بند کریں
منگل جنوری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قرض کی مَے
پاکستان کا بیرونی قرضہ اسوقت68بلین ڈالرز ہے۔ بد یگر الفاظ پاکستان کا ہر شہری اسوقت 101,338 روپے کا مقروض ہے۔ اس میں بچے ،بوڑھے ،جوان ،خواتین و مرد سب شامل ہیں
سکندر خان بلوچ
بدقسمت ہے وہ ملک جسکو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ وسائل اور بے پناہ نعمتوں سے نوازا ہو۔ ملک میں کوئلہ سے لے کر سونا تک موجود ہو۔18کروڑ افراد کی سخت محنتی قوم ہو۔ملک میں چار بہترین موسم موجود ہوں جن میں دنیا کی ہر چیز پیدا ہو سکتی ہو۔ برفانی پہاڑوں سے لیکر زرخیز میدانوں اور صحرا تک موجود ہوں۔ہر طرح کے بہترین پھل،ہر طرح کی فصلیں ،گرم و سرد مقامات، خوبصورت اور صحت افزا پہاڑ ہوں لیکن پھر بھی ملک غریب اور مقروض ہو۔
اس لحاظ سے یہ بد قسمت ملک پاکستان ہے۔
آبادی کے لحا ظ سے پاکستان اسوقت دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے جبکہ قوت خرید کے لحاظ سے پاکستان کی معیشت دنیا کی 26ویں بڑی معیشت ہے۔جی ڈی پی کے لحاظ سے پاکستان کی معیشت دنیا میں 41نمبر پر ہے۔اس کے باوجود پاکستان کی فی کس آمدنی4.993ڈالر ہے اور دنیا کا 133ویں غریب ترین ملک ہے۔گو پاکستان دنیا کے 11ایسے ممالک میں شامل ہے جنکی معیشت 21ویں صدی میں دنیا کی چند بڑی معیشتوں میں شمار ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ان تمام خصوصیات کے باوجود پاکستان دنیا کے مقروض ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
پاکستان کا بیرونی قرضہ اسوقت68بلین ڈالرز ہے۔ بد یگر الفاظ پاکستان کا ہر شہری اسوقت 101,338 روپے کا مقروض ہے۔ اس میں بچے ،بوڑھے ،جوان ،خواتین و مرد سب شامل ہیں۔ حالانکہ اس دوران حکومت مختلف ممالک سے 4ارب اور تقریباً 14 کروڑ کی امداد بھی لے چکی ہے اور آئندہ بھی امداد ملنے کی امید ہے۔
اندرونی قرضہ 12ہزار ارب (12ٹریلین روپے) ہے۔اگر قرض کی یہی رفتار رہی جو یقیناً ہوگی کیونکہ حالات ایسے ہیں تو اگلے 2سے اڑھائی سالوں میں یعنی موجودہ حکومت کے اختتام تک یہ قرضہ بڑھ کر 74.572 بلین ڈالرز ہو جائیگا یعنی 6بلین ڈالر کا اضافہ ہوجائیگا۔پھر بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتی۔ 9/11کے بعد 2001میں حکومت نے پیرس کلب سے اپنا قرض ری شیڈول کرایا تھا اور یہ ری شیڈولنگ 15سالوں کے لئے تھی جو 2015میں پوری ہو رہی ہے۔

اگلے سال سے یہ قسطیں بھی دینا پڑیں گی جو اندازاً 500 ملین ڈالر سے لے کر 750 ملین ڈالرز سالانہ ہے۔ اور بقول ڈاکٹر حفیظ پاشا ایکسپورٹ کی نسبت سے ہمارا قرض 283فیصد ہے جو کہ بہت زیادہ ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ آمر پرویز مشرف کے دور میں قرض بہت کم تھا۔جب 2008میں پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو بیرونی قرضہ 37,170 ملین ڈالرز تھا۔ جی ڈی پی کی شرح نمو7فیصد تھی جبکہ 2001 میں یہ قرض 33 ملین کے لگ بھگ تھا۔
معلوم نہیں ہماری جمہوری حکومتیں اتنا قرض کیوں لیتی ہیں اور آمرانہ نظام حکومت کے دور سے مقابلہ کیوں نہیں کر سکتیں۔مزید دکھ اس بات کا بھی ہوتا ہے کہ ہمارے لیڈرز جو کچھ وعدے کرتے ہیں وہ پورے نہیں کرتے۔ بڑے بڑے وعدوں پر عوام کو بیوقوف بناتے ہیں۔ووٹ لیتے ہیں لیکن جب اقتدار میں آتے ہیں تو تمام وعدے پس پشت ڈال دیتے ہیں۔
موجودہ حکومت نے الیکشن کے دوران دو وعدے کئے تھے۔
اول یہ کہ باہر پڑا ہوا سرمایہ ملک میں واپس لائیں گے بلکہ نام لے کر وعدے کرتے رہے کہ فلاں فلاں کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور انکے پیٹ سے قومی دولت نکالیں گے۔ دوسرا وعدہ جو بار بار دوہرایا بھی گیا وہ یہ تھا کہ قرض لینے والاکشکول ہی توڑ دیں گے لیکن واہ رے قسمت لوٹی ہوئی قومی دولت لانے والی تو بات ہی ختم ہو گئی اور جہاں تک کشکول کا سوال ہے اسے توڑنے کی بجائے سب سے بڑے سائز کا کشکول پکڑ لیا ہے۔
جتنا قرض حکومت پاکستان نے 60سالوں میں لیا تھا اتنا قرض پیپلزپارٹی نے اپنے پانچ سالہ دور میں لے لیا اور جتنا قرض پیپلز پارٹی نے 5سالوں لیا تھا موجودہ حکومت نے اتنا اڑھائی سالوں میں لے لیا۔آخر یہ قرض واپس کیسے ہوگا؟
ہمارے حکمران تو ٹیکس تک ادا نہیں کرتے قرض کی رقم کیسے اورکہاں سے ادا کریں گے اور مزید دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ بڑے لوگ جتنا دل چاہے قومی دولت لوٹ لیں حکومتی ٹیکس ادا نہ کریں۔
ان سے کوئی پوچھنے والا تو ہے ہی نہیں۔ویسے بھی 57فیصد آبادی ٹیکس ہی نہیں دیتی۔قرض کی ادائیگی کا ملبہ بھی با لآخر عوام پر ہی آئیگا۔
قرض لینا کوئی جرم نہیں بشرطیکہ یہ قوم کی بہتری پر خرچ کیا جائے اور معیشت کو مضبوط بنایا جائے۔لیکن یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔زیادہ تر قرضہ تو ہمارے حکمران راستے میں ہی غائب کر دیتے ہیں اور انکے نام سے بیرونی بنکوں میں چلا جاتا ہے۔
اسوقت بھی بیرونی بنکوں میں 200 ارب ڈالرز سے زیادہ پیسہ جمع ہے اور یہ تمام کی تمام قوم کی لوٹی ہوئی دولت ہے۔ اگر یہ پیسہ واپس آجائے تو ہم قرض کی پائی پائی اتار سکتے ہیں اور پاکستان ترقی میں مغربی ملکوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ 10سالوں تک قوم کا پورا ٹیکس معاف کیا جا سکتا ہے لیکن بشرطیکہ یہ پیسہ واپس آئے تو لیکن لائیگا کون؟ یہ انہی کا ہی تو پیسہ ہے جو اسے واپس لانے کے لئے بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہماری حکومتیں قرض لینے پر کیوں مجبور ہوتی ہیں؟ اسکی کئی وجوہات ہیں۔
سب سے پہلی بڑی وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے حکمران اقتدار کے مزے تو لیتے ہیں لیکن ان میں لیڈر والی کوئی صفت موجود نہیں کیونکہ لیڈر کے لئے عوام کی بھلائی اور قومی مفاد سب سے مقدم ہوتا ہے۔ اپنی ضروریات اور ذاتی مفاد سب سے آخر میں آتا ہے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات درست نہیں۔وہ ایسے پراجیکٹس بناتے ہیں جن میں لوٹ مار اور کک بیکس کے زیادہ سے زیادہ مواقع ہوں۔قوم کی بہتری سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اقتدار میں آکر نہ صرف یہ لوگ دو نوں ہاتھوں سے قومی دولت لوٹتے ہیں بلکہ اپنی عیاشیوں پر بھی بہت کچھ اڑاتے ہیں۔ صدر پاکستان اور جناب وزیر اعظم کے اپنے محلات کے خرچ کروڑوں میں ہیں۔
سینکڑوں کے حساب سے بنگلوں پر سیکورٹی اہلکارز ذاتی حفاظت پر تعینات ہیں۔
ایک اخباری اطلاع کے مطابق 500اہلکار تو صرف رائے ونڈ کے محلات پر مقرر ہیں۔ چند ماہ پہلے انہیں ایک ایک ماہ کی تنخواہ بطور بونس بھی دی گئی۔ نجانے کونسا ایسا قومی فریضہ ادا کیا تھا کہ بونس ضروری ہو گیا۔ یہ لوگ بم پروف گاڑیوں کی قطاروں میں بہت سے سیکورٹی اہلکاروں کے حصارمیں سفر کرتے ہیں جن پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔
حکمرانوں نے لوٹ مار کے لئے کئی در بنا رکھے ہیں۔ایک طریقہ تو یہ ہے کہ یہ لوگ بڑے بڑے قرض لیتے ہیں اور پھر بنکوں سے معاف کرا لئے جاتے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اگر اب تک معاف کرائے گئے قرضوں کا حساب لگایا جائے تو یہ کھربوں روپے جا بنتے ہیں اور یہ غریب قوم کا پیسہ ہے جو یہ بے ضمیر لوگ ہڑپ کر گئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے پیٹ پھاڑ کر یہ قرض کی رقم نکالنی چاہیے۔
اگر صرف یہ رقم بھی وصول کر لی جائے تو شاید ہمیں اندرونی قرضوں کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
جہاں تک بیرونی قرضوں کا تعلق ہے۔ہم بہت مہنگی شرح سود پر قرض لیتے ہیں جو ہمارے وسائل سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ہم جو قرض کی قسطیں ادا کرتے ہیں ان کے لئے بھی مزید قرض لیتے ہیں۔ہم میں تو قرض کی قسطیں ادا کرنے کی صلاحیت بھی نہیں ہے۔ڈالر روز بروز مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔

1960میں ڈالر4.76روپے تھا۔بھٹو صاحب کے دور حکومت میں یہ 9.90پیسے پر گیا اور اب 107روپے میں مل رہا ہے۔ ہم وہ بد قسمت لوگ ہیں کہ دس ارب روپے کی تو صرف بجلی چوری ہو جاتی ہے اور اب چالیس ارب کا ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ 10فیصد غریب عوام کے حصے میں قو می آمدنی کا صرف4فیصد آتا ہے جبکہ دس فیصد اشرافیہ قومی وسائل کا27فیصد ہڑپ کر جاتے ہیں ۔ بہر حال ہم قر ض کی مے پی تو رہے ہیں پتہ اس دن لگے گا جس دن ہماری فاقہ مستی رنگ لائے گی۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان