بند کریں
بدھ جنوری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
افغان مفاہمتی فارمولا۔۔۔طالبان آڑے آگئے
کابل خودکش حملوں پرطالبان کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے پر قصر کابل میں نئی مفاہمتی پالیسی سے متعلق سوالات اٹھنے لگے۔۔۔طالبان کے اس رویے کی وجہ سے پرمخصوص حلقے صورتحال کو بگاڑنے میں لگ گئے ہیں
محمد رضوان خان :
افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی کو پاکستان کے پہلے دورے کے دوران خاصی پذیرائی ملی جس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سرفہرست توان کا غیر جنگی پس منظرکا ہونا ہے وہ افغانستان کے ماضی کے حکمرانوں کے برعکس کبھی بھی ذاتی طورپر جنگ کا حصہ نہیں رہے بلکہ اس سے اتنا دور رہے کہ انہیں کبھی ہجرت کی بھی ضرورت نہیں پڑی جس کے باعث وہ اپنے دیگر پیش روکے مقابلے میں پاکستانی عوام اور خواص دونوں کیلئے نئے ہیں بعض حلقوں کے مطابق ان کا یہی وصف دونوں ملکوں کے درمیان نئے دور کا آغاز کر سکتا ہے۔
اسی لئے ان سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ نسبتاََ کھلے ذہن کے ساتھ پاک افغان تعلقات میں نیا آغاز کر سکتے ہیں۔ گوکہ اشرف غنی گاہے بگاہے ایک سیاح کی حیثیت میں تو پاکستان آچکے ہیں لیکن کبھی ان کا قیام چند دنوں سے زیادہ نہیں ہو سکا، ان کی زندگی کا بڑا حصہ امریکہ اور اس کے پہلے لبنان میں گزرا ہے پاکستان سے دوری کی وجہ سے انہیں پاکستان سے اب تک توگلے شکوے بھی نہیں ہیں۔
دوسری طرف اشرف غنی کی یہی صورت ہندوستان کے ساتھ بھی ہے اس طرف بھی غنی کا اپنے پیش رو کی طرح کوئی جھکاو نہیں ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حامد کرزئی کے مقابلے میں اشرف غنی کے ساتھ بات کرنا پاکستان کے لئے آسان ہو گا اور شاید اشرف غنی کے لیے بھی اگر وہ عبداللہ عبداللہ کی لابی کے بہکاوے میں نہ آئے تو وہ جغرافیائی پیوستگی کی وجہ سے ہندوستان کے مقابلے میں نہیں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے کھلے ذہن کے ساتھ کام کرنا نسبتاََ آسان ہوگا۔
اشرف غنی کے بارے میں یہ قیاس آرائیاں اپنی جگہ لیکن ایک حلقہ ابھی بھی ایسا ہے جس کاخیال ہے کہ اشرف غنی ابھی تک ایک راز ہی ہے جس کے بارے میں حقیقی صوتحال اسی وقت سامنے آئے گی جب وہ پاکستان اور ہندوستان کے افغانستان میں مفادات کے تناظر میں عملی فیصلے کریں گئے ان حلقوں کا استدلال ہے کہ اشرف غنی نے بلاشبہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن وہاں باقاعدہ انتخابات کی پڑتال ہوئی جس کے بعد ان افغان اقتدار ایک باقاعدہ معاہدے کے تحت استوار ہواہے اس لئے اب بھی امریکہ کا اس میں بہت عمل دخل ہو گا۔
اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان بھی اپنی دس سالہ انوسٹمنٹ کو اتنی آسانی سے چھوڑنے کو تیار نہیں ہوگا۔
اشرف غنی نے اپنے کچھ افکار تو سارک کانفرنس میں ظاہر کئے جس کے تحت انہوں نے بغیر کسی لگی لپٹی رکھے کہا کہ ”ہم اپنی سر زمین کے اپنے کسی بھی ہمسائے کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گئے اور نہ ہی کسی کو اپنی سر زمین سے پراکسی وار بھی لڑنے کی اجازت دیں گئے۔
“ انہوں نے کھٹمنڈو میں کسی ملک کا نام لیے بغیر والی بالی میچ کے دوران ہونے والے خودکش حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ریاست کی طرف سے دوسرے ملک کے غیر ریاستی عناصر کی پشت پناہی کے نقصان وہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی کے ان ریمارکس پر ملکی حلقوں کو تیوریاں ضرور چڑھی ہیں لیکن ابھی تک کسی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس سارے انتظام وانصرام کے ضامن بھی ہیں جس کے تحت طالبان کو ملک میں باقاعدہ ذمہ داری دینے کا پروگرام بنایا گیا ہے ۔
افغان ذرائع کے مطابق کابل میں اوپر تلے ہونے والے خودکش حملوں اور پر طالبان کی جانب اس کی ذمہ داری قبول کرنے سے قصر کابل میں نئی مفاہمتی پالیسی سے متعلق سوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں تاہم ابھی تک پاکستان کے متعلق نئے صدر کی جورائے قائم ہے اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی کیونکہ اشرف غنی کو بخوبی اس مر کا ادراک ہو چکا ہے کہ افغانستان میں ہندوستان نفوذ بڑھانے کامطلب یہی ہوگا افغانستان میں اپنے مشرقی بارڈر کو غیر محفوظ ہی رہنے دینا چاہتا ہے جو کم ازکم اشرف غنی کو اس وقت منظور نہیں۔
افغانستان میں امریکہ جو نئی مفاہمتی پالیسی لا رہے ہیں اس کے تحت طالبان کو بلاشبہ اولین ترجیح تو دی گی ہے لیکن اس ضمن میں کسی دوسرے گروپ کو پس پشت بھی نہیں ڈالا جا رہا ۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وہ تمام گروپ جنہوں نے جہاد افغانستان میں حصہ لیا تھا اب ان سے بھی بات چیت کی جائے گی ۔ ذرائع کے مطابق ان جہادیوں سے بھی جو بات چیت کی جائے گی اس میں بھی پاکستان کا کردار اہم ہوگا۔
ذرائع کادعویٰ ہے کہ اگر یہ بات چیت کامیاب ہو جاتی ہے تو ایسی صورت میں جہادی گروپس بھی افغانستان میں اپنی کارروئیاں ترک کریں گے اور اس کے بدلے میں انہیں حصہ بقدر حبثہ کے اعتبار سے اقتدار میں حصہ دیا جائے گا۔اس لئے اشرف غنی بھی جانتے ہیں کہ ابھی پاکستان کے تعاون کی نہ صرف انہیں بلکہ پورے خطے کو بہت ضرورت ہے ۔
پاکستان میں جو جہادی اس وقت موجود ہیں ان میں سے بعض کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ان سے ابتدائی بات چیت بھی کی گئی ہے یہ بات چیت کس طرح سے ہوئی اور اس کے دوران کیا طے پایا اس بارے میں تو متعلقہ حلقے خاموش ہیں تاہم اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ کوئی حل نکل سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس بارے میں جو تازہ ترین پیش رفت ہے اس کے حوالے سے طالبان کچھ زیادہ مطمئن دکھائی دے رہے ، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ افغان طالبان کا خیال ہے کہ ایک تو جہادیوں سمیت افغانستان کے متحارب حلقوں کے وہ حقیقی نمائندگی کی چکے ہیں ا س بناء پر بات بھی انہی سے کی جائے اور وہی طے کریں گے کہ افغان طالبان دیگر گروپس سے بات چیت کے معاملے پر خوش نہیں اور شائد یہی وجہ ہے کہ جب ان کے ساتھ افغانستان میں ایک اہم ذمہ داری کی سانجھے داری بنائی جا رہی ہے تو انہوں نے اپنی کارروائیاں بند کرنے کے بجائے الٹا انہیں مزید تیز کر دیا ہے جیسا کہ حالیہ خودکش حملوں کی ذمہ داری بھی انہوں نے قبول کی ہے ۔
طالبان کے اس رویے کی وجہ سے پرمخصوص حلقے صورتحال کو بگاڑنے میں لگ گئے ہیں اور اسی وجہ سے کچھ روی قصر کابل میں بھی دکھائی دے رہی ہے جسکے اثرات پاک افغان سرحد پر سرحدی امور کے دوران دیکھنے میں آرہے ہیں۔ گوکہ پاک افغان سرحد پریہ کشیدگی کئی دنوں سے موجود ہے لیکن حالیہ دنوں میں اس کے دوران تیزی دکھائی دی ہے۔ واضح رہے کہ افغان صدر اشرف غنی جب پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئے تھے تب بھی انہوں نے کہا تھا کہ کابل اسلام آباد کے ساتھ سکیورٹی اور دفاعی تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے اور سرحدی انتظام میں تعاون چاہتاہے ۔
انہوں نے یہ بات جی ایچ کیو کے دورے کے موقع پرکہی تھی جہاں ان کے خدشات پر فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان کے وفد کے پاک افغان سرحدپر سکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی۔پاک افغان سرحدی امور پر افغانستان کا نقطہ نظر ہمیشہ ہی سے ایک مخصوص دائرے کے اندر ہی رہا ہے یہ موقف حتیٰ کہ طالبان کے دور میں بھی کم وبیش اسی طرح رہا جیسا اب ہے۔
تاہم افغان صدر اشرف غنی اس بارے میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی لے رہے ہیں ان کی جانب سے بائیو میٹرک سسٹم کی بھی دیکھ بھال کی بات جارہی ہے جو اگر ماضی کے مخصوص پس منظر سے الگ کرکے دیکھی جائے تو کوئی ایسی غیر منطقی با ت بھی نہیں کیونکہ وہ خود ایک معیشت دان ہیں اور سرحد کے امور کو اسی تناظر میں چلانا چاہتے ہیں اس لحاظ سے پاک افغان سرحد پربارڈرمنیجمنٹ ایک کٹھن مسئلہ ضروربن رہا ہے لیکن اگر مذکورہ امور درست سمت میںآ گے تو یہ معاملہ بھی حل ہوجائے گا کیونکہ بیشتر امور میں اب امریکہ کے پاس ترددکی نہ تو گنجائش ہے اور نہ ہی اس کیلئے وقت ہے۔
یہاں برسبیل تذکرہ یہ بات بھی اہم ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اشرف غنی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ازسر نو تشکیل دینا چاہتے ہیں اوریہ کام سابق افغان صدر حامد کرزئی نے نہیں کیا۔ حامد کرزئی اکثر پاکستان پرالزام عائد کرتے تھے اور اس بات سے آگے بڑھ ہی نہیں سکے لیکن ان کی پالیسی کی وجہ سے آخر میں تو وہ سب ہی اعتماد کھو بیٹھے تھے بہرحال کرزئی قصہ پارینہ ہوچکے ہیں اور اشرف غنی واقعی ان امور کی بہتری کیلئے کام کر رہے ہیں لیکن حالیہ خودکش حملوں کی وجہ سے وہ بھی اپنے پیش رو کی طرح سوچنے پر مجبور ہے۔

افغانستان کے اندر یہ صورتحال چل رہی ہے تو دوسری طرف پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اور افغانستان میں جلال آباد میں بھی امریکی جاسوس طیارے نے میزائل حملے کئے ہیں جو بدلی رت کا پتہ دیتے ہیں کیونکہ خاص کر جلال آباد میں ہونے والے جملے میں جو پاک افغان سرحدی علاقے میں کیا گیا میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ بچ گئے تھے افغان حدود میں اس پہلے بھی پاکستان نے امریکہ سے کہا تھا کہ وہ دہشت گرد جو پاکستان سے افغانستان چلے گئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے لیکن امریکہ نے اس پر کان نہیں دھرا جبکہ حامد کرزئی کی طرف سے اس بارے میں کوئی کوشش نہیں ہوئی تاہم اب جب ایک مہینہ باقی بچا ہے تو ملا فضل اللہ کوبھی نشانہ بنا دیا گیا ہے جو پاکستان کیلئے نیک شگون ہے تاہم پاکستان کی طرف بھی امریکہ نے حالیہ دنوں میں اہم حملہ کیا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس حملے کے دوران طالبان کے اہم کمانڈر سمیت مجموعی طور پر سات افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔
پاکستان کی حدود میں یہ حملہ امریکہ جاسوس طیاروں کی طرف سے مجموعی طور پر 16 واں حملہ تھا جس میں سے دو حملے جنوبی وزیرستان ،جبکہ14 شمالی وزیرستان میں کیے گئے ہیں۔ شوال ہونے والے اس حملے کے دوران جو ہلاکتیں ہوئی ہیں ان کے بارے میں کہا جا رہاہے کہ ان میں نہ صرف طالبان بلکہ اہم غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہیں جو حملے کے وقت شوال میں مقامی طالبان کمانڈر اسد منصور محسود کے گھر پر موجود تھے۔
حملے کے دوران پانی افراد تو موقع پر ہی مارے گئے جبکہ دو کو طبی امداد کیلئے لے جایا جا رہا تھا کہ وہ بھی چل بسے۔ مارنے جانے والے یہ شدت پسند کون تھے ان کی قومیت کیا تھا اس کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی تاہم سرکاری حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مرنے والوں میں غیر ملکی جنگجو شامل تھے۔ امریکی ڈرونز کے ان تازہ ترین حملوں کو جو سرحد کے آرپار ہوئے ہیں پاکستانی حلقے مثبت قرار دے رہے ہیں اور یہی بدلے ہوئے ماحول کی عکاسی بھی کرتا ہے اور یہ بدلے حالات پورے خطے میں اگر کسی کو قابل قبول نہیں تو وہ غیر ملکی جنگجو اور ہندوستانی لابی ہے اس کے علاوہ باقی تمام سٹیک ہولڈرز کم وبیش ایک موقف پر اتفاق کر چکے ہیں تاہم اس فضا کو دیرپا اور طویل المدت بنانے کیلئے افغان طالبان کو دیگر جہادیوں ن کیلئے تھوڑی سی وسعت قلبی دکھانی ہوگی تب جا کر بات آگے بڑھے گی۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-11

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان