بند کریں
بدھ جنوری

مزید تٰعلیمی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستان میں تعلیم امیر آدمی کا سٹیٹس بنتا جا رہا ہے، ڈاکٹر منور صابر
تعلیمی شعبے میں ترقی کیلئے انگلش کو لٹریچر نہیں بلکہ بطور زبان پڑھانے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔ دفاع کی طرح تعلیم کے شعبے میں ترقی کیلئے بھی کوئی کمپرومائز نہیں ہوناچاہیے،پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسرکاخصوصی انٹرویو
مصنف : ثنا اللہ ناگرہ
پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر منور صابر نے کہا ہے کہ پاکستان میں تعلیم امیر آدمی کا سٹیٹس بنتا جا رہا ہے،انصاف کی طرح تعلیم پربھی ہر کسی کا حق ہونا چاہیے،ملک میں جس طرح دفاع کے نام پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جاتا اسی طرح تعلیم کے شعبے میں ترقی کیلئے بھی کوئی کمپرومائز نہیں ہوناچاہیے۔تعلیم برائے نوکری کا تصور ختم ہونا چاہیے۔
میٹرک کے سالانہ نتائج 2015ء کا جائزہ لیں توپتا چلتا ہے کہ 50فیصد آبادی ابھی بھی میٹرک تک تعلیم حاصل نہیں کر پائی،حکومت کا پہلا کام اساتذہ کو معاشی فکر سے آزاد کرنا ہے پھر اگر کوئی استاد اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرے تو اس کے خلاف ایکشن ہونا چاہیے، انگلش کو بطور زبان پڑھانے کی ضرورت ہے بطور لٹریچر انگلش پڑھانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے ”اردوپوائنٹ ڈاٹ کام“ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بہترامتحانی نتائج کے درمیان میڈیم آف لینگوئج بھی اہم مسئلہ ہے اگر بی اے کا رزلٹ 35فیصد ہے تو باقی 65فیصد فیل ہوتے ہیں اس کو جب اہم 100فیصد میں لیتے ہیں تو 90فیصد طلباء انگلش میں فیل ہوتے ہیں اگر بی اے میں انگلش لازمی کی بندش نہ ہو تو رزلٹ 70فیصد تک پہنچ جائیگا۔ہمیں طلباء کوناول،ڈرامہ،شاعری کی بجائے ترجمہ،لفظوں کو سیکھنے اور ان کے استعمال کی مشق کروائی جانی چاہیے۔
ڈاکٹر منور نے کہا کہ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کی تعدادسرکاری یونیورسٹیوں سے زیادہ ہوچکی ہے یا مستقبل قریب میں ہو جائیگی جو معیار تعلیم کی بہتری کیلئے کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔فیسوں کا موازنہ کریں توسرکاری یونیورسٹی کی ایک سال کی فیس پرائیویٹ یونیورسٹی کے ایک سمسٹر کی فیس سے بھی کم ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ شعبے ایسے ہوتے ہیں جس میں لاگت یا پیسے کا عنصر شامل نہیں ہونا چاہیے ،اس میں دو شعبے تعلیم اور صحت نمایا ں ہیں۔
بدقسمتی سے دونوں شعبوں کے اندرلاگت یا پیسے عنصرکے ساتھ پرائیویٹ سیکٹر نے شامل ہوکر دونوں شعبوں کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔جس سے اب معیاری تعلیم کی جگہ پیسے نے لے لی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کبھی کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ نجی تعلیمی اداروں کا امتحانی رزلٹ کتنے فیصد رہتا ہے،اگر سرکاری اداروں کا میٹرک کا رزلٹ دیکھیں تو 80فیصد اوربی اے کا رزلٹ 35فیصد سے زیادہ نہیں رہتا جبکہ نجی تعلیمی اداروں کا رزلٹ اکثر100فیصد آتا ہے اب اگر سادہ لفظوں میں کہا جائے تویہ ڈگریوں کی فروخت ہے۔
جیسے لاہور میں بعض تعلیمی اداروں نے تعلیم کا آغاز تو پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کی صورت میں کیا لیکن بعد میں اپنی چارٹرڈ یونیورسٹی بنا کر خود ڈگریاں جاری کرنا شروع کر دیں۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی نااہلی کا نتیجہ ہے کہ تعلیم کا شعبہ پرائیویٹ ہاتھوں میں جانے دیا،نجی لوگوں نے تعلیم کو بھی بزنس بنا لیا ہے جس کا نتیجہ تعلیمی نظام کی تباہی کی صورت میں سامنے آرہا ہے،اگر سرکاری سکول ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہونگے تو بھی وہاں ایک ڈسپلن دکھائی دیگا۔
انہوں نے یکساں نظام تعلیم کے سوال پر کہا کہ حکومت کو چاہیے یکساں نظام تعلیم اور نجی تعلیمی اداروں کے نظم و ضبط و فیسوں کو کنٹرول کرنے کیلئے قانون سازی کرے ۔حکومت اگر او لیول،اے لیول کی طرز کا نصاب سرکاری سکولوں میں رائج کر دیا جائے تو یکساں نظام تعلیم کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ معیار ی تعلیم کیلئے پرائمری اساتذہ کے پے سکیلز کو اپ گریڈ کرے،حکومت کا پہلا کام اساتذہ کو معاشی فکر سے آزاد کرنا ہے پھر اگر کوئی استاد اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرے تو اس کے خلاف ایکشن ہونا چاہیے۔
اساتذہ کر بھرتی کرتے وقت ٹریننگ کا بھی بندوبست کیا جانا چاہیے کہ کلاس کے دوران ایک استاد نے کتنی دیر مسلسل بولنا ہے پھر طلباء کو کیسے کلاس میں مصروف رکھنا ہے،اسی طرح ایک کلاس کے فوری بعد دوسری کلاس یا مسلسل کلاسیں اساتذہ،طلباء اور تعلیم کے ساتھ ناانصافی ہے،کلاسوں میں مناسب وقفہ ضرور ہونا چاہیے ۔اسی طرح محنتی اساتذہ اور دوران ملازمت تعلیم حاصل کرنیوالوں کی پروموشن یا مراعات کی صورت میں بھر پور حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے ۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تعلیمی اداروں کے مسائل کے فوری حل کیلئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرز پرصوبوں ہی نہیں بلکہ ڈویثرں کی سظح پر بھی کمیشن بنانے کی ضرورت ہے۔کیونکہ پاکستان جب بنا تو کل آبادی ساڑھے تین کروڑ تھی اب 20کروڑ آبادی کا ملک ہے،آج ایک ڈویثرن کی آبادی پاکستان بنتے وقت پورے پنجاب کی آبادی کے برابر ہے۔دنیا تبدیل ہو چکی ہے ،خوشحال ملکوں میں رات کے وقت بھی تعلیمی اداے کھلے رہتے ہیں جبکہ ہمیں رات کے وقت اپنے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو پرانا کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتالہذا تعلیم کے میدان میں ترقی کرنے کیلئے ہمیں رات کے وقت بھی سب کیمپسسز کھولنے چاہئیں۔
ڈاکٹر منور نے بجٹ کے حوالے سے کہا کہ تعلیمی نظام میں ترقی کیلئے بجٹ بنیادی ایشو نہیں ہے بجٹ کے حوالے سے میری رائے مختلف ہے تعلیم کیلئے کل قومی پیداوار کا 4یا 6فیصد نہیں جتنا بھی بجٹ مختص کیا جارہا ہے اس کو خرچ کرتے وقت پوری طرح چیک اینڈ بیلنس رکھنا چاہیے۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-28

(2) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     ثنا اللہ ناگرہ

ثنا اللہ ناگرہ کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-