بند کریں
پیر جنوری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین

فیصل آباد

آپریشن ضرب عضب کی کامیابی پاور لومز انڈسٹری کیلئے حیات نو
دہشت گردی اور دہشت گردوں کے دھماکوں سے فیصل آباد کی پاور لومز انڈسٹری بستر مرگ پر دکھائی دیتی تھی وہ تیزی سے نہ صرف صحت یاب ہو رہی ہے بلکہ فیصل آباد کے تاجروں کے ہاتھوں سے جو مارکیٹ جبری چھین لی گئی تھیں اب واپس انہی ہاتھوں میں آ رہی ہے
احمد کمال نظامی:
پنجاب کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد بنیادی طور پر محنت کشوں کا شہر ہے اور پاور لومز سیکٹر کا سب سے بڑا مرکز ہے لہٰذا فیصل آباد کو محنت کشوں کا شہر ہونے کا جہاں اعزاز حاصل ہے وہاں پاور لومز سیکٹر ہونے کے ناطے یہ اپرکلاس کے لوگوں کا بھی شہر ہے اور بدقسمتی سے دہشت گردی کے واقعات کی بناء پر فیصل آباد اس سے بری طرح متاثر ہوا کیونکہ پاور لومز پر تیار ہونے والے کپڑے کی بڑی مارکیٹ صوبہ خیبر پی کے اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقے تھے لیکن دہشت گردی نے اس مارکیٹ کو اپنی آسیبی گرفت میں لیا ہوا تھا اور تاجر خوف کے مارے ان علاقوں کا رخ نہیں کرتے تھے اور نہ وہاں کی تاجر برادری جو بڑی تعداد میں فیصل آباد میں ہے اس کی آمد میں کمی کے باعث فیصل آباد کی معیشت کو زبردست جھٹکا لگا اب ایک عرصہ کے بعد جب سے دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب آپریشن شروع ہوا ہے اور ایک سال کے عرصہ میں افواج پاکستان کے چیف جنرل راحیل شریف کی قیادت و سیادت میں نقشہ ہی تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔
آپریشن ضرب عضب سے قبل صورت حال اس قدر خوفناک اور بھیانک تھی کہ دہشت گردی کا کوئی واقعہ یا دھماکہ صوبہ خیبر پی کے میں ہوتا تھا تو اس کے بداثرات فیصل آباد میں بھی نظر آتے تھے اور فیصل آباد کی مارکیٹ میں زلزلہ برپا ہو جاتا تھا۔ آپریشن ضرب عضب نے پاکستان میں سیاسی ہواوٴں کا ہی رخ تبدیل نہیں کر دیا اور اس وقت سیاسی ہواوٴں کی تبدیلی سے جو تصویر ابھر کر سامنے آ رہی ہے وہ ایک خوشحال اور مستحکم پاکستان کی تصویر ہے۔
سیاسی قیادت اور خاص طور پر حکومت کو بڑے تحمل سے مستقبل میں آپریشن ضرب عضب کے نتیجہ میں پنجاب اور دوسرے مقامات پر کئے جانے والے اقدامات برداشت کرنے ہوں گے۔ اس لئے کہ یہ سب اقدامات ملک و قوم کے مفاد میں ہوں گے جیسا کہ کراچی آپریشن کا فائدہ حقیقی معنوں میں صرف وہاں نہیں پورے ملک کے عوام اور خاص کر معاشی حالات کو پہنچ رہا ہے اور حالات کی بہتری کی طرف ہم نے اپنے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔
بین ہی یہ صورت حال فیصل آباد میں بھی ہے کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کے دھماکوں سے فیصل آباد کی پاور لومز انڈسٹری بستر مرگ پر دکھائی دیتی تھی وہ تیزی سے نہ صرف صحت یاب ہو رہی ہے بلکہ فیصل آباد کے تاجروں کے ہاتھوں سے جو مارکیٹ جبری چھین لی گئی تھیں اب واپس انہی ہاتھوں میں آ رہی ہے اور جس خوف نے تاجر کو صوبہ خیبر پی کے کا رخ کرنے سے روکا ہوا تھا اب خوب کی وہ فضا نہیں رہی فیصل آباد کے تاجروں نے اور وہاں کے تاجروں نے ایک مرتبہ پھر رابطے قائم ہو چکے ہیں اور جو پاور لومز فیکٹریاں تیزی سے بند ہو رہی تھیں لوڈشیڈنگ کی بدترین صورت حال کے باوجود چالو ہو رہی ہے یہ بہت بڑی معاشی اور اقتصادی تبدیلی ہے جو آپریشن ضرب عضب کے نتیجہ میں سامنے آئی ہے لیکن پاکستان دشمن طاقتوں کو یہ تبدیلی گوارا نہیں۔
لہٰذا انہوں نے فیصل آباد میں خوف کی فضا پیدا کرنے کے لئے فیصل آباد کو اپنی تخریبی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی سازش کی اور اپنا ایک گینگ فیصل آباد میں داخل کیا لیکن فیصل آباد پولیس نے پوری ہوش مندی اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سازش کے تمام کل پرزوں کو موت کی وادی میں پہنچا دیا جو ان کا اصل مقام ہے اور فیصل آباد ایک بہت بڑی تباہی سے محفوظ رہا۔
دہشت گردوں یا خودکش حملہ آوروں سے فیصل آباد کے بارونق علاقہ پیپلزکالونی ڈی گراوٴنڈ میں جو مقابلہ ہوا جس کے نتیجہ میں ایک دہشت گرد واصل جہنم ہوا جبکہ ایک پولیس کانسٹیبل حسیب موقع پر جام شہادت نوش کر گیا۔ فیصل آباد پولیس کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ جہاں اس محکمہ کو ٹاپ ٹین کرپٹ محکموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں جہاں دہشت گردی سب سے بڑا رکاوٹ ہے وہاں کرپشن اور رشوت خوری بھی ایک بنیادی عنصر کا کام کرتی ہے لیکن کانسٹیبل حسیب نے اپنی جان کا نذرانہ دفاع شہر کا کردار ادا کرتے ہوئے پولیس کا روشن چہرہ بھی دکھا دیا۔
حکومت پنجاب جو کانسٹیبل حسیب کی خدمات کبھی فراموش نہیں کر سکتی اس نے اس قربانی کا اعتراف کرتے ہوئے پچاس لاکھ روپیہ ”نذرانہ “ کے طور پر شہید کانسٹیبل حسیب کے لواحقین اور بیوہ کو پیش کیا۔ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب خود شہید کانسٹیبل کی تعزیت کے لئے اس کے گاوٴں گئے جبکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف نے حسیب شہید کو نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت شہید کے خاندان کی ہرممکن امداد جاری رکھے گی اور انہیں تعلیم صحت اور دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
فیصل آباد میں حالات میں تیزی کے ساتھ تبدیلی کے آثار دکھائی دینے کے باوجود لوڈشیڈنگ حالات کے پہیہ کو اپنی رفتار سے گردش نہیں کرنے دیتی اور پاور لومز سیکٹر کے ساتھ دیگر کارخانے اور فیکٹریاں بھی متاثر ہو رہی ہیں پھر بجلی کے نرخوں میں آئے روز اضافہ بھی ہیجان کا باعث بنتا ہے۔ چونکہ فیصل آباد کی اس اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سیاست اور معاشرت میں درمیانہ طبقہ ایک سے زائد اسباب کی بنا پر خاص اہمیت کا حامل ہے۔
ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی دیہات میں آباد ہے۔ اگر دو ڈالر یومیہ فی کس آمدنی کو معیار قرار دیا جائے تو پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ انتہائی غربت کا شکار سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ صرف توانائی کے بحران پر قابو پا لیا جائے تو ہماری صنعتی پیداوار اور شرح ترقی میں دو فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔
فیصل آباد چونکہ ایک صنعتی محنت کش شہر ہے اور اس کی ٹیکسٹائل کی صنعت ہمیں زرمبادلہ فراہم کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے لہٰذا شہریوں کے بعض حلقوں کی طرف حکمرانوں سے یہ مطالبہ کہ جب تک توانائی کے بحران پر حکومت قابو نہیں پاتی فیصل آباد جیسے صنعتی شہر کے لئے لوڈشیڈنگ کا شیڈول ترجیحی بنیادوں پر بنایا جائے کیونکہ اس شہر سے حکومت کو جو ریونیو حاصل ہوتا ہے وہ کراچی سے حاصل ہونے والے ریونیو کے مقابل کھڑا نظر آتا ہے اگر بدلتے ہوئے حالات میں جب کہ پاور لومز کی پیداوار کی خریداری میں اضافہ دکھائی دیتا ہے اگر فیصل آباد میں صرف چار گھنٹوں پر مشتمل لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری کر دیا جائے تو فیصل آباد کی معاشی صورت ہی تبدیل نہیں ہو گی بلکہ فیصل آباد کی معیشت میں انقلاب برپا ہو جائے گا اور غربت کی لکیر میں واقعی کمی ہو گی حکومت اس پر سنجیدگی سے غور کرتی ہے یا نہیں لیکن یہ بات اپنی جگہ مسلمہ حقیقت ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر کے حکمران اپنے پاوٴں پر خود کلہاڑی مار رہے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان