بند کریں
بدھ فروری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بھارت میں دوا کے نام پر موت بکتی ہے
شیر خوار بچوں اور حاملہ خواتین کو بھی غیر میعاری ادویات دی جاتی ہیں۔۔۔۔۔ اتنے بڑے ملک میں صرف 26ڈرگ ٹیسٹ لیبارٹریاں موجود ہیں اور ان میں سے صرف سات لیبارٹریز کام کرنے کے قابل ہیں
مکتوب بھارت …مینا ڈکھشٹ:
انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بھارت میں یوں تو ہر شعبہ میں کرپشن جاری ہے مگر غیر معیاری ادویات سازی میں اس کا شمار دنیا کے سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے جسکی وجہ سے جعلی دوائیوں کے استعمال سے ہر سال لاکھوں لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ (رین باکسی) جو بھارت کی سب سے معروف ادویات کی کمپنی۔ کئی بار امریکہ اس کی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرچکا ہے۔
دنیا بھر کے ماہرین بھارت ادویات کے معیار پر نکتہ چینی کرتے رہتے ہیں کہ امریکہ برطانیہ سمیت دیگر کئی ماملک نے بھارت ادویات کی درآمد پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں 70 فیصد جعلی دوائیں بنتی ہیں۔ ولرڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ایک تخمینہ کے مطابق بھارت میں بنائی جانے والی پانچ ادویات میں سے ایک جعلی ہوتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت جتنی بھی ایلوپیتھک ادویات بن رہی ہیں ان میں سے کم از کم دس فیصد غیر معیاری یا جعلی ہیں۔
ہر سال دنیا بھر میں 40ارب ڈالر کی جعلی و غیر معیاری ادویات کی تجارت ہوتی ہے۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ بھارت میں ادویات سازی کے 20ہزار ادارے رجسٹرڈہیں۔ جبکہ اس سے کہیں زیادہ ایسے ادارے ہیں جن کا حکومتی سطح پر کہیں اندراج نہیں ہے۔ اتنے بڑے ملک میں صرف 26ڈرگ ٹیسٹ لیبارٹیریاں موجود ہیں اور ان میں سے صرف سات لیبارٹریز کام کرنے کے قابل ہیں۔
19لیبارٹریاں بند پڑی ہوئی ہیں، جعلی اور غیر معیاری ادویات میں وہ برانڈ بھی شامل ہیں جن کی معیاد ختم ہونے کے بعد انہیں تازہ لیبل لگا کر فروخت کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی ادویات ملی بھگت کے بعد سرکاری سیکٹر کو بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ لیبارٹری ٹیسٹنگ کے باجود یہ دوائیں نقائص سے پاک قرار دی جاتی ہیں جبکہ استعمال کے بعد ان کے مضر اثرات جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔
رواں برس کشمیر کے ایک ہسپتال میں ہزاروں شیر خوار بچوں کو موت ناقص اور جعلی ادویات کے باعث ہوئیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق بہت زیادہ استعمال کئے جانے والے اینٹی بائیوٹک میں سے زیادہ غیر معیاری تھے جسے سرکاری لیبارٹری میں ٹیسٹ کے باوجود سال بھر خفیہ رکھا گیا تھا۔ شیر خوار بچوں کے علاوہ حاملہ خواتین کو بھی جعلی دوائیں دی گئیں۔
مضر اثرات نکلنے پر ٹیسٹ کرایا گیا تو معلوم ہوا کہ انفیکشن سے بچاؤ کی دوائیں حاملہ خواتین کو استعمال کرائی گئیں تھیں۔
کشمیر یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق کے مطابق اس نہایت سنگین مسئلے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کا بھارتی حکومت نے محض سرسری جائزہ لیا۔ اگرچہ بھارتی ادویات سازی کی صنعت ملکی معیشت میں اہم حیثیت رکھتی ہے اور بھارت ہر سال 15ملین ڈالر کی مصنوعات بیرون ملک بھیجتا ہے۔
اس کی کئی فیکٹریوں کو ورلڈ کلاس ہونے کے باوجود معیار اور کوالیٹی کنٹرول جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ دہلی فامیکا 2010ء کے ایک سروے کے مطابق 12فیصد ادویات کے نمونے ہی جعلی تھے۔ کئی ممالک بھارت مصنوعات کی درآمد ر پابندی لگا چکے ہیں۔ گزشتہ سال برطانیہ نے بھارت میں تیار کردہ متعدد ایلو پیتھک ادویات واپس کردی تھیں۔ امریکہ نے کئی مرتبہ بھارت مصنوعات پر پابندی لگائی ہے۔
خوراک اور ادویات سے متعلقہ امریکی محکمہ FDAنے رین باکسی (RANBAXY)کی طرف سے بھارت فیکٹریوں میں تیار کی جانے والی تیس کے قریب ادویات کی درآمد پر پابندی عائد کردی تھی۔ 2011ء میں رین باکسی کمپنی کو اس بات کا پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنی مصنوعات پر درست معلومات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ادویات کی تیاری کے عمل کو بھی بہتر بنائے۔
2008ء میں امریکہ نے بھارت سے ٹریڈ مارک کے بغیر آنے والی ادویات کی درآمد پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی کمپنیاں عالمی معیار برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہیں۔
امریکی محکمہ فوڈ ڈرگ میں بھارت کمپنی رین باکسی کی طرف سے بھیجنے والی ادویات کو غیر معیاری قرار دیا تھا۔ ایف ڈی اے نے ایک بار پھر اس کمپنی کے ادویات کو ناقص اور غیر معیاری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ برس اس کمپنی نے جرمانے کی مدمیں پچاس کروڑ ڈالر کی ادائیگی کی ھتی۔ اس کمپنی نے اس جرم کا اعتراف بھی کیا تھا کہ اس نے بھارت کی دو فیکٹریوں میں تیار کردہ غیر معیاری ادویات بھی فروخت کیں۔

اتنا سب کچھ جاننے اور پابندیوں کے باوجود بھارتی فارمیکل الائنس کے صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی دوائیں معیار اور کوالٹی کنٹرول پر نسبتاََ پورا اُترتی ہیں۔ جب کہ امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ بھارت ادویات کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ادویات پر پابندی کے بعد بھارت کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-23

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان