بند کریں
جمعہ فروری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سبزیوں کے نرخ میں 70فیصد اضافہ
پھل کھانا انتہائی مشکل،سونے کے بھاوٴ پھل فروخت ہونے لگے۔۔۔۔۔مہنگائی کی عفریت غریب کو نگل رہی ہے،،،،،،، ہائے مہنگائی۔۔۔ مار گئی مہنگائی۔۔۔ انتظامیہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام
مہنگائی جو آگ کا دریا بن چکی ہے۔ اس پر قابو پانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ ہر سال رحمتوں، برکتوں کے ماہ مقدس رمضان میں مہنگائی کا طوفان ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ مہنگائی کے خلاف ہمارے سیاست دانوں کی زبانوں پر تالے لگے ہیں۔ ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان کے پہلے فوجی حکمران جنرل ایوب خاں کے عہد میں تین سال بعد چینی کی قیمت میں دس پیسے کا معمولی اضافہ ہوا تو جنرل ایوب خاں کی حکومت مہنگائی کی زد میں آ گئی اور یہ اس قدر خوفناک ثابت ہوئی کہ دس سالہ جشن ترقی بھی حکومت کو نہ بچا سکا۔
اس وقت قوم سیاسی طور پر بیدار اور باشعور تھی۔اس وقت قوم میں ان افراد کی تعداد زیادہ تھی جنہوں نے قائداعظم کی قیادت میں تحریک پاکستان میں حصہ لیا،قوم میں کرپشن اتنی نہیں تھی جتنی آج ہے اور اسی کرپشن نے قوم کو بے حس، خودغرض اور مفادات کا اسیر بنا دیا ہے لہٰذا اس بے حسی سے حکمران اور طبقہ اشرافیہ بھرپور انداز میں فائدہ اٹھاتا ہے اور جس کا جس قدر جی چاہتا ہے عوام کا خون نچوڑ لیتا ہے۔
ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی قلت پیدا کر کے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے والوں کو نکیل ڈالنا کون سا مشکل کام ہے۔ پاکستان میں نائن الیون کے بعد اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد امریکہ دشمنی کے نام پر پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پی کے میں تخریب کاری اور دہشت گردی میں مصروف ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی دہشت گردی میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔
اگر اس وقت کے حکمران گریہ کشتن روز اول پر عمل کرتے تو شاید آج ضرب عضب آپریشن کی نوبت نہ آتی۔ گورنر مغربی پاکستان ملک امیر محمد خاں مرحوم نے تاجروں کو گورنر ہاوٴس طلب کیا اور صرف اتنا کہا کہ دوران جنگ روزمرہ اشیاء کی قلت نہیں ہونی چاہیے اور نہ قیمتوں میں اضافہ اور اجلاس برخاست کر دیا،عوام نے دیکھا کہ سترہ روزہ جنگ کے دوران کسی چیز کی قیمت میں ایک پیسہ کا اضافہ نہیں ہوا اور آج صورت حال بالکل مختلف ہے کہ ابھی آپریشن جیسے میں جنگ کہوں گا۔
تاریخ کے طلباء جانتے ہیں کہ بادشاہی عہد حکومت میں جب کہیں کوئی سردار یا علاقہ کا حاکم بغاوت کرتا تھا تو بادشاہ اس کے بغاوت کو کچلنے کے لئے جنگ کرتا تھا۔ وہ جنگ بھی بادشاہ کا آپریشن ہی ہوتا تھا۔ ابھی آپریشن کو چند روز گزرے ہماری سٹاک مارکیٹ میں مندے کے بادل چھا گئے ہیں، اس کی بڑی وجہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے نتیجہ طالبان اور ان کے حواریوں کی طرف سے ممکنہ دہشت گردی کا خوف ہے حکومت نے تمام بڑے شہروں میں فوج کی تعیناتی اور حساس تنصیبات کی سیکورٹی فوج کے سپرد کر دیے جس سے اور بھی خوف میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ذخیرہ اندوزوں، منافع خوروں اور اشیاء روزمرہ کی قلت پیدا کر کے عوام کا خون نچوڑنے والے تاجروں کی چاندی ہو گئی ہے جو حکمرانوں کی وہ فورس ہیں کہ عوام جائیں جہنم میں تاجروں کے مفادات متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔
حالانکہ اگر حکمران مہنگائی کی روک تھام کا فیصلہ کر لیں تو چند روز میں مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ گو پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہبازشریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ رمضان المبارک سے قبل اور رمضان شریف اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی اور انہوں نے صوبائی کابینہ کمیٹی برائے پرائس کنٹرول کو ہدایت جاری کی ہے کہ عوام کو اشیاء ضروریہ مقررہ نرخوں پر فراہمی ہر صورت میں ممکن بنائی جائے۔
عوام کی حقیقی نمائندگی ان پرائس کنٹرول کمیٹیوں میں نہیں ہوتی۔ جو کریانہ کی دکان میں گھسا بیٹھا ہے وہ آٹے دال پر منہ مار رہا ہے جو سبزی منڈی میں آڑھت کرتا ہے اس کے انداز ہی نرالے ہیں وہ پھلوں کی قیمت رسد اور طلب کو سامنے رکھ کر مقرر کرتا ہے اور ایک وباء جو دیمک کی طرح عوام کی جیبوں کو چاٹ رہی ہے۔ ملک میں توانائی کا بحران امن و امان کی خراب صورت حال روپے کی قدر میں کمی، اسحاق ڈار جیسا وزیرخزانہ بھتہ خوری، بدعنوانی، حکومتی اخراجات میں شاہی اضافہ ٹیکسوں کی وصول یابی میں ناکامی، قرضہ دینے والے بین الاقوامی اداروں کی شرائط جن کو حکمران آنکھیں بند کرتے ہوئے تسلیم کر لیتے ہیں ، گیس، بجلی، پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ در اضافہ، بیروزگاری، زرعی پیداوار میں کمی، آبی وسائل کی قلت وغیرہ بھی مہنگائی کے بنیادی اسباب ہیں خصوصاً آبی وسائل کی قلت ایک اہم مسئلہ ہے۔
آبی وسائل میں سالانہ سات فیصد کمی واقع ہو رہی ہے جس کی وجہ سے زیرکاشت اراضی گھٹتی جا رہی ہے اور اس کی جگہ آبادیاں جنم لے رہی ہیں کوئی اس اہم پہلو پر غور نہیں کرتا کہ شہر کے قریب زرعی اراضی کی کمی کے نتیجہ میں عوام کو ملنے والی سستی سبزیاں اب کس بھاوٴ فروخت ہو رہی ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہمیں سبزیاں بھی درآمد کرنی پڑیں گی۔
اس وقت مہنگائی عفریت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ غریب آدمی تو صرف پھلوں کا نام لے سکتا ہے پھلوں کی قیمتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ پھل غریب کے مقدر میں رہے ہی نہیں اور اشرافیہ کو مہنگائی سے کوئی سروکار نہیں۔ہوٹلوں میں چلے جائیں وہاں رش اس قدر ہوتا ہے کہ بیٹھنے کو جگہ نہیں ملتی اور یہ حیران کن بات نہیں ہے کہ مہنگائی اور گرانی کا رونا رونے کے ساتھ ہی ہم ایک ہزار سے ڈیڑھ ہزار روپے کا برگر بڑے فخر سے کھاتے ہیں۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کی ایک تہائی آبادی غربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ غریب مزدور تنخواہ دار طبقہ دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے اس کا سدباب کون کرے گا۔ ذمہ داری تو حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے لیکن ان کے سیاسی مفادات اور ہیں مظلوم وہ ہے جو اپنی جائز تنخواہ میں گزارہ کرتا ہے اور اسے اپنا بدلہ چکانے کا موقع نہیں ملتا۔ رشوت لینے والا رشوت کا ریٹ بڑھا دیتا ہے۔
دودھ والا دودھ کا ریٹ بڑھا دیتا ہے اور قصاب گوشت کے ریٹ بڑھا دیتا ہے ایسی حالت میں غریب اور مظلوم عوام جائیں تو جائیں کہاں، اس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں اور اگر ہے تو دینا نہیں چاہتے کہ ان کے مفادات دیوار بنے ہوئے ہیں۔ کہنے کو میاں شہباز شریف بہت کچھ کہتے ہیں لیکن عمل تو ہمیں کسی بازار، کسی مارکیٹ میں نظر نہیں آتا۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-25

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان