بند کریں
بدھ فروری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
غزہ میں انسانیت لہو میں نہا گئی
صہیونی ریاست اسرائیل کی دجالی دہشتگردی۔۔۔۔ جہاں تک مسلم ممالک کی حکومتوں کا تعلق ہے تو ان کی بنائی ہوئی ”نمائندہ“ تنظیموں کی کبھی کوئی وقعت نہیں رہی ہے
محمد انیس الرحمن:
جو لوگ ”فلسفہ تاریخ“ سے واقف ہیں ان کیلئے یہ بات نئی نہیں کہ دنیا میں بڑی جنگیں ہمیشہ بڑی تبدیلیاں لانے کیلئے لڑی گئیں۔ نظر اٹھا کر دیکھئے 1914ء میں لڑی جانے والی پہلی جنگ عظیم سے پہلے کی دنیا جغرافیائی، سماجی اور معاشی طور پر یکسر مختلف تھی۔ اس دنیا سے جو پہلی جنگ کے بعد سامنے آئی۔ اس کے بعد کی نصف صدی اسی حالت میں گذری اور 1939ء میں شروع ہونے والی دوسری عالمگیر جنگ نے اپنے سے پہلے کی دنیا کو تبدیل کردیا۔
1945ء میں اختتام پزیر ہونے والی اس دوسری عالمگیر جنگ میں دنیا ویسی نہیں تھی جو 1914ء سے لیکر 1939ء کے درمیان تھی۔ اس مرتبہ دنیا میں طاقت کے مراکز کھسک کر یورپ سے امریکہ منتقل ہوئے، عالمی معاشی نظام اپنی جگہ تبدیل کرگیا، عالمی ”منصفی“ کے اداروں نے یورپ سے نیو یارک کی جانب بستر لپیٹا۔ اگلے پچاس برسوں کیلئے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کرنے اور انہیں دو عالمی قوتوں کے درمیان جنگ کے خوف میں مبتلا کرنے کیلئے سرد جنگ کا ڈرامہ رچایا گیا۔
جس کی وجہ سے آنے والے وقت میں یروشلم کے عالمی کردار سے غافل ہوکر دنیا سرد جنگ کے گرم جنگ میں مبتلا ہو جانے کے خوف کا شکار ہوگئی۔ یہ سب کچھ عالمی صہیونیت کے شہہ دماغوں کا منصوبہ تھا جو ایک طرف اسلحہ کی فروخت سے مال بنارہے تھے تو دوسری جانب عالمی بینکوں کے ذریعے دنیا کو قرض کے شکنجے میں کستے چلے جارہے تھے تاکہ مناسب وقت پر کسی کو بھی اپنی جگہ سے حرکت کرنے کا موقع نصٰب نہ ہوسکے۔
یہ مناسب وقت کیا تھا عالمی دجالی صہیونتی کے پلیٹ فارم سے یروشلم کی عالمی سیادت کا اعلان۔ لیکن اس سے پہلے دنیا کو بڑی جنگوں میں مبتلا کرنا مقصود تھا، مسلمانوں کی دینی اور اخلاقی حمیت کا جنازہ نکالنا اس منصوبے کی اہم ترین کڑی تھی۔
یہ بات ہم سب کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ اگر ہم نے قرآن کریم سے ہٹ کر دیگر ذرائع کو اپنی ہدایت کا سرچشمہ بنایا۔
۔۔ یا اس دنیا میں ایسی حکمت عملی اختیار کی جو اللہ رب العزت کی بیان کردہ حکمت عملی سے ہٹ کر ہوتو جان لینا چاہئے کہ ہم کو اس غفلت کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑجائے گی۔ آج جو کچھ مشرق وسطیٰ میں ہورہا ہے ہمیں یہ سب کس تناظر میں دیکھنا چاہئے؟ غزہ پر اسرائیلی بربریت کے اصل مقاصد کیا ہیں؟ عراق میں ہونے والی خانہ جنگی اور اس کے بطن سے نمودار ہونے والی ”بوگس خلافت“ کا اصل مقصد کیا ہے، یہ سب کچھ اچانک ہورہا ہے یا اس کی منصوبہ بندی برسوں پہلی کی جاچکی تھی؟
اس سلسلے میں ہم پہلے بھی ان صفحات پر بیان کرچکے ہیں کہ تاریخ مسلسل واقعات کا ایک مربوط نظام ہے یہ دنیا چونکہ عالم اسباب ہے اسلئے بغیر کسی سبب کے کوئی واقع رونما ہوہی نہیں سکتا۔
بدقسمتی سے مسلم دنیا میں تاریخ کے مضمون کو تو اہتمام کے ساتھ مدوین کیا گیا لیکن کبھی ”فلسفہ تاریخ“ کی جانب توجہ نہیں دی گائی یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بیان کردہ بہت سے حقائق اور آنے والے واقعات کی تفصیل کو صحیح طریقے سے سمجھا ہی نہیں گیا اس غفلت کی مسلمانوں نے بہت قیمت چکائی ہے اور تاحال چکا رہے ہیں۔ تاریخ میں بکھرے ہوئے اہم واقعات کو جوڑ کر وہ تصویر بنائی جاسکتی ہے جس نے واضح شکل میں آخری زمانے میں نمودار ہونا ہے اور ان کا سلسلہ اب شروع ہوچکا ہے ۔
لیکن یہ بات بھی مدنظر رہے کہ ان حقائق تک رسائی کیلئے صرف فلسفہ تاریخ کا موضوع ہی کافی نہیں بلکہ حقیقت میں اس چراغ کی روشنی بھی درکار ہے جسے قرآن کریم کہا جاتا ہے اور اس روحانی نور کی مدد سے ہی صحیح راستے کا تعین ممکن ہے جس کے بعد انسان کو ایسی قوت تفویض کی جاتی ہے جس کی بنیاد پر تاریخ میں بکھرے ہوئے اہم واقعات کو وہ جوڑ کر واضح تصویر بنالیتا ہے ۔
آج جو واقعات دنیا میں پراسار انداز میں سامنے آرہے ہیں اور جو لوگ اس کو درک سے محروم ہیں اور دنیاوی وسائل کی بنیاد پر تجزیے کرتے ہیں وہ اسے ”کانسپریسی تھیوری“ قرار دے کر اپنی عالمی کا علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اندھے پن اور لاعلمی کی بڑی قیمت چکاتے ہیں کیونکہ قرآن کریم کے بحر می غوطہ لگائے بغیر آج کی موجودہ دنیا کے حقائق تک پہنچنا ناممکنات میں سے ہے۔
سوشل سائنس کے یہ لبرل ماہر تاریخ کے مختلف حصوں کو واقعاتی سطح پر جوڑنے کی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں۔ ان کے پاس اس بات کا جواب نہیں ہے کہ پیکس بریٹانیکا Pax Britannicaکی جگہ پیکس امریکانو Pax Americano کو کیوں بدلا گیا تھا اور نہ وہ اس بات کا جواب دے سکتے ہیں کہ اب Pax Americananکے بعد وقت آگیا ہے کہ اسے پیکس جوڈیکا Pax Judaica سے بدلا جانا ہے جو اسرائیل کی صہیونی ریاست کے طور پر دنیا کیلئے برطانیہ اور امریکہ کے بعد اب تیسی عالمی قوت کے طور پر سامنے آنے کیلئے تیار ہے۔
بوطانوی دور میں لندن عالمی حکمران دارالحکومت تھا بعد میں واشنگٹن کو یہ درجہ حاصل ہوا اور اب یروشلم کو عالمی صہیونی حکمران دارالحکومت کے طور پر سامنے لانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اس مختصر سے سیناریو کے بعد کیا ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ عراق میں نمودار ہونے والی ”خلافت“ تاریخ میں بکھرے ہوئے اہم واقعات کی واضح تصویر میں صحیح طور پر بیٹھ سکتی ہے؟ بالکل نہیں۔
۔۔ کیونکہ خلافت کا قیام کسی صورت مسلم دنیا ک ے کسی ایک صحے پر ممکن نہیں ہے اور حقیقی خلافت اسلامیہ کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک بعض اہم واقعات پر وہ اخفا سے نکل کر دنیا کے سامنے رونما نہیں ہوجاتے۔ جو افراد ان واقعات کو جاننے کی صلاحیت نہیں رکھتے وہ دنیا میں ہونے والے تغیرات کی بنیاد پر اپنی گردنوں کے گرد لوہے کی زنجیر ڈال لیتے ہیں جیب میں بوگس اور حرام کرنسی جو اصل ذر یعنی سونے اور چاندی کی بجائے ڈالر، پونڈ اور دیگر الیکٹرنک اور پلاسٹک کرنسیوں کی شکل میں دنیا میں پھیلائی گئی ڈال لیتے ہیں اور ہاتھوں میں دجالی قوتوں کے دئیے ہوئے ہتھیار اٹھا کر سمجھے ہیں کہ وہ حق کی جنگ لڑرہ ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔

عالمی صہیونی ماسٹر مائنڈ حالات کا کس طرح مرضی کا رخ دے رہے ہیں۔ اس کی جدید ابتدا لیبیا سے کی جاتی ہے۔ عرب اسپرنگ کے نام سے شمالی افریقہ کا ایک ملک تیونس سب سے پہلے عوامی غضب کا نشانہ بنتا ہے اور انتخابات کی شکل میں ایک اسلامی حکومت قائم ہوجاتی ہے یہ سب کچھ اس لئے ہونے دیا گیا تاکہ دنیا کو ”اسلامی خطے “ سے خبردار کیا جائے آج صورتحال یہ ہے کہ اس حکومت کا ہونا نہ ہونا ایک جیسا ہے کیونکہ لبرل قوتوں سے اس انداز مین اپوززیشن کرائی گئی کہ اسلامی جماعت النھضہ کے رہنما ایک طرح سے عاجز ہوکر رہ گئے اور ان کی وہ قوت جو اپوزیشن میں رہتے ہوئے زیادہ زور آور تھی بڑی حد تک کم ہوگئی۔
تیونس کے پڑوس یعنی لیبیا میں چونکہ قذافی نے کوئی سیاسی نظام چلنے ہی نہیں دیا تھا اسل ئے اس کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے نیٹو کی چھتری تلے ”مجاہدین“ کی ایک قوت کو مجتمع ہونے دیا گیا۔ یہ کیسا ”جہاد“ تھا جس میں ”مجاہدین“ کیلئے لاکھوں کھانے کے ڈبے فرانس سے لائے جارہے تھے، اسلحہ اور دیگ عسکری وسائل نیٹو کی جانب سے فراہم ہورہے تھے بلکہ نیٹو کی فضائیہ عملاََ ان ”مجاہدین“ کی مدد کیلئے براہ راست حکومت فوجوں کو نشانہ بنارہی تھی۔
۔۔ اب وہی دجالی مغربی قوتیں ان ”مجاہدین“ کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ نیٹو کو اس لئے براہ راست لیبیا میں مداخلت کرنا پڑی کہ وہاں پر شیعہ مسلمان عراق کی طرح موجود نہیں تھے ورنہ ادھر بھی وہی کھیل کھیلا جاتا جو عراق میں کھیلا جارہا ہے اس کے بعد لیبیا کے پڑوسی ملک مصر کی باری تھی جہاں پر تین دہائیوں پر محیط آمریت نے عوام میں ایسا بغاوتی رد عمل پید اکردیاتھاجو کسی وقت بھی آتش فشاں کی طرح پھٹ جاتا اس دباؤ کو کم کر کے تحریک اسکوئر میں احتجاج کو پنپنے دیا گی جس کی وجہ سے مغرب کے کٹھ پتلی حسنی مبارک کو حکومت سے دستبردار ہونا پڑا۔
انتخابات کے نتیجے میں اخوان کی حکومت قائم ہونے دی گئی اس کے ساتھ ہی اخوانیوں کی اسلامی اصلاحات کو انتہا پسندی سے تشبیہ دے کر ایک سال بعد ہی مصری فوج کو اپنے ہی عوام پر ٹینک چڑھادینے کا اشارہ دیا گیا نتائج سب کے سامنے ہیں۔
شام کے حوالے سے تفصیلات ہم پہلے دے چکے ہیں کہ وہاں کی بشارالاسد حکومت یکدم گرنا مغرب کے مفاد میں نہیں کیونکہ وہاں شیعہ سنی سول وار کرانا مقصود تھا جو اب زوروں پر ہے یہی صورتحال اب عراق کی ہے جہاں پر سینوں کی تنظیم داعش نے خلافت کا اعلان کیا۔
درحقیقت داعش سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر جنگجو ان عراقیوں کی نسل ہے جس نے نوے اور دو ہزار کے درمیان اردن کے مہاجر کیمپوں میں ہوش سنبھالا ان کے دماغ میں یہ بات شروع دن سے پڑچکی تھی کہ عراق میں سینوں کے اقتدار کے خاتمے کیلئے ایران اور جنوبی عراق کی شیعہ تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا ہے جس نے نفرت کو مزید ہوادی۔ اس کے بعد عراق میں جو ”عام انتخابات“ کرائے گئے وہ براہ راست قابض فوجوں کی نگرانی میں ہوئے تھے اور انہی کی نگرانی میں اقتدا ر نوری المالکی جیسے حکمران کے سپرد کیا گیا۔
نوری المالکی چونکہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے اس بات کو سینوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بنایا گیا کہ اب عراق میں عرب ممالک کی بجائے ایران کا عمل دخل زیادہ ہوگا اور ایسا فی الواقع ہوا بھی۔ اسی بنیاد پر بین الاقوامی ثالث لخدر براہمی نے عربی جریدے الشرق الالوسطکو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے جنوبی عراق کے شیعہ عالم سیستانی کو خبردار کیا تھا کہ امریکہ نے عراق تحفے کے طور پر ایران کو دیا ہے اس لئے یہاں اگر مسلک کی بنیاد پر جنگ چھڑی تو اسے تیس برسوں تک روکا نہیں جاسکے گا۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت سارے عراق کی یہی صورتحال ہے۔ عالمی دجالی قوتوں کا سب سے بڑا مقصد ہی یہی تھا کہ وہ شیعہ سنی سول وار کو ہوا دیں اور مستقبل میں اسرائیل کے خلاف جن مزاحمتی قوتوں نے اٹھنا ہے وہ آپس میں ہی لڑ کر ختم ہوجائیں۔نوئے کی دہائی میں اردن کے کیمپوں میں ہوش سنبھالنے والے یہ سنی بچے اب جوان ہوچکے تھے ان کی نفرت کو ہوا دیتے ہوئے انہیں پہلے شامل میں بھیجا گیا جو عملی طور پر ان کی عسکری تربیت کا بڑ امرکز بن گیا اور انہوں نے اس قدر بے جگری سے سرکاری فوجون کا مقابلہ کیا کہ شمال مشرقی شام کے علاقے پر قابض ہوگئے یہی وہ علاقہ ہے جس کے ساتھ عراق کی شمالی سرحدیں ملتی ہیں اور اسی شام اور عراق کی پٹی پر تیل کے بڑے ذخائر ہیں۔
ان ذخائر پر قابض ہونے کے بعد اب وسائل کی کمی نہ تھی اس لئے تمام عراق سے لام بندی کر کے ان کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ اب یہ قوت بغداد کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ ”خلافت“ کا اعلان اسرائیل اور امریکہ کیلئے نعمت کا درجہ رکھتا ہے۔ دوسری جانب جنوبی عراق کے شیعہ مسلمان اور ایران ان آنے والے طوفان کو روکنے کیلئے تیاری کررہے ہیں جو یقیناََ پورے عراق میں بڑی خانہ جنگی کو جنم دے گی اس صوررتحال سے امریکہ اور اسرائیل دو فائدے لینا چاہتے ہیں۔
سب سے پہلے شمالی عراق پر مشتمل کردستان کے مقامی لیڈر اپنے آپ ک و اس جنگ سے بچانے کیلئے باقی عراق سے علیحدگی کا اعلان کردیں گے جس کے بارے میں کہا جارہاہے کہ وہ کسی وقت بھی متوقع ہے۔ کردستان کی علیحدگی کی شکل میں امریکہ اور اسرائیل کو موقع میسر آئے گا کہ وہ روس کی جانب سے کسی بھی بلاسٹک میزائل حملے کو روکنے کیلئے وہاں پر ”میزائل شیلڈ پروگرام“ نصب کردیں۔
دوسار یہ کہ اسرائیل اور مغربی صہیونی میڈیا داعش کی متوقع کامیابیوں کی وجہ سے اس قسم کا پراپیگنڈہ شروع کردیں گے کہ داعش کے انتہا پسند عراق سے اردن اور اردن سے اسرائیل میں داخل ہوکر یہودیوں کا اسی انداز میں قتل عام کریں گے جس طرح انہوں نے شمالی عراق سے بھاگتی ہوئی عراقی فوج کا کیا تھا۔ ایسی صورت میں امریکہ کی قیادت میں نیٹو ایک مرتبہ پھر حرکت میں آئے گا لیکن درحقیقت پردے کے پیچھے سے اچانک اسرائیل سامنے آکر اس دجالی صہیونی فوجی اتحاد کی قیادت سنبھال لے گا اور اس خطرے سے ہمیشہ کیلئے نمٹنے کے نام پر اور اپنے دفاع کی خاطر آس پاس کی عرب ریاستوں پر بھی ہاتھ صاف کردے گا کیونکہ جب تک عربوں کا تیل اسرائیل کے براہ راست تصرف میں نہیں آئے گا وہ کسی صورت یروشلم کو واشنگٹن کے بعد نئی عالمی سیادت کا مرکز قرار نہیں دے سکے گا کیونکہ اسی تیل کی بنیاد پر وہ باقی دنیا کو اپنے سیادت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتا ہے۔

اس سلسلے میں سب سے بڑی مزاحمت روس، چین اور جاپان کی جانب سے ہوگی جبکہ روس اس سلسلے میں اسرائیل کو نشانہ بھی بنائے گا کیونکہ اسرائیل جس قسم کے جدید اسلحے کے ساتھ پردہ اخفا سے نمودار ہوگا اس اسلحے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے یہ زہادہ ترکیمیائی اسلحہ ہوگا جس سے عربوں کی بہت بڑی تعداد ہلاک کردی جائے گی اور جو باقی بچیں گے ان میں مزاحمت کی قوت نہیں ہوگی۔
یہ وہ قوت ہوگا جب اصل جنگ یا جوج و ماجوج یا GoG magog (روس اور عالمی صہیونی اتحاد) کے درمیان لڑی جائے گی جس میں انتہائی جدیدی ترین ہتھیار استعمال ہوں گے اس جنگ کے بارے میں احادیث شریف میں واضح اشارے موجود ہیں۔ یاد رہے اس وقت بھی امریکہ سمیت عالمی صہیونی قوتیں اور روس، شامل اور یوکرائن میں پراکسی جنگ میں مبتلا ہوچکے ہیں اور اسرائیل کو اسی روسی رد عمل سے زیادہ سے زیادہ بچانے کیلئے عراقی کردستان میں میزائل شیلڈ پروگرام نصب کرنا مقصود ہے۔
اسی جنگ کا نتیجہ ہوگا کہ دونوں جانب جنگی ٹیکنالوجی کے بے دریغ استعمال سے یہ اچانک Collapes زوال پزیر ہوجائے گی۔ لازمی بات ہے کہ جنگ کی شدت کی وجہ سے کسی فریق کے اپس اتنا وقت نہیں ہوگا کہ وہ عسکری ٹیکنالوجی کے اس اچانک نقصان کا اعادہ کرسکے اس لئے اس جنگ کا میدان ان کیلئے باقی رہ جائے گا جو روایتی یا گوریال جنگ کی ماہر قوتیں ہوں گی اور گذشتہ صدی سے اب تک کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ یہ فن فی الحال مسلمانوں کے پاس ہی ہے۔
۔۔
جہاں تک مسلم ممالک کی حکومتوں کا تعلق ہے تو ان کی بنائی ہوئی ”نمائندہ“ تنظیموں کی کبھی کوئی وقعت نہیں رہی ہے عرب لیگ ہو یا او آئی سی انہوں نے مسلمانوں سے زیادہ مغربی مفادات کیلئے کام کئے ہیں یہی وجہ ہے کہ عالم عررب اور عالم اسلام میں اب ان تنظیموں پر کوئی یقین کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔اس وقت جبکہ اسرائیل تمام دنیا کی ناک تلے غزہ کے مسلمانوں پر آگ اور لوہے کی بارش کررہا ہے کسی ایک ملک نے بھی کھل کر مزاحمت نہیں کی۔
اسرائیل کا دہشت گرد وزیراعظم جب یہ کہتا ہے کہ عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیلی عسکری کارروائی جاری رہے گی تو وہ اس یقین کی بنیاد پر کہہ رہا ہوتا ہے کہ کسی مسلم ملک میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ ورلڈ بینک یا آئی ایم ایف کی روٹیوں سے جان چھرا کر اسرائیل کی مزاحمت پر اتر آئے۔ پاکستان سمیت تمام دنیا کے مسلمانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ دنیا میں اصل تنازعہ کا محور القدس شریف ہے جسے صہیونی یروشلم کہہ کر اسے اپنے عالمی حکومت کا مرکز بنانا چاہتے ہیں اور مسجد اقصیٰ کو منہدم کرنے کے بعد یہاں پر اپنا نام نہاد ”ہیکل سلیمانی“ تعمیر کرنا چاہتے ہیں جس کی وہ مکمل تیاری برسوں پہلے کرچکے ہیں۔
صہیونیوں کے عقائد کے مطابق سلیمان علیہ السلام کا دور ان کی تاریخ کا سنہرا دور تھا اس دور میں جس طرح معلوم دنیا کے ممالک حضرت سلیمان علیہ السلام کی عالمی سیادت تلے آئے تھے اسی طرح موجودہ صہیونی ریاست بھی اسی دور کو واپس لائے گی۔۔۔کیونکہ اسی شہر سے مسیح الدجال نے اپنی عالمی سیادت کا اعلان کرنا ہے مسیح الدجال کیلئے یہودی ہونا ضروی ہے جبکہ برصغیر میں انگریزوں نے اپنا کام نکالنے کیلئے اور مسلمانوں کی لاعلمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ جھوٹامسیح مشرقی پنجاب سے کھڑا کردیا تھا۔
۔۔!!
اسی طرح ”فلسفہ تاریخ“ کی رو سے اگر ”علم الاخرالزمان“ Escatology کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگاکہ سیاہ جھنڈوں والے داعش کے جنگجو نہیں ہوسکتے ان خراسان کے سیاہ جھنڈے والوں کیلئے غیر عرب ہونا ضروری ہے اور اس سلسلے میں واضح حدیث موجود ہے۔ وہ غیر عرب قوم کون ہے اس سلسلے میں ہم پہلے ہی بنی اسرائیل اور افغانستان کی تاریخ پر مفصل رپورٹ دے چکے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-17

(3) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان