بند کریں
جمعرات جنوری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جی ایس پی پلس کے تحت برآمدات میں اضافہ
بین الاقوامی منڈی میں پاکستانی برآمدات کو ہمیشہ مشکلات درپیش رہی ہیں لیکن ایس پی پلس کا درجہ ملنے سے پاکستانی ایکسپورٹرز کے لئے ”یورپی یونین“ کے تمام ممالک میں اپنے ملک کی اشیاء برآمد کرنے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں
احمد جمال نظامی:
بین الاقوامی منڈی میں پاکستانی برآمدات کو ہمیشہ مشکلات درپیش رہی ہیں لیکن ایس پی پلس کا درجہ ملنے سے پاکستانی ایکسپورٹرز کے لئے ”یورپی یونین“ کے تمام ممالک میں اپنے ملک کی اشیاء برآمد کرنے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے تجارت مسٹر خرم دستگیر خان نے گذشتہ دنوں پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن فیصل آباد کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے اس کے ارکان کو بتایا کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ملک میں توانائی کے بحران اور دہشت گردی کے باعث ایک طرف صنعتی پیداوار متاثر ہوئی ہے اور دوسری طرف پاکستانی ایکسپورٹرز بے پناہ مشکلات سے دوچار رہے ہیں۔
وفاقی وزیر تجارت نے فیصل آباد کے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو بتایا کہ تمام تر مشکلات و مسائل یورپی یونین کے ممالک کے لئے پاکستانی برآمدات میں گذشتہ سال ماہ جنوری سے اکتوبر تک توقعات سے بڑھ کر اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی وزیر تجارت نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی برآمدات میں یہ اضافہ بین الاقوامی منڈی میں ملک کو جی ایس پی پلس کی رعایت ملنے کا نتیجہ ہے۔
جس میں نمایاں طور پر وزیراعظم نوازشریف اور ان کے رفقاکار پنجاب کے سابق گورنر محمد سرور کا تعاون شامل رہا ہے۔ کسی بھی ملک کے ساتھ کامیاب تجارت میں برآمدات اور درآمدات دونوں کا کردار شامل ہوتا ہے۔ وفاقی وزیر تجارت نے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کی اپنی حکومت کی کامیاب سفارت کاری کا بجاطور پر تذکرہ کیا ہے۔ لیکن انہیں ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو بھارت سمیت دنیا کے دوسرے ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیاء کا بھی لازمی تذکرہ کرنا چاہیے تھا۔
انہوں نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ واہگہ کے زمینی راستے کے ذریعے بھارت سے 138اشیاء کو پاکستان میں درآمد کے قابل قرار دیا گیا ہے۔ چین، ملائیشیا اور سری لنکا کے ساتھ بھی آزادانہ تجارتی معاہدات(ایف ٹی آر) پر کام ہو رہا ہے جبکہ سروسز کے حوالے سے چین کے ساتھ ایک معاہدہ 10اکتوبر 2009ء سے کام کر رہا ہے۔ پاکستان کو یورپی یونین کے ممالک کی طرف سے جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے سے پہلے یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کی برآمدات کے لئے پابندی عائد تھی اور اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ اس پابندی کو موجودہ حکومت کی کوششوں سے ختم کیا گیا ہے۔
جس کے بعد سے پاکستان کی برآمدات کا حجم بتدریج بڑھ رہا ہے۔ پاکستان اچھی خاصی مقدار میں یورپی یونین کے ممالک کو سمندری غذا برآمد کر رہا ہے۔ جنوری 2014ء سے ستمبر 2014ء کے تجارتی اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس دوران یورپی یونین کو 2.47ملین ڈالر کی اضافی برآمدات کی گئیں جبکہ 2013ء میں اسی عرصے میں 2.12ملین ڈالر کا اضافہ ہوا تھا۔ 2007ء میں یورپی یونین نے پاکستان سے مچھلی برآمد کرنے والی تمام کمپنیوں کو اپنی فہرست میں سے نکال دیا تھا۔
بنیادی طور پر یورپی یونین کی ایس پی ایس اقدامات پورا کرنے میں ناکامی کی وجہ سے مچھلی برآمد کرنے والی پاکستانی کمپنیوں کے نام یورپی یونین کے ممالک کی فہرست میں خارج کئے گئے تھے۔ یورپی یونین کے ممالک کو 2007ء کے دوران پاکستان سے کوئی سمندری غذا برآمد نہیں کی گئی تھی اور یہ پابندی پیپلزپارٹی کے گذشتہ دور میں بھی عائد رہی۔ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران پاکستان نے انڈونیشیا سے ترجیحی تجارتی معاہدے پر دستخط کئے جو کہ ستمبر 2013ء سے فعال ہوئے۔
2013ء، 2014ء میں پاکستان کی برآمدات 123.193ملین ڈالر جبکہ درآمدات 1583.95ملین ڈالر تھیں۔ وفاقی وزیر تجارت نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ انڈونیشیا کے ساتھ پاکستان کا تجارتی توازن گذشتہ کئی برسوں تک منفی رہا ہے۔کیونکہ انڈونیشیا سے پام آئل کی درآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے انڈونیشیا پاکستان سے زیادہ زرمبادلہ کماتا ہے جبکہ اس خسارہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انڈونیشیا کی طرف سے پاکستان سے نمک، اناج اور ناکارہ سامان کی برآمد پر بھی پابندی چلی آ رہی ہے۔
وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ واہگہ کے زمینی راستے کے ذریعے بھارت سے جن 138اشیاء کی درآمد ہوتی ہے ان میں کوکنگ آئل، ٹماٹر، مٹر، پیاز، کھجوریں، کاٹن، سوتی کپڑا، جپسم، سیمنٹ وغیرہ شامل ہیں۔
وفاقی وزیر تجارت نے فیصل آباد میں ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ارکان سے اپنے خطاب کا موضوع زیادہ تر ٹیکسٹائل کی برآمدات تک محدود رکھا اور ایکسپورٹرز کو بتایا کہ جی ایس پی پلس کی سہولت ملنے کے بعد ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل برآمدات میں 25فیصد اضافہ ہوا ہے۔
جی ایس پیپلس کی سہولت برقرار رکھنے کے مقصد سے وزیراعظم ہاوٴس میں ایک خصوصی سیل کام کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر تجارت نے بتایا کہ وہ وزارت خزانہ میں ایکسپوٹرز کی معاونت کیلئے ہر ممکن کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایکسپورٹر نے فیصل آباد جیسے بڑے صنعتی شہر میں توانائی کے بحران کے حوالے سے وفاقی وزیر تجارت سے کہا کہ اگر حکومت فیصل آباد کے صنعتی اداروں کو بجلی و گیس کی فراہمی میں ان کی ضرورت پوری کرنے میں کامیاب ہو جائے تو فیصل آباد پاکستان کی اقتصادی حالت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
پاک بھارت تجارت کے حوالے سے برآمد کندگان حکومت کو بھارت کے ساتھ برابری کے تعلقات استوار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ،جبکہ بھارت کی خوشنودی کے لئے پاکستان نے گذشتہ تین برسوں میں پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور پاک بھارت تجارتی معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ پاکستان کو بھارت سے آج تک بھارتی ایجنسیوں کے پاکستان کے معاملات میں ملوث ہونے کے تلخ حقائق کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا۔
پھر بھی نہ جانے کیوں وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر خان بھارت کو موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ دلوانے کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ارباب اختیار اور چند ایسے تاجر جو ہمیشہ انجمن ستائش باہمی کے اصول پر تجارتی تعلقات بڑھانے میں ماہر ہوتے ہیں وہ اس بات کا پرچار کرتے رہتے ہیں کہ بھارت پاکستان کے لئے ایک مفید تجارتی حلیف ثابت ہو گا لیکن نظر آتا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ مل کر کبھی کوئی صحت مندانہ تجارتی و اقتصادی کردار ادا نہیں کر سکتا۔
اگر وہ پاکستان کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے اقتصادی استحکام کے متعلق سوچتا تو وہ خود کو کبھی بھی پاک ایران گیس معاہدے سے الگ نہ کرتا۔ اگر بھارت اس معاہدے میں ایک فریق کے طور پر شامل رہتاتو پاکستان کی موجودہ حکومت کو اس قدر مشکلات کا سامنا ہرگز نہ کرنا پڑتا۔ لہٰذابہتر یہی ہے کہ بھارت کو افغانستان اور مشرقی وسطیٰ کے ممالک تک تجارت کے لئے زمینی راستہ فراہم کرنے کے لئے موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ نہ دیا جائے۔
امریکی صدر باراک اوبامہ نے بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر دنیا کی سپرطاقت کی طرف سے اس پر جس طرح نوازشات کیں ہیں۔ اس کا تقاضا یہی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزیوں اور مسئلہ کشمیر پر بھارت کی ہٹ دھرمی کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی بھی قسم کے تعلقات قائم کرنے میں ہرممکن احتیاط کا راستہ اختیار کیا جائے۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان