بند کریں
ہفتہ فروری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
داعش کے خلاف امریکہ افغانستان ‘طالبان اور برطانیہ کاایکا
امریکہ نے برطانیہ کوبھی افغانستان میں مزیدفوجی قیام پرراضی کیا۔۔۔۔ گوریلا جنگ افغانستان کے انسانی وسائل ملنے پر برطانیہ اور امریکہ کوداعش سے نمٹنے میں آسانی ہوگی!
امریکہ کی ہمیشہ سے ہی کوشش رہی ہے کہ وہ اپنی جنگیں بھی اپنے ملک کے بجائے دوسروں کی سرزمین پر جاکرلڑے اسی لئے اس کے بارے میں یہ کہاجاتا ہے کہ امریکہ کو جنگ کی ہولنا کیاں اسی وقت معلوم ہوں گی جب اسے اپنی سرمین پر جنگ سہنا پڑے گی۔ماضٰ کی جس قدر جنگی تاریخ کی بھی ورق گردانی کی جائے تو امریکیوں کایہ رویہ ثابت ہوتا ہے۔امریکہ نے سپر پاورکادرجہ حاصل کرنے کیلئے پہلے افغانستان کی سرزمین کاانتخاب کیا اور اپنا مفادحاصل ہوتے ہی اس نے پلٹ کربھی نہیں دیکھا کہ جس میدان جنگ نے اسے سوویت یونین کے خلاف فتح دلائی وہاں کیاہورہاہے؟یہی نہیں اس نے پاکستان کوبھی سوویت یونین کے خلاف جنگی اعانت کاصلہ اوجڑی کیمپ جیسے گھناؤ نے واقعات کی صورت میں دیا۔
پاکستان نے توخود کو افغان جنگ کے بعد سنبھال لیا لیکن سرحد پاروہ”پودے“ جوخودامریکہ نے افغانستان میں لگائے تھے نے ایسے پھل دینا شروع کردئے جواسی کیلئے خطرہ بن بیٹھے۔امریکہ کو اس بابت ہوش اس وقت آیاجب پانی سر سے اونچا ہوچکاتھا جس کے بعد ایک بار بھراپنی چودھراہٹ کو استحکام بخشنے کیلئے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی،یہاں یہ امربھی قابل ذکر ہے کہ امریکہ روایتی جنگ کیلئے استعمال کیا ہے اس کااب تک یہ بھی ریکارڈ ہے کہ وہ کسی بھی گوریلا جنگ میں نہیں کودا لیکن شائداب اسے یہ پرہیز بھی ختم کرنا پڑے گا جس کیلئے اس نے شام کاانتخاب کیاہے جہاں کیلئے حال ہی میں امریکہ نے اپنا ایک چھوٹا فوجی دستہ بھیجنے کے فیصلے کااعلان کیا ہے جو بقول امریکیوں کے شام میں مشاورت اور معاونت“ کے فرائض انجام دے گا۔
اس دستے کی کچھ تفصیل جاری کی گئی ہے جس کے تحت صدر بارک اوباما نے امریکی فوج اسپیشل آپریشن فورسز کاایک چھوٹا دستہ شمالی شام میں تعینات کرنے کی منظوری دیدی ہے،یہ دستہ50سے کم اہلکاروں پر مشتمل ہوگا جس کابنیادی مقصد یہ ہوگا کہ شام میں موجودداعش کے نیٹ ورک کاخاتمہ کیاجائے۔امریکہ شام میں سرگرم مقامی باغی دستوں اور داعش کے خلاف عالمی اتحاد کی کارروائیوں کے درمیان رابطے اور ان کارروائیوں کومزید موثر بنانے کاکام کرے گا۔
واضح ہو کہ شام میں گزشتہ ساڑھے چارسوں سے جاری خانہ جنگی کے دوران یہ پہلا موقع ہوگا کہ امریکی فوجی دستہ کسی چھاپہ مارمہم یامخصوص مشن کے بجائے باقاعدہ اعلانیہ طور پر وہاں تعینات کیاجائے گا۔اطلاعات کے مطابق امریکی صدرنے داعش کے رہنماؤں اور نیٹ ورک کوہدف بنانے کی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے ایک اسپیشل آپریشن ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز بھی منظور کرلی ہے اور امریکی حکام کواس معاملے پر عراقی رہنماووں کے ساتھ مشاورت کرنے کی ہدایت کی ہے۔
شام میں ان جنگی مقاصدکیلئے صدراوباما نے ترکی میں امریکی فوج کے زیر استعمال ہوئی اڈے پراے10اور ایف15جنگی طیاروں کی تعیناتی کی منظوری بھی دیدی ہے۔امریکی حکام کے مطابق امریکہ کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کی داعش کے خلاف حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور شام میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کافیصلہ اس حکمت عملی کاحصہ ہے۔

امریکہ اگرواقعی کارروائیوں میں حصہ لینے جارہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہواکہ وہ گوریلا جنگ کاعملی تجربہ پہلی بارکرنے جارہاہے اور اس کا سامنا ایک ایسے فریق سے ہوگا جو سفاکی میں یدطولیٰ رکھتا ہے۔ داعش کے جنگجووں کے اسی وصف کی وجہ سے امریکہ داعش کے خلاف جاری کارروائیوں میں شدت لانے کیلئے مختلف طریقوں پر غور کررہا ہے اور پہلے سے اپنائی گئی حکمت عملی کو مزید سخت تربنایاجارہا ہے۔
امریکہ نے اس ضمن میں دلچسپ پالیسی اپنائی ہے جس کے تحت شام کے ان علاقوں میں جہاں مقامی لوگ داعش کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں ان کوساتھ ملایا جارہاہے تا کہ ان کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاسکے اور اس اشتراک کے نتیجے میں اپنی صلاحیت کومقامی ضرورت کے حساب سے بڑھایاجائے لیکن یہ معاملہ ابھی شروع نہیں ہواتھا کہ روس نے امریکہ کوخبردار کردیا کہ وہ شام کے معاملات میں گھسنے سے باز رہے ان حالات میں امریکی حکومت کیلئے سفارتی مشکلات بڑھ سکتی ہیں کیونکہ ایک طویل عرصے سے روس جوسوویت یونین کاجانشین ہے نے امریکہ کوکہیں بھی ٹوکنے کی کوشش نہیں کی لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ روس اس قدر کھل کرسامنے آیا ہے ۔
بعض حلقے اس وارننگ کوبڑی اہمیت دے رہے ہیں اور اسی کی بنیاد پر یہ بھی کہاجارہاہے کہ شام کے مسئلہ پرشائددونوں ممالک کے مابین ایک بارپھر سردجنگ کادور پھر سے لوٹ آئے۔ کیاسردجنگ ایک بارپھر ماضی کی طرح شدید ہوسکتی ہے اس بارے میں توسرد ست کچھ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا لیکن امریکہ اس مہم جوئی میں خاصا سنجیدہ ہے اور اس ضمن میں وہاں پر موجود مقامی گرہوں کے تعاون کوبڑی اہمیت دی جارہی ہے۔
امریکہ کامئوقف ہے کہ وہ اور اس کے حلیف روس کی ان کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں جس کے مطابق روس کے ان فضائی حملوں کازیادہ ترنشانہ صدر بشارالاسد کی حکومت کے مخالف وہ باغی بن رہے ہیں جنہیں امریکہ اور اس کے اتحادی فوجی تربیت اورمعاونت فراہم کرتے ہیں۔امریکہ ایک طرف توعلاقے میں چھاپہ مارجن کی بات کررہا ہے تودوسری طرف وہ داعش کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافے کے باوجود شام کے بحران کے سفارتی حل کی کوششوں میں بھی تیزی لارہا ہے تاکہ وہاں جاری خانہ جنگی کوپرامن اور سیاسی انداز میں ختم کیا جاسکے اور جو”دلیری“ وہ پچاس فوجیوں کے ساتھ دکھانا چاہ رہاہے اس سے بچاجاسکے۔
امریکہ کی ایک طرف تو دلیری کا یہ عالم ہے کہ وہ شام میں جاری گوریلا جنگ میں کودرہا ہے تو دوسری طرف افغانستان میں اس نے طالبان کے اوپر تلے حملوں کے خوف سے اپنے دیرینہ یورپی رفیق برطانیہ کوبھی افغانستان میں مزید فوجی قیام پر راضی کرلیا ہے۔یادرہے کہ امریکہ نے پہلے ہی افغانستان میں اپنے قیام میں توسیع کااعلان کر دیا ہے تاہم وہ جانتا ہے کہ تنہا افغانستان کے موجودہ حالات میں اس کاوہاں رہنا مناسب نہیں اسلئے برطانیہ کوبھی ساتھ ملا لیا گیا ہے۔
افغانستان میں برطانوی فوج نے امریکہ کی طرح اپناقیام سردست2016ء کے اوخرتک ہی بڑھایا ہے لیکن اس قیام کووہ غیر فوجی سرگرمیوں کے طور پر گردان رہاہے اس بات باضابطہ اعلان برطانوی سیکرٹری خارجہ مائیکل فالن نے چندروز قبل کیا تھا ان کامئوقف تھا کہ برطانوی فوج افغانستان میں توقیام کرے گی لیکن وہ کسی حربی کارروائی میں حصہ نہیں لے گی بلکہ اس کے قیام کامقصد یہ ہے کہ افغان نیشنل آرمی کوتربیت کرے ،یاد رہے کہ افغان نیشنل آرمی کی تربیت باقاعدہ طور پر ہندوستان نے کی ہے اور اس فوج کی اہلیت اس قدر کم ہے کہ وہ توملک کے اندر حکومتی رٹ بحال کرواسکتی ہے اور نہ ہی سرحدوں پر دراندازی کوروک سکتی ہے اس لئے اس فوج کوگاہے بہ گاہے تربیت دی جارہی ہے تاکہ یہ کم اکم اپنے ملک کے اندرحکومتی رٹ بحال کرسکے۔

برطانیہ کافی الوقت تویہی مئوقف ہے لیکن افغان حلقوں کاکہنا ہے کہ جب افغانستان میں دمادم مست شروع ہوگا تو پھرکوئی خود کو صرف تربیت تک محدود نہیں رکھ سکتا،اگران ذرائع کی اس پیش بینی کودرست مان لیا جائے تو پھر برطانوی فوج اس وقت کیا کرے گی اگر قتدوزجیسے واقعات مزید ظہورپذیر ہوں گے،اس سوال کاجواب قرائن کی روسے تو اثبات ہی میں دکھائی دیتا ہے کیونکہ افغانستان میں حالات بہتر ہونے کے بجائے تیزی سے بگڑرہے ہیں اور حکومتی عملداری اس قدر گھٹ چکی ہے کہ عوام خودہی اب کسی اور کواپنے سروں پرمسلط نہیں کرنا چاہتے۔
برطانوی حکام کوبھی بخوبی یہ معلوم ہوگا کہ افغانستان کے اندر جوجوار امریکہ انگریزدوستی میں اپنی دوستی نبھارہا ہے جبکہ افغانستان میں حالات یہ ہیں کہ چندروز قبل مشرقی صوبہ ننگرہارمیں سینکڑوں مقامی شہری داعش کے بڑھتے ہوخطے کی وجہ سے شدت پسندوں کے خلاف خودہی اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔اس ضمن میں اچین کے ضلعی گورنرحاجی غالب نے میڈیا کوبتایا تھا کہ دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی کیلئے تقریباََ600مقامی افراد ہمارے ساتھ شریک ہوگئے ہیں۔
واضح ہوکہ افغانستان کے ضلع اچین کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں، جہاں حالیہ دنوں داعش کے شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی رپورٹیں ملی ہیں۔گورنر کے مطابق ابتداء میں اندازا1500جنگجو موجود تھے لیکن ان میں سے زیادہ تریا تو ہلاک ہوئے یا پھر ہماری افواج کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے۔یادرہے کہ افغانستان میں طویل خانہ جنگی کے بعد اب عوام لڑائی سے عاجز آچکے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ القاعدہ کے بعد اب داعش کو افغانستان میں جگہ دیں۔
افغانیوں کاکہنا ہے کہ طالبان تو ان کے اپنے لوگو ں کی تحریک ہے جبکہ القاعدہ کوان سے قربت کی وجہ نادل ناخواستہ برداشت کیا جس کے سنگین نتائج اب بھی افغان عوام بھگت رہے ہیں اس لئے اب ان کا پیمانہ صبر اس قدر لبریز ہوچکا ہے کہ وہ مزید کسی مہم جائی نام سے بھی خائف ہیں۔افغانستان میں حالیہ مہنیوں کے دوران داعش کی شرکی میں اضافہ دیکھا گیا ہے خاص طور پر صوبہ ننگر ہار میں جہاں داعش کے شدت پسندوں نے افغان سکیورٹی کی چوکیوں پرکئی حمل کئے ہیں وہاں سرکشی بڑھتی ہی جارہی ہے۔
اس سلسلے میں گوکہ افغان حکومت نے بھی کوشش کی کہ داعش کی سرگرمیوں کے خلاف بند باندھا جائے لیکن اسے خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی جس کے بعد مقامی لوگوں نے افغان سلامتی افواج کے ساتھ مل کرضلع اچین کوداعش سے پاک کرنے کے لیے مشترکہ کارروائی شروع کردی ہے اس تجربے کو اگرچہ افغان حلقے کامیاب قراردے رہے ہیں تاہم یہ کہہ دینا کہ اچین کے معاملات بالکل درست ہوگئے ہیں مناسب نہیں ہوگا اور اس کیلئے مزید کوشش کی ضرورت ہوگی یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ افغانستان میں اس وقت طالبان افغان حکومت دونوں داعش کے خلاف یکساں موقف رکھتے ہیں اس وجہ سے یہ پارٹنرشپ“ خواہ عوام کی صورت میں ہویا براہ راست طالبان کے ساتھ دونوں صورت میں کامیابی ضرور حاصل کرے گی جس کی بناء پر کسی حدتک یہ کہا جاسکتا ہے کہ برطانیہ اور ا مریکہ کوبھی داعش سے نمٹنے میں آسانی ہوگی کیونکہ اس گوریلا جنگ میں انسانی وسائل تو افغانستان کے مل جائیں گے البتہ اگر جدید اسلحہ یاٹیکنالوجی کی ضرورت پڑی تو وہ امریکہ اور برطانیہ سے حاصل کی جائے گی اس لحاظ سے اگریہ کہاجائے کہ افغانستان میں داعش کوکچلنے کیلئے طالبان افغان حکومت اور امریکہ وبرطانیہ کاایکا ہوگیا ہے توزیادہ مناسب ہورہا ہے جس کاثبوت یہ ہے کہ ضلعی گورنر ابتدائی کارروائی بہت ہی کامیاب رہی۔
کاکہناتھا کہ مقامی لوگ حکومت کی حمایت کررہے ہیں اور حکومت بھی اُن کہ پشت پناہی کررہی ہے تو ایسے میں ننگرہار میں داعش کی شکست یقینی ہے،اگروہ پہاڑی سلسلے کی جانب چلے جائیں گے پھر بھی وہ شکست سے نہیں بچ سکتے‘اطلاعات یہ ہیں کہ کارروائی کے دوران داعش کے بیسیوں جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔افغان انٹیلی جنس ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ افغانستان میں داعش کے شدت پسندوں کی تعداد انداز2ہزار سے3 ہزار ہوگی بتایا جاتا ہے کہ دولت اسلامیہ نے افغانستان کے ان علاقوں میں جہاں ان کاکنٹرول ہے نوجوان سپاہ بھرتی کیا ہے جن کی کم عمر خواتین یالڑکیوں سے شادیاں کرائی گئی ہیں۔
واضح ہوکہ دولت اسلامیہ نے اپنی ویب سائٹ پرہولناک تصاویر کاایک سلسلہ شائع کیا جن کے لئے شدت پسندوں کاکہنا ہے کہ یہ افغانستان میں کھینچی گئی ہیں جن میں متعدد مردانہ لاشیں دکھائی گئی ہیں جوافغان فوج کی وردیاں پہنے ہوئے ہیں اور جن کے لئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ داعش کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہوئے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-09

(0) ووٹ وصول ہوئے