بند کریں
اتوار فروری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
رمضان، مہنگائی اور عید کی تیاریاں
حضور اکرمﷺ نے اس ماہ مبارک کی بخششوں اور فضیلتوں کے بارے امت آگاہ کر دیا تھا ،یہی وجہ ہے کہ عالم اسلام میں اس بابرکت ماہ کے دوران باقاعدگی سے روزے رکھتے ہیں اور کاروبار سے منسلک افراد بھی اپنی اشیاء کی قیمتیں عام مہینوں کی نسبت کم کر کے زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں
خالد یزدانی:
رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے دوسرے عشرے کا آغاز ہو چکا ہے اور روزہ دار اس بابرکت ماہ میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے کی کوشش کرتے ہیں اور کیوں نہ کریں کہ حضور اکرمﷺ نے اس ماہ مبارک کی بخششوں اور فضیلتوں کے بارے امت آگاہ کر دیا تھا ،یہی وجہ ہے کہ عالم اسلام میں اس بابرکت ماہ کے دوران باقاعدگی سے روزے رکھتے ہیں اور کاروبار سے منسلک افراد بھی اپنی اشیاء کی قیمتیں عام مہینوں کی نسبت کم کر کے زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ حکومتی سطح پر بھی ایسے اقدامات کئے جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں اشیاء خوردو نوش کو عام دنوں کی نسبت رمضان میں ارزاں نرخوں پر فروخت کرنے کے لئے سبسڈی بھی دی جاتی ہے اور رمضان بازاروں میں اشیاء کی قیمتوں کو مزید کم کر دیا جاتا ہے اگرچہ ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت اس سال مہنگائی کی شرح بڑھی ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہونے سے یقینا اس سے متوسط اور غریب طبقہ زیادہ متاثر ہوتا ہے۔
حال ہی میں شماریات بیورو کی رپورٹ آئی جس کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 53 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں 0.37 فیصد اضافہ ہوا جس میں آلو 3.37 فیصد، چینی3.3 فیصد، کیلا 3.18 فیصد، دالیں 1.38 فیصد، آٹا 0.20 فیصد مہنگا ہوا ،جبکہ یہ بات بھی اہم ہے کہ مارکیٹوں اور بازاروں میں مذکورہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان شماریات بیورو کی جانب سے بتائے گئے اضافے سے کہیں زیادہ دیکھنے میں آتا جو پانچ سے بیس فیصد تک ہے۔
جبکہ حکومتی سطح پر لگائے گئے رمضان بازاروں سے یقینا خریداروں کو ریلیف ملتا ہے۔ اور ان رمضان بازاروں کو اس بار مانیٹر بھی کیا جا رہا ہے تاکہ صارف کو معیاری اشیاء مقرر رعائتی نرخوں پر دستیاب ہوں اس حوالے سے گزشتہ دنوں صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین کابینہ پرائس کنٹرول کمیٹی بلال یاسین نے رمضان بازاروں کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے رمضان پیکج کے انتہائی مفید نتائج سامنے آئے ہیں۔
رمضان بازاروں میں کنٹرول ریٹ پر عوام کو معیاری اور سستی اشیائے خوردنی فراہم کی جا رہی ہیں اور اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کو پابند کیا گیا ہے کہ رمضان بازاروں میں غذائی اجناس کی کمی نہ ہونے پائے۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز رمضان بازار وحدت کالونی گلشن راوی اور شادمان ،کریم بلاک کے اچانک دورے بھی کئے اس موقع پر انہوں نے مقامی ان انتظامیہ کوہدایت کی کہ رمضان بازاروں میں خریداری کے لئے آنے والے لوگوں بالخصوص عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کی سہولت کا خصوصی بندوبست کیا جائے اور سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی جائے۔
اور رمضان بازاروں میں اشیائے خورد و نوش کی وافر مقدار میں دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ اور اشیاء کی قلت کی شکایت نہیں ہونی چاہئے۔
ایک طرف مہنگائی سے عوام پریشان ہے تو دوسری طرف گرم موسم کے ساتھ لوڈشیڈنگ نے بھی عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ خیبر تا مہران ایک سی صورت حال ہے اور رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کے ساتھ ہی عید کی خریداریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کی جتنی اہمیت ہے وہ اپنے اہل خانہ کے لئے اس حوالے سے خریداری کرتا ہے خاص طور پر عید کا دن روزہ داروں کی خوشی کا دن ہوتا ہے اس دن بچوں بڑوں اور خواتین کی خوشیاں دیدنی ہوتی ہے۔
عید خریداری کا سلسلہ چاند رات تک جاری رہتا ہے۔ ابھی عید میں دو ہفتے ہیں اور عید کے لئے خریداری کا جوش و خروش آخری ہفتے میں ہی ہوتا ہے اس حوالے سے دکاندار ہوں یا خریدار سب بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں۔
ہر کوئی اپنے بچوں کو عید پر خوش دیکھنا چاہتا ہے۔ مگر ریڈی میڈ ملبوسات اور جوتوں کی قیمتیں سن کر اس کے ہوش اڑ جاتے ہیں اسی وجہ سے اب تک مہنگائی کی وجہ سے عید خریداری میں زیادہ جوش نظر نہیں آرہا۔اس کی بڑی وجہ صرف بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے رمضان المبارک میں جس طرح رمضان بازاروں میں عوام کو سستی اشیاء مہیا کی جا رہی ہیں اس طرح پر شہروں کے معروف علاقوں میں دیگر اشیاء کے بھی رمضان بازارلگائے جانے چائیں تاکہ عید کی حقیقی خوشیوں میں سب شریک ہوں۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان