بند کریں
جمعہ فروری

مزید تٰعلیمی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
انٹری ٹیسٹ
امتحانی نظام نقائص سے پاک کرنے کی ضرورت!۔۔۔۔ ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ ہمارا بورڈ کا سسٹم تسلی بخش ہے دوسری طرف اینٹری ٹیسٹ کو ضروری بنائے بیٹھے ہیں۔انٹری ٹیسٹ کے معاملے نے تعلیم کو کمرشلائز کر کے رکھ دیا ہے
عنبرین فاطمہ:
کسی بھی ملک کی ترقی کا راز تعلیمی اور علمی میدان میں پنہاں ہے، اقوام کی ترقی اور اس کے باشندوں کے ذہنی ارتقاء کا اندازہ ان کی تعلیمی حالت سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔پوری دنیا میں تعلیم کے شعبے پر خاصی توجہ دی جاتی ہے بد قسمتی سے پاکستان میں کبھی تعلیم ترجیحات میں رہی ہی نہیں ہے۔جن ملکوں نے تعلیم پر توجہ دی آج وہ ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔
اگر ہم اپنے تعلیمی نظام کی بات کریں تو ہمارے ہاں تو آج تک یکساں نظام تعلیم ہی رائج نہیں ہو سکا یہی وجہ ہے کہ تعلیمی معیار مخدوش ہے۔انٹری ٹیسٹ کی ہی مثال لے لیں پوری دنیا میں کہیں بھی انٹری ٹیسٹ کا تصور موجود نہیں ہے ہمارے ہاں دوہرا اور فرسودہ نظام تعلیم پایا جاتا ہے۔طالب علم کو دو دو بار امتحانات پاس کرنے پڑتے ہیں اور یوں انٹری ٹیسٹ اس کی قابلیت کا سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے۔
وہ اپنے امتحان میں اعلیٰ نمبروں سے پاس ہو بھی جائے تو ٹیسٹ میں کسی بھی وجہ سے وہ رہ جاتا ہے تو اس کا تعلیمی مستقبل داوٴ پر لگ جاتا ہے۔ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ ہمارا بورڈ کا سسٹم تسلی بخش ہے دوسری طرف اینٹری ٹیسٹ کو ضروری بنائے بیٹھے ہیں۔انٹری ٹیسٹ کے معاملے نے تعلیم کو کمرشلائز کر کے رکھ دیا ہے۔بڑے بڑے انسٹیٹیوٹ اورپرائیویٹ اکیڈمیاں بیس سے چالیس ہزار تک فیس لیکر طالب علموں کو انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرواتی ہیں۔
انٹری ٹیسٹ لینے والے ادارے جن افراد سے پیپر تیار کرواتے ہیں یا پیپر سیٹر کے ساتھ ان پرائیویٹ اکیڈمیوں کا مسلسل رابطہ ہوتا ہے وہ ان کو براہ راست سوالات تو نہیں بتاتے لیکن اسی پیٹرن کے سوالات ضرور بتا دیتے ہیں اور طالب علموں کو اسی طرح سے تیاری کروا دی جاتی ہے یوں جو سوال امتحان میں آتا ہے طالم علموں کی صرف وہی تیاری ہوتی ہے زرا ہٹ کر سوال آتا ہے تو طالب علم سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اب کیا کیا جائے۔
والدین کے لئے انٹری ٹیسٹ کی فیس کا بوجھ اضافی ہوتا ہے جس کو ہر حال میں برداشت کرتا ہے کیونکہ ان کے بچے کے مستقبل کا سوال ہوتا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ انٹری ٹیسٹ لینے کیلئے سنٹرز ہر ضلع میں بنانے کی بجائے ڈویڑنل مقامات پر بنائے جاتے ہیں یوں طالب علموں کو امتحانی سنٹر تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے راستے میں ٹریفک اور رش بچوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر تھکا دیتا ہے اس چیز پر بھی آج تک توجہ نہیں دی گئی۔
انٹری ٹیسٹ کا ایک اور جو بڑا نقصان براہ راست طالب علم کو ہے وہ یہ ہے کہ اگر اس دن کسی بچے کا خدا نخواستہ ایکسیڈینٹ ہوگیا ہے یا گھر میں کوئی بڑی پریشانی ہے یا بچہ بہت ہی بیمار ہے تو ایسے میں اس طالب علم کا تعلیمی مستقبل تو دا? پر لگ گیا نا۔ٹیکنیکلی بورڈ سے امتحان پاس کرنے کے بعد انٹری ٹیسٹ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔حال ہی میں انٹری ٹیسٹ ختم کرنے کی سمری وزیر اعلی کو بھجوائی گئی ہے اگر ایسا کرنا مقصود ہے تو پھر حکومت کو چاہیے کہ وہ امتحانی نظام کو اس حد تک موئثر بنا دے کہ انٹری ٹیسٹ کے خاتمے کو تسلی بخش سمجھا جائے۔
اس کے علاوہ بورڈ میں جو پیپرز لئے جاتے ہیں ان کا لیول انٹری ٹیسٹ کے برابر ہونا چاہیے،پریکٹیکلز کے نمبرز کی ریشو کم کر دی جائے کیونکہ ہوتا کچھ یوں ہے کہ انٹری ٹیسٹ کی تیاری کروانے والی اکیڈمیوں اور انسٹیٹیوٹس والے امتحانی سنٹر میں اپنے پسندیدہ ایگزامینرز کو تعینات کروا لیتے ہیں تاکہ ان کے بچوں کو زیادہ سے زیادہ نمبرز دئیے جا سکیں۔
پریکٹیکل کے نمبرز کی ریشو کم کرنے کا فائدہ یہ ہو گا کہ اگر کوئی اس طریقے سے امتحانی سنٹر اور ایگزمینر پر اثر انداز ہوتا بھی ہے تو دوسرے طالب علموں کو زیادہ نقصان نہ ہو۔اس کے علاوہ بورڈ کی مارکنگ کا معیار بہتر بنایا جائے پیپر چیکر گورنمنٹ سیکٹر سے ہونا چاہیے اور ان کو معاوضہ اتنا دیا جائے کہ وہ ایمانداری سے اپنا کام کر سکیں اور وہ اس کام سے اپنے لئے مراعات نہ ڈھونڈے۔
پیپر چیکر کو پیپر کی چیکنگ سے قبل باقاعدہ اعلیٰ معیار کی ٹریننگ دی جائے اور پیپر کی چیکنگ میں کسی قسم کی کوئی غلطی یا کوتاہی ہو تو پیپیر چیکر کو ذمہ دار ٹھہرا کر کاروائی کی جائے۔بورڈ کے عملے کی تقرری سیاسی بنیادوں پر نہ کی جائے ان کو توسیع نہ دی جائے۔پوری دنیا میں یہ نظام ہے کہ اگر کسی طالب علم کو داخلہ دینا ہے تو متعلقہ ادارہ اپنے طور پر اس کی ذہنی جانچ پڑتال کیلئے امتحان لیتا ہے این ٹی ایس جیسے اداروں پر انحصار نہیں کرتا۔
ہمارے ہاں انٹری ٹیسٹ اس وقت شروع کیا گیا جب بورڈز کے معاملات میں خاصی کرپشن پائی جاتی تھی۔لیکن گزشتہ چند برسوں سے اب حالات کافی بہتر ہیں اور اگر کہیں کوئی کمی ہے تو اسے ہنگامی بنیادوں پر ٹھیک کیا جائے تب جا کر لوگ کہیں انٹری ٹیسٹ کے خاتمے پر اطمینان کا اظہار کریں گے۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-25

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان