھلے برسوں سے ٹاڈا اور پوٹا جیسے کالے قوانین کے تحت مسلمانوں کو حراست میں لینے کا سلسلہ جاری ہے۔
ان کا مزید کہن اہے کہ جب بھی کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے تفتیش کیلئے مسلمانوں کو ہی پکڑا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکن گوتم نولکھا کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک ایک عام بات ہے اور یہ پولیس کا دوہرا معیاری ہے کہ ایک برادری کو جیل میں رکھا جاتا ہے اور دوسری کو سنگین سے سنگین جرم میں بھی آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔
گوتم نولکھا کا کہنا ہے کہ اس قسم کی بے انصافی ختم کرنے کیلئے انتظامیہ اور پولیس کو جواب دہ بنانے کی ضورت ہے۔
2002ء میں حیدر آباد میں ہونے والے تین بم حملوں کے جھوٹے الزام میں گرفتار محمد رئیس الدین جنہیں بعد میں بری کردیا گیا تھا نے بتایا کہ ”دہشت گردی کے الزام میں پکڑے جانے والے کا نام ہمیشہ کیلئے بدنام ہوجاتاہے۔ معاشرے میں کئی لوگ اب بھی مجھے ایک دہشت گرد کے طور پر دیکھتے ہیں اور مجھے جانبدار روئیے کا سامنا رہتا ہے۔
“ رئیس الدین نے مزید کہا کہ حکومت کی طرف سے ملنے والی امداد کچھ مدد نہیں کرسکتی۔ کبھی بھی کسی بے قصور کو جیل میں نہیں رکھنا چاہئے۔
کلکتہ میں لیکٹریشن کا کام کرنے والے آفتاب عالم انصاری نے کہا کہ انہیں 2008ء میں دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کی بناء پر جیل میں ڈال دیا گیا تھا اور عدالت میں ان کے خلاف من گھڑت الزامات ثابت نہ ہونے کے باعث رہا کردیا گیا تھا۔
انکے خیال میں انہیں مسلمانوں کے خلاف تعصب کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا اگر حکومت مسلم اقلیتی برادری کو پولیس فورس میں مناسب نمائندگی دلوانے کیلئے مزید مسلمان بھرتی کرے تو ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اس تعصب کو کم کیا جاسکے۔“
مہاراشٹر کی جیلوں میں مسلمانوں کا معاشرتی و معاشی خاکہ اور انکی بحالی کی ضروریات نامی مطالعے میں بتایاگیا کہ مسلمان قیدیوں کی 25فیصد تعداد کے پاس وکیل نہیں تھے۔
اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ مسلمان قیدیوں کی 38فیصد تعداد کو رشتہ داروں سے ملنے کی اجازت نہیں اور انہیں ناکافی شواہد کی بناء پر گرفتار کیا گیا۔
سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ مذکورہ حالات کیا بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار بیان نہیں کرتے؟۔ کیا بھارتی مسلمانوں کا ٹھکانہ جیل کی چار دیواری ہی ہے جہاں وہ محفوظ بھی نہیں، کیا یوپی جیل خانے میں خالد مجاہد اور قتیل صدیقی کا قتل اس بربریت کی واضح مثال نہیں ہیں۔
مہاراشٹر کا پور لوموں کا شہر مالیگاؤں جہاں ایک بڑی تعداد میں مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کے تحت حراست میں لے لیا گیا تھا، ان بے قصوروں کی رہائی کیلئے کوششیں کرنے والے سماجی کارکنوں کے مطابق سیکولر حکومتیں انتخابات کے دوران وعدے تو بے شمار کرتی ہیں کہ مسلمانوں کی رہائی کو یقینی بنایا جائے گا لیکن اقتدار میں آجانے کے بعد انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔

عجیب بات تو یہ ہے کہ حق معلومات میں صاف کہ ا گیا ہے کہ یہ اعدادو شمار مسلمانوں کی دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتاری سمیت دیگر چھوٹے موٹے اور سنگین جرائم کے تعلق سے ہیں۔ مسلم نوجوانوں کو قانونی امدا دکی فراہمی کیلئے متحرک وکیل کے بقول مہاراشٹر سمیت بھارت کی دیگر ریاستوں میں 50فیصد سے زائد ایسے مسلم قیدی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں جنہوں نے اپنے جرائم کی سزاؤں کی میعاد تو پوری کرلی ہے مگر عدالت کی طرف سے ہزاروں روپے جرمانہ ان پر عائد ہے اس رق کی عدم ادائیگی پر وہ سزاپوری کرنے کے باوجود ابھی تک سلاخوں کے پیچھے ہی ہیں۔

بھارتی قومی ادارے انسداد جرائم بیورو کے ریکارڈ کے تحت ہندوستان بھر کی 30سے زیادہ جیلوں میں مسلمانوں کو گرفتار کرنے میں بھارت کی سیکور ذةنیت رکھنے والی ریاستی حکومتوں اور بھگوا قیادت والی ریاستی حکومتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ایک طویل عرصے تک بایاں محاذ کا قلعہ رہنے والے مغربی بنگال میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد غیر قانونی طور پر پابند سلاسل ہے۔
جنہیں دہشت گردی سمیت مختلف مقدمات میں زیر حراست رکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بی جے پی سے قبل مغربی بنگال میں کبھی کوئی فرقہ پرست پارٹی اقتدار میں نہیں رہی، بھر بھی مسلمان انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔ مہاراشٹر میں ہر تیسرا اور اتر پردیش میں ہر چوتھا مسلمان جیل کی کال کوٹھری میں بند ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ حالات بالکل ایسے ہیں جیسے امریکہ میں سیاہ فام قیدیوں کے ہیں۔
امریکی جیلوں میں قید 23لاکھ افراد میں سے تقریباََ نصف تعداد سیاہ فام قیدیوں پر مشتمل ہے جبکہ آبادی میں ان کا حصہ 13فیصد ہے۔ہندوستان میں پولیس بے لگام ہوچکی ہے۔ وہ کھلے عام حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں کرتی ہے لیکن جوابدہ کسی کو بھی نہیں، مسلم اقلیتی طبقے کو خوف و ہراس میں مبتلا رکھنا، انہیں شک کی بنیاد پر گھروں سے اٹھالینا معمول بن چکا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان