بند کریں
پیر جنوری

مزید تٰعلیمی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گرمیوں کی چھٹیوں کے باوجود فیس میں اضافی چارجز کی وصولی
گزشتہ چند برسوں سے پرائیویٹ سیکٹر نے تعلیمی میدان میں تیزی سے پنجے جمائے ہیں۔والدین گورنمنٹ کی بجائے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو ترجیح دے رہے ہیں اس کیلئے انہیں بھاری فیسوں کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے
عنبرین فاطمہ:
گزشتہ چند برسوں سے پرائیویٹ سیکٹر نے تعلیمی میدان میں تیزی سے پنجے جمائے ہیں۔گورنمنٹ سے زیادہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے پر کشش سہولیات کی وجہ سے والدین اور طالب علموں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔والدین گورنمنٹ کی بجائے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو ترجیح دے رہے ہیں اس کیلئے انہیں بھاری فیسوں کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔
ہر ماہ فیس کی ادائیگی کے ساتھ مختلف چارجز کی لسٹ بھی والدین کے ہاتھوں میں تھما دی جاتی ہے۔اس لسٹ میں سکول وین کے چارجز،جنریٹر چارجز کے علاوہ اسی طرح کی دیگر چیزوں کی ایک لمبی فہرست ہوتی ہے جس کی ادائیگی فیس کے ساتھ ہر حال میں کرنی ہوتی ہے۔موسم گرما کی تین ماہ کی چھٹیاں ہوتے ہی والدین سے تین ماہ کی فیس کے ساتھ باقی چارجز بھی اسی طرح وصول کئے جارہے ہیں جس پر والدین سراپا احتجاج ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ تین ماہ تو بچوں نے سکول آنا ہی نہیں تو پھر جنریٹر چارجز وصول کرنے کا کیا جواز بنتا ہے۔بھاری فیسوں کی وصولی کے باوجود ستم ظریفی یہ ہے کہ بیشتر پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو تین ماہ کی تنخواہ نہیں دی جاتی اگر دی بھی جاتی ہے تو معمولی نوعیت کی ہوتی ہے۔پرائیویٹ سکولوں کی جانب سے والدین سے اس طرح کی ڈیمانڈز کرنا ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے۔
اس کے علاوہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے سمر کیپمس کے نام پر ایک نیا ڈرامہ رچا لیا گیا ہے سکول تو بند کر دئیے جاتے ہیں لیکن سمر کیپمس لگا کر والدین سے پیسے بٹورے جاتے ہیں یہ سمر کیپمس ایک سے ڈیڑھ ماہ کے بھی ہوتے ہیں۔یوں والدین پر سمر کیمپس کی فیس کا اضافی بوجھ پڑ جاتا ہے جسے انہیں ہر حال میں ادا کرنا ہوتا ہے۔نجی سکولوں کی انتظامیہ کی جانب سے بلاجوازپیسے ہتھیانے پر مجبور والدین شدید پریشانی سے دوچار ہیں۔
مگر بے بسی کی بات یہ ہے کہ بااثر سکولوں کے مالکان یا انتظامیہ کی بازپرس کسی سرکاری ادارے کی ذمہ داری نہیں جن کی منظوری سے ہی یہ سکول اور کالجز وجود میں آتے ہیں۔دیکھا جائے تو پراییویٹ سکولوں کے مالکان ایک مافیا کا روپ دھار چکے ہیں۔اس کے علاوہ سکولوں کی جانب سے والدین کو ہر ماہ کی 10سے15تاریخ تک فیس جمع کرانے کے لئے چالان فارم موصول ہوتے تھے۔
مگر ستم ظریفی دیکھیں۔اب والدین کوچھٹیوں کے ماہ جون اورجولائی کی بچوں کی فیس جون کی پہلے ہفتے ہی جمع کرانے کے چالان فارم ملے۔ بیشتر والدین کو تنخواہیں تاخیر سے ملتی ہیں۔جس وجہ سے بہت سے والدین فیس جمع کرانے سے قاصر تھے اور اب وہ بھاری جرمانے کے ساتھ فیس جمع کرانے کا بندوبست کر رہے ہیں۔ حکومت ان شکایات سے باخبر ہے۔مگر یہ سکول مافیا اتنا بااثر ہے کہ حکومت اس کے سامنے بے بس ہے۔
حکومت نے ان معاملات کو دیکھتے ہوئے ایک ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا تھا۔مگر سکول مافیا نے حکومت کو اس اقدام سے روک لیا۔اب والدین بے بسی کی حالت میں ان پرائیویٹ تعلیمی داروں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور و بے بس ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس مسئلہ کی جانب سنجیدگی سے توجہ دیں اورمجبور والدین کو اس مافیا کے ہاتھوں لٹنے سے بچایا جائے۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-12

(1) ووٹ وصول ہوئے