بند کریں
جمعہ فروری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
برصغیر میں ہندوتعصب کی تاریخ
اس کاآغاز آٹھویں صدی سے ہوگیاتھا۔۔۔۔ برصغیر جب انگریزوں کاقبضہ مضبوط ہونے لگا توہندوؤں کوبہت خوشی ہوئی کہ مسلمانوں کوشکست ہورہی ہے۔اگرچہ انگریز نے اس علاقہ میں حکمران تھے
بلال اے شیخ:
تاریخ شاہد ہے کہ دنیامیں ممالک کی جغرافیائی لحاظ سے ہیئت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔اس وقت کئی ممالک کانام ونشان تک نہیں رہا۔کئی عظیم مملکتیں سکڑگئیں اور کئی سیاسی ومعاشی طور پر اس قدر مضبوط پوزیشن میں نہیں رہیں جس میں وہ پہلے کبھی ہوا کرتی تھیں۔بھارت شاید دنیاکاواحدملک ہے جس نے تقسیم کوابھی تک دل سے تسلیم نہیں کیا۔
بھارت ابھی بھی وہی خواب دکھایاگیاتھا جب اس علاقہ میں ہندوؤں کی طاقت بہت بڑھ گئی تھی۔اس تصورکی راہ میں مسلمان آئے اور8ویں صدی میں جب مسلمانوں نے برصغیرپرحملہ کیا توہندوؤں کی راج دہانی سکڑنے لگی۔اگرچہ بنگال اور ہمالیہ کے علاقہ میں پھر بھی ہندوؤں کاہی قبضہ تھالیکن بھارت تیزی سے مسلمان حملہ آوروں کی نذرہوگیا۔مغلوں کے دورتک آتے آتے تقریباََ پورا برصغیر کاعلاقہ مسلمانوں کے کنٹرول میں آچکاتھا۔

برصغیر جب انگریزوں کاقبضہ مضبوط ہونے لگا توہندوؤں کوبہت خوشی ہوئی کہ مسلمانوں کوشکست ہورہی ہے۔اگرچہ انگریز نے اس علاقہ میں حکمران تھے۔اسطرح چین سے بنگال تک سبھی علاقوں تک ان کاغلبہ ہوگیا۔یہ قدرتی امرتھا کہ انگریز کوخوش آمدید کہنے والے مسلمانوں کے سوا سب ہی تھے لیکن علاقہ میں اپنی حکومت کومضبوط کرنے کیلئے ان کایقینامسلمانوں سے زیادہ ہندوہی فائدہ مند نظر آتے تھے۔
کیونکہ جس سے جنگ جیتی جاتی ہے اس پراعتبار نہیں کیاجاسکتا۔ہندوؤں کوانگریزوں سے قربت میں زیادہ وقت نہ لگا۔ہندوسورمااکھنڈبھارت کاخواب توپورانہ کرسکے لیکن ان کی آئندہ نسل میں یہ خواہش ضرورجاگ گئی کہ ہندوستان کی پوری راج دہانی جو افغانستان سے بنگال اور پھرچین تک پھیلی ہوئی ہے وہ پکے ہوئے پھل کی طرح ان کی جھولی میں آگرے گی کیونکہ برطانوی راج پوری دنیاسے آہستہ آہستہ سمٹ رہاتھا دوسری جنگ عظیم کے شروع میں ہی کافی حدتک یہ محسوس کیاجانے لگا تھا اب طاقت کاتوازن بگڑرہاہے۔
سرسیداحمدخان کی وجہ سے مسلمان بھی کافی حدتک تعلیم،فوج اور سرکاری ملازمتوں میں نظر آنے لگے تھے۔قائداعظم بھی متحدہ ہندوستان کے حامی تھے کیونکہ انگریزوں کے یہاں سے نکلنے کی خواہش آہستہ آہستہ ہندوستان کے باسیوں میں بڑھ رہی تھی۔ایسے میں علامہ اقبال نے علیحدہ وطن کا خواب دیکھااور پرمسلمانوں نے کوششیں شروع کیں تو ہندوؤں کویہ بات قطعاََ پسند نہ آئی۔

قائداعظم جب اس بات پر مکمل طور پر قائل ہوگئے کہ آزادی توچاہیے لیکن متحدہ ہندوستان میں نہیں بلکہ مسلمانوں کے علیحدہ وطن میں تواس کیلئے قائداعظم کی کوششیں اور سوچ بھی تیار تھی۔ہندوؤں نے سیاسی،سماجی،مذہبی،تہذیبی اور معاشرتی سطح پراس سوچ کوغلط ثابت کرنے کی مہم جوئی شروع کی۔ اس وقت بھی کئی مسلمانوں نے علیحدہ وطن کے خیال کی مخالفت کی اور پاکستان کے قیام کوغیرضروری سمجھا اورمیں نام نہاد دانشور،ادیب،شاعراور مذہبی رہنما تک شامل تھے۔
آخر پاکستان کی جدوجہد کامیاب ہوئی اور انگریزوں نے برصغیر سے رخصتی کے وقت مسلمانوں کوبھی علیحدہ وطن دینے کافیصلہ کرلیا۔برصغیر سے رخصتی کاطریقہ کارواضح ہونے لگااور ہندوؤں نے اس بھارت ماتاکی تقسیم قرار دیناشروع کردیا۔ تاریخی حقائق کے لحاظ سے اقتدار تومسلمانوں کاختم ہواتھااور واپسی بھی انہی کو عزتی سمجھا کیونکہ ان کواپنی وفاداریوں کامعاوضہ چاہیے تھا۔
ہندوتعصب اور شرانگیزیوں کے نتیجے میں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے روپ میں دو حصوں پرمشتمل پاکستان وجود میں آگیا۔آج بھی کئی تاریخ دان اور لکھاری مشرقی پاکستان کے سانحہ کی یہ بھی وجہ بتاتے ہیں کہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں دوری اس کی علیحدگی کاسبب بنی۔حالانکہ یہ ہندوستان کی سازشوں کانتیجہ تھا۔ہندوؤں نے ہندوستان کی تقسیم کو درحقیقت دل سے تسلیم ہی نہ کیاتھا۔
اسی لئے جونہی تقسیم کا پلان سامنے آیااس میں پاکستان کوہر ممکن نقصان پہنچانے کاآغاز ہوگیا۔قائداعظم جیسے عظم لیڈر نے پاکستان بننے سے پہلے ہی نہ صرف سیاسی محاذسنبھالے رکھا بلکہ بینکاری،سائنس،وفاع اور مالیاتی محاذوں پربھی افرادا ور اداروں کو اکٹھا کرنا شروع کردیاتھا لیکن بھارت نے ہرسطح پاکستان کے وجود کونقصان پہنچانے کی ٹھان رکھی تھی۔

پاکستان کے اثاثے روکے گئے ہجرت کرکے آنے والوں کوبے سروسامان کیاگیا تاکہ وہ وہاں جاکر بوجھ بنیں،جنگ مسلط کی گئی اور کئی محاذوں پرمداخلت شروع کردی۔پاکستان کے سیاسی حالات کافائدہ اٹھایا گیااور مسئلہ کشمیرکوطوالت دی گئی تاکہ اسکی اہمیت ختم ہوجائے۔کوئلے اور تیل کی فراہمی روک دی گئی کیونکہ شروع میں تمام اشیاء بھارت سے منگوائی جاتی تھیں۔
1965ء کی جنگ مسلط کی گئی جس سے پاکستان کی مضبوط معیشت کوسخت نقصان پہنچا۔مشرقی پاکستان میں دراندازی بھارتیوں کیلئے قدرے آسان تھی کیونکہ پاکستان کی بیوروکریسی نے بھی اس طرف توجہ نہیں دی تھی۔اندراگاندھی نے اسے تقسیم کابدلہ قراددے کراپنا اصل کردار ثابت کیا۔
امریکہ میں رونما ہونیوالے 11ستمبر کے واقعہ نے بھارت کیلئے پھرسے میدان ہموار کردیا اور پاکستان کوسیاسی،معاشی اور دفاعی لحاظ سے نقصان پہنچانے کی بھرپورکوششیں کی گئیں۔
پاکستان کے اندر بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے بہت خطرناک نیٹ ورک بنایا۔بھارت جس نے آج تک پاکستان کے وجود کوتسلیم نہیں کیااس نے پاکستان میں معصوم بچوں کی جانیں لینے سے بھی گریزنہ کیا۔سینکڑوں بچوں کی شہادت نے فوج اورعوام کے دلوں اور دماغ پر بہت گہرے نقوش ثبت کئے۔جس کے سارے تانے بانے بھارت اور افغانستان سے جاملتے ہیں۔بھارت نے پاکستان کوگھیرنے کیلئے افغانستان میں بھی اپنی بنیاد مضبوط بنانا شروع کردی۔
بھارتی وزیراعظم نریندمودی کی حکومت میں مسلمانوں خصوصاََ اور دیگر اقلیتوں کابراحال ہے بلکہ نچلی ذات کے ہندوؤں کیلئے زمین تنگ کردی گئی ہے۔
پاک فوج کی مسلسل کوششوں اور قربانیوں کے باعث آج پاکستان میں دہشتگردی کنٹرول میں آگئی ہے۔پاکستان میں بھارتی دوستی کے پروانے بھی بہت ہیں۔پاکستان میں سینکڑوں کی تعداد میں میڈیا میں ایسے دانشور،لکھاری اینکراور شاعر موجودہیں جوبھارت کے گن گاتے ہیں۔
اس طرح اب سیاسی جماعتوں دیگر اداروں میں بھارت کے ترجمان نظر آتے ہیں جوتقسیم کومحض ایک واقعہ بیان کرتے ہیں اور ہمیشہ ایک ہونے کی بات کرتے ہیں۔پاکستان کاوجود محض اتفاقی حادثہ نہیں اگرہم نے اپنی سوچ بحیثیت قوم پختہ نہ کی توکئی مزید حادثات ہوسکتے ہیں۔ہماری تاریخ میں نئے حادثات کی گنجائش کم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ آج بھی ہمسایہ ہماری مزید کوتاہیوں کامنتظرہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-28

(0) ووٹ وصول ہوئے