بند کریں
منگل جنوری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستانی معیشت
مسائل پر قابو پانے کیلئے قرضوں کا سہارا لیا جاتا رہا اور آج صورتحال یہ ہے یہ ملک اندرونی و بیرونی سطح پر اس حد تک مقروض ہو چکا ہے کہ اس پر قابو پانے کیلئے عوام پر ٹیکسوں کا بھاری بھر کم بوجھ لادا جا رہا ہے
ریاض حسین :
پاکستانی معیشت ابتدا سے ہی ڈانواں ڈول رہی ہے۔ جو بھی حکومت آئی ، مسائل اور وسائل کے درمیان توازن قائم رکھنے میں ناکام رہی۔ مسائل پر قابو پانے کیلئے قرضوں کا سہارا لیا جاتا رہا اور آج صورتحال یہ ہے یہ ملک اندرونی و بیرونی سطح پر اس حد تک مقروض ہو چکا ہے کہ اس پر قابو پانے کیلئے عوام پر ٹیکسوں کا بھاری بھر کم بوجھ لادا جا رہا ہے۔

” سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔“ آٹا ، دال اور چاول بھی کچھ کم مہنگے نہیں ہیں۔ ان سب کو چھوڑ و بجلی کی قیمت میں آئے دن اضافے نے عوام کی نیندیں اُڑا دی ہیں۔“ یہ اور اس قسم کی بحث ہماری روز مرہ زندگی کا معمول بن چکی ہے۔
دوسری جانب میڈیا پر مسلسل خبریں آرہی ہیں کہ دھرنوں نے ملکی معیشت کی کایا پلٹ کر رکھ دی ہے۔
ان کے باعث ملک کو اربوں کا خسارہ ہوا ہے۔ حکومت مہنگائی کی موجودہ لہر کی ذمہ داری دھرنوں کو قرار دے کر اپنی جان چھڑا رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ دھرنوں کی وجہ سے ملکی معیشت متاثر ہوئی ہے لیکن نہ جانے حکومت یہ کیوں فراموش کر دیتی ہے کہ ” جو بویا سو کاٹا“ کے مصداق پاکستانی معیشت ہمیشہ عدم توازن کاشکار رہی ہے۔
تقسیم ہند کے بعد جب پاکستان دنیا کے نقشے پر اُبھرا تو اس وقت امریکی ڈالر کی قیمت تین روپے تیس پیسے تھی۔
یہ قیمت جولائی 1955 تک بر قراررہی۔ اس کے بعد یہ قیمت اگست 1955 چار روپے 76 پیسے ہو گئی جواپریل 1972 تک برقرار رہی۔ مئی 1972 سے 1973 تک ڈالر کی قیمت 11 روپے مقرر ہوئی جب کہ فروری 1973 سے 1981 تک 9.90 پر بر قرار رہی۔ ضیاء الحق کے دور میں حکومت کے آخری پانچ سال کے دوران ڈالر کی قیمت 15 اور 17 روپے کے درمیان برقرار رہی جب کہ دسمبر 1990 میں یہ قیمت 21 روپے 90 پیسے تک جا پہنچی۔
دسمبر 1995 میں ڈالر کی قیمت 34.33 تھی۔ پرویز مشرف کے دور میں بڑی حک تک ڈالر کی قیمت کو قابو میں رکھا گیا۔ دسمبر 2005 تک ڈالر 59.80 روپے بک رہا تھا۔ دسمبر 2010 میں ڈالر کی قیمت 85.70 روپے تھی جب کہ آج یہی ڈالر 103 روپے کے قریب ہے۔
پیپلزپارٹی کی حکومت کے آخری دنوں میں قرضوں اور سود کی ادائیگی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا ۔ ملک کا ہر دسواں شہری بیروزگار تھا۔
دراصل حکومت میں اتنے قرضے لئے گئے کہ ان کی شامل ماضی میں بھی ملتی۔ چنانچہ 2007 میں پاکستان پر کل قرضے 6691 ارپ روپے ہو چکے تھے ۔نتیجتاََ بیروزگاری نے جہاں بھوک کی شرح میں اضافہ کیا وہیں ریاستی مشینری کو بھی ست روی کا شکار بنا دیا۔
نواز حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو ریاست کانظام چلانے کیلئے بیرونی قرضوں پر انحصار کی پالیسی اپنائی۔
گزشتہ دنوں سٹیٹ بنک کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ ملک پر بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور بنکوں سے لئے گئے واجب الادا بیرونی قرضوں کا حجم 65 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
قرضوں سے نجات دلانے کے وعدے کرنے والی موجودہ حکومت کی حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال میں مالیاتی اداروں سے 3346 ملین ڈالر کے قرضے لئے گئے جبکہ مغربی ممالک سے 613 ملین ڈالر کے قرضے لئے گئے اوریوں تقریباََ 3959 ملین ڈالر کے قرضے حاصل کئے گئے۔
آج پاکستان کااندرونی و بیرونی سطح پر قرضہ 184 ارب ڈالر پہنچ چکا ہے اور ہر پاکستانی 825 ڈالر کا مقروض ہے۔ گزشتہ قرضے اتارنے کیلئے مزید قرضے لئے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آنے والے وقت میں بجٹ سپورٹ کیلئے قرضوں کا دباوٴ بڑھنے کا خدشہ ہے جس کے باعث حکومت کا بینکاری نظام پر انحصار بڑھ جائے گا۔ سٹیٹ بنک کے اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال کے آغاز سے اب تک بنکوں کے اندرونی خزانے ( این ڈی اے) میں کمی کا سامنا ہے جس میں زرکے پھیلاوٴ بھی کمی کا سامنا ہے۔

حزب اختلاف میں رہتے ہوئے موجودہ وزیر خزانہ نے ”کشکول توڑنے“ کے نعرے لگائے تھے لیکن اقتدار میں آتے ہی آئی ایم ایف سے قرض کی بھیک مانگنا شروع کر دی جس کے بعد 6.7 ارپ ڈالر کا قرضہ ملا لیکن سخت شرائط پر، خسارے پورے کرنے کیلئے موجودہ حکومت نے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کیلئے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا۔ اور بالواسطہ ٹیکس میں اس حد تک اضافہ کیا گیاکہ چند ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح کہیں زیادہ بلند ہوگئی۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ بالواسطہ لگائے گئے ٹیکسوں نے عام آدمی کے مسائل کو بڑی حد تک بڑھایا۔ یوں حکومت اپنے محصولات میں تو اضافہ کر لیتی ہے لیکن عام آدمی کا بجٹ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔اسی طرح جب حکومت اپنے عوام کو سبسڈی دینے کی پالیسی سے اجتناب کرے تو سفید پوش طبقہ بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں بھارت کی مثال دی جا سکتی ہے کہ جہاں لوئر مڈل کلاس اور نچلے طبقے کیلئے بجلی سمیت دیگر ضروریات پر سبسڈی دی جاتی ہے۔
حکومت آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دباتی رہی ۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر عملدرآمد کرنے سے حکومت کا اُس پر اعتماد بڑھتا رہا تو یہ اس قسم کی بیان بازی کا سلسلہ شروع ہو گیا کہ پاکستانی معیشت کی درمیانی مدت میں مزید ترقی کا سلسلہ جاری رہے گا چنانچہ پاکستان کیلئے یکے بعد دیگرے قرض کی اقساط کا سلسلہ جاری رہا اور ساتھ ہی یہ خیال بھی ظاہر کیا گیا کہ پاکستان کا پیداواری شعبہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں برس بجلی کی قلت جزوی طور پر کم ہونے کے باعث ترقی کرے گا۔

پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کے مشن چیف جیفری فرینکس کے مطابق 3.1 کی شرح نمو میں مزید بہتری کا سلسلہ جاری رہے گا اور 2014-15 کیلئے پاکستان کی معیشت میں ترقی کی شرح بڑھ کر 3.7 ہونے کی پیش گوئی کی گئی۔
دوسری جانب ایشیائی ترقیاتی بنک کی طرف سے اشارہ ملا کہ 2014 میں جنوبی ایشیائی ممالک میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح سب سے کم رہنے کا امکان ہے ۔
اس رپورٹ میں کہا گیاکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں برس معیشت کی کارکردگی میں قدرے بہتری کاامکان ہے لیکن سال کے اختتام تک پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ ایشیائی ترقیاتی بنک کا کہنا ہے کہ امن وامان کی بدھالی اور دیگر مسائل کی وجہ سے سرمایہ کار عدم اعتمام کا شکار ہیں لہٰذا ملک میں غیر ملک سرمایہ کاری بہت کم ہے۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ معاشی بحران اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب مالیاتی اُمور پر حکومت کا کنٹرول نہ رہے ۔ حکومت نے تاجروں اوراسٹاک ایکسچینجز پر شدید دباوٴ ڈال کر روپے کی قدر کو ڈالر کے مقابلے میں بچایا ہو ا ہے جس کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک ڈالر 110 روپے کی سطح پرپہنچ چکا تھا اور روپے کی قدر مزید گرنے کے امکان تھے۔
اُس وقت سعودی عرب نے پاکستان کا ڈیڈھ ارب ڈالر دئیے مگر ڈولتی ناوٴ کو سہارا کیسے مل سکتا تھا جب کہ حکومتی پالیسیاں عدم توازن کا شکار رہیں۔
موجودہ سسٹم میں ہم نہ تو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے قرضے دینے کے قابل ہیں اور نہ درآمدات کم کرنے اور برآمدات بڑھانے کی پوزیشن میں ہیں۔ آمدن کی نسبت حکومت کے غیر پیداواری اخراجات بڑھ چکے ہیں۔
ٹیکس کا نظام ناقص اور قومی معیشت کیلئے تباہ کن ہے۔ ارباب حکومت جو خود سرمایہ دار اور جاگیردار ہیں، جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کو منسوخ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ ٹیکس نادہندگان کی فہرست میں بڑے بڑے ناموں کی طویل فہرست ہے جن کے پیش نظر محض اپنے اثاثوں میں اضافہ ہی کرنا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی ٹھوس اور جامع پالیسیاں بنائی جائیں کہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم سے کم ہوں۔ سبسڈی کی پالیسی اختیار کی جائے، ملک میں امن وامان کا دور دورہ ہو تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بھی دلچسپی بڑھے، طبقاقی تفریق کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔
تاریخ اشاعت: 2014-11-18

(1) ووٹ وصول ہوئے