بند کریں
جمعرات جنوری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گوادر۔۔۔یہاں” نیاپاکستان“ بن رہاہے
پاکستان نے 2300ایکڑ زمین چین کے حوالے کردی ہے
ابن ظفر:
پاکستان ترقی کے ایک نئے سفر کاآغاز کررہا ہے۔ پاک چین اقتصادی معاہدے جہاں ایک نئی منزل کی نویدسنارہے ہیں وہیں بھارت اس پر سیخ پابھی نظرآرہاہے۔ گوادر میں عالمی معیار کی بندرگارہ ائیرپورٹ اور تجارتی راستوں کے منصوبے دنیا بھر کی نظروں میں ہیں۔ ایک طرف ان منصوبوں کی کامیابی پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کاباعث بنے گی تودوسری طرف ایک ایسا عالمی بلاک بھی بن جائے گا جس میں پاکستان کومرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔
اس لئے کہاجاسکتا ہے کہ پاک چین اقتصادی منصوبے صرف اقتصادی حوالے سے ہی نہیں بلکہ وفاعی حوالے سے بھی پاکستان کے مفاد میں ہیں۔
پاک چین اقتصادی راہداری میں گوادر کی بندرگاہ کوخاص اہمیت حاصل ہے ۔ بنیادی طور پر اس سارے روٹ کااصل مرکز گوادر ہی ہے جوچین اور روس کوگرم پانیوں تک رسائی دے گا۔ گوادر کی اس اقتصادی راہداری پرپاکستان اور چین کے درمیان تیزی سے معاہدے طے پارہے ہیں اور اب چین عملی اقدامات کیطرف بڑھ رہاہے۔
اس مقصد کے لئے حال ہی میں گوادر پر ایک تقریب کااہتمام کیاگیا جس میں پاکستان اور چین کے درمیان ایک اور مفابمتی یاداشت پر دستخط کردئیے گئے۔ اس معاہدے کی روسے پاکستان نے 2300ایکڑ زمین باقاعدہ طور پرچین کے حوالے کردی ہے۔ اس معاہدے کے اگلے تین برس میں گوادر سمارٹ پورٹ سٹی بن جائے گا اور یہاں ایک انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کردی جائے گی۔ یہ زمین 43 سال کی لیز پرد ی گئی ہے اور ذرائع کے مطابق باقی اراضی پبلک چائنہ اوورسیزپورٹ ہولڈنگ کمپنی کے ساتھ معاہدے کے بعددی جائے گی۔

ماضی میں ہی گوادر کومستقل کابین الاقوامی شہر، ٹیکس فری بندرگاہ قرار دیا جانے لگا تو اس کے ساتھ ہی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد اس جانب متوجہ ہوگئی۔ ان سرمایہ کاروں نے بھاری معاوضوں پر گوادر کی زمین خریدنی شروع کردیں۔ صورت حال اس نہج پر پہنچ گئی کہ دوسوروپے کرایہ کی دکان کا کرایہ تیس ہزار روپے ہوگیااور تیس ہزار روپے فی ایکڑ زمین کی قیمت دو سے تین کروڑ روپے تک چلی گئی۔
اس صورت حال میں گوادر کاعام شہری جوچند ایکڑز کامالک تھا وہ دونوں میں کروڑ پتی ہو گیا۔ زمین کی قیمتیں بڑھیں توشہر کے بے روزگار افراد نے پراپرٹی ڈیلر کے دفاتر کھول لئے جبکہ دیگر شہروں سے بھی لوگ یہاں آکر پراپرٹی کاکاروبار کرنے لگے۔ 2003ء میں بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے اس حوالے سے ایک قانون منظورکیا اور شہرکی حالت بہتر بنانے کیلئے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ بنادیا۔
یہ الگ بات ہے کہ یہ ادارہ تاحال اس شہر کی حالت بہتربنانے میں کامیاب نہ ہوسکا لیکن اس کے قیام سے گوادر میں سرمایہ کاری کرنے والوں کاکافی حوصلہ ملا۔
موجودہ حکومت کے دورچین چینی صدر کے دورہ اور اقتصادی راہداری کے منصوبوں نے گوادر کوعالمی سطح پر پھر سے شہرت دے دی۔ بھارت کی جانب سے اس روٹ کی مخالفت کے ساتھ ساتھ متبادل روٹ کی پیشکش نے بھی خطے میں دو واضح بلاک بنا دئیے ۔
امریکہ کاوزن بھارتی پلڑے میں پڑاتو پاکستان اور روس ایک دوسرے کے قریب آنے لگے اور دونوں ممالک نے طویل عرصہ بعدایک نئے سفر کاآغاز کردیا۔ اس سارے منظرنامے میں گوادر اور اقتصادی راہداری کوخاص اہمیت حاصل ہے۔
اسی طرح چین گوادر میں پاکستان کاسب سے بڑا ائیرپورٹ تعمیر کرنے جارہاہے جس کارقبہ چار ہزار ایکڑ سے زائد ہوگا اسے 30ماہ کی مدت میں تعمیر کیاجائے گا۔

پاک چین اقتصادی منصوبوں کادائر کار محض ائیرپورٹ بندرگاہ وغیرہ تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ان منصوبوں کاایک اہم جزو ہیں۔ اس اقتصادی راہداری کی توبطور راستی استعمال کیاجائے گا جبکہ عالمی منڈیوں کے تاجروں کواس جانب متوجہ کرنے کیلئے اس شہر کوٹیکس فری قراردیا جارہاہے۔ اس کی اہمیت کااندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں پاکستان کاسب سے بڑا ائیرپورٹ تعمیرکیا جائے گا جس کادوسرا مطلب یہ ہے کہ سمندراور ہوائی راستوں سے گوادر تک رسائی آسان بنائی ہی جائے گی لیکن دوسری طرف زمینی راستے کوبھی اس سے منسلک کردیاجائے گا۔
اس کے علاوہ موٹروے بھی گوادر تک لائی جائے گی جبکہ ملک کے دیگر علاقوں سے بھی سڑک کو اس اقتصادی راہداری کے ساتھ ملایاجائے گا تاکہ بیرونی سرمایہ کاروں کی آمد کے ساتھ ساتھ ملکی تاجروں کیلئے بھی ایک نئی دنیا تک کاآسان راستہ کھل سکے۔
پاک چین اکنامک کوریڈورصرف معاشی طور پر ہی پاکستان کومضبوط نہیں کررہابلکہ یہ خطے میں ایک ایسا اتحاد بھی جنم دے رہا ہے جوپاکستان کے مفاد میں ہے۔
روسی اور چین سمیت متعدد ممالک کیلئے پاکستان کی اہمیت اور استحکام انتہائی اہم ہوچکا ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت اس اقتصادی راہداری کی انتہائی مخالفت کررہاہے۔ اس وقت بھارت کی پوزیشن کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حال ہی میں بھارتی ائیرچیف نے بھی فضائیہ کی ایک تقریب میں اس معاہدے کواپنے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین اکنامک کوریڈورکے ذریعے ہماراگھیراؤ کررہے ہیں۔
بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے اس خوف ک ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس اکنامک معاہدے کی وجہ سے خطے میں بھارت کااثر رسوخ نہ ہونے کے برابر رہ گیاکیونکہ اس کے لگ بھگ سبھی ہمسائیہ ممالک ایک بلاک کاحصہ بن گئے ہیں اور وہ اس بلاک سے باہر ہے۔
پاک چین اکنامک کوریڈور سمیت دونوں ممالک کے باہمی منصوبوں پر تیزی سے ابتدائی کام ہورہاہے جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ اگلے چندبرس میں پاکستان میں تیزی سے سرمایہ کاری ہوگی۔
اس طرح پاکستانیوں کونہ صرف کاروبار کے نئے مواقع مل سکیں گے بلکہ نئی ملازمتوں کے دروازے بھی کھلیں گے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں تیزی آتے دیکھ کر ” فراڈمافیا“ بھی سرگرم ہوچکاہے۔ اخبارات میں ایسے اشتہارات شائع ہونے لگے ہیں جن کے مطابق گوادر کی زمین ہزاروں روپے میں فروخت کی جارہی ہے۔
سوایہ یہ ہے کہ جس زمین کے بارے میں واضح معلوم ہوا کہ اب اس کی قیمت کروڑوں روپے میں ہوگی وہی زمین جلدازجلد ہزاروں روپے میں کیوں بیچی جائے گی؟ یادرہے کہ ماضی میں بھی بڑے پیمانے پرایسا فراڈہوچکا ہے اور گوادر کی پہاڑیاں بیک وقت کئی کئی افراد کوفروخت کردی گئی تھیں جوکسی ایک شخص کوبھی نہیں مل سکیں۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ حکومت اس فراڈمافیا کے گرد بھی گھیرا تنگ کرے تاکہ پاکستان کے اس بڑے منصوبے کو متنازعہ ہونے سے بچایا جاسکے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-26

(2) ووٹ وصول ہوئے