بند کریں
اتوار فروری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
داعش کا جنگی جنون
اب ترکی کی سرحد کی جانب بڑھ رہا ہے۔۔۔۔۔ عراقی فوج کی مشکل یہ ہے کہ اسے کسی باقاعدہ فوج کا سامنا نہیں ہے بلکہ داعش کے جنگجووٴں نے پورے علاقے میں جابجابوبی ٹرپیس اور بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں
عراق کی فوج ایک عرصے سے داعش کے زیرہ قبضہ اہم ترین علاقے تکریت میں داخل ہونے میں کامیاب ہو چکی ہے ۔ اس حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ عراقی فوج نے یہ کامیابی امریکی فضائیہ کی مدد کے بغیر حاصل کی ہے۔ عراق میں داعش کے خلاف یہ پہلی بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ تکریت سابق عراقی صدام حسین کا آبائی علاقہ ہے اور یہاں داعش کے علاوہ صدام حسین کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد بھی عراقی فوج کے خلاف نبرد آزما تھی۔
تکریت کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں داخل ہونے کے بعد عراقی فوج کیلئے اب داعش کے خلاف موثر کارروائی کرنا ممکن ہو گیا ہے اور آنے والے چند دنوں میں اس حوالے سے بڑی خبریں سامنے آسکتی ہیں۔ سرکاری فوج اس وقت ”قدسیہ“ کے نواحی علاقوں میں پیشقدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عراقی فوج کی مشکل یہ ہے کہ اسے کسی باقاعدہ فوج کا سامنا نہیں ہے بلکہ داعش کے جنگجووٴں نے پورے علاقے میں جابجابوبی ٹرپیس اور بارودی سرنگیں بچھا رھی ہیں اور اس کے ماہر نشانہ باز اپنی خفیہ کمین گاہوں سے تکریت میں داخل ہونے والی فوج کو نشانہ بناتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق تکریت شہر پر قبضہ کرنے والے داعش کے جنگجووں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں لیکن یہ لوگ انتہائی تربیت یافتہ اور منجھے ہوئے ہیں ان کے مضبوط مرکز میں داخل ہونے کی مہم میں کم از کم 30 ہزار عراقی فوجی پولیس اہلکار اور رضا کار شریک ہیں ۔داعش کی بربریت نے سنی العقیدہ عراقیوں کو بھی اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے پر مجبور کر دیا ہے اور تکریت میں سرکاری فوجوں کا داخل ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقامی آبادی اب داعش کی بجائے عراقی فوج کی حمایت پر کمر بستہ ہے۔
داعش نے تکریت سے پسپا ہونا شروع کردیا ہے اور اب اس کی توجہ شام کی سرحد سے ملحق عراق شہر رمادی پر مرکوز دکھائی دیتی ہے جہاں اس کی کار روائیاں اس وقت عروج پر پہنچ چکی ہے۔ داعش کے خود کش حملہ آوروں نے شہر میں اہم عسکری وسول تنصیبات پر حملے شروع کر رکھے ہیں جن کی زد میں آکر درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں تاہم ابھی تک داعش شہر کے کسی حصے پر قابض نہیں ہو سکی۔
صوبہ انبار کے گورنر نے داعش کے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ عراق فوج کامیابی سے شہر کا دفاع کر رہی ہے اور داعش کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
داعش عراق کے ساتھ ساتھ شام میں بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور چند روز قبل اس نے ترکی کی سرحد سے ملحق ایک شامی شہر پر بڑا حملہ کیا تھا۔ راس العین نامی یہ شہر تزویراتی اہمیت کا حامل ہے اور اگر یہاں داعش اپنے پاوٴں جمانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر وہ اپنی کارروائیاں ترکی تک پھیلانے میں تاخیر نہیں کرے گی۔
راس العین کی جانب پیش قدمی سے قبل داعش اس کے ایک ن نواحی گاوں پر قبضہ کر کے وہاں اپے مورچے قائم کر چکی ہے اور عراق وشام کی سرحدوں کو روندنے کے بعد اس کے قدم ترکی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-21

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان