بند کریں
بدھ جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
برما کے مظلوم مسلمان
مسلمان اپنے علاقے کے اصلی باشندے ہیں لیکن برما کی حکومت نے اعلان کیا کہ یہ مسلمان برما کے باشندے شمار نہیں کئے جائیں گے۔ برما کے صدر تھین سین کے مطابق مسلمان ہمارے ملک کے شہری نہیں ہیں
قاری محمد اللہ بخش:
میانمار میں بدھ مذہب کے انتہاپسندپیروکاروں نے مسلمان آبادی پر حملہ کر کے 60 مسلمانوں کو شہید کر دیا جبکہ احتجاج کرنے پر پولیس اور فوج نے مشترکہ کریک ڈاؤن کے دوران خواتین، بچوں، بزرگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس اہلکاروں نے بلوائیوں سے مل کر مسلمان آبادی کی بچیوں سے زیادتی بھی کی۔ گذشتہ تین برس کے دوران بدھ بھکشوں کے حملوں میں 230 سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا جا چکا ہے جبکہ اڑھائی لاکھ سے زائد افراد نے نقل مکانی کر لی تھی۔
میانمار کے صوبے اراکین راکھین میں بدھ مت کے پیروکاروں نے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے، انتہا پسند حملہ آوروں نے چاقوؤں اور دیگر ہتھیاروں سے مسلح ہو کر 17 خواتین اور 5 بچوں سمیت 60 مسلمانوں کو قتل کر دیا جبکہ کئی گھروں کو نذر آتش بھی کر دیا۔ بعد ازاں مقامی رہائشیوں کے احتجاج کرنے پر پولیس اور فوج نے الٹا کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔ فورسز نے گھروں کے دروازے توڑ دیئے اور کئی افراد کے مویشی بھی ساتھ لے گئے۔

برما کی آبادی 6کروڑ کے قریب ہے، 50فیصد بدھ مت کے ماننے والے ہیں جبکہ مسلمان دوسری بڑی اکثریت ہیں۔ ان مسلمانوں کو روہنگیا مسلمان کہا جاتا ہے۔ برما میں ایک کروڑ کے قریب مسلمان رہتے ہیں (برمی حکومت، مغربی میڈیا برمی مسلمانوں کی صحیح تعداد نہیں بتاتے) لیکن برما کی فوج اور حکومت ان کا قتل عام کر رہی ہے۔ تشدد پسند مسلمانوں کو مجبور کرتے ہیں کہ خنزیر کا گوشت کھائیں، شراب پیئں یا مرنے کے لئے تیار ہو جائیں اور برما کے مسلمان موت کو ایسی زندگی پر ترجیح دیتے ہیں۔
مسلم کش فسادات اس ملک میں گذشتہ تین برسوں سے جاری ہیں۔
مسلمان اپنے علاقے کے اصلی باشندے ہیں لیکن برما کی حکومت نے اعلان کیا کہ یہ مسلمان برما کے باشندے شمار نہیں کئے جائیں گے۔ برما کے صدر تھین سین کے مطابق مسلمان ہمارے ملک کے شہری نہیں ہیں اس لیے ان کے تحفظ کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ عام شہروں سے نکل کر مہاجر کیمپوں میں چلے جائیں یا ملک چھوڑ دیں۔
روہنگیا شہر میں موجود مسلمان ہمارے شہری نہیں ہیں اور نہ ہی ہم ان کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔ اگر انہیں حملوں کا سامنا نہیں کرنا تو وہ ملک چھوڑ دیں کیوں کہ ہم انہیں اپنا شہری نہیں مانتے ہیں برما کے بدھ بھکشو گاڑیوں میں بیٹھ کر پیدل چلنے والے یا بھاگنے والے یا دیہی علاقوں میں بسنے والے بچوں اور بڑوں کو کچلتے ہیں ان کے گھروں کو مسمار کرتے ہیں اور ان کی کھیتیوں کو ا?گ لگاتے ہیں۔
روہنگیا کے 40 ہزار بچوں کا نام درج نہیں کیا جا سکتا ہے ان پر ایک پابندی یہ ہے کہ دو سے زائد بچے نہ ہوں۔ ان شرائط کی خلاف ورزی ایسا جرم ہے جس کی سزا دس سال قید با مشقت ہے۔ 1982ء میں جاری شدہ میانمار حکومت کے قانون کے مطابق روہنگیا کے تمام بچے خواان کا نام نوٹ کیا گیا ہو یا نہ کیا ہو برمی نہیں سمجھے جائیں گے، انہیں غذا، خوردونوش، صحت کی سہولتیں اور تعلیم کے مواقع فراہم نہیں ہوں گے اور انہیں فوج کے مفاد والے مشکل کاموں میں استعمال کیا جائے گا۔
میانمار کے مسلمانوں کے قتل عام کی دلخراش تصاویر شائع ہونے پر عالم اسلام تڑپ اٹھا۔ مسلمانوں کے اس وسیع قتل عام پر کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ دنیا کے اس خطے میں مسلمانوں کی نشل کشی ہو رہی ہے۔ اس صورت حال میں بین الاقوامی ادارے اور انسانی حقوق کے دعویدار اپنی شرمناک خاموشی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی طرف سے محض مذمت بھی دیکھنے میں نہیں آئی ہے اقوام متحدہ اور اسلامی کونسل جو ہر وقت دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں اور اس قتل عام پر خاموش ہیں۔
دنیا کب تک اس جانبدارانہ قتل عام کو دیکھتی رہے گی کہ اقلیت ہونے کے جرم میں پچاس ہزار نہتے مسلمانوں کا قتل عام کافی نہیں۔ حقوق انسانی کے اداروں اور تنظیموں کی مکمل خاموشی اور بے پرواہی ان کی پیشانی پر بد نما داغ ہے اب یہ آشکار ہو چکا ہے کہ ان تنظیموں کی اس ظلم و ستم پر مداخلت اس وقت ہوتی جب استعماری اور سامراجی حکومتیں اپنے مفادات کے لئے ان کو اجازت دیں اور یہ حکومتیں بھی اس وقت مداخلت کرتی ہیں جب ان کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔
مغربی حکومتوں سے یہ توقع رکھنا کے وہ مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائیں گے ایک خام خیال ہے چونکہ کوسو و بوسنیا، افغانستان، عراق، فلسطین، کشمیر اور چیچنیا میں مغربی طاقتیں خود ملوث ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں وہیں سرگرم ہوتی ہیں جہاں ان کے ملک کو مالی منفعت ہو یا سفارتی مفاد کی تکمیل ہو یا سیاسی اغرض حاصل ہوتے ہوں یا اس طرح کے سلوک کا شکار ہونے والا عیسائی طبقہ سے تعلق رکھتا ہو۔
مشرقی تیمور، جنوبی سوڈان یا دیگر علاقے جہاں اس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں ان طاقتوں اور اقوام متحدہ نے مداخلت کر کے اسے فوراََ روکنے کی کوششیں کی ہیں یہاں تک ملک کو تقسیم کروا دیا لیکن جہاں جہاں بھی اس سے متاثر ہونے والے مسلمان تھے ان طاقتوں کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ میانمار میں گذشتہ کئی برسوں سے روہنگیا بھکشوؤں نے مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی اور ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے گذشتہ دنوں ایک مسلمان کو ہنگاموں میں ملوث ہونے کے جرم میں 26 سال کی سزا سنا دی۔
اس پر قانون کے محافظوں پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ میانمار جہاں مسلمانوں کی بستیاں جلا دی گئیں اور سینکڑوں مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا جبکہ کئی مسلمان خواتین کی عزت لوٹ لی گئی مگر نہ ہی کسی دہشت گرد کو پکڑا گیا اور نہ ہی سزا دی گئی۔ روہنگیا مسلمانوں پر دوسرا ظلم اس وقت ہوا جب وہ پناہ لینے کی غرض سے بنگلہ دیش گئے وہاں کی حکومت نے ان کو وہاں داخل ہونے کی اجازت نہ دی اور ان میں سے بے شمار کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
میانمار میں مسلمانوں پر ہونے والے اس خوف ناک ظلم پر حقوق انسانی کے عالمی ادارے اور تنظیمیں خاموش رہیں اور کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ مسلمان ملکوں اور ان کی تنظیموں (او، آئی، سی) نے کوئی نوٹس نہ لیا۔ مسلمانوں کے قتل عام پر اس بے حسی نے میانمار کے مسلمانوں کے لئے مزید مشکلات پیدا کر دیں ہیں اور وہ مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق فوڑٹی فائی رایٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ ہفتے کے دوران سلسلے وار حملے کئے گئے۔
دو بین الاقوامی امدادی افسران جنہیں اس علاقے میں رسائی دی گئی کہتے ہیں کہ انہیں اس علاقے میں وسیع پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں کے ثبوت ملے ہیں۔ کچھ علامات کے مطابق اس واقعے میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی فلاحی کاموں کی سربراہ (ویلری آموس) نے میانمار کی حکومت سے استدعا کی ہے کہ وہ امدادی کارکنوں کو متاثرہ علاقے میں جانے کی اجازت دیں تا کہ فوری طور پر اس واقع کی تحقیق شروع کی جا سکے۔
میانمار کی ریاست رخائن میں جون 2012 میں بدھ مت اور مسلمانوں کے درمیان جھڑپوں میں 200 افراد ہلاک جبکہ ہزاروں بے گھر ہوگئے۔ میانمار میں رہنے والے روہنگیا مسلمانوں کو کئی مشکلات کا سامنا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق پچھلے چند ماہ کے دوران تقریبا 35 ہزار مسلمان شہید اور 50 ہزار سے زائد زخمی کئے جا چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ لاپتہ ہیں اور تقریباََ اتنے ہی حملہ آوروں کے ڈر سے دلدلی علاقوں اور جنگلوں میں روپوش والی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
شر پسندوں نے مسلمانوں کی 900 کے قریب بستیاں جلا ڈالیں جبکہ خواتین کی عزتیں لوٹی گئیں۔ برما حکومت روہنگیا مسلمانوں کو اپنا شہری تسلیم کرنے اور شہریت دینے سے انکار کرتی ہے حالانکہ برما کا علاقہ راکھین، روہنگیا مسلمانوں کا آبائی وطن ہے۔ راکھین 1784ء تک ایک آزاد مسلمان ملک تھا بعد میں برمیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ ٹائمز آف ٹلس آفورولڈ ہسٹری کے مطابق برما کی فوجی حکومت کے دور میں امتیازی قوانین کے ذریعے مسلمانوں کی زندگی مشکل بنا دی گئی ان کی جائیداد چھینی گئی اور شہریت ختم کی گئی اور وہ اپنے ہی وطن میں بے ریاست افراد بن گئے۔
ماضی میں بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمانوں نے مجبوراََ تھائی لینڈ اور بنگلہ دیش ہجرت بھی کی جبکہ باقی برما میں انتہائی بْرے حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اب تو بنگلہ دیش نے میانمار کے فساد زدہ صوبے راکھین سے بنگلہ دیش فرار ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کے تناظر میں سیاسی پناہ کی پالیسی سخت کر دی۔ ڈھاکہ حکومت کو خدشہ ہے کہ بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کی آمد کا یہ سلسلہ جماعت اسلامی کو مضبوط بنا سکتا ہے اور بنگلہ دیش ایسے حالات نہیں پیدا کرے گا جو بد ترین انسانی بحران کی وجہ بنیں۔
بنگلہ دیش روہنگیا کمیونٹی کے لوگوں کو پناہ دینا اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتا۔ اس حوالے سے ڈھاکہ حکومت کسی معاہدے کی پابندی نہیں سوال یہ ہے کہ برما کے صوبے راکھین میں مسلمانوں کی نسل کشی پر عالمی برادری کی کمزور آواز بھی کیوں بلند نہیں ہے؟ بیشتر مسلم ممالک بھی آنکھ کان بند کئے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ مزید المیے کے منتظر ہیں جبکہ حالات فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔
بعض مسلم ممالک کے چند رہنماؤں نے محتاط انداز اور نرم رویوں کے ساتھ احتجاج کر کے مطالبہ کیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان، سخت اور موثر موقف اختیار کر کے میانمار کے حکمران طبقے کو یہ احساس دلائے کہ وہ اس ظلم و جبر کے ارتکاب کو بند کر کے جارحیت پر مبنی کارروائیوں کے ذمہ دار اداروں، گروپوں اور عناصر کی نشاندہی کر کے اور قانونی گرفت میں لا کر سخت سزا دلانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔
موجودہ حالات میں مسلم ممالک کو متحد ہو کر میانمار میں مسلم اقلیت کو ظلم و تشدد سے محفوظ رکھنے کے لئے مشترکہ اور اجتماعی سطح کی مضبوط اور موثر انداز او اطوار پر مبنی تدابیر عملی کارروائیاں کرنے کے لئے غور و اعلان کرنا چاہیے۔ اگر میانمار کے خلاف جنگ و جدل کا انداز کار ممکن نہیں تو کم از کم سفارتی سطح پر ہی اس کے ساتھ تعلقات پر مناسب توجہ دی جائے کیونکہ وہاں مسلم اقلیت کی جان و مال کے تحفظ کے اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
پاکستان میں حکومتی سطح پر ایک آدھ بیان کے علاوہ عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہوا۔ پاکستان میں دینی اور مذہبی جماعتوں نے بھی چند مظاہروں کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ میانار کے مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر اقوام متحدہ میں احتجاج کرے اور وہاں پر اس مسئلہ کو اٹھایا جائے تا کہ عالمی برادری اس پر غور کر سکے اور اس معاملہ پر ظلم و ستم سے روکا جائے میانمار کی حکومت اگر ہٹ دھرمی اور ضد کا مظاہرہ کرتی ہے تو اس کے خلاف مسلمان ملک اقوام متحدہ میں کارروائی کا مطالبہ کریں اور اپنے اثر و رسوخ سے اس کے خلاف عالمی پابندیوں کا مطالبہ کریں۔
اگر یہ اقدامات نہ کئے گئے تو میانمار کے مظلوم مسلمان اپنے قتل عام کا ذمہ دار مسلمان ملکوں اور ان کے قائدین کو سمجھے میں حق بجانب ہوں گے۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان