بند کریں
منگل فروری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ٹیکس کلچر کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت
ایف بی آر کا قبلہ درست کئے بغیر ٹیکس نیٹ میں تو سیع ممکن نہیں۔۔۔۔ حکومت بینک ٹرانزیکشن ٹیکس کا معاملہ حل کرے‘ ملکی معیشت مزید ہڑتالوں کی متحمل نہیں ہو سکتی
خورشید انجم:
کسی بھی ملک کی تعمیر وترقی میں ٹیکسوں اور محصولات کی ادائیگی اور وصولی بنیادی کردار ادا کرتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تاحال ٹیکس کلچر فروغ نہیں پاسکا جس کی بنیادی وجہ قوانین پر عملدر آمد نہ ہونا ہے ۔ ملک بھی کے تجارتی وصنعتی حلقوں کے مطابق ٹیکس کلچر کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ محکمہ ایف ابی آر کا تشکیل کردہ پیچیدہ ٹیکس نظام اور بیورو کریسی کی روایتی نااہلی ہے ۔
محکمہ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس نیٹ کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے ٹیکس دہندہ گان کو ٹیکس و محصولات کی ادائیگی کی ترغیب کے بجائے انہیں ” مک مکا“ کا راستہ دکھایا جاتا ہے جس سے قومی خزانے کو نقصان اور ایف بی آر کے افسران و عملے کو فائدہ پہنچتا ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک برسراقتدار آنے والے تمام حکمرانوں نے ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کے بلند وبانگ دعوے تو ضرور کئے لیکن ٹیکس نیٹ کے پھیلاوٴکے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔
گزشتہ 68 برسوں میں وقتاََ فوقتاََ اقتدار پر براجمان حکمران ٹولے ’ سیاستدانوں، جاگیرداروں، وڈیروں ، سرمایہ کاروں ، تاجروں ، بیوروکریٹس اور بااثر طبقے نے ٹیکسوں اور محصولات کی عدم ادائیگی اور اپنے اثاثوں کو چھپانا اپنا حق سمجھا ۔ اس دو فیصد مراعات یافتہ طبقے اور محکمہ ایف آر کی ملی بھگت کے باعث ملک میں ٹیکس کے بجائے ایس آراو کلچر نے فروغ پایا۔
وڈیرہ شاہی، جاگیرداری، اور سرمایہ دارانہ نظام کا اسیر یہ دو فیصد مراعات یافتہ طبقہ ہی ٹیکس کے کلچر کے فروغ اور ملکی تعمیر وترقی میں ہمیشہ رکاوٹ رہا۔ جس ملک میں بااثر طبقہ ٹیکسوں و محصولات کی عدم ادائیگی کو اپنا حق سمجھتا ہو وہاں ٹیکس کلچر کا فروغ ممکن نہیں ہو سکتا ۔ امریکہ، یورپ، روس ،یا عرب ممالک کی ترقی یامستحکم نظام کی بنیادی وجہ ٹیکس کلچر کا فروغ اور قانون کی عملد داری ہے۔
ہم 68 سالوں بعد بھی ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کی تگ ودو میں مصروف ہیں۔ ہمارا پڑوسی ملک چین ہمارے لیے ایک روش مثال ہے مگر بد قسمتی سے ہم اپنی ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں ناکام رہے۔
ٹیکس کلچر کا فروغ ملکی ترقی کے لیے اتنہائی ضروری ہے لیکن ملک میں قائم دوہرا معیار ختم کئے بغیر ٹیکس نیٹ کا دائرہ وسیع کرنے سمیت ہم ترقی کے میدان میں کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔
مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت کو تاجرو صنعتکار دوست حکومت تصور کیا جاتا ہے کیونکہ شریف برادران کا تعلق بھی صنعتی گھرانے سے ہے لیکن اس تاجر و صنعتکارو دوست حکومت میں ملک بھر کی تاجر برادری سراپا احتجاج ہے۔ احتجاج کیوجہ بینکوں کے لین دین پر دوہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ ہے۔ وفاقی حکومت کی بینکوں سے لین دین پر 0.6 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کے اعلان کے ساتھ ہی ملک بھر کی تاجر برادری نے احتجاجی مہم شروع کر رکھی ہے۔
جس سے ملکی معیشت کو بڑے پیمانے پر نقصان کا سامنا ہے۔ تاجر برادری کے ملک گیر احتجاج کے پیش نظر وفاقی حکومت نے بینکوں سے لین دین پر عائد 0.6 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کو گھٹا کر 0.3 فیصد کرنے کے اعلان کیا لیکن ملک بھر کا تاجر طبقہ بضد ہے کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کو یکسر ختم کیا جائے بصورت دیگر احتجاجی مہم جاری رہے گی۔ ودہولڈنگ ٹیکس کے خلاف سراپا احتجاج ملک بھر کے تاجر دو حصوں میں تقسیم ہیں۔
دونوں تاجر دھڑوں نے علیحدہ علیحدہ احتجاج کے بعد متحد ہو کر احتجاج حکمت عملی اپنائی اور 9ستمبر کو اتفاق رائے سے ملک گیر شٹر ڈاوٴن ہڑتال کا اعلان کیا۔ 9ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کے موقع پر کئی شہروں میں مارکیٹیں اور دکانیں کھلی رہیں۔9دستمبر کی جزوی ہڑتال کے بعد وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ملک بھر کے تاجروں سے ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں میں کیا طے پایا اس کا تاحال اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار ملک بھر کے تاجروں سے ایک ساتھ ملاقات کر کے مسئلہ کا حل نکالتے۔ کیونکہ ہر شہر کے تاجروں کا اپنا اپنا موقف ہے۔ تاجروں کا ایک دھڑا 0.3 ود ہولڈنگ ٹیکس پر راضی ہے لیکن دوسرا دھڑا ودہولڈنگ ٹیکس پر یکسر خاتمے پر بضد ہے ۔
فیڈریشن کراچی ، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی ، کوئٹہ، پشاور اور دیگر چیمبرز نے بھی بینکوں سے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کے معاملے پر دوہری پالیسی اپنا رکھی ہے۔ تاجروصنعتکار لیڈرز تاجروں اور صنعتی حلقوں میں اپنی لیڈر شپ کے استحکام کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کو مسترد کرتے نظر آتے ہیں۔
لیکن وفاقی وزیر خزانہ ودیگر حکومتی ارکان سے ملاقاتوں میں ودہولڈنگ ٹیکس کو ملکی معاشی استحکام کے لیے ضروری قراد یتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-22

(0) ووٹ وصول ہوئے