بند کریں
منگل جنوری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
زراعت اور کسان کی بحالی کیلئے بجٹ تجاویز
زرعی شعبہ جہاں 18کروڑ آبادی کو آٹا، دال ، چینی، پھل اور سبزیات میں خود کفالت کی ضمانت دیتا ہے وہاں کپاس چاول جیسی اجناس کی بر آمد کی صورت میں غیر ملکی زر مبادلہ کی آمدن کا بہت بڑا ذریعہ ہے
امان اللہ چٹھہ
پاکستان جیسے زرخیز زرعی ملک میں زراعت ہی زوال پذیر ہونے لگے تو اس سے بڑا معاشی المیہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ زرعی شعبہ جہاں 18کروڑ آبادی کو آٹا، دال ، چینی، پھل اور سبزیات میں خود کفالت کی ضمانت دیتا ہے وہاں کپاس چاول جیسی اجناس کی بر آمد کی صورت میں غیر ملکی زر مبادلہ کی آمدن کا بہت بڑا ذریعہ ہے جبکہ ٹیکسٹائل، گھی ، شوگر انڈسٹری کا دار و مدار بھی زراعت پر (Agro Based)ہے۔
کسی شعبہ کے بحران کا شکار ہو جانا اپنی جگہ بہت سنگین مسئلہ ہے لیکن اس کے حل کے بارے میں کسی فکر مندی سے مکمل بے حسی کا مظاہرہ معاملہ کی سنگینی کو انتہا تک پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔ بد قسمتی سے اس وقت اس شعبہ کی حالت زار اصلاح احوال کا تقاضہ کرتی ہے جس کا تعلق براہ راست 70فیصد ملکی آبادی کے علاوہ مجموعی ملکی پیداوار (GDP)اور زرمبادلہ کے ساتھ ہے۔

چاول کا بحران :
چاول غیر ملکی زر مبادلہ حاصل کرنے والی اجناس میں دوسرے نمبر پر ہے جس کی موجودہ برآمد میں مزید اضافہ کر کے 5ارب ڈالر تک کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ اس کی بر آمدی تجارت پچھلے دو سال سے مسلسل جمود کا شکار ہے۔ دنیا بھر میں منفرد حیثیت کا حامل ہمارا باسمتی چاول جو مشرق وسطیٰ ، امریکی و یورپی منڈیوں میں ہاتھوں ہاتھ بکتا تھا اس کا وافر سٹاک ملک کے اندرر کا پڑا ہے۔
اس طرح جہاں ڈیلر اور ایکسپورٹر بری طرح متاثر ہو رہے ہیں وہاں کاشتکار سب سے زیادہ اس کمر توڑ بوجھ کے زیر بار ہو چکا ہے۔ 2013کے سیزن میں باسمتی دھان کا نرخ 2400/-روپے من تھا جو 2014میں گر کر 1400/- روپے پر آگیا۔اس طرح کاشتکار کو 25000/-روپے سے لے کر 30000/-روپے فی ایکڑ کا نقصان اٹھانا پڑا جس کے خلاف وسیع پیمانہ پر ہونے والے احتجاج پر وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے محض 200/- روپے من کی شرح سے 5000/-روپے فی ایکڑ زر اعانت دینے کا اعلان کیا۔
خزانہ اور فوڈ سیکورٹی کے دونوں وفاقی وزراء نے باہمی مشاورت سے ضروری فنڈز مختص کرنے کی خوشخبری بھی سنائی لیکن اس کے بعد اس سمت میں ایک انچ پیش رفت نظر نہیں ہوئی۔ سربراہ حکومت (Chief Executive)کے دو ٹوک اعلان کے یوں ہوا میں تحلیل ہوجانے سے جہاں کسان برادری میں زبردست مایوسی پیداہوئی ہے۔ کاشتکار اس قدر بد دل ہو چکے ہیں کہ کاشت کا حوصلہ ہی نہیں کر پا رہے ہیں۔
کھیتوں کی تیاری اور پنیری کی بوائی کا کام بادل نخواستہ ہی کیا جا رہا ہے کیونکہ ان کوکچھ علم نہیں کہ آئندہ سیزن میں ان کی خون پسینہ کی کمائی کا کیا معاوضہ ملے گا اور کوئی خریدار ہوگا بھی یا نہیں کیونکہ جب مارکیٹ میں جنس کی طلب ہی نہ ہو تو مرضی کی قیمت کیسے طلب کی جاسکتی ہے۔
چاول کے بحران کا ایک اورپہلو بھی بڑا تشویشناک ہے۔ سپر باسمتی چاول کا ترقی دادہ بیج کوئی بیس سال پہلے تحقیقاتی اداروں میں تیار کیا گیا تھا جس کی کارکردگی پرانی باسمتی 370سے بہت بہتر ثابت ہوئی لیکن اس کی پیداواری صلاحیت اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کم ہوجانے سے گزشتہ سال اس کی فی ایکڑ پیداوار(Yield) میں 50فیصد تک کمی آگئی جو کاشتکاروں کے لئے بڑا دھچکا ہے۔
اتنے لمبے عرصہ میں نیا بیج تیار نہ کرنا زرعی سائنس دانوں اور تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
پنجاب سندھ اور خیبر بختونخواہ میں وسیع علاقہ کی معیشت کا دار و مدار چاول کی کاشت پر ہے چنانچہ حکومت کو سنجیدگی کا رویہ اختیار کرتے ہوئے کسانوں کی مشاورت سے جامع چاول پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔جس میں باسمتی و نان باسمتی چاول اور دھان کی امدادی قیمت مقرر کرکے خریداری کی ضمانت دی جائے۔
چاول کی بر آمد اور اندرون ملک و بیرون ملک خرید و فروخت میں پاسکو ، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (TDAP)اور ٹریدنگ کارپوریشن کو پوری طرح سر گرم کردار دیا جائے جبکہ وزیر اعظم کے 5000/-روپے فی ایکڑ پیکج کاوعدہ پورا کیا جائے۔
گندم و شوگر پالیسی:
گندم نہ صرف 18 کروڑ ملکی آبادی کی بنیادی غذا ہے بلکہ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ غذائی قلت پیدا ہونے پر جہاں در آمد کیلئے کشکول گدائی اٹھا کر دوسرے ممالک کی کڑی سیاسی و اقتصادی شرائط تسلیم کرنا پڑتی رہی ہیں وہاں حوصلہ افزا پالیسی سے فاضل پیداوار حاصل ہونے پر زرمبادلہ کی آمدن کا ایک نیا ذریعہ بھی ہاتھ آتا رہا ہے۔
حکومت امدادی قیمت مقرر کر کے خریداری سکیم تیار کرتی ہے لیکن وسیع اشتہاری مہم کے باوجود کسانوں کو محدود پیمانہ پر باردانہ کا اجرا ہوتا ہے۔ جبکہ بعد ازاں چہیتے عنا صر کو ہزار وں بوری جاری کر کے راتوں رات لاکھوں روپے کمانے کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت معقول امداد ی قیمت کے ساتھ پاسکو محکمہ خوراک کے شفاف خریداری نظام کو یقینی بنائے تو جہاں کاشتکار مطمئن ہوگا اور صارف کوفراوانی سے آٹا میسر ہوگا۔
وہاں ملک گندم بر آمد کرنے والے ممالک کی صف میں مستقل جگہ بھی حاصل کر سکے گا۔
چینی جو اب بنیادی ضرورت بن چکی ہے اس کی فاضل پیداوار با آسانی حاصل کی جاسکتی ہے لیکن یہاں پر بھی ارباب اختیار کی طرف سے کاشتکاروں کو بری طرح نظر انداز کرنے اور شوگر ملز مالکان سے ہمدردی کا جذ بہ کار فرما نظر آتا ہے گنا کی امدادی قیمت کا اعلان کیا جاتاہے جس پر خریدنے میں شوگر ملیں لیت و لعل کرتی ہیں اگر خریدتی ہیں تو قیمت کی ادائیگی کیلئے کئی مہینے بلکہ سال انتظار کی سولی پر لٹکنا پڑتا ہے۔
جبکہ مل مالکان 15روز کے اندر ادائیگی کرنے کے قانونی طورپر پابند ہیں۔ حکمران اس لئے ان پر دباؤ ڈالنے میں دلچسپی نہیں لیتے کہ بیشتر مل مالکان حکومت کے ایوانوں میں براجمان ہیں منصفانہ شوگر پالیسی کے نفاذ سے سستی چینی کے ساتھ بر آمد کے لئے وافر پیداوار کی صورت پیدا کی جاسکتی ہے۔
کھاد پانی بجلی کا مسئلہ:
اگر حکومت کے اکنامک منیجرز کھاد تیل بجلی ادویہ جیسی زرعی ضروریات پر جی ایس ٹی اور دوسرے ناواجب ٹیکس ختم کر دیں تو کسانوں کو بھاری اخراجات سے حاصل ہونے والی فصل کی زیادہ قیمت کا مطالبہ کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے گا۔
دنیا بھر میں زراعت پر بھاری سب سڈی دی جاتی ہے یورپ اس شعبہ پر ایک ارب ڈالر کی رعایت دے رہا ہے تو ہماری سرحد کے اس پار بھارت برائے نام قیمت پر بجلی مہیا کرنے کے علاوہ مقابلتاً 40فیصد کم قیمت پر کھاد فراہم کرتا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ اس کی اجناس جہاں عالمی منڈی میں بہتر مسابقت کے قابل ہوتی ہیں وہاں اس کو زرعی برآمدات سے بھاری زرمبادلی بھی ملتا ہے۔
حکومت کو آئندہ بجٹ میں زراعت پر ناقابل برداشت بوجھ ختم کرنا ہو گا۔ اس کیلئے خصوصی فنڈز مختص کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے ملک میں تمام اجناس کی فاضل پیداوار سے اضافی زرمبالہ حاصل کرکے معیشت کی بحالی میں مدد لی جا سکتی ہے۔مزید برآں اس سے کسانوں کوز رعی ضروریات کے حصول کیلئے بلاسود قرضوں کی سکیم بھی جاری کی جا سکتی ہے۔ بھاری سود پر قرضوں کا نظام کسان اور زراعت پرکمر توڑ بوجھ ثابت ہورہا ہے۔ جس سے نجات کے بعد ہی زرعی ترقی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-26

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان