بند کریں
بدھ فروری

مزید بین الاقوامی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
26 جنوری
کشمیریوں نے روز اول اس آئین کو مسترد کرتے ہوئے یوم سیاہ منایا اور تب سے لے کر اب تک کشمیری بھارت کے یوم جمہوریہ پر یوم سیاہ منا کر اپنا پیدائشی حق خوداردایت سلب کئے جانے پر اس کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہیں
سلطان سکندر
”یہ 65 سال کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں“ کے مصداق جب 26 جنوری 1950ء کو بھارت میں ڈاکٹر ابیندک کی سربراہی میں آئین ساز کمیٹی کا تیار کردہ آئین نافذ العمل ہوا تو کشمیریوں نے روز اول اس آئین کو مسترد کرتے ہوئے یوم سیاہ منایا اور تب سے لے کر اب تک کشمیری بھارت کے یوم جمہوریہ پر یوم سیاہ منا کر اپنا پیدائشی حق خوداردایت سلب کئے جانے پر اس کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہیں اگرچہ بھارتی آئین میں دفعات 235 اور 370 کے تحت دیگر بھارتی ریاستوں کے برعکس مقبوضہ ریاست جموں کشمیر کو خصوصی پوزیشن دے کر وہاں صدر، وزیر اعظم دیا گیا اور کسی غیر ریاستی باشندے کو وہاں جائیداد خریدنے کا حق نہیں دیا گیا لیکن کشمیریوں نے اس لالی پاپ کو کبھی استصواب رائے کا متبادل نہیں سمجھا اور بھارتی آئین کے تحت کسی بھی انتقام کو مسترد کیا تقسیم برصغیر کے موقع پر کشمیریوں کو تقسیم کے اصول کے تحت اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع نہیں دیا گیا اور اس کے بعد اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق دیئے گئے حق سے بھی انہیں مسلسل محروم رکھا گیا۔
13 اگست 1948ء اور 5 جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں نے ریاست جموں و کشمیر کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے ریاستی عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا۔ بلکہ موخر الذکر قرار داد میں مسئلے کشمیر کے حل کا روڈ میپ بھی دیا گیا ہے جسے مسئلہ کشمیر کے تینوں فریقین کشمیریوں، پاکستان اور بھارت نے تسلیم کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے 1957ء کی قرار داد نمبر 122 میں مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے حق خودارادیت کو مسئلے کشمیر کا حل قرار دیا کہ نام نہاد الیکشن، استصواب رائے اور رائے شماری کا نعم البدل نہیں ہو سکے۔
کشمیریوں کی شومئی قسمت کے 1947ء میں بھارت نے تقسیم ہند کے اصول، دو قومی نظریہ اور بین الاقوامی قوانین کو یکسر نظر انداز کر ریاست جموں کشمیر پر غاضبانہ قبضہ کر کے تسلط جما لیا اور 1947ء میں ریاست کے صوبہ جموں کے تین لاکھ سے زائد کشمیری مسلمانوں کو ان کی منزل مراد اور خوابوں کی تعبیر پاکستان لے جانے کا دھوکا دے کر شہید کر دیا۔ اور پھر لاکھوں کشمیریوں کو پاکستان اور آزاد کشمیر میں ہجرت پر مجبور کر دیا۔
اس وقت قریباً 22 لاکھ کشمیری پاکستان کے چاروں صوبوں میں آباد ہیں۔ جنہیں آزاد کشمیر اور پاکستان کی اسمبلیوں میں دوہرے ووٹ کا حق حاصل ہے۔ بھارتی آئین کے تحت دی گئی خصوصی پوزیشن کے تحت 1953ء تک ڈاکٹر کرن سنگھ اور شیخ محمد عبداللہ علی الترتیب ریاست کے صدر اور وزیر اعظم رہے۔ شیخ عبداللہ کو جیل میں ڈال کر بخش غلام کو وزیر اعظم بنایا گیا اور 64 میں 90 روز تک شمس الدین کو وزیر اعظم بنانے کے بعد یہ خصوصی پوزیشن ختم کر کے جی ایم صادق اور اس کے بعد میرقاسم کو کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بنایا گیا شیخ عبداللہ مجموعی طور پر 17 سال جیل میں رہے اور 1975ء میں اندرا عبداللہ معاہدہ کے تحت وزیر اعلیٰ بنے اور 2 ماہ بعد ہی انہیں عدم اعتماد کے ذریعے ہٹا دیا گیا 1977ء میں شیخ عبداللہ بھارتی اکثریت سے منتخب ہو کر وزیر اعلیٰ بنے ان کے بعد فاروق عبداللہ اور 96 میں عمر عبداللہ دوبارہ کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ رہے قصہ مختصر بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں اس کٹھ پتلی تماشوں کو کشمیریوں نے کبھی دل سے تسلیم نہ کیا 64 میں حضور نبی کریمﷺ کے موئے مبارک کی سری نگر سے چوری پر وادی میں تاریخی تحریک چلی اور موئے مبارک کی بازیابی پر منتج ہوئی۔
موئے مبارک کی مناسبت سے سری نگر کی مرکزی جامعہ مسجد کو مسجد حضرت بلٰ سے موسوم کیا جاتا ہے جہاں ہر سال 12 ربیع الاول کو عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر موئے مبارک کی زیارت کرائی جاتی ہے اور شمع رسالتﷺ کے پروانے والہانہ انداز میں درود سلام پیش کرتے ہیں۔ راقم کو بھی کشمیری دانشور سردار ارشاد محمود کی معیت میں 2001ء میں یہ سعادت حاصل ہوئی تھی موئے مبارک ہی کی مناسبت سے مسجد حضرت بلٰ کو مدینہ ثانی بھی کہا جاتا ہے۔
موضوع کی طرف لوٹتے ہوئے 1987ء کے ریاستی انتخابات کا ذکر بے محل نہ ہو گا جب کشمیری قیادت نے مسلم متحدہ کے زیر اہتمام ریاستی اسمبلی کے ایکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا مگر 65 فیصد ووٹ پول لینے کے باوجود انتخابی نتائج تبدیل کر دیئے گئے جس کے نتیجے میں تحریک آزادی کشمیر نے نیا رخ اختیار کیا ہمالہ سے چشمہ ابلنے لگے سیاسی مارچ نے عسکریت کا رخ اختیار کر لیا اور 1989ء سے لے کر اب تک بھارت کی سکیورٹی فورسز نے انسانی حقوق کی پالیسیوں کی انتہاء کر دی کل جماعتی حریت کانفرنس سری نگر سیکرٹریٹ کے اعدادو شمار کے مطابق اس دوران 94150 افراد شہید ہوئے جس میں 7024 زیر حراست اموات شامل ہیں 9650نوجوان ابھی تک لاپتہ ہیں 127129 گرفتاریاں ہوئیں بیواؤں کی تعداد 22786 اور یتامیٰ کی تعداد 107491 ہے 106022 مکانات اور دکانیں نذر آتش اور 1029 خواتین کی آبرو ریزی کی گئی۔
ان عظیم النظر قربانیوں کے باوجود کشمیری عوام اور حریت پسند قیادت حق خودارادیت کے حصول کے لئے پرعزم ہے وہ ہر سال 26 جنوری کو دنیا بھر میں اور بالخصوص اسلام آباد میں بھارتی سفارت خانے کے سامنے یوم سیاہ پر مظاہرے کرتے ہیں دنیا کے سامنے نام نہاد سیکولر اور سب سے بڑی جمہوریت کی دعویدار بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کر کے واضح کرتے ہیں کہ․․․․
آج وہ کشمیر ہے مجبور و محکوم و فقیر
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر
تاریخ اشاعت: 2015-01-27

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان