بند کریں
منگل فروری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
رمضان المبارک!!! ثواب یا ناجائز منافع خوری کا موقع
ناجائز منافع خوری کے ساتھ غیر معیاری اشیاء کی بھر مار کر دی جاتی ہے۔ اسلام سے زیادہ انسانوں کی فلاح کا نظام کس نے دیا ہے نہ ہی دوسرے کی فلاح کی ترغیب دی ہے مگر بد قسمتی سے ہم اسلامی تعلیمات سے دور ہو رہےہیں
خرم اعزاز :
رمضان المبارک میں سحری وافطاری کے باعث اخراجات میں معمول سے زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ مسلمانوں کی بعض مسلم روایات اور اقدار اب قصہ ماضی بنتی جا رہی ہیں۔ مثلاََ رمضان المبارک میں پورے محلے میں نہ سہی تو کم ازکم اڑوس پڑوس کے گھروں میں افطاری کا سامان بھیجنے کا رواج تھا اب بھی جہاں محلہ سسٹم ہے وہاں یہ روایت کسی نہ کسی طرح زندہ ہے۔
اب دراصل سماجی تبدیلیوں کے باعث محلہ سسٹم نہیں رہاہے نئی ہاوٴسنگ سوسائٹیوں اور پوش علاقوں میں تو یہ تصور بالکل عنقا ہو گیا ہے۔ افطاری گھروں اور بالخصوص مساجد میں بھجوانے کی روایت کو کم آمدنی اور مہنگائی نے بھی متاثر کیا ہے۔ جب لوگوں کے لیے خود اپنا گزارہ ہی مشکل ہو جائے تو وہ دوسرے کے لئے کیا کر ے گا۔ اسلام سے زیادہ انسانوں کی فلاح کا نظام کس نے دیا ہے نہ ہی دوسرے کی فلاح کی ترغیب دی ہے مگر بد قسمتی سے ہم اسلامی تعلیمات سے دور ہو رہے ہیں۔
جبکہ مغرب اس روایت کو اپنا چکا ہے ۔ مثلاََ کرسمس اور ایسٹر عیسائی دنیا کے اہم تہوار ہیں ان دونوں تہواروں کے موقع پر عام ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں 50 فیصد کم کر دیا جاتی ہیں۔ جبکہ بچوں کے استعمال کی اشیاء تو 75 فیصد رعائت کی سطح پر آجاتی ہیں۔جبکہ بد قسمتی سے ہمارے ہاں ایسے موقع کو زیادہ منافع خوری کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔ عیدین کے موقع پر اور رمضان المبارک کے دوران اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جاتا ہے بلکہ ایسے مواقع پر زیادہ استعمال کی چیزیں مہنگی کر دی جاتی ہیں۔

تاہم وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے رمضان پیکج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت لوگوں کو قدرے سستی اشیاء دستیاب ہو سکیں گی ایک اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے اعوام کو رمضان المبارک کے دوران ریلیف فراہم کرنے کے لئے تاریخ کے سب سے بڑے پیکج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت عوام کو صرف سستے آٹے کی فراہمی پر 5 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی ۔
وزیراعلیٰ کے اعلان کردہ اس پیکج کے تحت پنجاب کے عوام کا 10 کلو گرام آٹے کے ایک کروڑ 40لاکھ تھیلے310 روپے فی تھیلہ کے حساب سے فراہم کئے جائیں گئے ۔ جبکہ تاجروں اور تیار کنندگان کے تعاون سے پنجاب بھر میں 340 سے زائد رمضان بازار لگائے جائیں گے جہاں سے چینی 45 روپے فی کلو گرام، گھی بازار سے 10 روپے فی کلو گرام کم قیمت پر ، انڈے بازار سے12 روپے فی درجن کم قیمت پر اور اسی طرح پھل، سبزیاں اور چکن مارکیٹ سے کم قیمت پر مل سکیں گئے۔

وزیراعلیٰ شہباز شریف کی قیمتیں دوماہ پہلے کی سطح پرلانے کی ہدایت بھی خوش آئند ہے ذخیرہ اندوز اور منافع خورمافیا جس طرح خوف خدا سے بے نیاز ہ وکر عوام کی زندگی کا اجیران بنا رہا ہے ان کے خلاف موثر کارروائی سے ہی عوام کو سکھ کا سانس ملے گا تاہم وزیراعلیٰ سے تاریخ کے سب سے بڑے پیکج کا اعلان تو کر دیا ہے جوان کی عوام دوستی کا زندہ ثبوت ہے مگر اس کے ثمرات عوام تک تب ہی پہنچ سکتے ہیں اگر اس پر پوری طرح عمل درآمد بھی کرایا جائے۔
اس سلسلے میں متعلقہ اداروں یا حکام واہلکاروں کی کارکردگی کبھی بھی تسلی بخش نہیں رہی۔ اس سلسلے میں ماینٹرنگ کی ضرورت ہے ۔ مانیٹرنگ کیلئے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان حکمران جماعت کے کوارڈینیٹروں اور اپوزیشن جماعتوں سے بھی نمائندے لئے جائیں جو رمضان بازاروں میں خود جا کر جائزہ لیں اور کسی خلاف ورزی کی صورت میں وزیر اعلیٰ تک خبر پہنچائیں ۔
اسی طرح متعلقہ محکموں کے حکام اور اہلکا بھی اپنی روش بدلیں اور خود اپنی عاقبت سنوارنے کی فکر بھی کریں گیارہ مارہ دنیا سنوارنے کی کوششوں پر اکتفا کر لیں۔ دریں اثناء حکومت نے دہی، مکھن، پنیر، شہد، پھلوں ، سبزیوں ، چاکلیٹ ، بسکٹوں، سویاں، آلو، مشروبات اور بیکری کی دیگر مصنوعات سمیت 282 اشیاء کی درآمد پر پانچ فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عوئد کر دی ہے۔
رمضان المبارک کے آغاز سے قبل یہ اقدام عوامی حلقوں میں پذیرائی حاصل نہیں کرسکا ہے۔ بہتر تھا کہ اسے دو تین ماہ کے لئے موخر کر دیا جا تا کیونکہ اگرچہ یہ ڈیوٹی درآمدی اشیاء پر عائد کی گئی ہے مگر منافع خور تاجر اسے بہانے بناکر ملک کے اندر تیار ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ غیر میعاری اشیاء کی نکاسی کابھی یہ بہترین موقع گردانا جاتا ہے اور عیدین اور رمضان المبارک کے مواقع پر بازاروں میں غیر میعاری اشیاء کی بھر مار کر دی جاتی ہے اس کی روک تھام کا کوئی انتظام سرے سے ہی نہیں۔
اس لئے ضروری ہے کہ ناجائز منافع خوری اور غیر میعاری اشیاء کی فروخت کی روک تھام کے لیے بھی موثر کار روائی کی جائے۔
لاہور کے بازاروں میں پھل فروٹ کی قیمتیں تو پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی تھیں رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی مزید اضافہ کر دیا گیا ہے روزہ افطا کے لئے سب سے زیادہ جو چیز استعمال کی جاتی ہے وہ کھجور ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ رمضان المبارک میں یہ انتہائی ارزاں نرخوں پر دستیاب ہوتی تاکہ غرب افطار کا سامان کر سکتا ۔
عام لوگوں کو چاہیے کہ ور اردگرد ایسے سفید پوش افرادکاخیال رکھیں جن کے پاس شاید روزہ رکھنے اور افطار کرنے کیلئے پانی کے سوا کچھ نہ ہو۔ ایسے لوگوں کی خاموش مدد بے حد ثواب کا باعث بن سکتی ہے اور رمضان توہے ہی زیادہ سے زیادہ ثواب کمانے کا مہینہ۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-09

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان