بند کریں
بدھ جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دعوت میں بھی پہل‘ شرکت کا بھی اعزاز
وزیراعظم نوازشریف بھارتی ہم منصب نریندرا مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے بعد وطن واپس آگئے ہیں ان کے دورے کی” کامیابی یا ناکامی “ کے بارے میں سر دست کچھ کہنا مشکل ہے یہ اپنی نوعیت کا منفرد دورہ تھا
نواز رضا:
جو کسی پاکستانی وزیر اعظم نے بھارت کے وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری پر کیا ہے پچھلے 67 سال کی پاک وہند کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی کہ دونوں ملکوں کے کسی سربراہ نے ایک دوسرے کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی ہو۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے من موہن سنگھ کو اپنی تقریب حلف برداری میں مدعو کرکے اس کی پہل کی تھی لیکن انہوں نے بھارت کے انتہا پسندوں کی مخالفت کے باعث تقریب حلف برداری میں شرکت سے معذرت کر لی تھی۔
لہٰذا جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کو مدعو کیا تو انہوں نے ”دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں “ کی مخالفت کو نظر انداز کرتے ہوئے نئی دہلی جانے کے مشکل فیصلہ کا بھی اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ وزیر اعظم یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا ذکر نہ کرنے پر انہیں ”نئی دہلی یاترا“ کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی دورہ بھارت کی دعوت قبول کرنے سے قبل فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو اعتماد میں لیا گیا ان کے دورہ بھارت پر روانگی سے قبل پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کی لاہور میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے دورہ ء بھارت کے معاملے پر حکومت اور فوج ایک ہی ”صفحہ “ پر ہیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی واضح کیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے دورہ ء بھارت پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ اگرچہ جماعت اسلامی اور جماعت الدعوة نے ان کے دورے کی مخالفت کی ہے تاہم اپوزیشن کی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی ،تحریک انصاف ،اے این پی نے ان کے دورہ ء بھارت کا خیر مقدم کیا ہے۔
بھارتی” پردھان منتری“ نریندر مودی نے اپنی تقریب حلف برداری پر دنیا کے 64 ممالک کے سربراہان و وزرائے اعظم کو شرکت کی دعوت دی تھی لیکن تقریب میں6 مما لک کے سربراہان اور دیگر کے نمائندوں نے شرکت کی۔وزیر اعظم نواز شریف تقریب کے شرکاء کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔اگرچہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کی بھارتی راشٹر پتی پرناب مکھر جی اور پردھان منتری نریندر مودی سے ملاقاتیں کرٹسی کال تھی لیکن میاں نواز شریف نے اپنے ہم منصب سے خطے کی صورتحال اور دو طرفہ دلچسپی کے امور اور جامع مذاکراتی عمل کی بحالی پر بات چیت کی ہے۔
وزیر اعظم محمد نواز شریف نے پردھان منتری نریندر مودی کوپاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے جسے انہوں نے قبول تو کر لیا ہے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ پاکستان کا دورہ کرنے کا جراء ت مندانہ فیصلہ کر سکیں گے کہ نہیں۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے بھارتی وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرکے ”امن کا پیغام پہنچا یا ہے“ اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارتی قیادت اسے پاکستان کی کمزوری سمجھتی ہے یا وقت کی ضرورت سمجھ کر باہم رابطوں کو آگے بڑھاتی ہے اس بارے میں آنے والے دنوں میں ہی حتمی طور پر کہا سکے گا۔
عالمی میڈیا نے بھی وزیراعظم نوازشریف کی تقریب میں شرکت کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ انتخابی مہم میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا پاکستان کے بارے میں موقف سخت رہا ہے لیکن وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کے رویہ میں تبدیلی محسوس گئی ہے۔وزیر اعظم کے دورہ ء بھارت سے کشیدہ تعلقات میں کسی بڑے بریک تھرو کا امکان نہیں تھا بہرحال کہا جاسکتا ہے دونوں اطراف برف ضرور پگلی ہے۔
سفارتی حلقوں میں مودی کی موو کو ”ماسٹر سٹروک “سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ گذشتہ 10 برس کے دوران ٹوٹی ہوئی کڑیوں کو اس ملاقات سے ایک بار پھر جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ڈاکٹر من موہن سنگھ 10 برس تک اقتدار میں رہے لیکن بی جے پی کی مخالفت کے خوف سے پاکستان کا دورہ کرنے کی ہمت نہ کر سکے1999 میں اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی دوستی بس لے کر پاکستان آئے لیکن ”کرگل ایڈونچر “ نے سب کچھ خاک میں ملا دیاتھا۔
جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ نواز شریف پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو بائی پاس کر کے ذاتی خواہش پر نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے حیدر آباد ہاؤس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے 50منٹ کی ملاقات کے بعد اخبارنویسوں سے مختصر خطاب کیا دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے دو ادوار ہوئے ملاقات کا وقت 35منٹ تھا ،لیکن یہ 50منٹ تک جاری رہی ذرائع کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندری مودی نے وزیر اعظم محمد نواز شریف سے کہا کہ ہم ممبئی ٹرائل کے حوالے سے انصاف کی درخواست کرتے ہیں اور دونوں ملکوں کی مدد سے اس باب کو ہمیشہ کے لئے بند کر دینا چاہتے ہیں۔
اسی طرح نریندر مودی نے کہا کہ ہم تجارت ،ٹیکسٹائل اور توانائی میں سرمایہ کاری کی طرف بڑھ سکتے ہیں اس سے دونوں اطرف کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ملاقات کے بعد بتایا دونوں ملکوں کے درمیان خطے کی ترقی کیلئے ہمارا ایجنڈا مشترکہ ہے ‘وزیر اعظم نے کہا کہ ملاقات کے دوران میں نے اپنے بھارتی ہم منصب کو فروری 1999ء کا اعلان لاہور یاد دلایا جس میں اقتصادی بحالی کے معاملے پر بھی بات کی گئی تھی۔
لہذا آج بھی ہمارے لئے یہی بہتر ہو گا کہ ہم تصادم کو تعاون میں تبدیل کریں۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق رائے کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے سیکرٹری خارجہ جلد ملاقات کریں گے اور دو طرفہ ایجنڈا کا جائزہ لیں گے۔وزیر اعظم نواز شریف پریس کانفرنس کے اختتام پر بھارتی میڈیا کو اس وقت طرح دے گئے جب وہ ان کی طرف سوالات کے لئے لپکے انہوں نے کمال چابکدستی سے کسی کو سوال کرنے کا موقع نہیں دیا۔
وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی پریس کانفرنس میں دانستہ مسئلہ کشمیر پر کوئی بات نہیں کی ۔تاہم انہوں نے اسلام آباد روانگی سے قبل نئی دہلی سے ٹیلی فون پر سینئر پاکستانی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر واضح کردیا کہ مسئلہ کشمیر کا ایسا حل ہونا چاہیے جو کشمیری عوام کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کیلئے بھی قابل قبول ہو۔
انہوں نے بتایا کہ بھارتی ہم منصب سے دوسری ملاقات ستمبر میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیو یارک میں ہوگی۔ وزیر اعظم کی نئی دہلی میں موجودگی کے دوران توقع تھی کہ کشمیری قیادت کے ساتھ ان کی ملاقات ہو گی مگر پاکستان ہائی کمیشن نے اس کا اہتمام نہ کیا۔بلا شبہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کا دورہ ء بھارت کم اہمیت کا حامل نہیں اس کی بازگشت اب پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں بھی سنی جائے گی۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-30

(0) ووٹ وصول ہوئے