بند کریں
ہفتہ فروری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ڈرون حملوں کے خلاف عالمی ضمیر بیدار
قرار داد کی منظوری‘ کامیابی کی جانب پاکستان کی پیش رفت ڈرون حملوں کے ذریعہ دہشت گردی ختم کرنے کے دعوے غلط ثابت ہو گئے
اسرار بخاری :
امریکی حکمرانوں کی استعماری سوچ میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ اب ملکوں پر قبضہ کی بجائے ان کے قیمتی وسائل پر قبضہ کیا جائے‘ لیبیا‘ عراق اور افغانستان پر چڑھائی اسی کا مظہر ہ ے ۔ خو دامریکی رائے عامہ نے امریکی سرحدوں سے باہر امریکہ کی جنگجویانہ کارروائیوں کو پسندیدگی کی سند نہیں دی جبکہ برطانوی پارلیمنٹ کے انصاف پسند ممبر جارج گیلوے مسلمانوں کو خبردار کر رہے ہیں کہ” مغرب سعودی عرب کو تقسیم کرنے پر بہت پہلے سے غور کر رہا ہے۔
نجد اور حجاز کی تقسیم کا منصوبہ ہے اس مقصد کے لیے سعودی عرب کی شیعہ اکثریت والے علاقے کو الگ مملکت بنانے کیلئے شیعہ آبادی کو تعاون پر آمادہ کیاجائے گا‘ انہیں باور کرایا جائے گا کہ تیل کی دولت ان کے علاقے میں ہے۔ مغرب کو مکہ اور مدینہ سے کوئی دلچسپی نہیں وہ عربوں یا مسلمانوں کے پاس رہیں یہ ان کیلئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ جارج گیلوے کے بقول جب وہاں بے چینی کی کیفیت پیدا ہو گئی تو آپ دیکھیں گئے اچانک پورے مغرب کے دل میں شیعہ اقلیت کے محبت جاگ اٹھے گی ۔
مغرب یہ پروپیگنڈا کرے گا کہ سعودی عرب کے مغربی صوبوں میں شیعوں پر ظلم ہو رہا ہے عرب ممالک کو 23سے 63چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم کر کے ان کے تیل کے وسائل پر قبضہ کر کے سو سال تک ان پر تسلط بر قرار رکھا جائے گا“ جارج گیلوے جو کچھ کہہ رہے ہیں ا پر اسلامی دنیا میں حکومتی سطح پر غور خوض کیاجانا چاہئے کیونکہ یہ نہ تو سینوں کے مفاد میں ہے نہ شیعوں کیلئے فائدہ مند ہے ۔
ظاہر ہے امریکہ یا مغرب مشرق وسطیٰ میں تیل کے ذخیروں پر قبضہ کر کے شیعوں کے حوالے کیوں کر دیں گئے‘ اس لئے ضروری ہے کہ شیعہ اور سنی قیادتیں مغرب یا امریکی سازشوں کا شکار ہو کر باہمی جنگ و جدل سے اجتناب کریں ۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی ڈورن حملوں ک مقصد افغانستان میں مزاحمت کو کمزور کرنا ہے۔ امریکی سمجھتے ہیں کہ قبائلی علاقے سے لوگ طالبان کی حمایت میں لڑنے آتے ہیں جس سے ان کی امریکہ کے خلاف مزاحمت کو تقویت مل رہی ہے۔
پاکستان کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کو ان علاقوں پر ڈرون حملوں کی سہولت فراہم کی جس کے ردعمل میں قبائلیوں نے پاکستان کے شہریوں کو نشانہ بنایا‘پاکستانی فوج قبائلی عوام کو آپس میں لڑانے کیلئے امریکہ‘ اسرائیل اور بالخصوص بھارت کی خفیہ ایجنسیوں نے دہشت گردی کی وارداتوں کا حربہ اختیار کیا جس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوئے اور پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف رائے عامہ کا گراف بڑھ رہا تھا۔
ان حملوں میں صرف مطلوبہ افراد ہی نہیں بے گناہ قبائلی عوام جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں‘ ہلاکتوں کا شکار ہو رہے تھے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس کے تحت پاکستان نے نہ صرف امریکہ سے بارہا مطالبہ کیا بلکہ جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ڈرون حملوں کے خلاف قرار داد پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
قرار داد میں پاکستان نے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ ہتھیاروں سے لیس ڈرونز کے استعمال کو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق بنایا جائے۔
ڈرونز کے استعمال میں بین الاقوامی انسانی قانون کا خیال رکھا جائے۔ انسانی حقوق کونسل ستمبر میں ڈرون کے استعمال کا قانونی جائزہ لے گئی۔ دفتر خارجہ نہ کہا کہ ڈرون سے متعلق یہ قرارداد ہمارے سفارتخانے کی کوششوں سے ممکن ہوئی ہے۔ بی بی سی نے مطابق اقوام متحدہ نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ڈورن طیارے استعمال کرتے وقت بین الاقوامی قوانین کو ملحوظ خاطر رکھیں۔
اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کی کونسل میں پاکستان کی اس قرار داد کو یمن اور سوئٹزرلینڈ نے مشترکہ طور پر پیش کیا جس میں کسی ملک کا نام لئے بغیر ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنے کی بات کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ امریکہ اس وقت دنیا میں ڈرون ٹیکنالوجی کو سب سے زیادہ استعمال کر رہا ہے اور جن ملکوں میں اہداف کونشانہ بنانے کیلئے ڈرون استعمال کئے جا رہے ہیں ان میں پاکستان ، صومالیہ، افغانستان اور یمن شامل ہیں ۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے کہاں کہ ان کا مقصد کسی ملک کا نام لیکر اسے شرمندہ نہیں بلکہ یہ اصول کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ القاعدہ اور طالبان شدت پسندوں کیخلاف ڈرون کے استعمال کو اس لئے بہت اہمیت دیتا ہے کہ ڈرون کا نشانہ عین نشانے پر لگتا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ ڈرون حملوں میں عام شہری مارے جاتے ہیں اور ڈرون حملے اس کی جغرافیائی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں۔
قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ڈرون استعمال کرنے کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی رپورٹ کے تحت اس موضوع سے منسلک سوالات پر ماہرین کے درمیان قانونی بحث کرائی جائے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم خیال دوست ملکوں کے ساتھ قریبی روابط کی بدولت یہ تاریخی کامیابی حاصل کی گئی ہے۔
پاکستان کی اس قرار داد میں مسلح ڈرون گرانے والے ملک امریکہ کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ۔
47رکنی انسانی حقوق کونسل کے 27ارکان نے پاکستان کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ امریکہ ، فرانس اوربرطانیہ سمیت چھ ارکان نے مخالت کی۔ یہ امر قابل ذکر ہے امریکہ اس وقت افغانستان‘ یمن اور صومالیہ میں ڈرون حملے کر رہا ہے جبکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اس نے کچھ ماہ سے یہ سلسلہ روکا ہوا ہے۔ امریکی نائب معاون وزیر کا کہنا ہے کہ امریکہ کی پالیسی رہی ہے کہ اس کی قومی سلامتی کی ضروریات کے پس منظر میں تمام اقدامات جن میں ڈرون کا استعمال بھی شامل ہے، ملکی اور عالمی قوانین کے تحت اٹھائے جائیں اور ان میں جس حد تک ہو سکے شفافیت ہو۔
حقوق انسانی کی کونسل نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اگر دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے بشمول ڈرون ، ان کی طرف سے اختیار کردہ تمام اقدامات عالمی قوانین کے تحت ہوں۔ رپورٹ کے خصوصی تفتیش کار بین ایمرین کی حالیہ رپورٹ کی روشنی میں ڈرون حملوں میں عام لوگوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ قرار داد میں عالمی ادارے کی حقوق انسانی کونسل کی سربراہ نوی پلے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مسلح ڈرون کے استعمال پر تفصیلی مباحثے کا اہتمام کریں اور ستمبر میں اقوام متحدہ کو اس کی تفصیلات سے آگاہ کریں۔

قرار داد کی مخالفت کرنے والے ممالک میں برطانیہ ، فرانس ا ور امریکہ نے کہا کہ اقوام متحدہ انسانی کی کونسل کے ایجنڈے پر ہتھیاروں کے نظام جیسے معاملات نہیں ہونے چاہئیں ۔ ووٹنگ کے دوران 14ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق قرار داد میں اس مسئلہ کے حوالے سے قانونی سوالات پر ماہرین کے ” باہمی پینل مباحثہ“ منعقد کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے جیسا کہ دہشت گردی کا انسداد کرتے ہوئے انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے بارے میں اقوام متحدہ خصوصی رابطہ کاربین ایمرسن کی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے۔
پینل مباحثہ ستمبر 2014ء میں جنیوا میں منعقد ہونے والے انسانی حقوق کونسل کے 27ویں اجلاس میں ہوگا۔ یہ قرار داد قوام متحدہ میں اس اہم قانونی معاملہ پر نین الاقوامی برادری کو احساس دلانے کے لئے ہمارے مشن کے ہم خیال ریاستوں کے ساتھ قریبی رابطہ کا نتیجہ ہے ۔ اس قرار داد کی منظوری بین الاقوامی قوانین کے خلاف مسلح ڈرونز کے استعمال کے بارے میں پاکستان کے اصوالی موقف کیلئے بین الاقوامی حمایت کے حصول کے ضمن میں اس کی سفارتی کامیابی کا اجاگر کرتی ہے۔
اس سے ڈرونز کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے پاکستان کی کوششوں کو مزید تقویت حاصل ہوگی۔
علاوہ ازیں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے ڈرون حملے روکنے کیلئے امریکی صدر اوباما سے بات کی۔وزیراعظم نے امریکی صدر سے کہا کہ اس سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہو رہا ہے ، امریکہ نے ہماری بات مانی اور ڈرون حملے روک دیئے۔
نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ڈرون حملوں کے معاملے میں امریکہ پر بین الاقوامی دباوٴ بھی تھا‘ یہ نہیں پتہ کہ کب تک ڈرون حملہ نہیں ہو گا‘ توقع ہے عنقریب نہیں ہوگا۔2010ء سے اب تک ڈرون حملوں میں تواتر سے کمی آرہی ہے۔ امریکہ نے ڈرون حملے روکنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا بس فی الحال ڈرون حملے نہیں کئے جا رہے، ڈرون حملے جہاں ہور ہے تھے وہاں بے گنا ہ لوگ ہوتے ہیں۔

دریں اثناء ڈپٹی سپیکر اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی نے ڈرون حملوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد کے حوالے سے سوال کا جواب نہ آنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ آئندہ باری آنے پرہر صورت اس سوال کا جواب ایوان میں پیش کیا جائے۔ وقفہ سوالات کے دوران سید آصف حسنین کے ڈرون حملوں میں جاب بحق ہونے والی تعداد سے متعلق سوال کا جواب موصول نہ ہونے سے متعلق پارلیمانی سیکرٹری چوہدری جعفر اقبال نے کہا کہ یہ سوال چارہ ماہ سے چار ڈویژنوں میں گھوم رہا ہے اس کا جواب دینا شاید مناسب نہیں سمجھا جا رہا۔
اِن کمیرہ بریفنگ میں سوال کا جواب دیا جا سکتاہے۔ اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ کے ساتھ مذاق ہے۔ وزیر مملکت شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ وہ اس کا نوٹس لیں گے۔
پاکستان سمیت کسی بھی ملک پر ڈورن حملے علاقائی سالمیت اور جغرافیائی کود مختاری پر حملے کے مترادف ہے۔ ایک آدھ مطلوبہ ٹارگٹ کے ساتھ درجنوں بے گناہ بچوں اور عورتوں سمیت انسانوں کی ہلاکت سے بڑھ کر انسانیت سوز فعل اور کیا ہو سکتا ہے۔
عالمی ضمیر نے ان حملوں کے خلاف آواز اٹھا کر املاک تباہ ہو رہی ہیں جبکہ امریکی دعووں کے برعکس یہ ڈرون حملے دہشت گردی ختم کرنے کی بجائے ان میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس لئے امریکہ اور اس قرار داد کی مخالفت کرنے والے ممالک جو ڈرون طیارے رکھتے ہیں ‘ وہ عالمی اداروں کی قرار دادوں اور بنیادی انسانی حقوق کے علمبرداروں کے مطالبات کے پیش نظر ڈرون حملوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے بے گناہ شہریوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کر رہا ہے ۔
اب امید پیدا ہوئی ہے کہ اس کی یہ کوشش رنگ لا رہی ہے ۔ اس سلسلے میں عالمی رائے عامہ کی بیداری اس کی کامیابی کے امکانات میں اضافہ کر رہی ہے۔ اگرچہ یمن اور سوئٹزرلینڈ کی جانب سے پیش کردہ پاکستانی قرار داد میں کسی ملک کانام نہیں لیا گیا لیکن ساری دنیا جانتی ہے کہ یہ امریکہ ہے جو پاکستان کے قبائلی علاقوں اور یمن پر ڈورن حملے کر رہا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان