بند کریں
منگل جنوری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گندم کی فاضل پیداوار اور فوڈ سکیورٹی کا فقدان
ملک میں گزشتہ کئی سالوں سے گندم کی فالتو پیداوار ہو رہی ہے۔ فوڈ سکیورٹی کنٹرول کے سلسلے میں وفاقی وزارت خوراک وزراعت کے متحرک نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں فالتو گندم کا مسئلہ پیدا ہو چکا ہے۔
محمد آصف گجر:
پاکستان میں آج تک فوڈ سکیورٹی، گندم کی سرکاری خریداری اور سٹوریج کی کوئی مستقل پالیسی نہیں رہی۔ پاکستان شائد دنیا کا واحد زرعی ملک ہے جس کی زراعت بغیر منصوبہ بندی اور بنیادی پالیسی کے چل رہی ہے اور ہمارے حکمران موقع کی مناسبت سے فوری طور پر ڈنگ ٹپاؤ پالیسی ہی سے کام چلانے کا ہنر جانتے ہیں۔ اس کی واضح مثال گندم کی سرکاری خریداری سٹوریج اورر برآمد، درآمد کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔

ملک میں گزشتہ کئی سالوں سے گندم کی فالتو پیداوار ہو رہی ہے۔ فوڈ سکیورٹی کنٹرول کے سلسلے میں وفاقی وزارت خوراک وزراعت کے متحرک نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں فالتو گندم کا مسئلہ پیدا ہو چکا ہے۔ اس وقت سرکاری محکموں کے پاس تقریباً 50لاکھ ٹن گندم گوداموں میں موجود ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ جولائی 2014ء کے بعد پورے سال کیلئے ملکی فلورملوں کو سرکاری گوداموں سے گندم کے اجرا، کا شیڈول بنایا جاتا اور ملکی ضرورت سے فالتو گندم کا اندازہ لگا کر یہ دوسرے ملکوں کو بر وقت برآمد کردی جاتی۔
اس طرح سرکای خریداری محکموں کو سال 2015ء کیلئے کسانوں سے گندم خرید نے اور سٹور کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور کسان بھی ذلیل و خوار نہ ہوتے۔لیکن ہمارے حکمرانوں کی بے حسی ملاحظہ فرمائیں کہ ملکی ضرورت سے زائد گندم ہونے کے باوجود کراچی میں ایکسپورٹ مافیا نے لاکھوں ٹن گندم باہر سے درآمد کرلی ہے۔
رواں سال میں جب گندم کی نئی فصل کی آمد آمد ہے۔
تقریباً 50 لاکھ ٹن پرانی گندم سے سرکاری خریداری محکموں کے گودام بھرے ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلہ کر کے اب اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے گندم کے برآمدی تاجروں کو ترغیب دی جا رہی ہے۔ جس کے تحت انہیں فی ٹن گندم کی برآمد پر 90 ڈالر ربیٹ کی پیشکش کی گئی ہے۔ سادہ لفظوں میں حکومت سرکاری ذخائر سے برآمد کندگان کو 916- روپے فی من گندم فروخت کرے گی جبکہ گندم کی نئی فصل کی امدادی قیمت 1300/- روپے فی من مقرر کی گئی ہے۔
چند دن کے بعد گندم کی نئی فصل مارکیٹ میں آنے والی ہے۔ گندم کی فروخت کرنے والے کسانوں کیلئے کڑا وقت آنے والا ہے۔ گزشتہ سال تو سرکاری خریداری محکموں نے اوپن پالیسی کے تحت گندم خریدی تھی اور کسانوں کو بھی کئی سالوں کے بعد کھیتوں میں ہی گندم کا اچھا ریٹ ملا تھا۔ لیکن اس سال گزشتہ سالوں کی طرح محکمہ مال کے پٹواری کی چٹ پر 8 بوری فی ایکڑ والی پالیسی چلے گی اور کسانوں کو ذلیل و خوار کیا جائیگا۔
جس کے نتیجے میں چھوٹا کسان بد دل ہو کر بیوپاریوں اور فلور ملز اسٹاکسٹ کو سستے داموں گندم فروخت کرنے پر مجبور ہوگا۔ ملک کی فوڈ سکیورٹی، سٹوریج اور نئی گندم کی خریداری پالیسی پر اب بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وفاقی سطح پر ایک فوڈ سکیورٹی بورڈ بنایا جائے جس میں وفاق کے علاوہ صوبوں، فلور ملوں اور مختلف کسان تنظیموں کے نمائندوں کو شامل کیا جائے۔
جو گندم اور خوراک کی زرعی اجناس کی کسانوں سے مناسب امدادی قیمت پر خرید اور سٹوریج کے بعد فالتو گندم اور دوسری زرعی اجناس کو بروقت برآمد کرنے کے فیصلے کرے۔پورے پاکستان میں گندم کے خریداری زونوں میں زیادہ سے زیادہ جدید سٹور اور کھلیان بنائے جائیں۔ تیس چالیس سال قبل بنائے گئے سٹورز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ خریداری مراکز پر گندم اوپن گنجیوں کی صورت میں سٹور کی جاتی ہے جہاں کروڑوں روپے کی گندم ضائع ہو جاتی ہے۔

سرکاری خریداری محکموں نے بغیر شرائط کھلی پالیسی کے تحت جب بھی گندم خریدی، کسانوں کو کھیتوں میں ہی گندم کا بہت اچھا ریٹ ملا۔ اس سال بھی حکومت کو خریداری سنٹروں پر لائی گئی تمام گندم خریدنے کا اعلان کرنا چاہئے، اور بغیر شرائط بار دانہ دینا چاہئے۔ ہر خریداری سنٹر کی حدود میں کاشتہ گندم کے ریکارڈ کے مطابق خریداری مرکز کا خریداری ٹارگٹ مقرر کیا جائے۔

بار دانہ کی تقسیم پر محکمہ مال کی ڈیوٹی لگانے کی بجائے خسرہ گرداوری کے ریکارڈ کے مطابق محکمہ خوراک کا عملہ روزانہ کی بنیاد پر آنے والے کسانوں کی لسٹ بنائے اورمیرٹ پر ہر کسان کو باردانہ دیا جائے۔دس بیس بوری فروخت کرنے والے کسانوں کو ذلیل و خوراک کرنے کی بجائے امدادی باہمی کی طرز پر محکمہ مال کے ریکارڈ کے مطابق ایک نمائندہ کاشتکار کے نام پر گندم فروخت کرنیکی اجازت دی جائے۔ محکمہ مال کے ریکارڈ کے مال کے ریکارڈ کے مطابق فی ایکڑ 12 بوری گندم خریدی جائے۔ محکمہ خوراک کا ٹارگٹ 50 لاکھ ٹن اور محکمہ پاسکو کا 25 لاکھ ٹن مقرر کیا جائے۔ جبکہ خریداری سنٹروں کا ٹارگٹ دگنا کیا جائے۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-12

(0) ووٹ وصول ہوئے