بند کریں
پیر فروری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
فرانسیسی میگزین پر حملہ
اصل ذمہ دار یورپ ہی ہے۔۔۔۔ تصویر کا دوسرا رخ یورپ کا اصل چہرہ سامنے لاتا ہے اگر ہم صورتحال کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یورپ خود ایسے حالات پیدا کر رہا ہے جو دو بڑے مذاہب کے درمیان شدید ٹکراو کا باعث ہیں
ابنِ ظفر :
گزشتہ دنوں ڈنمارک کے ملعون اخبار کے توہین آمیز خاکوں کو دوبارہ شائع کرنے والے اسلام مخالف فرانسیسی ہفت روزہ”چارلی ہیبڈو“ (چارلی ویکلی) کے دفتر پر دو مسلح افراد نے حملہ کر کے 12 افراد کو ہلاک اور 10 کو زخمی کر دیا۔ اس حملے کے بعد پیرس میں ہائی الرٹ کا اعلان کر دیا گیا اور بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع ہوگیا۔
چارلی ہیبڈ ونامی طنزومزاح کا یہ ہفت روز ہ بہت محدود اشاعت رکھتا ہے۔ لیکن اس کے طرز عمل کی وجہ سے اس کے مخالفین کا دائرہ کار بہت وسیع ہے ۔ اسے اسلام مخالف جریدے کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق دو مسلح نقاب پوش اس وقت اس میگزین کے دفتر داخل ہوے جب ادارتی عملہ کی میٹنگ جاری تھی۔ مسلح افراد سیدھے ایڈیٹر اور کارٹونسٹ کے کمروں کی جانب گئے اور اُنہیں گولیاں ماردیں۔
اس حملے میں تین کارٹونسٹ کابو، ٹگنوس اور دولنسکی کے ساتھ ساتھ ایڈیٹراسٹیفن کاربونہیر اور اس کے دوسیکورٹی گارڈ بھی مارے گئے۔یاد رہے کہ چارلی ویکلی نے نومبر 2011 کو توہین آمیز خاکے شائع کئے تھے۔یہ وہی خاکے تھے جو پہلے ڈنمارک کا ایک اخبار شائع کر چکا تھا۔ اس وقت بھی فرانسیسی حکومت رسالے میں خاکوں کی اشاعت کے بعد بیس مسلم ممالک میں حملوں کے خوف سے سفارت خانے بند کرنے پر مجبور ہو گئی تھی ۔
توہین آمیز خاکے شائع کرنے کے فوراََ بعد بھی اس جریدے پر پٹرول بم سے حملہ کیا گیا تھا ۔ اس کا ایڈیٹر اپنی موت تک پولیس تحفظ میں زندگی گزارتا رہا تھا لیکن وہ مسلسل توہین آمیز خاکوں کا دفاع کرتا رہا تھا۔ یاد رہے کہ یہ رسالہ اور اس کا ایڈیٹر متنازعہ اور توہین آمیز مواد کی وجہ سے انتہائی متنازعہ تھا۔یہ رسالہ پوپ بینیڈ کٹ کو گارڈز سے جھگڑا کرتے اور سابق صدر نکولس سرکوزی کے بیمار ویمپائر کی شکل میں کارٹون بناتا رہا ہے۔
دیگر الفاظ میں متنازعہ اور توہین آمیز مواد شائع کرکے خبروں میں رہنا اس رسالے کا طریقہ واردات تھا۔
یورپ میں اس حملے کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ فرانسیسی صدر نے اس حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے حملہ آوروں کا گرفتاری تک تعاقب کرنے کا اعلان کیا ۔ امریکی صد ر بارک اوبامہ اور وزیر خارجہ جان کیری نے بھی فرانس کو حملہ آورں کی گرفتاری کیلئے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
ایسے ہی خیالات کااظہار یورپی یونین کے صدر ژان کلودیونکر اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈکیمرون نے بھی کیا ہے۔ اس وقت پورے یورپ میں اس واقعہ کے خلاف سخت ردعمل نظر آرہاہے ۔ ایک اور اخبار نے اس کے جواب میں وہی گستاخانہ خاکے شائع کیے ہیں۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔
تصویر کا دوسرا رخ یورپ کا اصل چہرہ سامنے لاتا ہے اگر ہم صورتحال کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یورپ خود ایسے حالات پیدا کر رہا ہے جو دو بڑے مذاہب کے درمیان شدید ٹکراو کا باعث ہیں ۔
اسلام دنیا کا بڑا مذہب ہے اور اس کے پیروکار پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ طویل عرصے سے یورپی میڈیا مسلمان کی منفی عکاسی کر رہا ہے۔ اسی طرح سرکاری سطح پر بھی کبھی حجاب پر پابندی عائد کی جا رہی ہے تو کبھی داڑھی اور پگڑی کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے۔ یورپ میں ہی آزادی اظہار رائے کے نام پر گستاخانہ فلم اور خاکوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے لیکن دوسری جانب ہولوکاسٹ کا مذاق باقاعدہ سنگین جرم قرار دیا جاتا ہے۔
امریکہ میں بھی اسلامک سنیٹرز اور مساجد کا گھیراوٴ کای جاتا رہا۔ قصہ مختصر پورا یورپ طویل عرصہ سے دوکاموں میں مصروف ہے۔ ایک میڈیا پر مسلمانوں کی کردارکشی اور انہیں دہشتگردوں کے روپ میں پیش کیا جار ہا ہے ۔ دوسرا مسلمان کے خلاف نسلی اور مذہبی تعصب کو ہوا دے کر اسے ”آزادی اظہار رائے“ کا نام جارہا ہے ۔ ایسی آزادی نہ تو یہودیوں کے ہولوکاسٹ جیسے ڈرامے کے خلاف دی جاتی ہے، نہ ہی عیسائیت یا کسی اور مذہب کے حوالے سے دی جاتی ہے۔
اگر ایسا ہو تو بنیادی انسانی حقوق کانعرہ لگادیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہی جرمنی میں ”پیگیڈا“ نامی تنظیم نے بھی اسلام کے خلاف مظاہرہ کیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔
اس طرح میگزین پر ہونے والے حملے کے بعد جس طرح یورپ میں مذہبی فسادات پھوٹ پڑے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف وسیع پیمانے پر حملے شروع ہو گئے اس سے اب اس شبہ کا بھی اظہار کیا جا رہاہے کہ یہ حملہ بھی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پلانٹڈ تھا جس کا مقصد مسلمانوں کے خلاف ایسا ماحول پیدا کرنا تھا جو مسلم کش فسادات اور حملوں کا جوا ز پیدا کرے۔
اس کا ردعمل بھی ویسا ہی ہوا جیسا ماحول عالمی طاقتیں پیدا کرنا چاہ رہی تھیں۔ حملے کے فوراََ بعد ایک سروے کرایا گیا جس میں جرمنی کے 61 فیصد شہریوں نے اسلام کو خطرہ قرار دے دیا۔ اسی طرح لے مانز میں ایک کو خطرہ قرار دے دیا۔ اسی طرح لے مانز میں ایک مسجد پر دو گرنیڈ پھینکے گئے اور پورلانویل میں بھی نماز مغرب کے بعد مسجد پرفائرنگ کی گئی۔
مسلمان کباب فروش کی دکان پر بھی حملہ کیا گیا۔ یہ صورتحال میگزین کے دفتر پر حملے کے فوراََ بعد تیار کی گئی۔ اس دوران ہائی الرٹ تھا لیکن مسلمانوں پر حملے کرنے والے مکمل آزادی سے شرپسندانہ حملے کرتے رہے، جس سے واضح ہوتا ہے اُنہیں کس کی سرپرستی حاصل تھی۔ ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ یورپی یونین نے دہشتگردی سے نمٹنے اقدامات پر غور شروع کر دیا۔
اس سلسلے میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس19 جنوری کو برسلز جبکہ وزرائے داخلہ کا اجلاس28 جنوری کو لیٹویا کے شہر ریگا میں ہوگا۔ بظاہر یہ نئے اقدامات دہشتگردی کے خلاف ہوں گئے لیکن درحقیقت اسلام کو ٹارگٹ کیا جائے گا۔ یہ سب اس قدر تیزی سے ہو رہا ہے کہ جیسے کسی فلم کا طے شدہ سکرپٹ ہو جس کے ہر لمحے کو پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہو۔
دنیا یہ بات جانتی ہے کہ مسلمان اپنے نبی سے کس حد تک عقیدت رکھتے ہیں ہر دور میں ناموسِ رسالت پر کٹ مرنے والوں نے عظیم الشان مثالیں پیش کی ہیں کئی سال سے ”عالمی گیمر“ اس عقیدت اور ایمانی جذبے کو ہتھیار بنا کر مسلمانوں میں اشتعال پیدا کر رہے ہیں۔
ایک طرف ناموس رسالت پر (نعوز باللہ) حملے کر کے مسلمانوں میں اشتعال پیدا کیا جا رہاہے تو دوسری طرف القاعدہ کے بعد داعش جیسی متنازعہ تنظیم کو آگے بڑھا کر ایک مخصوص ماحول تیار کیا جا رہاہے۔ اگر ہم اس سارے منظر نامے کو ایک فریم میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں اسلام اور یورپ میں ٹکراو کا ماحول پیدا کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال اس نہج پر لے جائی جائے گی جہاں کسی کو ”دہشتگرد“ قراردینے کیلئے مسلمان ہونا ہی کافی ہو۔
اس طرح عالمی طاقتوں کوکسی بھی مسلم ملک پر حملہ کرنے کا طے شہد جواز مل جائے گا۔ بظاہر صورتحال اسی رُخ پر لے جائی جا رہی ہے لیکن عالمی طاقتوں کی اس ”گریٹ گیم“ کے نتیجے میں یورپ بھی بُری طرح جنونیت کا شکار ہو چکا ہے۔ اب مسلمانوں اور اسلامی شعائر کی توہین ”آزادی اظہار رائے“ قرار دی جاتی ہے حالانکہ آزادی اظہار رائے کی اصل تعریف یہی ہے کہ جہاں آپ کی آزادی کسی کے حقوق پر حملہ آور ہو وہاں یہ آزادی ختم ہو جاتی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یورپ بھی اپنے گریبان میں جھانکے ورنہ اشتعال کی جو فضا پیدا کر جا رہی ہے وہ گریٹ گیم کے منصوبہ سازوں کیلئے تو فائدہ مند ہولیکن اس سے دنیا اپنی تاریخ کی بدترین خانہ جنگی کا شکار وہ جائے گا۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-20

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان