بند کریں
بدھ جنوری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قومی بجٹ ‘ ٹیکس نیٹ بڑھایاجائے
حکومت 2ہزار ارب روپے ریونیو چوری روکے‘ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل۔۔۔۔۔ خبر کے مطابق یونیورسٹی آف جارجیا میں سٹڈی کی گئی ہے کہ پاکستان میں سالانہ 1855.254ارب روپے کا ٹیکس دیا ہی نہیں جاتا
سید ساجد یزدانی:
وفاقی وزیر خذانہ اسحاق ڈار فیڈرل بورڈ آف رینیو کی دو ہزار ارب روپے کی لیکیج روکنے کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان کے حکم مجریہ 20اکتوبر 2013ء کے مطابق اقدامات اٹھائیں، یہ مطالبہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے وزیر موصوف کے نام ایک خط میں کیا ہے، خط میں 19مئی 2014ء کو شائد ہونے والی ایک خبر کا حوالہ دیاگیا ہے، اس خبر کے مطابق یونیورسٹی آف جارجیا میں سٹڈی کی گئی ہے کہ پاکستان میں سالانہ 1855.254ارب روپے کا ٹیکس دیا ہی نہیں جاتا، خط میں ٹی پی آئی کی اس رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس کے مطابق دو ہزار ارب روپے کم ٹیکس اکٹھا کیا جاتا ہے یہ رپورٹ 3اکتوبر 2013ء کو سپریم کورٹ میں پیش کی گئی تھی، کراچی میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کیس میں عدالت نے سالانہ رینویو لیکیج کا اندازہ پوچھا تھا جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ عوام تو ٹیک دے رہے ہیں مگر تاجر پورا ٹیکس خزانے میں جمع نہیں کراتے، ٹی آئی پی نے عدالت کو بتایا کہ ٹیکس بچانے کیلئے جعلی انوائسز اور دستاویزات تیار کی جاتی ہیں، عدالت کے اس سوال پر کہ ٹیکس لیکیج روکنے کیلئے کیا اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ اگر حکومت اور ایف بی آر چاہیں تو ٹی آئی پی کرپشن کی روک تھام کیلئے سکیم تیار کر کے دے سکتی ہے، اس سکیم کے تحت ایک سال میں ٹیکس جی ڈی پی کی شرح 8فیصد سے بڑھا کر 16فیصد تک پہنچائی جاسکتی ہے، عدالت کے حکم پر پروپوزل تیار کر کے 30اکتوبر 2013ء کو پیش کردی گئی جس پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت ہے اور اگر اس پر عملدرآمد کیا جائے تو ریونیو میں 2ہزار ارب روپے اضافی ٹیکس آسکتا ہے، خط میں وزیرخزانہ سے کہا گیا ہے کہ وہ بجٹ 2015-16ء کیلئے ٹی آئی پی کی ان تجاویز کا جائزہ لے اور اگر ممکن ہوتو ان سفارشات پر عملدرآمد کیا جائے جو بہت سادہ اور قابل عمل ہیں۔

تاجر و صنعت کاروں نے مالی سال 2014-15ء کے وفاقی بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافے پر توجہ کے بجائے قابل ٹیکس آمدنی کے حامل افراد و اداروں کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو توسیع دینے کی تجویز دے دی ہے، تاجر برادری نے نئے بجٹ میں ایسے اقدامات بروئے کار لانے کا مطالبہ کیا ہے کہ جس سے ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہو، تاجر برادری کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ ٹیکس وصولی کا موثر اور شفاف نظام متعارف کرائے بغیر ریونیو کے مقررہ اہداف کا حصول ناممکن ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سیلز ٹیکس کی شرح میں آئندہ 3سال کے دوران بتدریج سنگل ڈی جیٹ (Single Digit)میں لایا جائے، توپیمنٹ نو ریفنڈ کا نظام لایا جائے اور تاجر و صنعتکاروں کیلئے مستقل بنیادوں میں امن فراہم کیا جائے کیونکہ طویل عرصے سے جاری مستقل بدامنی اور خوف کا ماحول تجارت و صنعت کیلئے پریشانی کا باعث ہیں۔ ان خیالات کا اظہار تاجر برادری کے نمائندوں، سٹاک ایکسچینج، ایوان صنعت و تجارت اوار مختلف شعبوں کی سرکردہ شخصیات نے مالی سال 2014-15ء کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار میں کیا۔
سیمینار سے وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان کے صدر ذکریا عثمان، کراچی ممبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبداللہ ذکی، کراچی سٹاک ایسچینج کے سینئر رکن اور اے کے ڈی گروپ کے چیئرمین عقیل کریم ڈھیڈی، آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے سنٹرل چیئرمین جنید قریشی، پاکستان ایپرل فورم کے سینٹرل چئیرمین شرجیل جمال نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور وفاقی بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔
ذکریا عثمان کا کہنا تھا کہ جو بھی شخص اس ملک میں کماتا ہے اسے بہر صورت ٹیکس دینا چاہیے۔ انڈرانوائسنگ، مس ڈیکلیریشن اور اسمگلنگ سے بچنے کیلئے ایس آر او کلچر سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ ایف پی سی سی آئی نے تاریخ میں پہلی مرتبہ رواں سال حکومت کو ایک شیڈو بجٹ مرتب کر کے دیا ہے جس میں تمام امور اور شعبوں کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے، اب دیکھتے ہیں کہ حکومت شیڈو بجٹ میں پیش کی گئی تجاویز پر کتنا عمل کرتی ہے۔
عبداللہ ذکی نے کہا کہ معاشی و اقتصادی پالیسیوں پر عملدرآمد سے قبل متعلقہ ایوان تجارت کو اعتماد میں لینا ضروری ہے ۔ کراچی چیمبر کی تجویز ہے کہ کسٹمز ٹیرف کو نیچے لانے کی ضرورت ہے، سیلز ٹیکس کی شرح کو سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے جو ابتدائی 3سال کیلئے 5تا 8فیصد ہو۔ بجٹ میں فنشڈ پروڈکٹس کے امپورٹ ٹیرف میں کمی کی جائے، زیادہ سے زیادہ ٹیکس 35فیصد ہونا چاہیے جو فی الوقت 65تا 70فیصد ہے۔
کراچی سٹاک ایکسچینج کے کے سینئر رکن عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ حکومتی اقداماتت کے باوجود ٹیکس وصولی ایسی نہیں ہورہی جیسی ہونی چاہیے جس کی بنیادی وجہ کرپٹ نظام ہے۔ ہماری تجویز ہے کہ آئندہ بجٹ میں بلیک منی کو وائٹ منی بنانے کے ذرائع ختم کردئیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹل گینز ٹیکس صرف ملک کے ایک فیصد لوگوں پر لاگو ہے جس میں اصلاح کی ضرورت ہے۔
سلیم قاسم پٹیل نے کہا کہ تعمیراتی صنعت کسی بھی ملک میں اسٹاک ایکسچینج کے بعد ملکی معیشت کا جائزہ لینے کا پیمانہ ہوتی ہے۔ ہم حکومت کو تجویز دیتے ہیں کہ وہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرے تبھی معیشت میں سدھار کے دعوے حقیقت بن سکتے ہیں۔ جاوید بلوانی نے کہا کہ ہمارا ٹیکسٹائل سیکٹر کم انویسٹمنٹ میں سب سے زیادہ روزگار فراہم کرتا ہے جو ٹیکس حکومت جمع کرتی ہے وہ سال کے آخر میں حکومت کے پاس نہیں ہوتا، ہماری تجویز ہے کہ ان پٹ، ریفنڈ او ریبیٹ کو ختم کیا جائے۔
جنید قریشی کا کہنا تھا کہ فوڈ انڈسٹری پر کسی قسم کا ٹیکس نہیں ہونا چاہیے اگر حکومتی پالیسیاں بہتر ہوں تو ملک میں موجود شوگر ملیں اپنی اپنی استعداد کے مطابق مجموعی طور پر 4ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ کو دے سکتی ہیں۔ ہماری ایک اور تجویز اور مطالبہ کہ فریٹ سبسڈی دی جائے۔ میاں محمود حسن نے کہا کہ مطلوبی ٹرانسپورٹیشن اور اسٹوریج وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال تقریباََ 20فیصد گندم ضائع ہوجاتی ہے، ملک میں ویلیو ایڈیشن کے فروغ اور کرپشن ختم کرنے کیلئے تمام صوبوں میں فوڈ ڈیپارٹمنٹس ختم کردینا چاہئے۔
شرجیل جمال نے کہا کہ سروسز سیکٹر سے صوبائی ریونیو اتھارٹیز کی جانب سے ٹیکسوں کی وصولیوں کے نظام کے بعد یہ شعبہ دہرے ٹیکسیشن کا شکار ہوگیا ہے۔ ہارمونائزڈ سیلز ٹیکس کے عنوان سے 12فیصد فکسڈ ٹیکس عائد کیا جائے جس سے شعبہ خدمات کی کاروباری لاگت میں کمی ہوگی اور یونیو میں بھی خطیر اضافہ ہوگا۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف یوتھ پروگرام برائے فیس واپسی سکیم کے تحت ملک کے پسماندہ علاقوں خصوصاََ بلوچستان کے باصلاحیت ایم اے، ایم ایس سی، ایم فیل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی کے طلباء اور طالبات کی مکمل فیس اب حکومت ادا کرے گی۔
گورنر ہاؤس کوئٹہ میں مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء میں جمع کرائی گئی فیسوں کی واپسی کے چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ فیس واپسی سکیم کیلئے وفاقی حکومت نے ایک ارب 20 کروڑ کی خطیر رقم مختص کردی ہے۔ بلوچستان میں تعلیمی سرگرمیوں میں اصلاحات کیلئے وفاقی حکومت اپنا بھرپور مالی تعاون بھی جاری رکھے گی۔ اس پروگرام سے ملک کے 33ہزار سے زائد طلباء مستفید ہوں گے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر اس سکیم کا نہ صرف باقاعدہ آغاز بلوچستان سے کیا جارہا ہے بلکہ اس سلسلے میں ضلع سبی میں یونیورسٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا جارہا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ بلوچستان کے ساتھ ماضی میں ہونے والی زیادتیوں کو نہیں دہرایا جائے گا۔
موجودہ حکومت آئندہ بجٹ میں بھی گھریلو صارفین کو 300ارب روپے کی سبسڈی فراہم کررہی ہے جس سے ملک کی 70فیصد آبادی مستفید ہوگی۔
ملک اگلے چند سال میں 10ہزار اضافی میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے قابل ہوجائے گا جو مستقبل میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہوگی۔ گوادرپورٹ کو بین الاقوامی معیار کا حامل بنایا جارہا ہے جس کے باعث ایک دن روشن بلوچستان سب کے سامنے ہوگا۔ بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں، ناراض بلوچ بھائی قومی دھارے میں شامل ہو کر صوبے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
جمہوری نظام میں اپوزیشن کا کردار اہم ہوتا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں حکومتی ترقیاتی پالیسیوں پر تنقید کے بجائے ملک کی بہتری کیلئے تجاویز دے کر اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہے۔ میڈیا مکمل آزاد ہے۔ تقریب میں گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی ، وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، وزیر مملکت برائے تعلیم بلیغ الرحمان، وفاقی وزیر سرحدی امور لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے شرکت کی۔
اسحاق ڈار نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں آوران کے زلزے سے متاثرہ 14خاندانونمیں 88ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے چیک بھی تقسیم کیے۔ تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلو نے کہا کہ اپنے وسائل کا ایک ایک پیسہ بچوں کی تعلیم پر خرچ کریں گے، نوازشریف کے گڈ گورننس اور انتہا پسندی کے خاتمے پالیسیوں کی مکمل تائید کرتے ہیں۔ دریں اثنا وزارت خزانہ میں افغانستان کے سفیر جانان موسیٰ زئی سے بات چیت میں اسحاق ڈار نے کہا کہ افغانستان پاکستان کو بہت عزیز ہے اور ہماری شدید خواہش ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کیے جائیں۔
افغان سفیر نے کہا ان کا ملک کاسا 1000الیکٹرک سٹی ٹرانسمیشن پراجیکٹ کے حوالے سے پرعزم ہے اور اس پر آگے بڑھنے کا خواہاں ہے۔ اسلام آباد سے خصوصی رپورٹر کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار آج تھری جی اور فورجی سپیکٹرم کے کامیاب بولی دہندگان کو لائسنس فراہم کرنے کے معاہدے کی تقریب کی صدارت کریں گے۔ اس حوالے سے خصوصی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔
مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والی تقریب میں تھری جی اور فورجی لائسنس کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط بھی ہوں گے جبکہ وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمن بھی موجود ہوں گی۔ تھری جی اور فورجی کے لائسنس کے حصول کے بعد موبائل آپریٹرز کمرشل بنیادوں پر تھری جی سروس کا آغاز کردیں گی۔
پاکستان بنا تو معاشی طور پر اس کا حال ابتر تھا۔
تنگی کی چند ملیں تھی، ایک ریویز تھی، جسے چلانے کے لئے کوئلہ کافی نہیں تھا۔ حال اس قدر پتلا کہ دفتروں میں اسٹیشنری تک نہیں تھی، اہم ترین دستاویزات کونتھی کرنے کیلئے کانٹے یا دھاگا استعمال کیا جاتا تھا، اس پر سرحد پار سے ہمارے لٹے پٹے بلوہ زدہ پناہ گزینوں کے لامتناہی کارواں۔ غرض ایک بہت عظیم ابتلا اور آزمائش کی گھڑی تھی، لیکن پاکستان مسلم لیگ نے بڑے صبر و استقامت کے ساتھ حالات کو سنبھالا۔
1948ء میں ملک کے وزیر اعظم لیاقت علی خان تھے اور وزیر خزانہ غلام محمد۔ 1948-49ء میں پہلا بجٹ پیش کیا گیا۔ یہ کُل 89کروڑ 57لاکھ روپے کا خسارے کا بجٹ تھا، لیکن بعد ازاں 1959-60ء تک کوئی بجٹ خسارے میں نہیں گیا۔ آزادی کے کچھ ہی عرصے بعد پاکستان کی اقتصادی بڑھوتری اوسطاََ عمومی عالمی اقتصادی بڑھوتری کے مقابلے میں بلند رہی۔ 1960 ء کی دہائی میں حقیقی سالانہ GDPکی بڑھوتری کی شرح 6.8رہی۔
تاہم 1970ء کی دہائی میں ملٹری حکومت کے دوران یہ شرح 4.8 فیصد تک گری۔ البتہ 1980ء کی دہائی میں یہ شرح ایک بار پھر بلند ہوکر 6.5 تک گئی۔ 1990ء کی دہائی پھر زوال آمادہ رہی اور گروتھ 4.6 فیصد پر اتر آئی۔
1960ء کی دہائی کو اقتصادی حوالے سے پاکستان کا سنہری دور قرار دیا جاتا ہے۔ اس دور میں دنیا بھر میں پاکستان کو معاشی ترقی کی مثال قرار دیا جاتا تھا۔
تب دارالحکومت کراچی اقتصادی رول ماڈل مانا جاتا تھا۔ یہ وہ عہد تھا جب متعدد ترقی پذیر ممالک پاکستان کے طرز معیشت اور منصوبہ بندی کو اپنانے کی خواہش اور کوشش کرتے تھے۔ جنوبی کوریا اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ سیئول کے ورلڈ فنانس سینٹر نے ہمارے پانچویں پنج سالہ منصوبے کی طرز پر اپنی اقتصادی منصوبہ بندی کی۔
منتخب نمائندوں کا دور آیا تو محترمہ بے نظیر بھٹو حکومت کا پہلا بجٹ (1989-90)ای ایچ پراچہ نے دیا، پھر میاں نوازشریف آگئے۔
ان کا پہلا بجٹ بھی ای ایچ پراچی ہی کا تھا، باقی 3سرتاج عزیز نے ترتیب دیئے۔ محترمہ بے نظیر پھر اقتدار میں آئیں تو ان کے عہد کے 3بجٹ ایم شہاب الدین نے بنائے۔ 1997-98ء سے 1999-2000ء تک کے بجٹ میاں نواز شریف کے دوسرے دور میں آئے، 2سرتاج عزیز اور ایک اسحاق ڈار نے تیار کیا اور ایک بار پھر 2000-01ء سے 2007-08ء تک آٹھوں بجٹ شوکت عزیز نے ترتیب دئیے۔
خدا خدا کر کے کفر ٹوٹا تو اقتدار ایک بار پھر پیپلز پارٹی اور حکومت یوسف رضا گیلانی کے ہاتھ آئی۔
پہلا بجٹ 2008-09ء سید نوید قمر، دوسرا محترمہ حنا ربانی کھر باقی دو عبدالحفیظ شیخ نے پیش کیے۔ اگلا بجٹ 2013-14ء مسلم لیگ ن نے اسحاق ڈار کے ذریعے پیش کیا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ 1960-61ء کے بعد کسی بھی بجٹ میں عام آدمی کو درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-30

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان