بند کریں
منگل جنوری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نجکاری میں جلد بازی سے گریز کی ضرورت
ایم سی بی سے واپڈا تک ہر معاملے میں عجلت دکھائی دیتی ہے۔۔۔۔ مسلم لیگ کے پہلے دورحکومت میں شفاف پرائیوئیزیشن کیسے عجلت کے ساتھ عمل میں لائی گئی سب واقف ہیں۔ بنک کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والوں کی طرف سے پانچ پیش کشیں وصول ہوئی تھیں
چوہدری عمر نواز سرویا:
مسلم لیگ ن کی حکومت نے اس بار حکومت سنبھالتے ہی واپڈا جیسے قومی ادارے کو متعدد بار فروخت کرنے کو کوشش شروع کر دی مگر جیسے ہی حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت شروع ہوئی دوسری طرف واپڈا ملازمین اور اس کی یونین خورشید احمد کی سربراہی میں متحریک ہو گئے۔ جسکی بنا پر حکومت کے لیے پرائیویٹائزیشن کایہ فیصلہ کرنا آسان نہیں رہا۔
جس دور میں ایم سی بی کی نج کاری کی جارہی تھی اگر وہاں واپڈا جیسی یونین، ان کے رہنما خورشید احمد اور ساجا کاظمی جیسے جانثار ورکر ہوتے تو یہ بنک کبھی بھی سرکاری شعبے سے نجی ملکیت میں نہ جاتا۔ مسلم لیگ کے پہلے دورحکومت میں شفاف پرائیوئیزیشن کیسے عجلت کے ساتھ عمل میں لائی گئی سب واقف ہیں۔ بنک کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والوں کی طرف سے پانچ پیش کشیں وصول ہوئی تھیں۔
ایک کو شامل نہیں کیا گیا اس بنک کے 26 فیصد حصص کی خریداری کے لیے پیش کش دینے والوں میں جن دو گروپوں توکل گروپ اور منشا گروپ میں مسابقت تھی ان میں سے توکل گروپ کی جانب سے زیادہ بولی دینے کے باوٴجود حصص منشا گروپ کو فروخت کر دئے گئے تھے۔ توکل گروپ نے اس اقدام کے خلاف اگرچہ سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی جسے سماعت کے لیے منظور کر لیا گیا تھا مگر بعد میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر توکل گروپ نے سندھ ہائی کورٹ سے اپنی درخواست بھی واپس لے لی تھی۔
پھر سندھ ہائی کورٹ کی ڈویڑن بنچ نے انہیں اپنی آئینی درخواست واپس لینے کی اجازت دے دی تھی اس طرح یہ درخواست غیر موثر ہو گئی۔ ایسا سب کچھ بلاشبہ افہام و تفہیم کا نتیجہ تھا جس کے بعد حکومت پاکستان او ر منشا گروپ کے درمیان معاہدہ فروخت کے مطابق اسپانسرز تین دن کے اند 83 کروڑ88 لاکھ روپے کی ادائیگی کر کے بنک کا انتظام سنبھال لیا تھا۔ اس اہم ترین اور بڑے بنک کی نج کاری کے ذریعے میسرز عبداللہ جو میاں منشا اور ان کے 17 بڑے صنعت کاروں پر مشتمل کنسورشیم تھا کے حوالے کیا گیا تھا۔

واقعات کے مطابق تین دن کے اندر 83کروڑ 88لاکھ کی ادائیگی کر کے بنک کا انتظام سنبھال لیا گیا مگر یہ بات آج تک منظر عام پر نہیں آسکی ہے کہ اس گروپ نے وہ رقم کہاں سے اور کس طرح سے حاصل کی تھی۔ بنک تحویل میں آنے کے بعد جس طرح دو بڑے کاروباری اداروں کے اکاوٴنٹ کھولے گئے ۔ اکاوٴنٹ کھولے جانے کے اگلے روز ان دونوں اکاوٴنٹ میں پندرہ پندرہ کروڑ کی رقم بطور قرض جار ی کر دی گئی ۔
یعنی صرف دو دن میں 30 کروڑ روپیہ جمع بھی ہوا اور نکل بھی گیا۔ اتنی بڑی رقم نجی شعبے میں دئیے جانے والے ایک بنک سے بطور قرض ایک مثال بن گئی۔ حکومت اب ایک بار پھر اپنے منظور نظر افراد کو نوازنے کی تیاریوں میں مصروف ہے مگر واپڈا یونین ان مفاداتی گروہوں کے درمیان رکاوٹ بنی ہوئی ہے واپڈا یونین کا س وقت یہ موقف ہے کہ حکومت نے اگر واپڈا کو فروخت ہی کرنا ہے تو پہلے خسارے میں چلنی والی کوئٹہ، حیدرآباد، اور ملتان جیسی کمپنیوں کو فرخت کیا جائے نہ کہ منافع بخش کمپنیوں کو پہلے دیدیا جائے۔
اس کے علاوہ حکومت کی والین ذمہ داری یہ ہے کہ لوگوں کے روزگار کو چھیننے کی بجائے انہیں اس کا تحفظ دیا جائے کیونکہ یہ صرف حکومت ہی نہیں دستور کے مطابق ریاست کا بھی اپنے شہریوں سے عہد ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-15

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان