بند کریں
جمعرات فروری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سرکاری خزانے کیلئے بنکوں کے ذریعے کٹوتی
پوری دنیا میں کوئی بنک اکاوٴنٹ ہولڈر کا پیسہ کاٹ کر حکومت کو نہیں دے سکتا۔ موبائل فون پرایک سو روپیہ کے کارڈ پر چالیس روپے کاٹ لئے جاتے ہیں۔ فرض کریں ایک کھرب روپے کے عوام کا رڈ خریدیں
محمد رمضان چشتی:
حکومت کو بغیر محنت یا کسی قسم کی کوشش اور جدوجہد کے بنکوں سے تین پرسنٹ ٹیکس کی مد میں کھربوں روپے آمدن ہورہی ہے۔ ود ہولڈنگ تین پرسنٹ ٹیکس لگانے سے حکومت کو فوری طور پر محکمہ انکم ٹیکس ختم کردینا چاہئے کیونکہ حکومت کو انکم ٹیکس کی مد سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ فرض کریں اگر انکم ٹیکس سیل کی مدد سے خزانہ میں ایک کھرب روپیہ سال کے بعد آتا ہے اور اربوں روپے محکمہ پر خرچ ہو جاتے ہیں۔
انکم ٹیکس کی مد میں خزانے میں بہت کم رقم بچتی ہے۔محکمہ انکم ٹیکس اپنے اقدامات اور نوٹسوں پہ نوٹس کے باعث عوام کے لئے باعث اذیت و آزار بن چکا ہے،یہ کماوٴ پتر نہیں رہا۔اسے ختم کردیا جائے تو عوام تین پرسنٹ ود ہولڈنگ ٹیکس برضا و رغبت دینے کو تیار ہیں۔ اس سے کھربوں روپیہ بنکوں سے حکومت کے خزانے میں جمع ہوگا جو انکم ٹیکس کی مد میں جمع ہونے والی رقم سے کہیں زیادہ ہوگا۔

پوری دنیا میں کوئی بنک اکاوٴنٹ ہولڈر کا پیسہ کاٹ کر حکومت کو نہیں دے سکتا۔ موبائل فون پرایک سو روپیہ کے کارڈ پر چالیس روپے کاٹ لئے جاتے ہیں۔ فرض کریں ایک کھرب روپے کے عوام کا رڈ خریدیں توچالیس ارب روپیہ اسی وقت کاٹ لئے گئے۔اس کے بعد فون میں پیسے آتے ہیں جس سے حکومت کو بغیر محنت کے فون کارڈ سے کھربوں اْڑا لیتی ہے۔ کوئی اسلامی ملک عوام کے پیسہ سے زکوةٰ بنکوں کے ذریعے نہیں کاٹ نہیں سکتا۔
ہمارے ہاں اس مد میں بھی کھربوں روپے کاٹ لئے جاتے ہیں۔ کالم لکھتے لکھتے کاغذ ختم ہو جائے گا ٹیکس کی اقسام ختم نہیں ہوں گی۔ ہر چیز پر ٹیکس پھر بھی حکومت کا خزانہ نہیں بھرتا۔ جب تک حکومت اپنے اخراجات کم نہیں کرے گی معاملات درست نہیں ہوسکتے۔بچت کا آسان حل ہے۔ملک کے سیاہ سفید کے مالک، اعلیٰ ترین شخصیات جو تقریباً دوہزار کے قریب ہیں اور 200 کے قریب محکمہ کے اعلیٰ افسران بھی قربانی دیں ،تمام مراعات واپس کردیں، کوئی سرکاری افسر بجلی کے مفت یونٹ، مفت پٹرول، مفت ٹیلی فون، انٹرٹینمنٹ یوٹیلٹی میڈیکل الاوٴنس، ریلوے ہوائی جہاز کے کرائے ،بڑے بڑے گھر نوکر چاکر سکیورٹی گارڈ سرکاری مراعات واپس کردیں تو اس بچت سے عوام خوشحال ہو سکتے اور ملک قرضہ کے بوجھ سے بھی نکل سکتا ہے۔
ان عوام سے قربانی مانگی جارہی ہے جو صرف اپنی تنخواہ پر گزارہ اور بدترین بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرتے ہیں۔
ٹیکسوں پر ٹیکس اور ان پر اضافی ود ہولڈنگ ٹیکس سے اب نقصان کیا ہوگا، لوگ بینکوں کے بجائے کیش دکانوں میں رکھیں، گھروں میں رکھیں گے، دفتروں میں رکھیں گے۔ اس سے ڈاکوں میں اضافہ ہوگا۔لوگوں کی جان جائے گی۔ ڈاکو کے پاس پہلے ہی لائسنس والا اسلحہ ہے جو گویا اس کے پاس لوٹ مار کا لا ئسنس ہے۔
کوئی پولیس والا ان کو روکتا ہے تو وہ پرمنٹ دکھا دیتا ہے اور آگے جاکر لوگوں کو لوٹ لیتا ہے۔مزاحمت پر بے دریغ گولی مار دیتا ہے۔کیش گھروں اور دفاتر میں ہوگا تو ڈکیتی کی وارداتوں میں ہوشربا اضافہ ہو گا۔ لوگ بے گناہ مارے جائیں گے۔
تین پرسنٹ ٹیکس لگا تے ہوئے محکمہ انکم ٹیکس ختم نہ کیا گیا تو اس محکمہ میں رشوت کا ریٹ مزید بڑھ جائے گا۔
یہ لوگ نوٹس پر نوٹس دیں گے۔کہ تمہارے پاس لاکھ روپیہ کہاں سے آیا، یہ مکان تم نے کیسے بنایا ،یہ موٹر سائیکل کہاں سے لی، تمہارا بجلی کابل کتنا آتا ہے، تمہارے بچے کس سکول میں پڑھتے ہیں۔ بڑے اداروں والے تین پرسنٹ نہیں دیں گے، کیونکہ انہوں نے بڑے بڑے وکیل رکھے ہوئے ہیں۔ وہ دینے کی بجائے حکومت سے ری بیٹ لیں گے۔
میاں صاحب! سی بی آر لوگوں کو آپ کے خلاف کر رہا ہے۔
میاں صاحب عوام کو آپ سے جو محبت ہے وہ بھی جاتی رہے گی، سی بی آر کا کچھ نہیں جائے گا۔ جب آپ کو کھربوں روپیہ خاموشی سے آرہا ہے تو انکم ٹیکس کا محکمہ بوجھ ہے حکومت پر اور عوام پر اس کو ختم کریں۔ پھر ہر طرف وزیراعظم نواز شریف، میاں شہباز شریف اسحاق ڈار زندہ باد کے نعرے لگاتے لوگ اپنے گھروں سے نکل آئیں گے۔ جیسے چین کے صدر ماوزئے تنگ چواین لائی سائیکل پر اپنے دفتر جاتے تھے ہم تو کہتے ہیں چین ہمارا دوست ملک ہے کیا ہم اپنے دوست کی اچھی مثالیں نہیں اپنا سکتے؟ کیا ماوٴزئے تنگ کے بعد جو صدر آئے وہ بھی عوام کو ترقی پر نہیں لے گئے !۔

محکمہ انکم ٹیکس کی وجہ سے ملک ترقی نہیں کر رہا۔ٹیکس سے بچنے کے لئے عوام فیکٹری لگانے کی بجائے جنگل میں ویران جگہ میں پلاٹ خرید لیتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں کوئی جگہ پلاٹ کی صورت میں نہیں چھوڑتا ،اس پر گھر بناتا ہے۔ صرف لاہور کی حدود میں کئی سومربع زمین ویران پڑی ہے۔ کالونی بنانے والا لوگوں کے پیسے کھا گیا۔ نہ اس پر فصل ہو رہی ہے نہ گھر بنے۔
جنگل میں کالونی بنا کر بڑے لوگ کھرب پتی بن گئے۔ ڈاکو کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ آپ کوئی چھوٹی انڈسٹری لگالیں سمجھیں آپ نے کینسر والی فیکٹری لگالی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس چڑھ دوڑے گا، یہ زمین کہا ں سے آئی۔ یہ فیکٹری کہاں سے آئی۔ کاروبار کے سلسلے میں کبھی کبھی میری ملاقات میاں محمد شریف اور اتفاق گروپ کے چیف انجینئر مرزا اصغر بیگ ساتھ ہوئی تھیں۔ میاں صاحب فرمایا کرتے تھے چشتی صاحب لوگوں کو قانون کا علم نہیں ہے۔ لوگ ڈر ڈر کے کام کرتے ہیں محکمہ انکم ٹیکس والوں سے جو قوم ڈرتی ہو وہ کیا ترقی کرے گی۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-18

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان