بند کریں
جمعہ جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
داعش
یہ افغانستان میں خانہ جنگی کا باعث بن سکتی ہے ۔۔۔۔۔ افغانستان اب میں وہی صورتحال پیدا ہورہی ہے جو روس کی شکست کے بعد سامنے آئی تھی ۔ اس صورتحال کے بارے میں پیش گوئیاں پہلے سے ہی کی جارہی تھیں
اسعد نقوی :
افغانستان کوا یک بار پھر جنگی کی سی صورتحال سے گزرنا پڑرہا ہے ۔ داعش نے دنیا کے ممالک کی طرح افغانستان میں بھی قدم جمالئے ہیں ۔ اسی طرح داعش اور تحریک طالبان افغانستان کے درمیان بھی کھینچا ناتی شروع ہوچکی ہے ۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر حملے کیے جارہے ہیں ۔ ان حالات میں طالبان کودوطرفہ جنگ لڑنا پڑ رہی ہے ۔ ایک طرف سرکاری فوج ہیں تو دوسری طرف داعش کے جنگجو یہ صورتحال افغانستان کے عام عوام کے لیے انتہائی خطرناک ہے ۔

افغانستان اب میں وہی صورتحال پیدا ہورہی ہے جو روس کی شکست کے بعد سامنے آئی تھی ۔ اس صورتحال کے بارے میں پیش گوئیاں پہلے سے ہی کی جارہی تھیں ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نیٹو اور امریکی فوج کی واپسی کے اعلانات کے باوجود ایسا لائحہ عمل ترتیب نہیں دیا گیا تھا صورتحال کو بدتر ہونے سے بچاسکے یہی وجہ ہے کہ جس طرح ماضی میں روس کے خلاف تمام جہادی اکٹھے تھے لیکن روس کے جانے کے بعد یہ جہادی دھڑ آپس میں لڑتے رہے اور افغانستان خانہ جنگی کی لپیٹ میں آگیا تھا ۔
اب ایک بار پھر افغانستان میں یہی کہانی دوہرائی جاتی نظر آرہی ہے ۔ نیٹو اور امریکہ کے خلاف جنگ میں افغانستان کے عسکری گرو ہوں کی حمایت یا تو طالبان کے ساتھ رہی یا پھر یہ گروہ حکومت کے ساتھ مل گئے تھے ۔ اس منظرنامے میں افغانستان کے حکومت مخالف دھڑے میں سب سے زیادہ اہمیت افغان طالبان کو حاصل تھی ۔ افغان طالبان کے امیر ملا محمد عمر ہی ان جہادیوں کے امیر المومنین سمجھے جاتے تھے ۔
ان کی جانب سے کیا گیا فیصلہ حمتی سمجھا جاتا تھا ۔ اس طرح طالبان کے متعدد ذیلی گروہ بھی تھے ۔ القاعدہ اختلافات کا شکار تھی اور افغان طالبان کوہی افغانستان میں سپریم حیثیت حاصل تھی ۔
اب افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا اور مقامی حکومت کے مضبوط ہونے کے عمل کے آغاز سے ہی صورتحال بدلتی نظرآرہی ہے ۔ افغانستان میں طالبان اپنی مضبوط پہچان اور پاور شو کیلئے بڑے حملے کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔
اس سلسلے میں کابل میں افغانستان پارلیمنٹ پر بھی حملہ کیا گیا ہے ۔ افغانستان پر امریکی حملے کے وقت وہاں طالبان کی حکومت تھی اس لیے ان کا خیال ہے کہ حکومت ان کا حق ہے ۔ دوسری جانب حکومت کی کوشش ہے کہ طالبان شریک اقتدار جیسا کوئی فارمولا تسلیم کرلیں ۔
ایک طرف تو حکومت اور طالبان کے درمیان کھینچاتانی چل رہی ہے تو دوسری طرف عسکری گروہوں کے درمیان بھی زورآزمائی شروع ہوچکی ہے ۔
اس سے قبل جہادی تنظیموں میں ملا عمر کو ہی امیر المومنین کے نام سے جانا جاتا تھا جبکہ خلافت کا دعویدار کوئی نہ تھا ۔ یہاں تک کہ القاعدہ کی جانب سے کسی کو بھی خلیفہ وقت قرار نہیں دیا گیا ۔ اب داعش نے کود مختار ہو کر نہ صرف خلافت کا نعرہ لگایا بلکہایک خلیفہ بھی منتخب کر لیا ۔ اسامہ بن لاون کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کافی حد تک بیک فٹ پر آگئی تھی اور داعش تیزی سے اس جگہ لے رہی ہے اور خود کو عالمی عسکری تنظیم کے طور پر متعارف کرانے میں کامیابی حاصل کررہی ہے ۔
القاعدہ کے برعکس داعش کے پاس اپنی خود ساختہ ریاست بھی ہے ۔ ماضی میں القاعدہ عالمی تنظیم تھی جبکہ طالبان ریاست کے حامل تھے ۔ ان دونوں نے مل کر جو صورتحال تیارکی اب داعش تنہا وہی منظر نامہ پیش کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عسکری گروہوں نے داعش کی حمایت شروع کردی ہے ۔
دنیا کے دیگر ممالک کی طرح داعش نے افغانستان میں بھی قدم جمانے شروع کردیئے ہیں ۔
ابتدا میں کہا جارہا تھا کہ داعش اور طالبان مل کر زیادہ مہلک ثابت ہوں گے لیکن صورتحال اس کے برعکس نظر آئی ۔ داعش کا نظریہ القاعدہ کی طرح عالمی خلافت ہے جبکہ طالبان غیر ملکی قبضہ کیخلاف لڑرہے ہیں ۔ طالبان قیادت افغانستان سے باہر کے معاملات میں زیادہ دخل نہیں دیتی ۔ یہی وجہ ہے کہ القاعدہ کے عالمی خلافت کے نظریہ سے متاثر عسکری گروہ اب طالبان کی بجائے داعش کی طرف جھکاؤ ظاہر کررہے ہیں ۔
داعش کو افغانستان میں اپنے نظریاتی حامی اور عسکری مددگار مل گئے ہیں ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ داعش اور طالبان کے جنگجو آمنے سامنے آرہے ہیں ۔ داعش افغانستان میں طالبان کو اپنی موجودگی ظاہر کرنے میں کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے ۔ اسی طرح طالبان کے حامی گروہ خصوصاََ انٹرنیٹ نیوز ویب سائٹس کی ٹیمیں تیزی سے داعش کی حمایت کرتی چلی جارہی ہیں ۔
پڑھے لکھے جہادیوں نے بھی طالبان کی نسبت داعش کی طرف جھکاؤ ظاہر کیا ہے ۔ داعش اور طالبان میں ایک بڑا فرق مقصد اور دائرہ کار بھی ہے ۔ افغانستان طالبان دنیا کے دیگر علاقوں میں کاروائیوں کے حامی نہیں لیکن نوجوان نسل تیزی سے باہر نکل کر دنیا بھر میں خلافت کا جھنڈا لہرانا چاہتی ہے اس لئے ان کا زیادہ جھکاؤ بھی داعش کی جانب ہے ۔ داعش نے افغانستان میں بھی اہم کاروائیاں کرکے اپنی موجودگی کا ثبوت دیدیا ہے ۔

افغانستان طالبان کو اس وقت دوہری جنگ کا سامنا ہے ۔ ایک طرف تو اسے حکومت کے خلاف اپنی بھرپور طاقت کا اظہار کرنا ہے تو دوسری طرف داعش بھی اس کے سامنے کھڑی ہے ۔ ذرائع کے مطابق اب تک داعش اندرونی طور پر افغان طالبان کو بڑے جھٹکے پہنچاچکی ہے ۔ ان حالات میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر بدترین صورتحال کا سامنا کرے گا ۔
اگر داعش اور طالبان کے درمیان اختلافات بڑھتے چلے گئے اور یہ دونوں گروہ آپس میں برسر پیکار ہوئے تو صورتحال حکومت کے حق میں چلی جائے گی ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری اس صورتحال کا نوٹس لے اور افغانستان میں ایک مضبوط انتظامی ڈھانچہ ترتیب دے ۔ اسی طرح طالبان سمیت افغانستان کے سبھی اسٹیک ہولڈرز کو اقتدار میں شریک کرے ۔ افغان طالبان نے حال ہی میں امن مذکرات کوبھی آگے بڑھانے سے انکار کردیا ہے ۔ ایسی صورتحال افغان عوام کیلئے مزید خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ۔ افغانستان سے دہشت گردی اور لاقانونیت کا خاتمہ صرف افغانستان کا ہی نہیں بلکہ خطے کے ہر ملک کا مسئلہ ہے ۔ اگر افغانستان میں امن قائم ہوگا تو یقینا اس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک تک بھی پہنچیں گے ۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-27

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان